شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2889
2889 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ الفضل بن إبراهيم الله أنبأ أحمد بن سلمة ثنا محمد بن المثنى ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال : سمعت أبي يحدث حدثني الجريري عن أبي نضرة عن جابر بن عبد الله قال : خلت البقاع حول المسجد فأراد بنو سلمة أن ينتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهم بلغني أنكم تريدون أن تنتقلون قرب المسجد قالوا : نعم يا رسول الله قد أردنا ذلك قال : فقال يا بني سلمة دياركم تكتب آثاركم دياركم تكتب آثاركم رواه مسلم عن محمد بن المثنى
ہمیں خبرد دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو خبر دی احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سےسنا وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے جریری نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے ارد گرد پلاٹ خالی ہوئے تھے یا خالی پڑے تھے لہذا بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا اردہ کر لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو نا چاہتے ہو انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں نے اس بات کا ارادہ کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا اے بنی سلمہ اپنے اپنے گھروں کو لازم پکڑو ہمارے قدموں کے نشان بھی لکھے جائیں گے دو مرتبہ یہی جملہ فرمایا۔ اس کو مسلم نے محمد بن مثنی سے نقل کیا ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ الفضل بن إبراهيم الله أنبأ أحمد بن سلمة
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2889
