Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3009

3009 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح حدثني الليث عن أبي قبيل الغافري قال : سمعت عقبة بن عامر الجهني يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هلال أمتي في الكتاب و اللبن فقيل يا رسول الله ما الكتاب و اللبن ؟ قال : يتعلمون القرآن و يتأولونه على غير ما أنزله الله عز و جل و يحبون اللبن و يدعون الجماعات و الجمع و يبدون قال أبو قبيل : لم أسمع من عقبة بن عامر إلا هذا الحديث قال أبو عبد الرحمن و ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير مرثد عن عقبة عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله قال يعقوب : و لفظ الحديث للمقرئ

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو صالح نے ان کو حدیث بیان کی ہے لیث نے ابو قبیل غافری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عقبہ بن عامر جھنی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ فرماتے تھے ۔ میری امت کی ہلاکت کتاب میں اور دودھ میں ہے۔ کہا گیا یا رسول اللہ کیا ہے کتاب اور دودھ ؟ فرمایا کہ قرآن کو سیکھیں گے اور اس کی بے جاتاویلیں کریں گے اور نمازیں ترک کر دیں گے اور جمعہ چھوڑ دیں گے اور اونٹ پالیں گے ۔ ابو قبیل نے کہا کہ میں نے عقبہ بن عامر سے اس حدیث کے علاوہ نہیں سنی۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ابن لھیعہ نے یزید بن ابو حبیب سے ان کو ابو الخیر مرثد نے ان کو عقبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل یعقوب نے کہا کہ حدیث کے الفاظ مقری کے لیے ہیں۔

هلال أمتي في الكتاب و اللبن فقيل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أبي قبيل الغافري ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3009

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3010

3010 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن يوسف الفربري ثنا علي بن خشرم ثنا عيسى بن يونس عن إبراهيم بن مرثد عن أيوب بن موسى عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا هل عسى رجل يتخذ الصبة من الغنم على رأس ميلين أو ثلاثة فتأتي عليه الجمعة فلا يشهدها ثم تأتي عليه الجمعة فلا يشهدها ثم تأتي عليه الجمعة فلا يشهدها فيطبع الله على قلبه

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن یوسف فربری نے ان کو علی بن خشرم نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو ابراہیم بن مرثد نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: خبردار قریب ہے کہ کوئی آدمی بکریوں کا ریوڑ لیکر ایک دو میل شہر سے دور رہنے لگ جائے پھر اس پر جمعہ آئے اور وہ پڑھنے حاضر نہ ہو پھر اس پر جمعہ آئے وہ اس پر حاضر نہ ہو پھر اس پر جمعہ آئے وہ اس پر حاضر نہ ہو پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← إبْرَاهِيمَ بْنِ مَرْثَدٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3010

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3011

3011 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو القاسم عبد الله بن محمد الفقيه بنيسابور ثنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن بشار ح و أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ أنا أبو أحمد بن إسحاق الحافظ أنا أبو عروبة الحسين بن أبي معشر بحران ثنا بندار محمد بن يسار أبو بكر ثنا معدي بن سليمان ثنا ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا هل عسى أحدكم أن يتخذ الصبة من الغنم على رأس الميل أو ميلين فيتعذر عليه الكلأ فيرتفع حتى تجيء الجمعة فلا يشهدها ثم تجيء الجمعة فلا يشهدها ثم تجيء الجمعة فلا يشهدها حتى يطبع الله على قلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو القاسم عبداللہ بن محمد فقیہ نے نیشا پور میں ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن بشار نے (ح) ان کو خبر دی ابو حازم نے ان کو عمر بن احمد بن عبدوی حافظ نے ان کو ابو احمد بن اسحاق حافظ نے ان کو ابو عروبہ حسین بن ابو معشر نے بحران میں ان کو بندار محمد بن یسار ابو بکر نے ان کو معدی بن سلیمان نے ان کو ابن عجلان نے ان کو ان کےوالد نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے فرمایا خبردار کیا قریب ہے کہ تم میں سے ایک بکریوں کا ریوڑ لے کر ایک دو میل پر جا بیٹھے پھر گھاس ملنا اس کو مشکل پڑے پھر وہ اوپر پہاڑ پر چلا جائے حتیٰ کہ جمعہ کا دن آئےمگر وہ جمعہ کے لئے حاضر نہ ہو پھر جمعہ آئے مگر وہ اس کے لئے نہ حاضر ہو پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو حتیٰ کہ اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← بندار محمد بن يسار أبو بكر ← أبو عروبة الحسين بن أبي معشر بحران ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ ← أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِنَيْسَابُورَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3011

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3012

3012 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن ناجية ثنا سفيان بن وكيع ثنا سعيد بن عبيد الأزدي ثنا الفضل بن عيسى الرقاشي عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم خطيبا يوم الجمعة فقال : عسى رجل يحضر الجمعة و هو على قدر ميل من المدينة لا يحضر الجمعة ثم قال في الجمعة الثانية : عسى رجل يحضر الجمعة و هو على قدر ميلين من المدينة لا يحضر الجمعة ثم قال في الجمعة الثالثة : عسى رجل يكون على قدر ثلاثة أميال من المدينة لا يحضر الجمعة فيطبع الله على قلبه

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو سفیان بن وکیع نے ان کو سعید بن عبید ازدی نے ان کو فضل بن عیسیٰ رقاشی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ہم لوگوں میں جمعہ کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا قریب ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے لئے حاضر ہو حالانکہ وہ مدینے سے ایک میل کے فاصلے پر ہو جب جمعہ کا دن آئے اس کے بعد دوسرے جمعہ آپ نے فرمایا قریب ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے لئے حاضر نہ ہو جبکہ وہ مدینے سے دو میل پر ہو وہ جمعہ پر حاضر نہ ہو اس کے بعد تیسرے جمعے کو فرمایا قریب ہے ایک آدمی مدینے سے تین میل پر ہواور وہ جمعہ کے لئے حاضر نہ ہو پھر اللہ کے دل پر مہر لگا دے۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى الرَّقَاشِيِّ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَزْدِيُّ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3012

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3013

3013 - أخبرنا أبو سعيد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي ثنا البغوي ثنا كامل بن طلحة ثنا ابن لهيعة ثنا معاذ بن محمد الأنصاري عن أبي الزبير عن جابر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من يؤمن بالله و اليوم الآخر فعليه الجمعة يوم الجمعة إلا مريض أو صبي أو مسافر أو مملوك و من استغنى عنها بلهو أو تجارة استغنى الله عنه و الله غني حميد

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو بغوی نے ان کو کامل بن طلحہ نے ان کو ابن لھیعہ نے ان کو معاذ بن محمد انصاری نے ان کو ابوالزبیر نے ان کو جابر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے جمعہ کا دن اس پر جمعہ پڑھنا لازم ہے مگر مریض یا بچہ یا مسافر یا غلام اور جو شخص اس سے استغنا اور لاپرواہی کرے کھیل یاتجارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے بے پرواہی کرے گا اور اللہ تعالیٰ غنی ہے حمید ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← معاذ بن محمد الأنصاري ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← الْبَغَوِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3013

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3014

3014 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنبأ أبو بكر أحمد بن طاهر النسوي بنسأ نا أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي أنا عبيد بن يعيش ثنا الوليد بن بكير عن عبد الله بن محمد العدوي عن علي بن زيد بن جدعان عن سعيد بن المسيب عن جابر بن عبد الله قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم الجمعة فقال : يا أيها الناس توبوا إلى ربكم قبل أن تموتوا و بادروا الأعمال الزاكية من قبل أن تشغلوا وصلوا الذي بينكم و بين ربكم بكثرة ذكركم إياه و الصدقة في السر و العلانية تجبروا و تنصروا و ترزقوا و اعلموا أن الله عز و جل افترض عليكم الجمعة في يومي هذا في شهري هذا فمن تركها في حياتي أو بعد موتي و له إمام عادل أو جائر استخفافا بها أو جحودا بها فلا جمع الله شمله و لا بارك الله في أمره ألا و لا صلاة له ألا و لا زكاة له ألا و لا صيام له ألا و لا حج له إلا أن يتوب فإن تاب تاب الله عليه ألا و لا يؤم أعرابي مهاجرا ألا و لا تؤم امرأة رجلا ألا و لا يؤم فاجر مؤمنا إلا أن يخاف سيفه و سوطه و روى بعضهم هذا عن حمزة بن حسان عن علي بن زيد

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو بکر احمد بن طاہر نسوی نے مقام نساء میں ان کو ابو عبداللہ محمد بن ایوب بجلی نے ان کو عبید بن یعیش نے ان کو ولید بن بکیر نے ان کو عبداللہ بن محمد عدوی نے ان کو علی بن زید بن جدعان نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا جمعہ کے دن اور فرمایا: اے لوگو تم لوگ توبہ کرو اپنے رب کی طرف اس سے قبل کہ تم مر جاؤ اور پاک کرنے والے اعمال میں جلدی کرو اس سے قبل کہ تم مصروف ہو جاو اور اس تعلق کو جوڑو جو تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے کثرت ذکر اللہ کے ساتھ اور صدقہ کرنے کے ساتھ خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی نقصان کی تلافی کرو۔ نصرت کرو اور رزق دو اور جان لو کہ بے شک اللہ عزوجل نے تمہارے اوپر جمعہ کو فرض کر دیا ہے میرے اسی دن میں میرے اسی مہینے میں جو شخص اس کو چھوڑ دے میری زندگی میں یا میری موت کے بعد اور اس کا نام (خلیفہ وقت یا حاکم شعری) عادل ہو یا ظالم ہو۔ جمعہ کو چھوڑنا اس کی طرف سے اس کو حقیر اور غیر اہم سمجھنے کی وجہ سے ہو یا انکا ر کی وجہ سے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی عزت و سطوت کو جمع نہ کرے اور قائم نہ کرے اور اس کے معاملے میں اس کے لئے برکت نہ دے ایسے آدمی کی کوئی نماز نہیں ہے کوئی زکوٰۃ نہیں ہے کوئی روزہ نہیں ہے خبردار اس کا کوئی حج نہیں ہے ہاں مگر یہ کہ وہ توبہ کرے اگر وہ توبہ کر ے گا اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا خبردار دیہاتی ہجرت کرنے والے کی امامت نہ کرے اور کوئی عورت کسی آدمی کی امامت نہ کرے خبردار کوئی مشرک وہ بد کردار کسی مومن موحد کی امامت نہ کرے مگر یہ کہ وہ خوف کرے اس کی تلوار کا یا اس کے چابک کا ۔ ان میں سے بعض نے اس کو روایت کیا ہے حمزہ بن حسان سے اس نے علی بن زید سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← عبد الله بن محمد العدوي ← الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← أبو عبد الله محمد بن أيوب البجلي ← عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنبأ أبو بكر أحمد بن طاهر النسوي بنسأ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3014

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3015

3015 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إسحاق بن إبراهيم من كتابه أنا مهدي عن خالد بن عبد الرحمن السلمي عن نافع عن ابن عمر قال : إنما الغسل لمن تجب عليه الجمعة و الجمعة على من يأتي أهله

ہمیں خبردی ہے ابو عبداللہ بن حافظ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے اپنی کتاب میں سے انکومہدی نے ان کو خالد بن عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو نافع نے ابن عمر سے وہ فرماتے ہیں کہ یقینی بات ہے کہ غسل اسی پر ہے جس پر جمعہ واجب ہے اور جمعہ ہر اس شخص پر ہے جو اپنے اصل (اور گھر) میں آئے۔

إنما الغسل لمن تجب عليه الجمعة و الجمعة على من يأتي أهله ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← خالد بن عبد الرحمن السلمي ← مَهْدِيٌّ، ← إسحاق بن إبراهيم من كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3015

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3016

3016 - أخبرنا أبو طاهر الحسين بن علي بن سلمة الهمداني بها أنبأ أبو محمد عبد الله بن إبراهيم بن ماسي ثنا أبو سلمة ثنا عبد الله بن رجاء ثنا همام ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الباغندي محمد بن سليمان ثنا مسلم بن إبراهيم الأزدي ثنا همام عن قتادة عن قدامة بن وبرة عن سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ترك الجمعة من غير عذر فليتصدق بدينار فإن لم يجد فبنصف دينار

ہمیں خبر دی ابو طاہر حسین بن علی بن سلمہ نے ہمدان میں ان کو ابو محمد بن عبداللہ بن ابراہیم بن ماسی نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو ہمام نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبیدصفار نے ان کو باغندی محمد بن سلیمان نے ان کو مسلم بن ابراہیم ازدی نے ان کو ہمام نے ان کو قتادہ نے ان کو قدامہ بن وبرہ نے ان کو سمرہ بن جندب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا جس نے جمعہ بلا عذر ترک کر دیا اسے چاہیے کہ وہ ایک دینار صدقہ کرے اگر وہ ایک دینار نہ پائے تو پھر نصف دینار کے ساتھ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← مسلم بن إبراهيم الأزدي ← الْبَاغِنْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو سَلَمَةَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3016

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3017

3017 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن غالب ثنا موسى بن داود الضبي ثنا همام بن يحيى : فذكره بإسناده مثله

اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو موسیٰ بن داؤد وضبی نے ان کو ہمام بن یحییٰ نےپھر اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

همام بن يحيى فذكره بإسناده مثله ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3017

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3018

3018 - و أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن العباس المؤدب و محمد بن غالب ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا عبد الله بن أبي سعيد قالوا و أنبأ شريح بن النعمان ثنا الحكم بن عبد الملك عن قتادة عن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : احضروا الجمعة و ادنوا من الإمام فإن الرجل ليتخلف عن الجمعة حتى إنه ليتخلف عن الجنة و إنه لمن أهلها

اور ہمیں خبر د ی علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عباس مؤذب نے اور محمد بن غالب نے (ح) اورہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمر بن سماک نے ان کو عبداللہ بن ابو سعید نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے شریح بن نعمان نے ان کو حکم بن عبدالملک نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا : جمعہ پر حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو بے شک آدمی جمعہ سے پیچھے رہتا ہے حتیٰ کہ وہ جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ بے شک وہ اہل جنت سے ہوتا ہے۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← و أنبأ شريح بن النعمان ← عبد الله بن أبي سعيد ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← محمد بن العباس المؤدب و محمد بن غالب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن عبدان، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3018

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3019

3019 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر قال : ثنا يعقوب بن سفيان حدثني العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا الأوزاعي حدثني داود بن علي أنه سمع الحسن بن أبي الحسن يقول : بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب الناس يوم الجمعة أقبل شاء و شيء من سمن فجعل الناس يقومون إليه حتى لم يبق إلا قليل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تتابعتم لتأجج الوادي نارا هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے ان کو حدیث بیان کی ہے عباس بن ولید بن مزید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے میرے والد نے ان کو اوزاعی نے ان کو داؤد بن علی نے کہ انہوں نے سنا تھا حسن بن ابو الحسن سے وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے اتنے میں کوئی قافلہ آیا اور کچھ گھی وغیرہ اشیا بیچنے والا آیا تو لوگ اس کی طرف اٹھنا شروع ہو گئے حتیٰ کہ نہ باقی رہے مگر کم لوگ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم سب لوگ ایک کے پیچھے ایک کر کے چلے جاتے تو البتہ یہ وادی آگ سے شعلے مارتی (یعنی آگ کا عذاب آ جاتا) اسی طرح یہ روایت مرسل آئی ہے۔

الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← داود بن علي أنه ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3019

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 3020

3020 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ثنا داود بن الحسين ثنا محمد بن هشام البعلبكي ثنا سويد عن أبي نصيرة الواسطي عن أبي رجاء العطاردي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه : أن أعرابيا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله بلغني عنك أنك تقول الجمعة إلى الجمعة و الصلوات الخمس كفارات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم نعم ثم زاده رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال الغسل يوم الجمعة كفارة و المشي إلى الجمعة كل قدم منها كعمل عشرين سنة فإذا فرغ من صلاة الجمعة أجيز بعمل مائتي سنة و كذلك رواه علي بن بحر عن سويد بن عبد العزيز و قال عن أبي بصيرة الواسطي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین نے ان کو محمد بن ہشام بعلبکی نے ان کو سوید نے ان کو ابو نصیرہ واسطی نے ان کو ابو رجاء عطاری نے ان کو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ایک دیہاتی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے آپ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور پانچ نمازیں اپنے درمیان وقت کے لئے کفارے ہیں جب بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کیا جائے۔ رسول اللہ نے فرمایا: کہ جی ہاں ایسے ہی ہے اس کے بعد آپ نے اس کو اور زیادہ بتایا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا کفارہ ہے اور جمعہ کی طرف پیدل چلنا اس میں سے ہر قدم بیس سال کے عمل کے برابر ہیں جب وہ نماز جمعہ سے فارغ ہو گا دو سو سال کی جزاء دیا جائے گا۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے علی بن سحر نے سوید بن عبدالعزیز سے اور کہا کہ مروی ہے ابو بصیرۃ واسطی سے۔

أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← أَبِي نُصَيْرَةَ الْوَاسِطِيِّ، ← سُوَيْد ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ← داود بن الحسین، ← أبو حامد أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 3020

chevron_left Previous
1…252627…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood