Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2949

2949 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو الحسين عبد الصمد بن علي بن مكرم البزار ببغداد ثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا محمد بن أبان ثنا إسماعيل بن جعفر عن إسرائيل عن عبد الله بن المختار عن محمد بن واسع عن أبي الدرداء قال : أوصاني أبي يا بني ليكن المسجد بيتك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المساجد بيوت الله و قد ضمن الله لمن كانت المساجد بيته بالروح و الراحة و الجواز على الصراط إلى الجنة و رواه أيضا أبو أحمد الزبيري عن إسرائيل و رواه أيضا عمرو بن جرير عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن أبي الدرداء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین عبدالصمد بن علی بن مکرم بزار نے بغداد میں ان کو اسلم بن سہل واسطی نے ان کو محمد بن ابان نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے اسرائیل سے اس نے عبداللہ بن مختار سے اس نے محمد بن واسع سے اس نے ابو درداء سے اس نے کہا کہ میرے والد نے مجھے وصیت کی تھی اے بیٹے تیرا گھر مسجد ہونا چاہیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے مساجد اللہ کے گھر ہیں اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے ہر اس شخص کے لئے جس کا گھر مساجد ہوں مہربانی کی' راحت و آرام کی اور پل صراط پر سے جنت کی طرف گزارنے کی اور اس کو روایت کیا ہے ابو احمد زبیر ی نے اسرائیل سے اور اس کو روایت کیا ہے عمرو بن جریر نے بھی اسماعیل بن ابو خالد سے اس نے قیس بن ابو حازم سے اس نے ابو درداء سے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ← اِسْرَائِیْلُ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2949

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2950

2950 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أبادي ثنا عباس الدوري ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا صالح المري عن سعيد الجريري عن أبي عثمان النهدي قال : كتب سليمان إلى أبي الدرداء يا أخي ليكن بيتك المسجد فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : المسجد بيت كل تقي و قد ضمن الله لمن كان المسجد بيته بالروح و الراحة و الجواز على الصراط إلى رضوان الرب عز و جل سبحانه

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو عباس دوری نے ان کو یونس بن محمد مؤدب نے ان کو صالح مری نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابو عثمان مہدی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سلمان نے حضرت ابو درداء کی طرف لکھا اے بھائی جان آپ کا گھر مسجد ہی ہونا چاہئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ مسجد متقی پرہیز گار کا گھر ہے اور تحقیق اللہ نے ضمانت دی ہے(ہر اس بندے کے لئے مسجد جس کا گھر ہو) مہربانی' راحت و آرام اور پل صراط پر سے اللہ کی رضا مندی کی طرف پہنچانے کی۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سليمان إلى أبي الدرداء يا أخي ليكن بيتك المسجد فإني ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← صالح المري ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2950

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2951

2951 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر القطان ثنا إبراهيم بن الحارث ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا الحسين بن صالح عن أبيه أو غيره عن الشعبي قال : كانوا إذا فزعوا من شيء أتوا المساجد

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ان کو حسین بن صالح نے ان کو ان کے والد نے یا کسی اور نے شعبی سے انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جب کسی چیز سے گھبراتے اور پریشان ہوتے تو مساجد میں آتے۔

كانوا إذا فزعوا من شيء أتوا المساجد ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِيهِ أَوْ غَيْرِهِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَالِحٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2951

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2952

2952 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو جعفر الرزاز ثنا الحسن بن ثواب ثنا يزيد بن هارون و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا يزيد بن هارون ثنا عنبسة بن عبد الرحمن عن أيوب بن موسى عن أبي حازم قال : قال سعيد بن المسيب : إن للمساجد أوتادا من الناس و إن لهم جلساء من الملائكة فإذا فقدوهم سألوا عنهم فإن كانوا مرضاء عادوهم و إن كانوا في حاجة أعانوهم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو حسن بن ثواب نے ان کو یزید بن ہارون نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عنبسہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے ان کو ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ سید بن مسیب نے کہا بے شک مساجد کے لیے لوگوں میں سے کچھ اوتاد ہیں اور ان کے ہمنشین اور ساتھی بھی ہیں فرشتوں میں سے۔ جب وہ فرشتے ان کو غائب پاتے ہیں تو ان کے بارےمیں پوچھتے ہیں اگر وہ بیمار ہوتے ہیں تو وہ ان کی طبع پرسی کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔

أَبِي حَازِمٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← عنبسة بن عبد الرحمن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← يزيد بن هارون و ← الْحَسَنُ بْنُ ثَوَابٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2952

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2953

2953 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أبو العباس هو الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا يزيد بن هارون و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون ثنا أبو غسان محمد بن مطرف الليثي ثنا أبو حازم عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن سلام قال : إن للمساجد أوتادا و إن لهم جلساء من الملائكة تفقدهم الملائكة إذا غابوا فإن كانوا مرضى عادوهم و إن كانوا في حاجة أعانوهم لفظ حديث يحيى غير أنه قال عن أبي حازم و لم يذكر قوله و إن لهم جلساء من الملائكة و ذكره الحسن بن مكرم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے(ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابو غسان محمد بن مطرف لیثی نے ان کو ابو حازم نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو عبداللہ بن سلام نے وہ فرماتے ہیں کہ بے شک مساجد کے لئے اوتاد ہوتے ہیں اور فرشتوں میں سے ان کے ہمنشین ہوتے ہیں جس وقت وہ لوگ غائب ہوتے ہیں تو فرشتے بھی ان کو تلاش کرتے ہیں اگر وہ بیمار ہوتے ہیں تو ان کی طبع پرسی کرتے ہیں اور وہ کسی حاجت میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ یہ الفاظ حدیث یحییٰ کے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے اس کا قول ذکر نہیں کیا کہ بے شک ان کے لیے ہمنشین ہوتے ہیں فرشتوں میں سے اور حسن بن مکرم نے اس کو ذکر کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو حَازِمٍ ← أبو غسان محمد بن مطرف الليثي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← يزيد بن هارون و ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو عبد الله الحافظ أبو العباس هو الأصم

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2953

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2954

2954 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن عبد الله بن يزيد ثنا يونس بن محمد ثنا مبشر بن مكسر ثنا أبو حازم ثنا سعيد بن المسيب عن أبيه عن عبد الله بن سلام قال : دخل المسجد فقال يا مسيب إن لهذا المسجد أوتادا هم أهله يغدون عليه و يروحون فإذا غاب أحدهم قالت الملائكة : ما لفلان لم يغد ما لفلان لم يرح فإن كان مريضا عادوه و إن كان طالب حاجة أعانوه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبداللہ بن یزید نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو مبشر بن مکسر نے ان کو ابو حاذم نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن سلام نے وہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور کہنے لگے اے مسیب بے شک اس مسجد کے کچھ اوتاد ہیں وہ اس کے اہل ہیں (مسجد والے ہیں) جو صبح بھی اسی پر کرتے ہیں اور شام بھی جب ان میں سے کوئی غائب ہوتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں فلاں کو کیا ہوا کہ وہ صبح کو نہیں آیا اور فلاں کو کیا ہوا کہ وہ شام کو نہیں آیا اگر وہ بیمار ہوتا ہے تو وہ اس کی مزاج پرسی کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت کا طالب ہوتا ہے تو وہ اس کی اعانت کرتے ہیں۔

دخل المسجد ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو حَازِمٍ ← مُبَشِّرُ بْنُ مُكْسِرٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2954

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2955

2955 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق الدبري ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن عطاء الخراساني رفع الحديث قال : إن للمساجد أوتادا جلساؤهم الملائكة يتفقدونهم فإن كانوا في حاجة أعانوهم و إن مرضوا عادوهم و إن غابوا تفقدوهم و إن حضروا قالوا اذكروا الله ذكركم الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق دبری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عطاء خراسانی نے اس نے حدیث کو مرفوع بیان کیا ہے فرمایا کہ بے شک مساجد کے لئے کچھ اوتاد ہوتے ہیں ان کے ہمنشین فرشتے ہوتے ہیں وہ ان کو تلاش کرتے ہیں اگر وہ کسی حاجت میں ہوتے ہیں تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ بیمار ہوتے ہیں تو وہ ان کی مزاج پرسی کرتے ہیں اور اگر وہ غائب ہوتے ہیں تو وہ ان کو تلاش کرتے ہیں اور اگر وہ موجود ہوتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرو اللہ تعالیٰ تمہیں یاد کرے گا۔

عطاء الخراساني رفع الحديث ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2955

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2956

2956 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب من أصله ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا محمد بن المسيب ثنا عبد الملك بن مروان ثنا الحجاج بن محمد عن سعيد بن عبد العزيز عن ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس قال : المساجد مجالس الكرام

ہمیں خبر دی ابو القاسم بن حبیب نے اپنی اصل کتاب سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن مسیب نے ان کو عبدالملک بن مروان نے ان کو حجاج بن محمد نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ان کو ربیعہ بن یزید نے ان کو ابو ادریس نے وہ کہتے ہیں کہ مساجد عزت والے مقامات ہیں اور عزت والی مجالس ہیں۔

«الْمَسَاجِدُ مَجَالِسُ الْكِرَامِ» ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أبو القاسم بن حبيب من أصله،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2956

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2957

2957 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن الأوزاعي قال : كان يقال خمس كان عليها أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم و التابعون بإحسان : لزوم الجماعة و اتباع السنة و عمارة المساجد و تلاوة القرآن و الجهاد في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحٰق خزاری نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ پانچ کام ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی اتباع کرنے والے احسان و نیکی کے ساتھ ان پر پابندی سے عمل پیرا تھے۔ جماعت کا التزام کرنا' سنت کی اتباع کرنا' مساجد کو آباد کرنا' قرآن کی تلاوت کرنا' اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2957

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2958

2958 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا إسحاق بن عبد الله بن محمد بن رزين السلمي ثنا بشر بن أبي الأزهر ثنا أبو معاوية عن سعد بن طريف عن عمير بن مأمون بن زرارة عن حسن بن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من صلى الفجر ثم قعد في مجلسه يذكر الله عز و جل حتى تطلع الشمس ثم قام فصلى ركعتين حرم الله على النار أن تلفحه أو تطعمه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن محمد رزین سلمی نے ان کو بشر بن ابو الازہر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو سعد بن طریف نے ان کو عمیر بن مامون بن زرارہ نے ان کو حسن بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھے اس کے بعد وہ بیٹھ جائے اپنی جگہ پر اللہ عزوجل کا ذکر کرتا رہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے اس کے بعد کھڑا ہو جائے او دو رکعتیں پڑھے اللہ تعالیٰ آگ اس پر حرام کر دیں گے کہ وہ اس کے جھلسائے یا اس کو کھائے۔

حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← عمير بن مأمون بن زرارة ← سعد بن طريف ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← بِشْرُ بْنُ أَبِي الْأَزْهَرِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2958

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2959

2959 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو جعفر الطائي ثنا أبو جدي علي بن حرب ثنا أبو داود عن سفيان عن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا صلى يعني الصبح جلس في مصلاه حتى تطلع الشمس أخرجه مسلم من حديث الثوري

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو ابو جعفر طائی نے ان کو ابو جدی علی بن حرب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سفیان نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو جابر بن سمرہ نے وہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے تھے تو اپنے مصلے پر اور اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ اس کو مسلم نے ثوری کی روایت سے نقل کیا ہے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو جدي علي بن حرب ← أبو جعفر الطائي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2959

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2960

2960 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه الذي يصلي فيه تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث رواه مسلم عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہمام بن منبہ نے انہوں نے کہا یہ وہ حدیث ہے جس کو ہمیں ابو ہریرہ نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ فرشتے تمہارے اس انسان کے حق میں رحمت و مغفرت مانگتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ پر رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز پڑھی ہے وہ یہ کہتے ہیں: "اللھم اغفر لہ، اللھم ارحمہ" اے اللہ اس کو بخش دے اے اللہ اس پر رحم کر دے جب تک وہ بے وضو نہ ہو جائے۔ اس کو مسلم روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2960

chevron_left Previous
1…202122…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood