Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2721

2721 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بمكة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى أنا شيبان عن عبد الملك بن عمير عن موسى بن طلحة عن حمران بن أبان قال : أني لجالس مع عثمان بن عفان إذ أذن المؤذن ثم أتاه ليعلمه قال : فدعا عثمان بطهور ثم قال : لقد أردت أن أحدثكم حديثا ثم بدا لي ألا أفعل فقال له الحكم بن أبي العاص حدثنا يا أمير المؤمنين فإن يك خيرا نسارع فيه و أما غير ذلك فنكف عنه فقال كنت جالسا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فأتاه المؤذن يؤذنه كما أتاني ليؤذنني فدعا بطهوره ثم قال : ما من رجل مسلم يتطهر فيحسن الطهور ثم يقوم إلى الصلاة إلا كانت صلاته تلك كفارة لما قبلها من الخطايا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو عزہ نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے موسی بن طلحہ سے اس نے حمران بن ابان سے انہوں نے کہا کہ میں حضرت عثمان بن عفان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں مؤذن نے اذان دی پھر ان کے پاس وہ ان کو بتانے کےلیے آیا حمرانی کہتے ہیں حضرت عثمان نے ان سے وضوکا پانی منگوایا پھر فرمایا میں نے تم لوگوں کو حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا ہے اس کے بعد مجھے اشارہ دیا کہ میں ابھی کچھ نہ کروں لہٰذا ان سے حکم بن ابو العاص نے کہا اے امیر المؤمنین ہمیں آپ حدیث بیان فرمائیے اگر بھلائی ہے تو ہم اس میں ایک دوسرے سے جلدی کریں اگر اس کے علاوہ بات ہے (یعنی باز آنے کی کوئی بات ہے تو ) پھر ہم اس سے رک جائیں لہذا فرمانے لگے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا تو اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا تھا جو حضور کو اذان کے بارے میں بتانے آیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اپنے وضو کا پانی منگوایا تھا اس کے بعد فرمایا تھا کہ کوئی بھی مسلمان آدمی جو وضو کرتا ہے اور وضو کو بہت اچھا کرتا ہے اس کے بعد نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے مگر اس کی وہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔

أني لجالس مع عثمان بن عفان ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2721

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2722

2722 - أخبرنا جناح أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله عن شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم بن الحارث القرشي أخبرني معاذ بن عبد الرحمن أن حمران بن أبان أخبره قال : أتيت عثمان بطهوره و هو جالس على المقاعد فتوضأ فأحسن الوضوء ثم قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو في المسجد توضأ فأحسن الوضوء ثم قال : من توضأ مثل هذا الوضوء ثم أتى المسجد فركع ركعتين غفر له ما تقدم من ذنبه رواه البخاري في الصحيح عن سعد بن حفص عن شيبان

ہمیں خبر دی ہے جناح نے ان کو ابو جعفر بن رحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو عبید اللہ نے ان کو شیبان نے ان کو یحی بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن ابراہیم بن حارث قرشی نے ان کو خبر دی ہے معاذ بن عبدالرحمٰن نے یہ کہ حمران بن ابان نے اس کو خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کے وضو کا پانی لے کر آیا وہ بیٹھے ہوئے تھے بیٹھنے کی چیز پر (چوکی پر ) انہوں نے وضو کیا اور وضو کو بہت اچھا کیا اس کے بعد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا آپ مسجد میں تھے آپ نے وضو کیا تھا اور بہت اچھے طریقے سے کیا تھا اس کے بعد فرمایا تھا جو شخص اس وضو جیسا وضو کرے اس کے بعد مسجد میں آئے اور دو رکعتیں پڑھے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں سعد بن جعفر سے اس نے شیبان سے۔

مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← محمد بن إبراهيم بن الحارث القرشي ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← جناح

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2722

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2723

2723 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا عبد الله بن أبي مريم ثنا عمرو بن أبي سلمة عن الأوزاعي ثنا يحيى بن أبي كثير حدثني محمد بن إبراهيم التيمي حدثني شقيق بن سلمة حدثني حمران مولى عثمان بن عفان قال : كان عثمان بن عفان قاعدا في المقاعد فدعى بوضوء فتوضأ ثم قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ في مقعدي هذا بمثل وضوئي هذا ثم قال : من توضأ مثل وضوئي هذا ثم قام فركع ركعتين غفر له ما تقدم من ذنبه و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و لا تغتروا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو عبداللہ بن ابو مریم نے ان کو عمرو بن ابی سلمہ نے اور ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن ابراہیم تیمی نے ان کو شقیق بن سلمہ نے ان کو حمران مولی عثمان بن عفان نے وہ کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان وضو کرنے جگہ پر بیٹھے تھے انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اس کے بعد فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا وہ میری جگہ یہاں پر بیٹھے تھے اور اسی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہوا اور دو رکعتیں پڑھے اسکے گذشتہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایادھوکہ میں نہ پڑو (یعنی غافل نہ ہو)۔

كان عثمان بن عفان قاعدا في المقاعد فدعى بوضوء فتوضأ ثم ← حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2723

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2724

2724 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن عبد الواحد بن شريك ثنا أبو الجماهير ثنا عبد العزيز عن زيد بن أسلم عن حمران قال : رأيت عثمان بن عفان رضي الله عنه توضأ ثم قال : إن ناسا يتحدثون عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأحاديث ما أدري ما هي إلا إني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ مثل وضوئي هذا ثم قال : من توضأ هكذا غفر له ما تقدم من ذنبه و كانت صلاته و مشيه إلى المسجد نافلة له رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و غيره عن عبد العزيز بن محمد

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن عبدالواحد بن شریک نے ان کو ابوالجماہر نے ان کو عبدالعزیز نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو حمران نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اس کے بعد فرمایا بے شک کچھ لوگ حدیث بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مگر میں نہیں جانتاکہ وہ کیا چیز ہیں مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ انہوں نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا تھا اس کے بعد انہوں نے فرمایا تھا۔ جو شخص ایسا وضو کرو گا اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے اور پھر اس کی نماز اور اس کا مسجد تک چل کر جانا اس کے حق میں اضافی عبادت ہو گی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ وغیرہ سے اس نے عبدالعزیز بن محمد سے۔

رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ ثُمَّ ← حُمْرَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أبو الجماهير ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2724

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2725

2725 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر بن أحمد الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة عن جامع بن شدادا قال : سمعت حمران بن أبان يحدث أبا بردة عن عثمان بن عفان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أتم الوضوء كما أمره الله عز و جل فالصلوات كفارات لما بينهن أخرجه مسلم من حديث غندر و غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن احمد اصبہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو جامع بن شداد نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا حمران بن ابان سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابو بردہ سے اس نے حضرت عثمان بن عفان سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص پورا وضو کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو نمازیں ان کو درمیانی اوقات کے لیے کفارے ہوں گی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔ غندرو غیرہ کی حدیث سے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبَا بُرْدَةَ ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← جامع بن شدادا ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عبد الله بن جعفر بن أحمد الأصبهاني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2725

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2726

2726 - عن شعبة و أخرجه من حديث مسعر عن جامع بن شداد عن حمران عن عثمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يتطهر فيتم الطهور الذي كتب الله عليه فصلى هذه الصلوات الخمس إلا كانت كفارات لما بينهن أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم المزكي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا وكيع ثنا مسعر فذكره

شعبہ سے مروی ہے اور اس کو نقل کیا ہے حدیث مسعر سے اس نے جامع بن شداد سے اس نے حمران سے اس نے عثمان سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ کوئی مسلمان جب طہارت حاصل کرتا ہے اور جو اللہ نے اس پر فرض کر دی ہے اس کے بعد یہ پانچ نماز یں پڑھتا ہے تو یہ ان کو درمیانے اوقات کے کفارہ بن جاتی ہیں۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم مزکی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو وکیع نےان کو مسعر نے پھر اسی حدیث کو ذکر کیا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2726

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2727

2727 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن ابن أبي حبيب عن عبد الله بن أبي سلمة و نافع بن جبير بن مطعم عن معاذ بن عبد الرحمن عن حمران مولى عثمان بن عفان أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من توضأ فاسبغ الوضوء ثم خرج يمشي إلى الصلاة المكتوبة فصلاها مع الإمام غفر له ذنبه قال البيهقي رضي الله عنه : و كذلك رواه عمرو بن الحارث عن الحكيم بن عبد الله القرشي عنهما و من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو یحی بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ابن ابی حبیب نے ان ک عبداللہ بن ابو سلمہ نے اور نافع بن جبیر بن مطعم سے ان کو معاذ بن عبدالرحمٰن نے ان کو حمران نے جو عثمان بن عفان کے غلام ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص وضو کرے اور اس کو مکمل کرے اس کے بعد نکل کر نماز فرض کے لیے چل پڑے اور جا کر اپنے امام کے ساتھ پڑھ لے۔ اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ اسی طرح روایت کیا اس کو عمرو بن حارث نے حکیم بن عبداللہ قرشی سے اور اسی طریق سے اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے۔

حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عبد الله بن أبي سلمة و نافع بن جبير بن مطعم ← ابن أبي حبيب ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2727

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2728

2728 - أخبرنا جناح بن نذير ثنا محمد بن دحيم ثنا أحمد بن حازم ثنا محمد بن أبي معشر أخبرني أبو معشر ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو الحسن علي بن إسماعيل الشعيري ثنا محمد بن بكار ثنا أبو معشر ثنا محمد بن كعب القرظي عن عبد الله بن دراة عن حمران مولى عثمان قال : مررت على عثمان بفخارة من ماء فدعا فتوضأ فأحسن الوضوء ثم قال : لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه و سلم غير مرة أو مرتين أو ثلاث مرات ما خبرتكموه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما توضأ عبد فأسبغ الوضوء ثم قام إلى الصلاة فصلاها إلا غفر له ما بينه و بين الصلاة الأخرى قال محمد بن كعب : و كنت إذا سمعت حديثا من رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم التمسته في القرآن فالتمست هذا في القرآن فوجدته { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر ويتم نعمته عليك } فقلت : أن الله لم يتم نعمته على نبيه حتى غفر له ذنوبه ثم قرأت في سورة المائدة { يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم } إلى قوله { و ليتم نعمته عليكم لعلكم تشكرون } فعلمت أن الله لم يتم عليكم النعمة حتى غفر لكم قال أبو بكر البيهقي رحمه الله : و هذه الآية تشتمل على طهارة المحدث و الجنب جميعا و على التطهر بالماء و التراب عند عدم الماء

ہمیں خبر دی ہے جناح بن نذیر نے ان کو محمد بن وحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو محمد بن ابو معشر نے ان کو خبر دی ابو معشر نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابوالحسن علی بن اسماعیل الشعیری نے ان کو محمد بن بکار نے ان کو ابو معشر نے ان کو محمد بن کعب قرظی نے ان کو عبداللہ بن دارہ نے حمران سے جو عثمان کے غلام ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں پانی کا گھڑا لیے حضرت عثمان کے پاس سے گذرا تو انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور اچھا وضو کیا اس کے بعد فرمایا اگر میں نے اس کو رسول اللہ سے دو تین مرتبہ نہ سنا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس کی خبر نہ دیتا میں نے سنا تھا آپ فرماتے تھے کوئی بندہ جب وضو کرتا ہے اور اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے اس کے بعد نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اور نماز پڑھ لیتا ہے تو اس نماز کے اور دوسری نماز کے درمیان کے گناہ اس کے معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔محمد بن کعب نے فرمایا کہ میں نے اس کو قرآن میں ڈھونڈا تو میں نے اسے پالیا۔ انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ما تقدم بن ذنبک وماتا خرویتم نعمتہ علیک بے شک اے پیغمبر ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور آپ کے اوپر اپنی نعمت پوری کر دے۔ تو میں نے کہا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت اپنے نبی پر یون ہی نہیں پوری کر دی بلکہ پہلے اس کے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ اس کے بعد میں سورہ مائدہ میں پڑھا: یا ایھا الذین امنو ا اذاقمتم الی الصلوٰۃ فاغسلو ا وجوھکم الی قولہ ولیتم نعمتہ علیکم ولعلکم تشکرون اے ایمان والو جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو نے کا ارادہ کرو تو اپنے منہ دھو لو۔۔۔۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر کرو۔ تو میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اپنی نعمت ایسے نہیں مکمل کر دی بلکہ اس نے تمہیں معاف بھی کر دیا ہے۔ ابو بکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشتمل ہے بے وضو اور جنابت والے (دونوں کی) طہارت کو پانی سے اور پانی کی عدم موجودگی میں مٹی سے۔

حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ ← عبد الله بن دراة ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← أبو الحسن علي بن إسماعيل الشعيري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← محمد بن دحيم ← جناح بن نذير

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2728

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2729

2729 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن حمران بن أبان : أن عثمان بن عفان رضي الله عنه أتى بالوضوء لصلاة العصر و هو بالمقاعد فقال عثمان إني قد رأيت ألا أحدثكم بحديث ما أظنني محدثكموه قال : الحكم بن أبي العاص يا أمير المؤمنين إنما هو خير نتبعه أو شر نتقيه قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو بالمقاعد بالوضوء قال : من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى فأتم ركوعها و سجودها كفر عنه ما بينه و بين الصلاة الأخرى ما لم يركب مقتلة يعني ما لم يركب كبيرة و بمعناه رواه عاصم بن بهدلة عن موسى بن طلحة عن حمران

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ھشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انکو حمران بن ابان نے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس نماز عصر کے وضو کے لیے وضو کا پانی لایا گیا جبکہ وہ وضو کی چوکی پر تشریف فرما تھے۔ حضرت عثمان نے فرمایا بے شک میں نے خیال کیا تھا کہ تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا جو میں گمان کروں کہ کوئی تمہیں حدیث بیان کر دے گا اتنے میں حکم بن ابو العاص نے کہا اے امیر المؤمنین یا تو وہ کوئی خیر کی بات ہو گی تو ہم اس کی اتباع کر لیں گے یا کسی شر کی بات ہو گی تو ہم اس سے بچ جائیں گے ۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی جگہ پر بیٹھے تھے اور فرما رہے تھے جو شخص وضو کرے اورا چھے طریقے سے کرے اس کے بعد وہ نماز پڑھے اور اس کے رکوع اور سجود کو مکمل کرے وہ نماز اس کی وجہ سے کفارہ بن جائے گی اس نماز سے دوسری نماز تک جب تک کہ وہ بندہ کسی ہلاکت کا ارتکاب نہ کرے یعنی جب تک وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ اسی مفہوم میں اس کو روایت کیا ہے عاصم بن بہدلہ نے موسیٰ بن طلحہ سے اس نے حمران سے۔

حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2729

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2730

2730 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن يونس الضبي ثنا محاضر بن المسورع ثنا هشام بن عروة ح و أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر بن بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير ثنا مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن حمران مولى عثمان بن عفان رضي الله عنه : أن عثمان بن عفان جلس على المقاعد فجاء المؤذن فآذنه بصلاة العصر فدعا بماء فتوضأ ثم قال : و الله لأحدثنكم حديثا لولا أنه في كتاب الله ما حدثتكموه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من امرىء يتوضأ فيحسن وضؤه إلا غفر له ما بينه و بين الصلاة الأخرى حتى يصليها نا مالك أراه يريد هذه الآية { أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين } أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن هشام بن عروة و قد رواه الزهري عن عروة و قال عروة الآية { إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن یونس ضبی نے ان کو محاضر بن مسورع نے ان کو ھشام بن عروہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو احمد عبداللہ بن حسن مہر جانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو ھشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انکو حمران مولی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ وضو کی جگہ پر بیٹھے تھے کہ مؤذن آئے اور ان کو نماز عصر کی اطلاع دی انہوں نے پانی کا برتن منگوایا اور وضو کیا اس کے بعد فرمایا اللہ کی قسم البتہ میں ضرور تم لوگوں کو حدیث بیان کروں گا کہ اگر وہ بات کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کرتا اس کے بعد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے ۔ کوئی آدمی ایسا نہیں جو وضو کرے پھر بہت اچھے طریقے سے اپنا وضو کرے مگر اس کے لیے بخش دیا جاتا ہے جو کچھ اس کے اور دوسری نماز کے درمیان ہے یہاں تک کہ اس کو بھی پڑھ لے۔ ہمیں خبر دی مالیک نے میں دیکھتا ہوں اس کو کہ آپ اس آیت کا ارادہ کرتے تھے یا اس کی مراد یہ ہوتی تھی: اقم الصلوٰۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیات ذالک ذکری للذاکرین آپ دن کے دونوں سروں پر نماز قائم کیجیے اور کچھ حصہ رات کا بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ یاد کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے۔ ان کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں کئی وجوہ سے ھشام بن عروہ سے اور اس کو زہری نے روایت کیا ہے عروہ سے اور عروہ نے کہا کہ آیت یہ ہے ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب۔

حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو بكر بن بن جعفر المزكي ← أبو أحمد عبد الله بن الحسن المهرجاني ← و، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← محاضر بن المسورع ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2730

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2731

2731 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا الحسن بن سفيان ثنا يوسف بن كامل ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا عثمان بن حكيم ثنا محمد بن المنكدر عن حمران عن عثمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت أظفاره أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن عبد الواحد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو نضر فقیہ نے ان کو حسن بن سفیان بن کامل نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عثمان بن حکیم نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو حمران نے ان کو عثمان نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص وضو کرے اور اچھے طریقے سے کرے اس کے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتے ہیں ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق سے عبدالواحد سے۔

عُثْمَانَ، ← حُمْرَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2731

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2732

2732 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : ثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا توضأ العبد المسلم أو المؤمن فغسل وجهه خرجت من وجهه كل خطيئة نظر إليها بعينيه مع الماء أو مع آخر قطر الماء أو نحو هذا فإذا غسل يديه خرجت من يديه كل خطيئة بطشتها يداه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نقيا من الذنوب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا بن ابو اسحاق نےا ن دونوں کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید درامی نے ان کو یحی بن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو سھیل بن ابو صالح نے ان کو ان کو والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس وقت مسلمان بندہ یا مومن وضو کرتا ہے اور منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ پر پردہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یا فرمایا تھا کہ پانی کے آخری قطرے کے ساتھ یا ایسے ہی کوئی الفاظ فرمائے تھے جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھ سے پردہ گناہ خارج ہو جاتا ہے جو اس کے ہاتھ نے پکڑنے کا گناہ کیا تھا پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ فرمایا حتی کہ گناہوں سے صاف نکل آتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2732

chevron_left Previous
1234…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood