Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2961

2961 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن الفصايري بباب الشام ثنا محمد بن عمرو الرزاز ثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي ثنا محمد بن سابق عن إسرائيل عن عطاء بن السائب قال : أتيت أبا عبد الرحمن و قد صلى الفجر و هو في مسجده جالس فقلت لو قمت إلى فراشك فقال سمعت عليا بن أبي طالب رضي الله عنه يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا صلى الرجل المسلم ثم جلس بعد الصلاة صلت عليه الملائكة ما دام في مصلاه و صلاتهم عليه اللهم اغفر له اللهم ارحمه و إذا جلس ينتظر الصلاة صلت عليه الملائكة و صلاتهم عليه اللهم اغفر له اللهم ارحمه و قد ذكرنا في كتاب السنن و الدعوات ما ورد في الدعاء بعد الصلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن حسن فصایری نے باب شام میں ان کو محمد بن عمرو رزاز نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ طیالسی نے ان کو محمد بن سابق نے ان کو اسرائیل نے عطا بن سائب سے وہ کہتے ہیں کہ میں آیا ابو عبدالرحمٰن کے پاس وہ فجر کی نماز پڑھ چکے تھے اور وہ اپنی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اپنے بستر کی طرف تشریف لے چلتے (تو اچھا ہوتا) انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ و جہہ سے سنا تھا فرماتے تھے جب ایک مسلمان آدمی نما ز پڑھتا ہے اس کے بعد پھر بیٹھ جاتا ہے تو اس پر فرشتے رحمت ، مغفرت کرنے کی دعا کرتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے اور نمازی کے لئے ان کی دعا یہ ہوتی ہے اے اللہ تو اس کی مغفرت فرما اے اللہ تو اس پر رحم فرما اور ہم نے کتاب السنن والد عوات میں وہ احادیث روایت کی ہیں جو نماز کے بعد دعا کی بابت وارد ہوئی ہیں۔

عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← عيسى بن عبد الله الطيالسي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن الفصايري بباب الشام

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2961

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2962

2962 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف حدثنا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن بعض أصحابه عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي على الناس زمان يكون حديثهم في مساجدهم في أمر دنياهم فلا تجالسوهم فليس لله فيهم حاجة هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے اپنے بعض احباب سے ذکرکیا تھا انہوں نے حسن سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ دنیا کے بارے میں ان کی بات چیت مساجد میں کم ہو گی تم لوگ ان کے پاس بیٹھنا اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی ضرورت نہیں ہے اسی طرح یہ روایت مرسل آئی ہے۔

الْحَسَنِ، ← بَعْضِ أَصْحَابِهِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2962

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2963

2963 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ثنا سهل بن عمار ثنا يزيد بن هارون ثنا عبد الملك بن قدامة الجمحي ثنا إسحاق بن أبي بكر بن أبي الفرات عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للمنافقين علامات يعرفون بها تحيتهم لعنة و طعامهم نهبة و غنيمتهم غلول لا يقربون المساجد إلا هجرا و لا الصلاة إلا دبرا لا يألفون و لا يؤلفون خشب بالليل سخب بالنهار تابعه سليمان بن بلال عن عبد الملك بن قدامة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص تاجر نے انکو سہل بن عمار نےان کو یزید بن ہارون نے ان کو عبدالملک بن قدامہ حججی نے ان کو اسحٰق بن ابو بکر بن ابو الفرات نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک منافقوں کی کچھ علامات ہوتی ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں سلام ان کا لعنت ہوتی ہے طعام (کھانا) ان کو جھپٹنا ہوٹ مار کرنا ہوتا ہے۔ مال غنیمت ان کا چوری و خیانت کا مال ہوتا ہے۔ مساجد کے قریب نہیں جاتے مگر جدائی کے ساتھ اور نماز کے قریب نہیں جاتے مگر پیچھے پیچھے نہ وہ کسی کی دلجوئی کرتے ہیں نہ ہی ان کی کوئی دلجوئی کرتا ہے راتوں کو لکڑی ہوتے (یعنی حیفہ اور مردار کی طرح پڑے رہتے ہیں عبادت نہیں کرتے) دن کو سخت شوروغل کرتے ہیں۔ سلیمان بن بلال نے اس کا متابع بیان کیا ہے۔ عبدالملک بن قدامہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← إسحاق بن أبي بكر بن أبي الفرات ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2963

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2964

2964 - أخبرنا أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنبأ أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا ابن وهب عن مالك بن خير الزيادي عن أبي قبيل عن عقبة بن عامر الجهني قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سيهلك من أمتي أهل الكتاب و أهل اللبن قال عقبة : فقلت ما أهل الكتاب يا رسول الله ؟ قال : قوم يتعلمون كتاب الله يجادلون به الذين آمنوا قال فقلت : فما أهل اللبن يا رسول الله ؟ قال : قوم يلزمون الشهوات و يضيعون الصلوات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن ابو بکر اھوازی نے ان کو حمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابن وہب نے ان کو مالک بن خیر زیادی نے انکو ابو قبیل نے ان کو عقبہ بن عامر جہنی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب میری امت میں سے اہل کتاب اور اہل لبن ہلاک ہو ں گے (یا ہلاک کر دئیے جائیں گے) حضرت عقبہ نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کی امت کے اہل کتاب کون ہیں؟ فرمایا : وہ لوگ ہوں گے جو کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کریں گے اور اسی کے ذریعے ان لوگوں سے جھگڑا کریں گے جو ایمان والے ہیں حضرت عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اہل لبن کون ہیں یا رسول اللہ ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو شہوات و بدعات و خواہشات کو لازم پکڑیں گے اور نمازوں کو ضائع کریں گے۔

عقبة فقلت ما أهل الكتاب ← سيهلك من أمتي أهل الكتاب و أهل اللبن ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي قَبِيلٍ، ← مالك بن خيرٍ الزيادي، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أبو الحسن بن أبي بكر الأهوازي أنبأ أحمد بن عبيد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2964

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2965

2965 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أبو قلابة ثنا عمرو بن مرزوق أنبأ شعبة عن يونس بن عبيد عن عمار مولى بني هاشم عن أبي هريرة : ـ { و شاهد و مشهود } قال : الشاهد يوم الجمعة و المشهود يوم عرفة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے انکو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو قلابہ نے ان کو عمر بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو عمار مولیٰ بنی ہاشم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وشاہد و مشہود۔ فرمایا شاید یوم جمعہ اور مشہور یوم عرفہ ہے۔

الشاهد يوم الجمعة و المشهود يوم عرفة ← أبي هريرة و شاهد و مشهود ← عَمَّارٌ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2965

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2966

2966 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب قال : سئل سعيد بن أبي عروبة عن فضل يوم الجمعة فأخبرنا قتادة أنه كان يقول في هذه الآية { يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله و ذروا البيع ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون } قال : فالسعي أن تسعى يا ابن آدم بقلبك و عملك و هو المشي إليها قال : و كان يتأول هذه الآية { فلما بلغ معه السعي } يقول : فلما مشى معه قال الكلبي : فلما بلغ معه السعي يقول فلما عمل مثل عمله اظنه عبد الوهاب يرويه عن الكلبي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحیٰٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب نے انہوں نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ سے پوچھا گیا تھا جمعہ کے دن کی فضیلت کے بارے میں ۔ بس ہمیں خبر دی ہے قتادہ نے کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے۔ " یا ایھاالذین اٰمنو اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعو الیٰ ذکر اللہ وذرو البیع ذالکم خیر الکم ان کنتم تعلمون "۔ اے اہل ایمان جس وقت جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے اذان پڑھی جائے تو فوراً دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ فرماتے ہیں کہ سعی یہ ہے کہ اے ابن آدم تم اپنے دل کے ساتھ اور اپنے عمل کے ساتھ سعی کرو عمل کے ساتھ سعی یہ ہے ہک تم اس کی طرف چل پڑو۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ سعید بن عروبہ اس (آنے والی) آیت کی تاویل کرتا تھا۔ فلما بلغ مع السعی جب اسماعیل علیہ السلام اپنے والد کے ساتھ دوڑ بھاگنے لگ گیا ۔ وہ معنی کرتے تھے کہ اسماعیل والد کے ساتھ چلا۔ کلبی نے کہ فلما بلغ معہ السعی۔" کا مطلب ہے جب اس نے والد کے عمل کی مثل عمل کیا۔ میں گمان کرتا ہوں کہ عبدالوہاب اس کو روایت کرتے ہیں کلبی سے۔

قَتَادَةَ ← فضل يوم الجمعة ← سئل سعيد بن أبي عروبة ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2966

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2967

2967 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور ثنا أحمد بن سلمة ثنا هناد بن السري ثنا ابن فضيل و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا عبد الله بن محمد ثنا أبو كريب و واصل بن عبد الأعلى قالا : ثنا محمد بن فضيل عن أبي مالك الأشجعي عن أبي حازم عن أبي هريرة و عن ربعي عن حذيفة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أضل الله عن الجمعة من كان قبلنا فكان لليهود يوم السبت و كان للنصارى يوم الأحد فجاء الله بنا فهدانا ليوم الجمعة فجعل و السبت و الأحد و كذلك هم تبع لنا يوم القيامة نحن الآخرون من أهل الدنيا و الأولون يوم القيامة المقضي لهم قبل الخلائق رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب و واصل و أخرجاه من حديث الأعرج و غيره عن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحیٰٰ بن منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو ہناد بن سری نے ان کو ابن فضیل نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو ابو کریب نے اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے دونوں نے کہا کہ انکو محمد بن فضیل نے ان کو ابو مالک اشجعی نے ان کو ابو حازم نے ان کو حضرت ابو ہریرہ نے اور ربعی سے مروی ہے اس نے حذیفہ سے دونوں نے کہا ہک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں کو جمعہ کے دن سے بھٹکا دیا تھا لہذا یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن تھا اور انصاریوں کے لئے اتوار کا دن تھا پھر اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو لے آیا پھر ہمیں اس نے ہدایت دی جمعہ کے دن کے لئے۔ اللہ نے (یوں ترتیب بنائی) پہلے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار۔ ایام کی ترتیب کی طرح وہ لوگ بھی ہمارے تابع یا پیچھے ہوں گے قیامت کے دن ہم اہل دنیا میں آخری اور قیامت کے دن تمام مخلوقات سے پہلے فیصلہ ہمارا ہو گا لہذا ہم اس طرح اول ہوں گے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو کریب سے اور واصل سے اور بخاری و مسلم نے اس کونقل کیا ہے اعرج وغیرہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← أبِي هُرَيْرَةَ, وَ ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أبو كريب و واصل بن عبد الأعلى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← ابن فضيل و ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2967

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2968

2968 - أخبرنا أبو سعيد علي بن عبدوس بن محفوظ الفقيه الخزروذي و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : ثنا أبو محمد يحيى بن منصور الحاكم ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن كثير أنا سليمان بن كثير عن حصين عن عمرو بن قيس عن محمد بن الأشعث قال : دخلنا على عائشة رضي الله عنها فحدثتني فقالت بينا أنا قاعدة عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ جاء نفر من اليهود فاستأذن أحدهم فدخل فقال السام عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و عليك ثم دخل آخر فقال السام عليك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم و عليك فلم أملك نفسي قلت بل عليكم السام و فعل الله بكم و فعل قالت فأظن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تكلم فعلمت أنه وجد علي فلما خرجوا قال لي : ما حملك على ما صنعت ؟ قلت يا رسول الله سمعت الذي قالوا فلم أملك نفسي فقال : ألم ترني قد رددت عليهم لم يضرنا و لزمهم إلى يوم القيامة تدرين على ما حسدونا ؟ قلت الله و رسوله اعلم قال : فإنهم حسدونا على القبلة التي هدينا إليها و ضلوا عنا و على الجمعة التي هدينا لها و ضلوا عنها و على قولنا خلف الإمام آمين

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید علی بن عبدوس بن محفوظ فقیہ روزی نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو محمد یحییٰ بن منصور حاکم نے ان کویوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سلیمان بن کثیر نے ان کو حصین نے ان کو عمرو بن قیس نے ان کو محمد بن اشعث نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ہم لوگوں کو حدیث بیان کی فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھی ہوئی تھی اچانک یہودیوں کا ایک گروہ آ گیا ان میں سے ایک نے اجازت چاہی وہ اندر آیا اس نے کہا السام علیکم (تم پر ہلاکت ہو) نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وعلیک (تم پر ہو)۔ پھر دوسرا داخل ہوا اور اس نے کہا السام علیکم رسول اللہ نے فرمایا وعلیک۔ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکی اور میں نے بھی کہا بل علیکم السام (بلکہ تم سب پر موت ہو ہلاکت ہو) اور اللہ تمہارا برا کرے اور اس نے کیا بھی ہے۔ کہتی ہیں کہ میں نے گمان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی بات کہی ہے میں نے جان لیا کہ آپ مجھ پر ناراض ہوئے ہیں وہ جب نکل گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہیں اس بات پر کس چیز نے ابھارا ہے جو تم نے کہی تھی؟ میں نے کہا: مجھے اپنے اوپر اختیار نہیں رہا تھا (گویا کہ میں صبر نہ کرسکی) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے مجھے نہیں دیکھا تھا میں نے تو ان کا جواب دے دیا تھا (وہی ہلاکت ان پر واپس لوٹا دی تھی) انہوں نے ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا (بلکہ ہم نے جو بد دعا ان پر لوٹائی ہے) وہ قیامت تک ان پر لازم ہو گئی ہے۔ کیا تم جانتی ہو کہ کس چیز پر انہوں نے ہم سے حسد کیا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے ہم سے حسد کیا ہے قبلہ پر جس کی طرف ہمیں ہدایت دی گئی ہے اور وہ ہم سے بھٹک گئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جمعہ کے بارے میں حسد کیا ہے جس کی ہمیں ہدایت ملی ہے ' وہ اس سے بھی گمراہ ہو گئے تھے اور انہوں نے ہم سے حسد کی ہے امام کے پیچھے ہمارے آمین کہنے پر (اس لئے کہ اس میں بھی اجتماعی دعا سے ہدایت کے حصول کی اور یہود نصاریٰ کے راستے سے بیزاری کی تو اس سے بھی حسد کرنا عین عقل کے مطابق ہے (از جاروی)۔

قاعدة عند النبي صلى الله عليه و سلم ← بَيْنَا ← دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَحَدَّثَتْنِي ← مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← حُصَيْنٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْحَاكِمُ، ← أبو سعيد علي بن عبدوس بن محفوظ الفقيه الخزروذي و أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2968

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2969

2969 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا ابن مكرم ثنا محمود بن غيلان ثنا عبد الصمد ثنا زربي عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أعطاني ثلاث خصال لم يعطها أحد قبلي الصلاة في الصفوف و التحية من تحية أهل الجنة و آمين إلا أنه أعطى موسى أن يدعو موسى و يؤمن هارون

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابن مکرم نے ان کو محمود بن غیلان نے ان کو عبدالصمد نے ان کو زربی نے ان کو انس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نےمجھے تین خصلتیں عطاکی ہیں ۔ مجھ سے قبل کسی کو وہ عطا نہیں ہوئی ہیں۔ صفوف میں نمازپڑھنا (یعنی با جماعت نماز پڑھنا)اور سلام کرنا یہ سلام تو اہل جنت کے تحفے میں سے ہے اور (نماز میں اجتماعی دعا پر) آمین کہنا ہاں مگر یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ عطا ہوا تھا کہ وہ دعا کرتے اور ہارون علیہ السلام اس پر آمین کہتے تھے۔

أَنَسٍ، ← زربي ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← ابْنُ مُكْرَمٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2969

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2970

2970 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن يعقوب ثنا تميم بن محمد ثنا حرملة بن يحيى ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أخبرني عبد الرحمن الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أدخل الجنة و فيه أخرج منها و لا تقوم الساعة إلا في يوم الجمعة رواه مسلم عن حرملة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو تمیم بن محمد نے ان کو حرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو خبر دی عبدالرحمٰن اعرج نے کہ اس نے سنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اس میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور جمعہ کے دن جنت میں داخل کئےگئے تھے اور جمعہ کے دن جنت سے باہر نکالے گئے تھے اور قیامت جمعہ کے دن ہی قائم ہو گی (اس کو مسلم نے روایت کیا ہے)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2970

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2971

2971 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني ابن أبي الزناد عن أبيه عن موسى بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيد الأيام يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أدخل الجنة و فيه أخرج منها و لا تقوم الساعة إلا في يوم الجمعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی ابن ابوزناد نے ان کو ان کے والد نے ان کو موسیٰ بن ابو عثمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا تمام دنوں کا سردار دن جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اسی میں جنت میں داخل کئے گئے اسی میں جنت سے نکالے گئے اور قیام تو جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2971

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الجمعة · حديث 2972

2972 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أبو الحسن بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر يوم الجمعة فقال : فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم و هو قائم يصلي يسأل الله شيئا إلا أعطاه إياه و أشار رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده يقللها رواه البخاري عن القعنبي و مسلم عن يحيى بن يحيى عن مالك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے فعلبی نے ان میں جو اس نے پڑھی مالک پر انہوں نے ابو الزناد سے انہوں نے اعرج سے انہوں نے ابو ہریرہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم جمعہ کا ذکر کیا اور فرمایا۔ اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ جب کوئی بندہ مسلم اس ساعت کو پالے اور اس وقت وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے مگر اس کو وہ چیز ضرور عطا کرے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا کہ اس کو قلیل یا بہت کم بتا رہے تھے (یعنی وہ ساعت کم ہوتی ہے) اس کو بخاری نے روایت کیا ہے قعنبی سے اور مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے مالک سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أبو الحسن بن عبدوس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Preferred Friday · Hadith 2972

chevron_left Previous
1…212223…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood