Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2973

2973 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و أبو محمد بن يوسف قالا : ثنا أبو بكر القطان ثنا إبراهيم بن الحارث البغدادي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن عقيل و في روايه الفقيه عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عبد الرحمن بن يزيد بن جارية أو قال : خارجة عن أبي لبابة بن عبد المنذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن يوم الجمعة سيد الأيام و أعظمها عندي و أعظم عند الله تعالى من يوم الفطر و يوم الأضحى و فيه خمس خصال خلق الله فيه آدم و فيه أهبط الله آدم إلى الأرض و فيه توفى الله آدم و فيه ساعة لا يسأل العبد فيها شيئا إلا أتاه ما لم يسأل حراما و ما ملك مقرب و لا سماء و لا أرض و لا جبال و لا بحر إلا و هم يشفقون من يوم الجمعة إن تقوم فيه الساعة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے اور ابو محمد بن یوسف نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر قطا ن نے ان کو ابراہیم بن حارث بغدادی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو عبداللہ بن عقیل نے اور فقیہ کی روایت میں ہے عبداللہ بن محمد بن عقیل سے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن جاریہ نے (یا کہا تھا) خارجہ نے ابو لبابہ بن عبدالمنذر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردا ر دن ہے اور میرے نزدیک تمام دنوں سے زیادہ عظمت والا دن ہے اور اللہ کے نزدیک عید فطر اور عید قربانی کے دنوں سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس میں پانچ خصلتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تھا اس میں اللہ نے آدم کو جنت سے زمین پر اتاراتھا اور اسی میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو وفات دی تھی۔ اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ بندہ جب اس میں اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دے دیتا ہے جب تک کہ حرام کو سوال نہ کرے کوئی مقرب فرشتہ ایسا نہیں نہ کوئی آسمان نہ کوئی زمین نہ کوئی پہاڑ نہ کوئی دریا سمندر مگر وہ سب کے سب یوم جمعہ سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس میں قیامت قائم نہ ہو جائے۔

أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ← خَارِجَةَ ← عبد الرحمن بن يزيد بن جارية أو ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عبد الله بن عقيل و في روايه الفقيه ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← إبراهيم بن الحارث البغدادي و ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أبو طاهر الفقيه و أبو محمد بن يوسف

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2973

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2974

2974 - و أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي ببغداد ثنا أحمد بن سلمان ثنا هلال بن العلاء ثنا المعافى بن سليمان ثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عمرو بن سعيد بن شرحبيل عن أبيه عن جده سعد بن عبادة : أن رجلا من الأنصار قال : يا رسول الله أخبرنا عن يوم الجمعة قال : فيه خمس خصال فيه خلق آدم و فيه أهبط آدم إلى الأرض و فيه توفى الله آدم و فيه ساعة لا يسأل الله العبد فيها إلا أتاه ما لم يسأل مأثما أو قطيعة رحم و فيه تقوم الساعة و ما من ملك مقرب و لا سماء و لا أرض و لا ريح و لا جبل و لا بحر إلا و هم مشفقون من يوم الجمعة أن تقوم فيه الساعة

ہمیں خبر دی ابو القاسم (عبدالرحمٰن بن عبید اللہ) حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان نے ان کو ہلال بن علاء نے ان کو معافی بن سلیمان نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے ان کو عمرو بن سعید بن شرحبیل نے ان کو ان کے والد نے انکو ان کے دادا سعید بن عبادہ نے یہ کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ہم لوگوں کو آپ جمعہ کے دن کے بارے میں کچھ خبر دیجئے فرمایا اس میں پانچ کام ہیں۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اسی میں زمین کی طرف اتارے گئے تھے اسی میں آدم علیہ السلام کی وفات ہوئی تھی اسی میں ایک ایسی ساعت ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دیتا ہے جب تک کہ کوئی گناہ کی بات کا سوال نہ کرے یا قطع رحمی کا اور اس میں قیامت قائم ہو گی خواہ آسمان خواہ زمین ہو پہاڑ سمندر سب جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں کہ اس میں کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔

جده سعد بن عبادة أن رجلا من الأنصار ← أَبِيهِ ← عمرو بن سعيد بن شرحبيل ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الحرفي ببغداد ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2974

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2975

2975 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا ابن بكير ثنا ملك قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن يزيد بن عبد الله بن الهاد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أنه قال : خرجت إلى الطور فلقيت كعب الأحبار فجلست معه فحدثني عن التوراة و حدثته عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان فيما حدثته أن قلت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أهبط و فيه مات و فيه تقوم الساعة و ما من دابة إلا و هي مسبحة يوم الجمعة من حين تصبح حتى تطلع الشمس شفقا من الساعة إلا الجن و الأنس و فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم و هو يصلي يسأل الله فيها شيئا إلا أعطاه الله إياه فقال كعب ذلك في كل سنة يوم قلت بلى في كل جمعة قال : فقرأ كعب الأحبار التوراة فقال صدق رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو هريرة : فلقيت نضرة بن أبي نضرة الغفاري فقال من أين أقبلت قال : فقلت من الطور فقال لو أدركتك قبل أن تخرج إليه ما خرجت سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تعمل المطي إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام أو إلى مسجدي هذا أو إلى مسجد إيلياء أو بيت المقدس شك أيهما قال قال : فقال أبو هريرة ثم لقيت عبد الله بن سلام فحدثته بمجلسي من كعب الأحبار و ما حدثته في يوم الجمعة فقلت له قال كعب : ذلك في كل سنة يوم فقال عبد الله : كذب كعب فقلت نعم ثم قرأ كعب التوراة فقال : بل هي في كل جمعة فقال عبد الله بن سلام صدق كعب ثم قال عبد الله بن سلام : قد علمت أية ساعة هي قال أبو هريرة : فقلت له أخبرني بها و لا تصرعني قال : عبد الله بن سلام هي آخر ساعة في يوم الجمعة قال أبو هريرة : و كيف تكون آخر ساعة في يوم الجمعة و قد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يصادفها عبد مسلم و هو يصلي و تلك ساعة لا يصلى فيها فقال عبد الله : ألم يقل رسول الله صلى الله عليه و سلم من جلس مجلسا ينتظر الصلاة فهو في صلاة حتى يصلي قال أبو هريرة : قلت بلى قال هو ذلك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک پر پڑھی تھی اس نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے اس نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ اس نے فرمایا کہ میں کوہ طور کی طرف نکلا تو میں کعب احبار سے ملا اور میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے مجھے تو رات کے بارے میں بیان کیا اور میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بیان کی۔ میں نے اس کو جو کچھ بیان کیا وہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اس میں آدم پیدا ہوئے اسی میں جنت سے زمین پر اتارے گئے اسی میں فوت ہوئے اس میں قیامت قائم ہو گی ہر چوپایہ ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے سورج طلوع ہونے تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے اللہ کی تسبیح کرتا ہے سوائے انسانوں کے اور جنو کے اور اس میں ایک ساعت ہے نہیں موافقت کرے گا اس کو کوئی عبد مسلم کہ وہ اسوقت نماز پڑھ رہا ہو اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے مگر اللہ اس کو وہ عطا کرتے ہیں۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ ساعت سال بھر کے ایک دن میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں ہر جمعہ کو ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ پھر کعب الاحبار نے تو رات پڑھی اور فرمایا کہ سچ فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے۔ ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو نضرہ سے ملاقات کی یعنی نضرہ بن ابو نضرہ غفاری سے۔ اس نے پوچھا آپ کہاں سے آ رہے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کوہ طور سے اس نے کہا کہ اگر میں آپ ے جانے سے قبل آپ کو ملتا تو تم نہ نکلتے میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے نہ سواریاں تیار کی جائیں مگر صرف تین مساجد کی طرف۔ مسجد الحرام یا میری مسجد کی طرف (مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا مسجد ایلیا یا بیت المقدس) اس نے شک کیا کہ کون سی کہی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کے بعد میں حضرت عبداللہ بن سلام سے ملامیں نے اس کو کعب الاحبار کے ساتھ اپنی نشست کا بتایا اور اس کا جو کچھ میں نے ان کو جمعہ کے دن کے بارے میں بتایا تھا میں نے ان کو بتایا کہ حضرت کہہ رہے تھے کہ یہ ساعت پورے سال میں ایک دن ہوتی ہے تو اس پر عبداللہ بن سلام نے کہا کہ کعب جھوٹ کہتے ہیں میں نے کہا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد انکو بتایا کہ کعب نے تو رات پڑھی اور پڑھ کر کہا کہ بلکہ یہ جمعہ کو ہوتی ہے عبداللہ بن سلام نے کہا کہ کعب نے سچ کہا۔ اس کے بعد عبداللہ بن سلام نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ کون سی ساعت ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا مجھے بھی اس کے بارے میں بتا دیجئے اور مجھے زمین پر نہ پھینکئے۔ یعنی خالی نہ واپس کیجئے۔ عبداللہ بن سلام نے کہا یہ جمعہ کے دن بالکل آخری ساعت ہوتی ہے۔ ابو ہریرہ نے کہا کہ آخری ساعت کیسے ہو سکتی ہے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں فوافقت کرتا اس ساعت کے ساتھ عبد مسلم حالانکہ وہ نما زپڑھ رہا ہو اور آخری ساعت میں تو نماز نہیں پڑھی جاتی۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا کیا نہیں فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جو شخص اپنی جگہ بیٹھا نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے وہ یہی آخری ساعت ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان فيما حدثته أن قلت ← التوراة و حدثته ← خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← ملك ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2975

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2976

2976 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر قال : قرأ علي ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن الجلاح مولى عبد العزيز أن أبا سلمة بن عبد الرحمن حدثه عن جابر بن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : يوم الجمعة لا يوجد عبد مسلم يسأل الله شيئا إلا أتاه أياه فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر و روى بإسناد ضعيف عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فقال هي إذا تدلى عين الشمس للغروب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے وہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے میرے آگے پڑھی۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عمرو بن حارث نے ان کو جلاح مولی عبدالعزیز نے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس کو حدیث بیان کی جابر بن عبداللہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا جمعہ کے دن نہیں پا جاتا کوئی بندہ مسلم جو اللہ سے مانگ رہا ہو کوئی بھی چیز مگر اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے اس کو وہی چیز اس کو تلاش کر عصر کے بعد آخری ساعت میں۔ اسناد ضعیف کے ساتھ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے اس بارے میں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہوتی ہے جس وقت سورج کی آنکھ غروب ہونے کے لئے لٹک جائے۔

الجلاح مولى عبد العزيز ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← قرأ علي ابن وهب ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2976

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2977

2977 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن صالح الأنماطي ثنا حسين بن عبد الأول ثنا المحاربي ثنا الأصبع عن سعيد بن راشد عن زيد بن علي عن مرجانة عن فاطمة بنت النبي صلى الله عليه و سلم : عن أبيها قال : إن في الجمعة ساعة لا يوافقها مسلم يسأل الله تعالى فيها خيرا إلا أعطاه إياه قلت : يا أبه أية ساعة هي ؟ قال : إذا دلى نصف الشمس للغروب وكانت فاطمة إذا كان يوم الجمعة تأمر غلاما لها يقال له زيد يصعد الطلال فتقول إذا تدلى نصف الشمس للغروب أعلمني فكان يصعد فإذا تدلى نصف الشمس للغروب أعلمها فتقوم فتدخل المسجد حتى تغرب الشمس و تصلي قال البيهقي رضي الله عنه : و رواه أحمد بن عمر الوكيعي عن عبد الرحمن بن محمد المحاربي بإسناده و معناه و كان في كتاب أحمد تلا و أظنه تل نصف الشمس للغروب يعني سقط و في رواية أحمد بن عمر قال عن زيد بن علي عمن حدثه و لم يقل عن مرجانة و قال فإذا رأيت الشمس قد تدلى نصفها للغروب فآذني

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن صالح انماطی نے ان کو حسین بن عبدالاول نے ان کو محاربی نے ان کو اصبع نے ان کو سعید بن راشد نے ان کو زید بن علی نے مرجانہ سے انہوں نے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ اپنے والد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا ۔ بے شک جمعہ کے دن ایک ساعت ہوتی ہے نہیں موافقت کرتا اس کے ساتھ کوئی مسلمان جواللہ تعالیٰ سے اس میں کوئی خیر مانگ رہا ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کر دیتے ہیں۔ سیدہ فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا ابا جان وہ کون سی ساعت ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب آدھا سورج غروب کے لئے لٹک چکا ہو اور سیدہ فاطمہ جمعہ کے دن اپنے غلام کو حکم دیتی تھیں (اس کا نام زید تھا) کہ وہ ٹیلے پر چڑھ جائے (اونچی جگہ پر) وہ کہتی تھیں کہ جب آدھا سورج غروب کےلئے لٹک جائے تو مجھے اطلاع دے دے چنانچہ وہ چڑھ جاتا تھا جب نصف سورج غروب کے لئے لٹک جاتا تو وہ ان کو بتادیتا سیدہ فاطمہ اٹھ کر مسجد میں داخل ہو جاتیں حتیٰ کہ سورج غروب ہو جاتا اور نماز پڑھتی تھیں۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : اس کو روایت کیا ہے احمد بن عمرو کیعی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد محاربی نے اپنی اسناد کے ساتھ اور اسی مفہوم کے ساتھ اور احمد کی کتا ب میں تھا کہ " اگ گمان کرتا ہوں کہ مراد ہے کہ نصف سورج غروب کے لئے گرے یعنی سقوط کرے اور احمد بن عمر کی ایک روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ مروی ہے زید بن علی سے اس شخص سے جس نے ان کو حدیث بیان کی تھی اور انہوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ"مرجانہ" سے اور یوں کہا ہے کہ جب تو دیکھے کہ سورج کا نصف غروب کے لئے لٹک گیا ہے تو مجھے بتا دے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2977

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2978

2978 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصنعاني ثنا أحمد بن عمر الوكيعي فذكره و رواه سلم بن قتيبة عن الأصبغ بن زيد عن سعيد عن زيد بن علي عن أبيه عن فاطمة أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا سعيد بن عثمان ثنا علي بن يحيى ثنا سلم بن قتيبة : فذكره بمعناه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو احمد بن عمرو کیعی نے پھر اس کو انہوں نے ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے مسلم بن قتیبہ نے ان کو اصبغ بن زید نے سعید سے اس نے زید بن علی سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ فاطمہ سے ہمیں اس بارے میں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو حدیث بیان کی ہے احمد بن عبید نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو علی بن یحییٰ نے ان کو سلم بن قتیبہ نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اس کے مفہوم کے ساتھ۔

سلم بن قتيبة فذكره بمعناه ← عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى، ← سعيد بن عثمان ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← فَاطِمَةَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← سَعِيدٌ، ← الأَصْبَغِ بْنِ زَيْدٍ ← أحمد بن عمر الوكيعي فذكره و رواه سلم بن قتيبة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2978

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2979

2979 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث عن أبي سلمة قال : قلت و الله لو جئت أبا سعيد الخدري فسألته عن هذه الساعة لعله أن يكون عنده منها علم فأتيته فقلت يا أبا سعيد إن أبا هريرة حدثنا عن هذه الساعة التي في الجمعة فهل عندك منها علم فقال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها فقال إني كنت أعلمها ثم أنسيتها كما أنسيت ليلة القدر ثم خرجت من عنده فدخلت على عبد الله بن سلام فذكر حديثه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبید اللہ بن ابو داؤد منادی نے ان کو یونس بن محمد مؤدب نے ان کو فلیج بن سلیمان نے ان کو سعید بن حارث نے ان کو ابو سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی قسم اگر میں ابو سعید خدری کے پاس آتا تو میں ان سے اس ساعت کے بارے میں پوچھتا شاید کہ ان کے پاس اس کےبارے میں کوئی علم ہو ۔ لہذا میں ان کے پاس آیا اور میں نے کہا اے ابو سعید بے شک ابو ہریرہ نے ہم لوگوں کو حدیث بیان کی ہے اس ساعت کے بارے میں جو جمعہ کے دن ہوتی ہے۔ کیا آپ کے پاس اس بارے میں کچھ علم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگوں کو حدیث بیان کی ہے اس ساعت کے بارے میں جو جمعہ کے دن ہوتی ہے ۔ کیا آپ کے پاس اس بارے پوچھا تھا آپ نے فرمایا کہ پہلے مجھے اس کا علم دیا گیا تھا پھر میں نے بھلوا دیا گیا ہوں جیسےمیں لیلۃ القدر بھلوادیا گیا ہوں ۔ اس کے بعد میں ان کے ہاں سے نکل آیا پھر میں عبداللہ بن سلام کے پاس آیا تو اس نے اپنی حدیث ذکر فرمائی۔

هَذِهِ السَّاعَةِ لَعَلَّهُ ← قلت و الله لو جئت أبا سعيد الخدري فسألته ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2979

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2980

2980 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو طاهر محمد بن عبد الله الجويني ثنا محمد بن محمد بن رجاء ثنا أحمد بن عيسى ثنا ابن وهب قال و أخبرني عبد الأعلى بن عبد الله بن سليمان بن الأشعث ثنا أبي أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني مخرمة بن بكير عن أبيه عن أبي بردة عن أبي موسى الشعري قال : قال لي عبد الله بن عمر أسمعت أباك يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في شأن ساعة الجمعة قال سمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هي ما بين أن يجلس الإمام إلى أن تقضى الصلاة رواه مسلم عن أحمد بن عيسى و غيره عن ابن وهب و هذا أصح ما روي في بيان ساعة الجمعة و يحتمل أن يكون أبو موسى جعله عن النبي صلى الله عليه و سلم قبل أن أنسيت و الله أعلم و روي من وجه آخر

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو طاہر محمد بن عبداللہ جوینی نے ان کو محمد بن محمد بن رجاء نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کووہب نے انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن سلیمان بن اشعث نے ان کو ابو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے مخرمہ بن بکیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو بردہ نے ان کو ابو موسیٰ اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے کہا عبداللہ بن عمر نے کیا آپ نے اپنے والد سے سنا تھا کہ وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمعہ کی ساعت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ وہ حدیث بیان کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمعہ کی ساعت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے کہ وہ یہ ساعت ہوتی ہے اس کے درمیان کہ امام بیٹھ جائےیہاں تک کہ نماز پوری ہو جائے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے احمد بن عیسیٰ وغیرہ سے اس نے ابن وہب سے اور یہ زیادہ صحیح ہے ان تمام روایات میں جو جمعہ کی ساعت کو بیان کرنے کے بارے میں روایت کی گئی ہیں اور احتمال ہے کہ اس کو ابو موسیٰ نے کہا ہو اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سے قبل آپ بھلوائے گئے ہوں اور دوسرے طریق سے بھی روایت کی گئی ہے۔

هي ما بين ← لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ ← أبي موسى الشعري ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عبد الأعلى بن عبد الله بن سليمان بن الأشعث ← و، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← أبو طاهر محمد بن عبد الله الجويني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2980

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2981

2981 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو يحيى بن أبي مسرة ثنا ابن أبي أويس ثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن في الجمعة ساعة من نهار لا يسأل الله عبد شيئا إلا أعطاه إياه أي ساعة هي يا رسول الله ؟ قال : هي حين تكاد الصلاة إلى انصراف منها قال كثير يعني صلاة الجمعة و رواه الدراوردي عن كثير و قال : ما بين نزول الإمام من المنبر إلى الانصراف

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے انکو خبر دی ہے ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک جمعہ کے دن میں ایک ساعت ہے اس میں کہ کوئی بھی بندہ جس چیز کا بھی اللہ سے سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دے دیتا ہے وہی چیز۔ کہا گیا کہ یہ کون سی ساعت ہے یا رسول اللہ آپ نے فرمایا کہ یہ اس وقت ہوتی ہے جب نماز اپنے اختتام کے قریب قریب ہوتی ہے۔ کثیر نے کہا کہ صلوٰۃ سے صلوٰۃ جمعہ مراد ہے اور اس کو روایت کیا دراوردی نے کثیر سے اور کہا ہے کہ (یہ ساعت ہوتی ہے) اس وقت جو امام کے منبر سے اترنے سے لے کر نماز پڑھ کر ہٹنے تک ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو يحيى بن أبي مسرة ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2981

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2982

2982 - أخبرنا أبو نصر محمد بن إسماعيل البزاز بطابران ثنا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ثنا محمد بن إسماعيل الصايغ ثنا روح ثنا هشام عن أبي هريرة قال : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن إذا اجتنبت الكبائر هكذا رواه روح بن عبادة موقوفا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر محمد بن اسماعیل بزاز سے طابر ان میں ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے ان کو محمد بن اسماعیل صایغ نے ان کو روح نے ان کو ھشام نے ان کو ا بو ہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک ان کے درمیان جو اوقات ہیں ان کے گناہوں کو مٹانے والی ہیں جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے روح بن عبادہ نے بطور موقوف روایت کے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هِشَامٍ ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أبو نصر محمد بن إسماعيل البزاز بطابران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2982

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2983

2983 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل ثنا الحسن بن محمد بن زياد ثنا نصر بن علي الجهضمي ثنا عبد الأعلى ثنا هشام عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن رواه مسلم عن نصر بن علي و كذلك رواه عبد الرحمن بن يعقوب و إسحاق مولى زائدة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مرفوعا و ذكر أن حديثهما اجتناب الكبائر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن یعقوب بن یوسف عدل نے ان کو حسن بن محمد بن زیاد نے ان کو نصر بن علی جہضمی نے ان کو عبدالاعلیٰ نے ان کو ہشام نے انکو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہوں نے فرمایا کہ پانچ نمازیں اور جمعہ تک یہ درمیانے اوقات کے لئے کفارہ ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے نصر بن علی سے اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو عبدالرحمٰن بن یعقوب نے اور اسحٰق مولیٰ زائدہ نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بطور مرفوع روایت کے اور یہ ذکر کیا ہے کہ ان دونوں کی حدیث کبائر سے اجتناب ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← الحسن بن محمد بن زياد ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2983

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2984

2984 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر النحوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك ثنا أبو عوانة عن المغيرة عن زياد بن كليب عن إبراهيم عن علقمة عن قرثع عن سلمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال : قلنا الله و رسوله أعلم قال ثم قال أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال : قلت الله و رسوله أعلم قال ثم قال أتدرون ما يوم الجمعة ؟ قال قلت الله و رسوله أعلم قال فقلت في الثالثة أو في الرابعة هو اليوم الذي جمع فيه أبوك أو أبوكم قال : إني أخبركم عن يوم الجمعة ما من مسلم يتطهر ثم يمشي إلى المسجد ثم ينصت حتى يقضي الإمام صلاته إلا كانت له كفارة ما بينه و بين بهذا المعنى و زاد قال لا و لكن أحدثكم عن يوم الجمعة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو ولید نے ان کو ہشام بن عبدالملک نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو مغیرہ نے ان کو زیاد بن کلیب نے ان کو ابراہیم نے علقمہ سے اس نے قرثع سے اس نے سلمان سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ کہتا ہے کہ ہم نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں سلمان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے سلمان کہتا ہے میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ سلمان کہتے ہیں تیسری بار یا چوتھی بار میں نے کہا یہ وہ دن ہوتا ہے جس میں تیرا اور تمہارے باپ جمع ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ میں تمہیں یوم جمعہ کے بارےمیں خبر دیتا ہوں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو وضو کرتا ہے اس کے بعد وہ مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اس کے بعد وہ چپ رہتا ہے حتی کہ امام اپنی نماز پوری کر لیتا ہے مگر اس کے لئے کفارہ بن جاتا ہے اس کے درمیان اور اس جمعہ کے درمیان جو اس سے پہلے گزر ا تھا۔ جب تک کہ اجتناب کرے اور بچے نا حق قتل کرنے سے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے سہل بن بکار نے ابو عوانہ سے اس معنی کے ساتھ اور یہ زیادہ کیا ہے اس نے کہ انہوں نے فرمایا کہ نہیں مگر میں تمہیں بتاتا ہوں یوم جمعہ کے بارے میں۔

سَلْمَانَ ← قَرْثَعٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2984

chevron_left Previous
1…222324…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood