Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2877

2877 - أخبرنا أبو أحمد المهرجاني أنبأ أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير ثنا مالك عن ابن شهاب عن أبي بكر بن سليمان ابن أبي خثيمة : أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقد سليمان بن أبي خثيمة في صلاة الصبح و أن عمر بن الخطاب عدا إلى السوق و مسكن سليمان بين المسجد و السوق فمر على الشفاء أمر سليمان بن أبي خثيمة فقال : لم أر سليمان في الصبح فقالت إنه بات يصلي فغلبته عيناه فقال : عمر : لأن أشهد صلاة الصبح أحب إلي من أن أقوم ليلة

ہمیں خبر دی ہے ابو احمد مہرجانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک بن شہاب نے ان کو ابو بکر بن سلیمان بن ابو خیثمہ نے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلیمان بن ابو خیثمہ کو صبح کی نماز میں غائب پایا اور حضرت عمر بازار کی طرف گئے اور سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان تھا ان کے گھر والوں سے پوچھا کہ سلیمان بن ابو خیثمہ کو صبح کی نماز میں، میں نے نہیں دیکھا (خیریت تو ہے) ان کی اہلیہ شفاء نے بتایا کہ وہ رات بھر نماز پڑھتے رہے صبح کے قریب نیند غالب آ گئی اور وہ سو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا البتہ یہ کہ اگر میں صبح کی نما ز میں حاضر رہوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں رات بھر قیام کرو۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو أحمد المهرجاني أنبأ أبو بكر محمد بن جعفر المزكي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2877

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2878

2878 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن سماك ثنا حنبل بن إسحاق حدثني أبو عبد الله أحمد بن حنبل ثنا يحيى بن آدم ثنا سفيان عن ناجية عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : قال عمر : لأن أصلي العشاء في جماعة أحب إلي من أن أحيى ما بينهما بصلاة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ احمد بن حنبل نے ان کو یحییٰ بن آدم نے ان کو سفیان نے ان کو ناحیہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا البتہ اگر میں عشاء کی نماز با جماعت ادا کروں یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں عشاء سے صبح تک عبادت کروں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← نَاجِيَةَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو عمرو بن سماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2878

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2879

2879 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر و أبو الحسن السراج قالا : ثنا محمد بن يحيى بن سليمان المروزي ثنا عاصم بن علي ثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى قال : قال : أبو الدرداء في مرضه الذي مات فيه ألا احملوني قال فحملوه قال : ألا أخرجوني قال فأخرجوه قال : حافطوا على هاتين الصلاتين يعني صلاة العشاء و الصبح ألا اسمعوا و بلغوا من خلفكم لو تعلمون ما فيهما لأتيتموهما و لو حبوا على مرافقكم و ركبكم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے اور ابو الحسن سراج نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یحییٰ بن سلیمان مروزی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو شعبہ نے ان کو عمر بن مرہ نے ان کو ابن ابی لیلیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا تھا اپنی مرض الموت میں کہ مجھے اٹھاؤ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اٹھایا تو بولے مجھے باہر لے چلو باہر لائے اور فرمایا کہ ان دو نمازوں کی حفاظت کیا کرو یعنی عشاء اور صبح کی خبر مجھ سے سنو اور تمہارے بعد جو لوگ ہیں ان کو پہنچاؤ اگر تم جان لو کہ ان میں (کتنا بڑا اجر ہے) تو تم ضرور ان کے لئے آؤ اگرچہ گھٹنوں کے بل بھی ہو سکے اور کہنیوں کے بل بھی۔

فأخرجوه ← ألا أخرجوني ← فحملوه ← أبو الدرداء في مرضه الذي مات فيه ألا احملوني ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ ← أبو عمرو بن مطر و أبو الحسن السراج ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2879

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2880

2880 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الحرفي ثنا حمزة بن محمد بن العباس ثنا أبو يحيى عبد الكريم بن الهيثم الدير عاقولي ثنا عبد الله بن جعفر الرقي ثنا عبيد الله بن عمرو ح و أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا الحسين بن الحسن بن أيوب ثنا أبو حاتم الرازي ثنا عبد الله بن جعفر و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا زكريا بن عدي ثنا عبيد الله بن عمرو الرقي عن زيد بن أبي أنيسة عن عدي بن ثابت عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تطهر في بته ثم مشي إلى بيت من بيوت الله ليقضي فريضة من فرائض الله كانت خطواته إحداهما تحط خطيئة و الأخرى ترفع درجة و في رواية الروذباري و الحرفي عن النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ليؤدي فريضة الله عليه فخطوات إحداهما تحط خطيئة و الأخرى ترفع درجة رواه مسلم عن إسحاق بن منصور عن زكريا بن عدي

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ حرفی نے ان کو حمزہ بن محمد بن عباس نے ان کو ابو یحییٰ عبدالکریم بن ہیثم دیر عاقولی نے ان کو عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو عبید اللہ بن عمرو نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے(ح) اور ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو زکریا بن عدی نے ان کو عبیداللہ بن عمرو رقی نے ان کو زید بن ابو انیسہ نے ان کو عدی بن ثابت نے ان کو ابو حازم نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے اس کے بعد اللہ کے گھروں میں سے کسی ایک گھر کی طرف چل دے تاکہ اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض کو ادا کرے اس کے قدم اسی طرح (قیمتی ہوں گےکہ) ایک قدم اس کی غلطی کو مٹائے گا تو دوسرا قدم درجہ بلند کرے گا۔ اس کو مسلم نے روایت کی اسحٰق بن منصور سے اس نے زکریا بن عدی سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عبد الله بن جعفر و ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← أبو يحيى عبد الكريم بن الهيثم الدير عاقولي ← حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الحرفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2880

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2881

2881 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا يزيد بن هارون أنا محمد بن مطرف عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من غدا أو راح إلى المسجد أعد الله له في الجنة نزلا كلما غدا أو راح أخرجاه في الصحيح من حديث يزيد بن هارون

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن مطرف نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا جوشخص صبح کو جائے یا شام کو جائے مسجد کی طرف اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مہمانی تیار کرے گا جب بھی صبح کرے یا شام کرے۔ اس کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث یزید بن ہارون سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2881

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2882

2882 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا يزيد بن هارون ثنا بن أبي ديب عن الأسود بن العلاء الثقفي عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حين يخرج أحدكم من بيته إلى مسجدي فرجل تكتب حسنة و أخرى تمحو سيئة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابن ابی دیب نے ان کو اسود بن علاء ثقفی نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس وقت سے جس وقت تم میں سے کوئی ایک اپنے گھر سے نکلے میری مسجد کی طرف ایک پیر ایک نیکی لکھواتا ہے تو دوسرا پیر ایک غلطی مٹاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الأسود بن العلاء الثقفي ← بن أبي ديب ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2882

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2883

2883 - و رواه أبو علي الحنفي عن ابن أبي ذئب و قال : في روايته : من منزله إلى مسجده أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا أبو علي عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ثنا ابن أبي ذئب فذكره

اور اس کو روایت کیا ہے ابو علی حنفی نے ابن ابی ذئب سے اور اس نے کہا ہے اپنی روایت میں۔ اپنے گھر سے اپنی مسجد تک ہمیں اسی کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو ابو علی عبید اللہ بن عبدالمجید حنفی نے ان کو ابن ابی ذئب نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

ابن أبي ذئب فذكره ← أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← في روايته من منزله إلى مسجده ← ابن أبي ذئب و ← و رواه أبو علي الحنفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2883

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2884

2884 - أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا خشنام بن بشر العنبري ثنا إبراهيم بن ابن المنذر الحزامي بمكة ثنا أبو حمزة أنس بن عياض حدثني كثير بن زيد مولى الإسلميين عن أبي عبد الله القراظ عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء ثم خرج من بيته إلى المسجد لا ينزعه إلى المسجد إلا الصلاة لم تزل رجله اليسرى تمحو عنه سيئة و تكتب له اليمنى حسنة حتى يدخل المسجد و لو يعلم الناس ما في العتمة و الصبح لآتوهما و لو حبوا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر بن مطر نے ان کو خشنام بن بشر عنبری نے ان کو ابراہیم بن منذر حزامی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو حمزہ انس بن عیاض نے ان کو کثیر بن زید مولی اسلمی نے ان کو ابو عبداللہ قراظ نے انکو عبداللہ بن عمر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے پھر وضو کو خوب بہترین کرے پھر اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکل جائے۔ مسجد کی طرف جانے کا نماز کے علاوہ کوئی دوسرا سبب نہ ہو تو ہمیشہ اس کا بایاں پاؤں اس کے گناہ مٹائے گا اور دایاں پاؤں اس کے لئے ایک نیکی لکھوائے گا حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہو جائے اور اگر لوگ یہ جان لیں کہ عشاء اور صبح کی (نماز با جماعت میں کتنا بڑا ثوب ہے) تو ضرور ان کو پڑھنے کے لئے آئیں اگرچہ گھٹنوں کے بل کیوں نہ ہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ← كثير بن زيد مولى الإسلميين ← أبو حمزة أنس بن عياض ← إبراهيم بن ابن المنذر الحزامي بمكة ← خشنام بن بشر العنبري ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2884

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2885

2885 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا يحيى بن جعفر الواسطي ثنا يزيد بن هارون ثنا سليمان عن أبي عثمان عن أبي بن كعب قال : كان رجل ما أعلم أحدا من أهل المدينة ممن يصلي إلى القبلة أبعد منزلا من المسجد منه و كان يحضر الصلوات مع النبي صلى الله عليه و سلم قال : فقيل له لو اشتريت حمار تركبه في الظلماء و الرمضاء فقال : و الله ما أحب أن منزلي بلزم المسجد فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك فسأله فقال يا رسول الله كيما يكتب أثري و خطاي و رجوعي إلى أهلي و إقبالي و إدباري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أعطاك الله ما احتسبت أجمع أخرجه مسلم من حديث سليمان التيمي

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو یحییٰ بن جعفر واسطی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان نے ابو عثمان سے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی تھا جو لوگ اہل مدینہ میں سے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ان میں سے میں کسی دوسرے آدمی کو نہیں جانتا تھا جو مسجد سے بعید ترین ہو(یعنی وہ سب سے دور سے پیدل مسجد میں آتا تھا) اس کو کسی نے کہا کہ اگر آپ سواری کے لئے کوئی جانور گدھا وغیر ہ خرید لیتے تاکہ وہ اندھیری رات میں اور دوپہر کی گرمی میں کام آتا آپ اس پر سوار ہو کر آتے جاتے۔ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ بالکل پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے دروازے پر ہو متصل ہو' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی آپ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا میں نے اس لئے کہا ہے کہ تاکہ میرے قدموں کے نشان لکھے جائیں اور میرے قدم لکھے جائیں اورگھر کی طرف میرا واپس لوتنا اور مسجد کی طرف آنا جانا سب لکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تجھے عطا کر دیا ہے وہ سب کچھ جس کے ثواب کی اپنے لئے امید کر رکھی ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے سلیمان تیمی کی حدیث سے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يحيى بن جعفر الواسطي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2885

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2886

2886 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عباد بن عباد ثنا عاصم عن أبي عثمان عن أبي بن كعب أنه قال : كان رجل من الأنصار بيته أقص بيت في المدينة و كان لا تخطئه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال : فتوجعت له فقلت له يا فلان لو أنك اشتريت حمارا يقيك من الرمضاء و يقيك من هوام الأرض قال : و الله ما أحب أن بيتي مطنب ببيت محمد صلى الله عليه و سلم قال : فحملت به حملا حتى أتيت نبي الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته قال : فدعاه فقال له مثل ذلك و ذكر أنه يرجو في أثره الأجر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : إن لك ما أحتسبت رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن أبي بكر

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو عباد بن عباد نے ان کو عاصم نے ان کو ابو عثمان نے ان کو ابی بن کعب نے کہ انہوں کہا کہ انصار کا ایک آدمی تھا اس کا گھر مدینے مسجد سے بعید ترین گھر تھا اور اس شخص کی رسول اللہ کے ساتھ کوئی نماز فوت نہیں ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ میں نے ازراہ ہمدردی اس سے کہا کہ اے فلانے اگر آپ کوئی جانور (گدھا وغیرہ) خرید کر لیں جو تجھے گرم پتھریلی زمین سے بچائے اور زمین کے موذی جانوروں سے بھی حفاظت سے (لائے اور لے جائے) اس شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ کہتے ہیں کہ میں اسے اٹھا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور میں نے ان کو خبر دی کہ ایسے ایسے کہہ رہا ہے۔ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی ایسی ہی بات کہہ دی اور اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ اس سب کچھ کے ساتھ امید کرتا ہے اپنے پیدل چلنے سے قدموں کے ثواب کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: بے شک تیرے لئے وہی ہے جس کے ثواب کی تم نے امید کی ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں محمد بن ابو بکر سے روایت کیا ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2886

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2887

2887 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو محمد بن حامد المقري و أبو صادق العطار قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن هشام ابن ملاس ثنا مروان يعني ابن معاوية القزاري ثنا حميد عن أنس قال : أراد بنو سلمة أن يتحولوا إلى قرب المسجد فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعري المدينة فقال : يا بني سلمة ألا تحتسبون آثاركم فأقاموا أخرجه البخاري عن محمد بن سلام عن مراون الفزاري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے اور ابو محمد بن حامد مقری نے اور ابو صادق عطار نے سب نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ہشام بن ملاس نے ان کومروان نے یعنی ابن معاویہ قزاری نے ان کو حمید نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو نا پسند کیا کہ مدینہ خالی ہو جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بنی سلمہ کیا تم لوگ اپنے قدموں کے نشانات پر ثواب کی امید نہیں رکھتے ہو لہذا وہ لوگ وہیں ٹھہر گئے جہاں پر تھے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا محمد بن سلام سے اس نے مروان فزری سے۔

أراد بنو سلمة ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مروان يعني ابن معاوية القزاري ← محمد بن هشام ابن ملاس ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2887

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2888

2888 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن حفص بن الحمامي المقري ثنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الملك بن محمد ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال : ثنا شعبة عن الجريري عن أبي نضرة عن جابر بن عبد الله قال : أراد بنو سلمة أن يبيعوا دورهم و يتحولوا إلى قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا بني سلمة أما تحبون أن تكتب آثاركم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن احمد بن عمر بن حفص بن حمامی مقری نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو عبدالصمد بن عبدالورث نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے انکو جریری نے ان کو ابو نضر ہ نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ قبیلے نے اپنے اپنے گھروں کو بیچ کر مسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا اور حضور کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی سلمہ کیاتم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ تمہارے مسجد کی طرف اٹھنے والے قدم بھی لکھے جائیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن حفص بن الحمامي المقري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2888

chevron_left Previous
1…141516…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood