Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2853

2853 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو و أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محبور الدهان قالوا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء و صلاة الفجر و لو يعلمون ما فيهما لآتوهما و لو حبوا و لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم أمر رجلا فيصلي بالناس ثم انطلق و معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فاحرق عليهم بيوتهم بالنار رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے اور ابو عبدالرحمٰن محمد بن عبدالرحمٰن بن محبوردھان نے انہوں نے کہا ہے ان کو حدیث بیان کی ابو العباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، بے شک منافقین پر ثقیل ترین نماز عشاء کی نماز ہے اور صبح کی نماز اور اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں کا (کتنا بڑا اجر ہے) وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں اگرچہ گھٹنوں کے بل بھی چل کر ان کو آنا پڑے اور البتہ تحقیق میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں نماز قائم کرنے کا حکم دوں اور وہ قائم کی جائے اس کے بعد ایک آدمی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں جاؤں اور میرے ساتھ کئی آدمی ہوں انکے پاس لکڑیوں کی کھڑی ہوایسے لوگوں کے پاس (جاؤں) جو نماز میں حاضر نہیں ہوئے میں ان سمیت انکے گھر وں کو آگ لگا کر جلا دوں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے اس نے معاویہ سے اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2853

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2854

2854 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا أبي بكير ثنا مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : و الذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب ثم آمر بالصلاة فينادى بها ثم آمر رجلا فيؤم بالناس ثم أخالف إلى رجال فأحرق عليهم بيوتهم و الذي نفسي بيده لو يعلم أن أحدهم أنه يجد عظما سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء رواه البخاري عن ابن أبي أويس وغيره عن مالك و أخرجه مسلم من حديث ابن عيينة عن أبي الزناد

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو ابو بکیر نے ان کو مالک نے ان کو ابو الزناد نے انکو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ تحقیق میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور وہ جمع ہو جائیں اس کے بعد میں نماز کا حکم دو ں اس کی اذان دے دی جائے اس کے بعد میں کسی آدمی کے ذمے لگا ؤں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اس کے بعد میں ایسے مردوں کی طرف لوٹ جاؤں (جو جماعت میں نماز پڑھنے نہیں آئے) جا کر ان کے گھروں کو جلا دوں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان میں سے (نماز میں جانے والے ہر ایک کو) ایک موٹی تازی اونٹنی مل جائے گی اور خوبصورت اونٹ مل جائیں گے تو ضرور عشاء میں بھی حاضر ہو ں گے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ابو اویس وغیرہ سے اس نے مالک سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ابن عیینہ کی حدیث سے اس نے ابو زناد سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَبِي بُكَيْر ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2854

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2855

2855 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا إسماعيل الصفار ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور ثنا معاذ بن هشام ثنا أبي عن قتادة عن الحسن عن أبي رافع عن أبي هريرة : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : لو أن أحدكم يعلم إذا شهد الصلاة معي كان له أعظم من شاة سمينة لفعل فما يصيب من الأجر أفضل من ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسنین بن فضل قطان نے انکو اسماعیل بن صفار نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے انکو معاذ بن ہشام نے ان کو انکے والد نے انکو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو ابو رافع نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی ایک آدمی یہ جان لے کہ وہ جب میرے ساتھ نماز میں حاضر ہو گا تو اس کو ایک بڑی موٹی تازہ بکری مل جائے گی تو وہ ضرور حاضر ہو گا مگر اس پر جو ثواب ملے گا وہ اس مادی چیز سے زیادہ افضل ہو گا۔

أبي هريرة أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي رَافِعٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2855

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2856

2856 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا ابن بكير ثنا مالك و ثنا القعنبي فيما قرىء على مالك عن عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي عن سعيد بن المسيب أنه بلغه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بيننا و بين المنافقين شهود العتمة و الصبح لا يستطيعونهما أو نحو هذا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن محمد بن عبدوس نے انکو عثمان بن سعید نے انکو ابن بکیر نے انکو مالک نے ان کو قعنبی نے اس میں جو مالک کے سامنے پڑھی گئی انہوں نے عبدالرحمٰن بن حرملہ اسلمی سے اس نے سعید بن مسیب سے کہ بے شک شان ہے کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والی شے عشاء اور صبح کی نماز کی حاضری ہے وہ ان دونوں میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے یا ا سی کی مثل کہا تھا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← القعنبي فيما قرىء على مالك ← مَالِکٌ و ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2856

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2857

2857 - أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق النجاد بالكوفة ثنا محمد بن علي بن دحيم حدثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي ثنا قبيصة ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن نافع عن ابن عمر قال : كان الرجل إذا لم يشهد معنا العشاء و الفجر أسأنا به الظن

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق نجاد نے کوفے میں انکو محمد بن دحیم نے انکو ابراہیم بن اسحٰق قاضی نے انکو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی جب ہمارے ساتھ عشاء اور فجر میں حاضر نہ ہوتا تو ہم لوگ اس کے بارے میں برا گمان کر لیتے تھے (کہ شاید وہ سچا مسلمان نہیں ہے بلکہ منافق ہے جو ہماری صفوں میں شامل ہو گیاہے)۔

كان الرجل إذا لم يشهد معنا العشاء و الفجر أسأنا به الظن ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق النجاد بالكوفة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2857

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2858

2858 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن سالم عن أم الدرداء قالت : دخل أبو الدرداء ذات يوم مغضبا فقلت ما لك ؟ فقال : و الله ما أعرف من أمة محمد صلى الله عليه و سلم إلا أنهم يصلون جميعا أخرجه البخاري من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے انکو ابو معاویہ نے اعمش سے ان کو سالم نے انکو ام درداء نے وہ کہتی ہیں کہ حضرت ابو درداء ایک دن غصے میں گھر میں داخل ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ۔ بولے ! اللہ کی قسم میں نہیں پہچانتا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے مگر (صرف وہی لوگ) جو اکھٹے نماز ادا کرتے ہیں ۔ اس کو بخاری نے اعمش کی حدیث سے روایت کیا ہے۔

دخل أبو الدرداء ذات يوم مغضبا فقلت ما لك ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← سَالِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2858

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2859

2859 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد ثنا محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا السائب بن حبيش الكلاعي عن معدان عن أبي طلحة اليعمري قال : قال أبو الدرداء : أين مسكنك ؟ قال : قلت قرية دون حمص قال أبو الدرداء : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من ثلاثة نفر في قرية و لا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا استحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد نے ان کو محمد بن احمد بن نضرازدی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو زائدہ نے ان کوسائب بن حبیش کلاعی نے ان کو معدان نے انکو ابو طلحہ بعمر نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو داؤد نے فرمایا تیری رہائش کہاں ہے میں نے کہا حمص سے قریب والی بستی میں ہے ۔ ابو درداء نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ نہیں ہوتے کوئی تین افراد کسی بستی میں ہوں یا دیہات میں جہاں نماز قائم نہیں کی جاتی مگر شیطان ان لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے تم جماعت کو لازم پکڑو یعنی بات یہ کہ بھیڑیا اکیلی چرنے والی بکری کو کھا جاتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← قلت قرية دون حمص ← أبو الدرداء أين مسكنك ← أبي طلحة اليعمري ← مَعْدَانَ، ← السائب بن حبيش الكلاعي ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2859

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2860

2860 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق ثنا عفان بن مسلم ثنا حماد بن سلمة ثنا برد أبو العلاء عن عطية رجل من أهل الشام عن حزام عن معاذ بن جبل أنه قال : إن الشيطان ذئب الإنسان كذئب الغنم يأخذ الشاذة القاصية و الناحية فعليكم بالمسجد و الجماعة فإن دعوة الجميع محيطة من ورائهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو برد ابو العلاء نے عطیہ سے یہ اہل شام کے ایک آدمی تھے وہ روایت کرتے ہیں حزام سے وہ معاذ بن جبل سے کہ انہوں نے کہا بے شک شیطان انسا ن کے لیے بھیڑیا ہے بکریوں کی بھیڑیے کی طرح جو اکیلی چرنے والی بکری کو لے جاتا ہے اور کونے میں الگ رہنے والی کو۔ تم لوگ مسجد کو اور جماعت کو لازم کر لو بے شک اجتماعی دعا پیچھے سے احاطہ اور حفاظت کی ہوئی ہوتی ہے۔ (محفوظ ہوتی ہے)۔

مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ ← حِزَامٍ، ← عطية رجل من أهل الشام ← بُرْدٌ أَبُو الْعَلاءِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2860

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2861

2861 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا ابن رجاء ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي نصير عن أبي بن كعب قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح ثم أقبل علينا بوجهه فقال أشاهد فلان و فلان و فلان حتى عد ثلاثة كل ذلك يقولون نعم قال : إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء و صلاة الفجر و لو يعلمون ما فيهما لأتوهما و لو حبوا و اعلموا أن الصف المقدم على مثل صف الملائكة لو علمتم فضيلته لابتدرتموه و اعلموا أن صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاة الرجل وحده و إن صلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل و ما كثر أحب إلى الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر نصبی نے ان کو ابن رجاء نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابو نصیر نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اس کے بعد ہماری طرف منہ کر لیا اور پوچھا کہ فلاں فلاں آدمی موجود ہیں تین بندوں کے نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شمار کیے ہر ایک یہ کہتا رہا کہ جی ہاں میں موجود ہوں اس کے بعد آپ نے فرمایا بے شک منافقوں پر ثقیل ترین نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اگر وہ یہ جان لیتے کہ ان دونوں میں کتنا بڑا ثواب ہے تو ضرور ان کو ادا کرنے کے لیے آتے اگرچہ وہ گھٹنوں کے بل بھی آسکتے اور جان لو کہ صف اول یعنی اگلی صف فرشتوں کی صف جیسی ہے اگر تم لوگ اسکی فضیلت جان لیتے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے جلدی کرتے اور تم جان لو کہ دو آدمیوں کی نماز زیادہ پاکیزہ ہے اکیلیے آدمی کی نماز اور آدمی کی نماز دو آدمیوں کے ساتھ زیادہ پاکیزہ ہے۔ ایک آدمی کے ساتھ اس کی نماز ے اور جتنے زیادہ ہوں گے وہ اللہ کی زیادہ محبوب ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نُصَيْرٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنُ رَجَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2861

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2862

2862 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن إبراهيم بن المهاجر عن أبي الشعثاء قال : كنت مع أبي هريرة في مسجد الكوفة فأذن المؤذن فقام رجل فخرج فقال : أما هذا فقد عمي أبا القاسم صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو ابو المشعثاء نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا کوفے کی مسجد میں اتنے میں مؤذن نے اذان دی اور ایک آدمی اٹھ کر باہر چلا گیا ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص اندھا ہو گیا ہے ابو القاسم سے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آنکھیں اس نے بند کر لی ہیں اذان سن کر بغیر نماز پڑھے چلا گیا ہے)۔

كنت مع أبي هريرة في مسجد الكوفة فأذن المؤذن فقام رجل فخرج ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2862

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2863

2863 - و أخبرنا علي ثنا أحمد ثنا إسماعيل ثنا يحيى ثنا شريك عن الأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي عن أبيه قال : كنا قعودا عند أبي هريرة فأذن المؤذن فخرج رجل من المسجد فقال أبو هريرة أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أذن المؤذن فلا يخرج أحد حتى يصلي

ہمیں خبر دی ہے علی نے ان کو احمد نے ان کو اسماعیل نے ان کو یحییٰ نے ان کو شریک نے ان کو اشعث بن ابی المشعثاء محاربی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بیٹھے تھے اتنے میں موذن نے اذان پڑھی اور ایک آدمی مسجد سے باہر نکل گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بہر حال یہ شخص اس نے ابو القاسم کی نافرمانی کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب مؤذن اذان کہہ دے تو پھر کوئی بھی مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے۔

كنا قعودا عند أبي هريرة فأذن المؤذن فخرج رجل من المسجد ← أَبِيهِ ← الأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← شَرِيکٍ ← يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ، ← عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2863

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2864

2864 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن داود حدثني محمد بن الحسين بن مكرم الحافظ ثنا شريج بن يونس ثنا أبو حفص الأبار عن محمد بن جحادة عن أبي صالح قال : رأى أبو هريرة رجلا يخرج من المسجد حين أذن المؤذن و حين أخذ في الإقامة فقال : أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن داؤد نے ان کو محمد بن حسین مکرم حافظ نے ان کو شریج بن یونس نے ان کو ابو حفص ایاز نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو ابو صالح نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ جب موذن نے اذان کہی وہ مسجد سے نکل رہا تھا جب وہ اقامت کے لیے شروع ہو رہا تھا انہوں نے فرمایا بہر حال اس شخص نے ابو القاسم کی نافرمانی کی ہے۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← شريج بن يونس ← محمد بن الحسين بن مكرم الحافظ ← أبو بكر بن داود ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2864

chevron_left Previous
1…121314…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood