Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2889

2889 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ الفضل بن إبراهيم الله أنبأ أحمد بن سلمة ثنا محمد بن المثنى ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال : سمعت أبي يحدث حدثني الجريري عن أبي نضرة عن جابر بن عبد الله قال : خلت البقاع حول المسجد فأراد بنو سلمة أن ينتقلوا قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهم بلغني أنكم تريدون أن تنتقلون قرب المسجد قالوا : نعم يا رسول الله قد أردنا ذلك قال : فقال يا بني سلمة دياركم تكتب آثاركم دياركم تكتب آثاركم رواه مسلم عن محمد بن المثنى

ہمیں خبرد دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو خبر دی احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سےسنا وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے جریری نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کے ارد گرد پلاٹ خالی ہوئے تھے یا خالی پڑے تھے لہذا بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا اردہ کر لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو نا چاہتے ہو انہوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں نے اس بات کا ارادہ کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا اے بنی سلمہ اپنے اپنے گھروں کو لازم پکڑو ہمارے قدموں کے نشان بھی لکھے جائیں گے دو مرتبہ یہی جملہ فرمایا۔ اس کو مسلم نے محمد بن مثنی سے نقل کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ الفضل بن إبراهيم الله أنبأ أحمد بن سلمة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2889

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2890

2890 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا الحسن بن علي بن شبيب المعمري حدثني جعفر بن محمد بن إسحاق بن يوسف الأزرق حدثني جدي ثنا سفيان بن سعيد عن أبي سفيان سعد بن طريف عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال : كان ينو سلمة في ناحية من المدينة فأرادوا أن ينتقلوا إلى قرب المسجد فأنزل الله عز و جل { إنا نحن نحيي الموتى و نكتب ما قدموا و آثارهم } فدعاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إنه يكتب آثاركم ثم قرأ عليهم الآية فتركوا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نے ان کو حسن بن علی بن شبیب معمری نے ان کو حدیث بیان کی ہے جعفر بن محمد بن اسحٰق بن یوسف ازرق نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے دادا نے ان کو سفیان بن سعید نے ان کو ابو سفیان بن یوسف طریف نے ان کو ابو نضر ہ نے ان کو حضرت ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ مدینے کے ایک کونے میں آباد تھے لہذا انہوں نے مسجد کے قریب مستقل ہونے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: "انا نحن نحی الموتیٰ ونکتب ما قدمو ا واثارھم " بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی لکھتے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا ہے اور ہم ہی لکھتے ہیں ان کے قدموں کے نشانات کو۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو بلایا اور فرمایا کہ بے شک تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جائیں (یعنی اعمالنامے میں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی اور انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أبي سفيان سعد بن طريف ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← جَدِّي، ← جعفر بن محمد بن إسحاق بن يوسف الأزرق ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2890

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2891

2891 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو البختري عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا أبو أسامة ثنا يزيد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن جده أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أعظم الناس أجرا في الصلاة أبعدهم إليها مشيا و الذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الإمام في جماعة أعظم أجرا ممن يصليها ثم ينام رواه البخاري و مسلم عن أبي كريب عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوالبختر ی عبداللہ بن محمد بن شاکر نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ان کو ابو بردہ نے ان کو ان کے دادا ابو موسیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے کہا کہ بے شک نماز میں سب سے بڑا اجر ان لوگوں کا ہے جو دور سے چل کر آتے ہیں اور وہ شخص جو نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو امام کے ساتھ با جماعت ادا کرتا ہے اس کا اجر اس سے بہت بڑا ہے جو اس کو پڑھ کر سوجاتا ہے۔ اس کو بخاری و مسلم نے ابو کریب سے اس نے ابو اسامہ سے روایت کیا ہے۔

جَدِّهِ أَبِي مُوسَى، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2891

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2892

2892 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي عشانة أنه سمع عقبة بن عامر الجهني يحدث : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إذا تطهر الرجل ثم مر إلى المسجد يرعى الصلاة كتب له كاتبه أو كاتباه بكل خطوة يخطوها إلى المسجد عشر حسنات و القاعد يرعى الصلاة كالقانت و يكتب من المصلين من حين يخرج من بيته حتى يرجع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبرد ی ہے عمرو بن حارث نے ان کو ابو عشانہ نے کہ انہوں نے سنا عقبہ بن عامر جھنی سے وہ رسول اللہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی وضو کرے اس کے بعد مسجد جائے اور نماز اچھی طرح ادا کرے اس کے لئے اس کا کاتب یا فرمایا اس کے دونوں کاتب لکھتے ہیں پھر اس کے بدلے میں جو مسجد کی طرف اٹھا ہے دس نیکیاں اور بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے والا عبادت کرنے والے کی طرح ہے وہ نماز پڑھنے والوں میں لکھا جاتا ہے اس وقت سے جب سے وہ اپنے گھر سے نکلا تھا واپس آنے تک۔

إذا تطهر الرجل ثم مر إلى المسجد يرعى الصلاة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي عُشَّانَةَ،. أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2892

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2893

2893 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : ثنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى ثنا أبو عوانة ثنا يعلى بن عطاء عن معبد بن هرمز عن سعيد بن المسيب قال : حضر رجلا من الأنصار الموت فقال لأهله من في البيت ؟ فقالوا : أهلك و إخوتك و جلساؤك في المسجد فقال : إرفعوني فاستسنده رجل منهم إليه ففتح عينيه و سلم على القوم فرددوا عليه و قالوا له خيرا و قال : معروفا قال : إني محدثكم اليوم حديثا ما حدث به أحد منذ سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم إحتسابا و ما أحدثكموه اليوم إلا إحتسابا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من توضأ في بيته فأحسن الوضوء ثم خرج إلى المسجد فصلى في جماعة المسلمين لم يرفع رجله اليمنى إلا كتب الله له بها حسنة و لا يضع رجله اليسرى إلا حط الله عنه بها خطيئة حتى يأتي المسجد فإذا صلى بصلاة الإمام انصرف و قد غفر له فإن هو أدرك بعضها وفاته البعض كان كذلك و إن هو أدرك الصلاة و قد صليت فاتم ركوعها و سجودها كان كذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے اورابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو یعلیٰ بن عطاء نے ان کو معبد بن ہرمز نے ان کو سعید بن مسیب نے انہوں نے کہا انصار میں سے ایک آدمی کو موت کا وقت آ گیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ گھر میں کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اپنے گھر کے افراد اور آپ کے بھائی ہیں اور آپ کےساتھ بیٹھنے والے مسجدمیں ہیں۔ کہا کہ مجھے اٹھا ؤ ان میں سے ایک آدمی نے اسے سہارا دیا اپنی طرف اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سب کو سلام کیا۔ سب نے اس کے سلام کیا جواب دیا لوگوں نے اس کے لئے خیر کا جملہ کہا اس نے معروف اور اچھا ہے کہا اور پھر کہا کہ میں تمہیں آج ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ میں نے اس کو جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کسی کو یہ بیان نہیں کی گئی طلب ثواب کی نیت سے۔ میں تمہیں حدیث بیا ن نہیں کررہا ہوں مگر طلب ثواب کی غرض سے میں نے سنا تھا آپ فرما رہے تھے جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اور وضو اچھے طریقے پر کرے اس کے بعد وہ مسجد کی طرف نکل جائے اسکے بعد وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو وہ جیسے ہی سیدھا پاؤں اٹھاتا ہے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ابھی تک بایاں پاؤں نہیں رکھتا کہ اس کے بدلے اس کی ایک غلطی مٹا دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مسجد میں آتا ہے جب وہ امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے جب وہ واپس لوٹتا ہے تو اس کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں اگر وہ بعض نماز پا لیتا ہے او ر بعض اس سے رہ جاتا ہے تو بھی اسی طرح ہوتا ہے اگر وہ نماز کو پالیتا ہے حالانکہ نماز پڑھی جاچکی ہوتی ہے پھر وہ رکوع پورا کرتا ہے اور اس کا سجود پورا کرتا ہے تو بھی اسی طرح ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2893

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2894

2894 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا أبو الجماهر ثنا عبد العزيز بن محمد عن محمد يعني ابن طحلاء عن محصن بن علي عن عوف بن الحارث عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من توضأ فأحسن الوضوء ثم راح فوجد الناس قد صلوا أعطاه الله عز و جل مثل أجر من صلاها و حضرها و لا ينقص ذلك من أجرهم شيئا

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے انکو ابو الجماہر نے ان کو عبدالعزیز بن محمد بن محمد سے یعنی ابن طلحاء سے ان کو محصن بن علی نے عوف بن حارث سےاس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر وہ مسجد میں گیا حالانکہ لوگ نماز پڑھ چکے تھے اللہ تعالیٰ اس کو اجر عطاء کریں گے ان کے اجر کے مثل جنہوں نے وہ با جماعت پڑھی ہے اور حاضر ہوئے ہیں ۔ یہ بات ان کے اجر کو کچھ بھی کم نہیں کرے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ ← محمد يعني ابن طحلاء ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْجُمَاهِرِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2894

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2895

2895 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الملك بن أحمد بن الحسين أبو محمد الصيدلاني ثنا إبراهيم بن أبي طالب ثنا علي بن سلمة اللبقي ثنا إسماعيل بن إبراهيم بن عليه ثنا كثير بن شنظير عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة : في الرجل ينتهي إلى القوم و هم في آخر صلاتهم فقد دخل في التضعيف فإذا انتهى إليهم و قد سلم الإمام و لم يتفرقوا فقد دخل في التضعيف قال : و كان يقال إذا خرج الرجل من بيته و هو ينويهم فأدركهم أو لم يدركهم فقد دخل في التضعيف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالملک بن احمد بن حسین نے ان کو ابو محمد صید لانی نے ان کو ابراہیم بن ابی طالب نے ان کو علی بن سلمہ لبقی نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے ان کو کثیر بن شنظیر نے ان کو عطاء بن ابو رباح نے ان کو ابو ہریرہ نے اس آدمی کے بارے میں جو جماعت میں پہنچتا ہے اور لوگ اپنی نماز کے آخر میں ہوتے ہیں تو تحقیق وہ تضعیف میں داخل ہو اور جب ایسے وت میں پہنچتا ہے کہ امام سلام پھیر چکا ہوتا ہے مگر لوگ تا حال منتشر نہیں ہوئے ہوتے تو تحقیق وہ داخل ہو گیا تضعیف میں وہ کہتا ہے کہا جاتا تھا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتا ہے اور وہ جماعت کا رادہ کرتا ہے اور وہ لوگوں کو پالیتا ہے یا نہیں پاتا تحقیق وہ داخل ہو گیا تضعیف میں ۔ (یعنی دوھرا ثواب ہے)۔

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← کَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ ← عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عبد الملك بن أحمد بن الحسين أبو محمد الصيدلاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2895

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2896

2896 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا يحيى بن أيوب ثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا و يرفع به الدرجات قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء على المكاره و كثرة الخطى إلى المساجد و انتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط رواه مسلم عن يحيى بن أيوب

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عباس مؤدب نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے مجھے خبر دی ہے علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطائیں مٹا دے اور درجات بلند کر دے؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا ' مشکلات کے با وجود وضو کو مکمل کرنا وار مساجد کی طرف زیادہ زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھے رہنا یہ تو تمہارے لیے رباط ہے (یعنی جہاد ے لئے سرحد پر گھڑا باندھی انتظار میں بیٹھنے سے کم نہیں ہے)۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن ایوب سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2896

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2897

2897 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماش ثنا أبو عمران موسى بن إسماعيل ثنا ابن المبارك عن داود بن صالح قال : قال لي أبو سلمة بن عبد الرحمن : يا ابن أخي هل تدري إلى شيء نزلت اصبروا و صابروا و رابطوا ؟ قال : قلت لا قال : إنه لم يكن على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم غزو يرابط فيه و لكن انتظار الصلاة بعد الصلاة فذلك الرباط فذلك الرباط قال ابن المبارك : فحدثني محمد بن المطرف عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الوضوء للصلاة عن المكاره من الكفارات و كثرة الخطى إلى المساجد من الكفارات فذلك الرباط فذلك الرباط كذا هو في كتابي

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد عبدان نے انکو خبر دی احمد بن عبید صفار نے انکو ابن ابی قماش نے انکو ابو عمران موسیٰ بن اسماعیل بن مبارک نے داؤد بن صالح سے اس نے کہا کہ مجھ سے کہا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے یا ابن اخی اے بھانجے نے کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیت کس چیز کے بارے میں اتری تھی ؟ اصبرو ا وصابرو اروابطو ۔ "خود صبر کرو دوسروں کو صبر دلاؤ اور سرحد پر جہاد کے لئے گھوڑے تیار رکھو کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ نہیں انہوں نے کہا کہ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو کو ئی غزوہ ایسا نہیں تھا جس میں سرحد پر گھوڑا باندھا جاتا لیکن اس سے مراد ہے ایک نما زکے بعد دوسری کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی رباط ہے (یعنی رابطو پر عمل کرنا یہی ہے)۔ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں مجھے خبر دی محمد بن مطرف نے علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے مشکلات کے وقت وضو کرنا گناہوں کے کفارات میں سے ہے اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بھرنا بھی کفارات میں سے ہے یہی رباط ہے۔ یہی رباط ہے۔ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔

دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2897

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2898

2898 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا أحمد بن نجدة القرشي ثنا سعيد بن منصور ثنا ابن المبارك ثنا مصعب بن ثابت حدثني داود بن صالح قال : قال لي أبو سلمة بن عبد الرحمن : يا ابن أخي هل تدري في أي شيء نزلت هذه الآية : { اصبروا و صابروا و رابطوا } قال : قلت لا قال : يا ابن أخي إني سمعت أبا هريرة يقول : لم يكن في زمان النبي صلى الله عليه و سلم غزو يرابط فيه و لكن انتظار الصلاة بعد الصلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انکو ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو احمد بن نجدہ قرشی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابن مبارک نے ان کو مصعب بن ثابت نے ان کو داؤد بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے اے بھتیجے کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیت کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ "اصبروا وصابرو ا ورابطو"۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا ۔ انہوں نے فرمایا : اے بھتیجے بے شک میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا وہ فرماتے تھے عہد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تو کوئی ایسا غزوہ ہی نہیں تھا جس میں سرحد پر گھوڑے باندھے جاتے ہوں لیکن اس سے مراد ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ انبأ أبو محمد احمد بن عبد الله المزني ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2898

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2899

2899 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ثنا محمد بن أيوب ثنا علي بن عبد الله المديني ثنا صفوان بن عيسى ثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذباب عن سعيد بن المسيب عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إسباغ الوضوء على المكاره و اعمال الأقدام إلى المساجد و انتظار الصلاة بعد الصلاة يغسلن الخطايا غسلا هكذا روي بهذا الإسناد و قد مضى في كتاب الطهارة بما هو الصواب

ہمیں خبر دی ہےابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو علی بن عبداللہ مدینی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے ان کو حارث بن عبدالرحمٰن بن ابو ذباب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو علی بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مشکلات کے با وجود وضو کو مکمل کرنا ور مساجد کی طر ف پیدل چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کے انتظار میں بیٹھے رہنا یہ امور گناہوں کو دھو دیتے ہیں اس اسناد کے ساتھ اسی طرح مروی ہے اور کتاب الطہارت اس سند کے ساتھ آئی ہے جو درست ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2899

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2900

2900 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو صادق بن أبي الفوارس قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا سعيد بن عثمان التنوخي الحمصي ثنا الهيثم بن جميل الأنطاكي ثنا محمد بن مسلم عن إسماعيل بن أمية أخبرني المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من توضأ ثم خرج يريد الصلاة فهو في الصلاة حتى يرجع إلى بيته

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن اسحٰق نے اور ابو صادق بن ابوالفوارس نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو سعید بن عثمان خصمی نے ان کو ہیثم بن جمیل انطا کی نے ان کو محمد بن مسلم نے اسماعیل بن امیہ سے ان کو خبر دی ہے مقری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے وضو کیا پھر وہ گھر سے نماز کے ارادے سے نکلا وہ نماز میں شمار ہے حتی کہ وہ واپس آ جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الهيثم بن جميل الأنطاكي ← سعيد بن عثمان التنوخي الحمصي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو صادق بن أبي الفوارس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2900

chevron_left Previous
1…151617…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood