شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2865
2865 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم ثنا الفضل بن دكين ثنا أبو العميس عن علي بن الأقمر عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : من سره أن يلقى الله غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن فإن الله عز و جل شرع لنبيكم سنن الهدى و إنهن من سنن الهدى و لو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم و لو تركتم سنة نبيكم صلى الله عليه و سلم لضللتم و ما من رجل يتطهر فيحسن الطهور ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة و رفع له بها درجة و حط عنه بها خطيئة و لقد رأيتنا و ما يتخلف عنها إلا منافق قد علم نفاقه و لقد كان الرجل يهادي بين الرجلين حتى يقام في الصف رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي نعيم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی بن وجیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو ابوالعمیس نے ان کو علی بن اقمر نے ان کو ابوا لاحوص نے ان کو عبداللہ نے اس نے کہا کہ جس کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحالت مسلمان ملے اسے چاہیے کہ ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرے جہاں یا جب بھی انکی اذان کہی جائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لئے ہدایت کی سنتیں یا ہدایت کے راستے اور طریقے مقرر کر دئیے ہیں اور یہ نمازیں ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اور اگر تم لوگ اپنے گھر میں نمازیں پڑھ لیا کرو جیسے فلاں پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے تو تم لوگ اپنے نبی کی سنت اور طریقے چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کے طریقے کو اور سنت کو چھوڑ دو گے تو تم گمراہ ہوجاؤ گے جو بھی آدمی وضو کرتا ہے اور وضو کو اچھے طریقے سے کرتا ہے اس کے بعد ان مساجد میں سے مسجد کی راہ لیتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے میں جو بھی وہ قدم اٹھاتا ہے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹا دی جاتی ہے اور البتہ تحقیق تم نے ہم لوگوں کو دیکھا ہے (کہ ہم لوگ کس طرح باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہیں) اور باجماعت نماز سے پیچھے کوئی نہیں رہتا صرف منافق ہی پیچھے رہتا ہے جس کا نفاق جانا پہچانا ہو اور البتہ تحقیق ہوتا تھا ایک آدمی گھسیٹا جاتا تھا یعنی چلایا جاتا تھے درمیان دو آدمیوں کے یہاں تک کہ اس صف میں لاکھڑا کیا جاتا ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے اس نے ابو نعیم سے۔
«مَنْ سَرَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2865
