Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2829

2829 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى بن إبراهيم ثنا جعفر بن محمد بن الحسين و محمد بن عمرو الحرشي و إبراهيم بن علي و موسى بن محمد الذهليان قالوا أنبأ يحيى بن يحيى فيما قرأه على مالك : فذكره بإسناده مثله رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ بن ابراہیم نے ان کو جعفر بن محمد بن حسین اور محمد بن عمرو حرشی اور ابراہیم بن علی اور موسیٰ بن ذھلیان نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے اس میں پھر اس نے پڑھا مالک پر پھر اس کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2829

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2830

2830 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب أنا أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن ابن الهاد عن عبد الله بن خباب عن أبي سعيد الخدري : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صلاة الجماعة تفضل على صلاة الفذ بخمس و عشرين درجة رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق بن ایوب نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ابن ہاد نے ان کو عبداللہ بن خباب نے ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ با جماعت نماز فضیلت رکھتی ہے پچیس درجے اکیلے کی نماز پر۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ یوسف سے اس نے لیث سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2830

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2831

2831 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى ثنا أبو معاوية عن هلال بن ميمونة عن عطاء بن يزيد عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة في الجماعة تعدل خمسا و عشرين صلاة فإذا صلاها الفلاة فأيم ركوعها و سجودها بلغت خمسين صلاة

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ہلال بن میمونہ نے ان کو عطاء بن یزید نے ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا با جماعت نماز پچیس نمازوں کے برابر ہوتی ہے جب اسے جنگل میں پڑھے اور اس کے رکو ع و سجود کو پورا کرے پہنچ جاتی ہے پچیس نمازوں تک۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← هلال بن ميمونة ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ إسماعيل بن قتيبة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2831

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2832

2832 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ثنا أحمد بن ملاعب ثنا عفان ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة الرجل في جماعة أفضل من صلاته في بيته و في سوقه خمسا و عشرين صلاة و ذلك أنه إذا توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج إلى الصلاة لا ينهزه إلا ذلك لم يخط خطوة إلا كتب له حسنة و حط عنه بها خطيئة و لا تزال الملائكة تصلي عليه ما كان في مصلاه اللهم اغفر له اللهم ارحمه و لا يزال في صلاة ما انتظر الصلاة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان بن حسن فقیہ نے ان کو احمد بن ملاعب نے ان کو عفان نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا باجماعت نما ز پڑھنا افضل ہے اس کے گھر میں بازار میں پڑھنےپر پچیس نمازیں اور یہ اس صورت میں ہے کہ جس وقت وہ وضو کرے اور وضو کو اسی طرح کرے اس کے بعد وہ نماز کی طرف نکلے جس کا مقصد صرف یہی ہو تو جو بھی قدم اٹھائے گا ہر قدم کے بدلے میں اس کے لیے نیکی لکھی جائے گی اور اس سے ایک غلطی مٹا دی جائے گی اور فرشتے ہمیشہ اس ر رحمت کی دعا کرتے رہیں گے جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہے گا فرشتے یہ دعا کریں گے: اللھم اغفرلہ اللھم ارحمہ اے اللہ اس کو بخش دے اے اللہ اس پر رحم کر دے۔ اور جب تک نماز کے انتظار میں رہے گا وہ نماز میں ہی شمار ہو تا رہے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2832

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2833

2833 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا أبو معاوية عن الأعمش : فذكره بإسناده و معناه زاد عند قوله اللهم اCم إغفر له ما لم يؤذ فيه ما لم يحدث أخرجاه في الصحيح من حديث أبي معاوية و رواه البخاري عن موسى بن إسماعيل عن عبد الواحد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے پھر اس کو انہوں نے ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اور اسی کے معنی میں انہوں نے دعا میں اللھم ارحمہ اللھم اغفرلہ کے ساتھ اس شرط کا اضافہ کیا ہے جب تک کہ اس میں ایذا نہ پہنچائے جب تک بے وضو نہ ہو۔ بخاری و مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابو معاویہ کی حدیث سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے موسیٰ بن اسماعیل سے اس نے عبدالواحد سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2833

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2834

2834 - و أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد العبدوي الحافظ أنبأ أبو الفضل محمد بن عبد الله بن خميرويه العدل أنا علي بن عيسى الخزاعي أنا أبو اليمان الحكم بن نافع أخبرني شعيب بن أبي حمزة عن الزهري أخبرني سعيد بن المسيب و أبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تفضل صلاة الجماعة صلاة أحدكم وحده بخمس و عشرين جزءا و تجتمع ملائكة الليل و ملائكة النهار في صلاة الفجر ثم يقول أبو هريرة : اقرأوا إن شئتم و قرآن الفجر إن الفجر كان مشهودا رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان و رواه مسلم عن أبي بكر بن إسحاق عن أبي اليمان

اور ہمیں خبر دی ہے ابو حازم عمرو بن احمد عبدوی حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن عبداللہ بن خمیرو یہ عدل نے ان کو علی بن عیسیٰ خزاعی نے ان کو ابو الیمان حکم بن نافع نے ان کو خبر دی شعیب بن ابو حمزہ نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی ہے سعید بن مسیب نے اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ فرماتے تھے کہ باجماعت نماز تمہارا ایک اکیلے کی نماز پر پچیس حصے فضیلت رکھتی ہے اور رات کے اور دن کے فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابو ہریرہ نے (اس کی تائیدمیں فرمایا) اگر تم لوگ چاہوتو یہ پڑھ کر دیکھو: وقرآن الفجر ان قرآن الفجر کان مشھوداً (فجر کی تلاوت کو بھی قائم کرو) بے شک صبح کا قرآن پڑھنا ایسا ہے جس میں حاضری ہوتی ہے( یعنی فرشتے حاضر ہوتے ہیں ) ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ابو الیمان س اور مسلم نے ابو بکر بن اسحٰق سے اس نے ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2834

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2835

2835 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن أبي عمرو الحرشي ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا علي بن حجر ثنا علي بن مسهر عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة و أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله : إن قرآن الفجر كان مشهودا قال تشهده ملائكة الليل و ملائكة النهار تجتمع فيها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو محمد بن ابو عمرو حرشی نے ان کوابو بکر محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کو علی بن حجر نے ان کو علی بن مسہر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں: ان قرآن الفجر کان مشھوداً بے شک صبح کو قرآن پڑھنا حاضر کیا ہوا ہوتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس میں حاضر ہوتے ہیں رات کے اور دن کے فرشتے اسی میں جمع ہوتے ہیں۔

تشهده ملائكة الليل و ملائكة النهار تجتمع فيها ← أبي هريرة و أبي سعيد الخدري ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أبو محمد بن أبي عمرو الحرشي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2835

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2836

2836 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا محمد بن عقيل ثنا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن موسى بن عقبة أخبرني أبو الزناد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة أنه سمعه يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الملائكة يتعاقبون فيكم ملائكة الليل و ملائكة بالنهار و يجتمعون في صلاة الفجر و صلاة العصر ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسألهم و هو أعلم بهم كيف تركتم عبادي ؟ قالوا : تركناهم و هم يصلون و أتيناهم و هم يصلون قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه الذي صلى فيه و تقول اللهم اغفر له اللهم ارحمه ما لم يحدث رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو محمد بن عقیل نے ان کو حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طھمان نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان کو خبر دی ابوزناد نے ان کو عبدالرحمٰن اعرج نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے کہ فرشتے تمہارے اندرایک دوسرے کے پیچھے اتے ہیں تمہارے اندر رات کے فرشتے ہیں اور دن کے فرشتے بھی ہیں اور وہ سب فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں اسکے بعد وہ اوپر چلے جاتے ہیں جنہوں نے تمہارے اندر رات گزاری تھی اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے کہ کیسے چھوڑا کر آئے ہو تم میرے بندوں کو؟ وہ کہتے ہیں ہم ان کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے اوپر رحمت بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ پر رہتا ہے ہجاں اس نے نماز پڑھی ہے اور فرشتے کہتے ہیں ا للہ تعالیٰ اس کو بخش دے اے اللہ تو اس پر رحم کر دے جب تک کہ وہ بضو نہ ہوجائے اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2836

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2837

2837 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعربي ثنا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني ثنا وكيع بن الجراح قال : ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن جرير بن عبد الله قال : كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر إلى القمر ليلة البدر فقال لنا : إنكم ستعرضون على ربكم فترونه كما ترون هذا القمر لا تضامون في رؤيته فإن استطعتم ألا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس و قبل غروبها فافعلوا

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد صباح زعفرانی نے ان کو وکیع بن جراح نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیانکی ہے اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابی حازم نے ان کو جریر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حضور نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور ہم لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ عنقریب اپنے رب کے سامنے ہو گے اور تم اس کو ایسے دیکھو گے جیسے تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ کیا تم لوگ اس کو دیکھنے میں کچھ مزاحمت محسوس کرتے ہو اگر تم لوگ استطاعت رکھو کہ تم طلوع سورج سے قبل اور غروب سے قبل نماز سے عاجز نہ رہو (یعنی ان دونوں وقت خاص طور پر نماز قائم کرو) تو ضرور کرو۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أبو سعيد بن الأعربي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2837

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2838

2838 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن يونس الضبي ثنا صبهان ثنا يعلى بن عبيد ثنا إسماعيل بن أبي خالد : فذكره بإسناده و معناه و زاد ثم قرأ فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس و قبل الغروب أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح من أوجه عن إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن یونس ضبی نے ان کو صبہان نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے پھر اس کو ذکر کیا ان کی اسناد کے ساتھ اور اسی کے معنی کو اور یہ زیادہ کیا ہے: فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب '' پس تسبیح بیان کر تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج کے طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے۔ اس کو نقل کیا ہے بخاری و مسلم نے صحیح میں کئی طریقوں سے اسماعیل بن خالد سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2838

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2839

2839 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا إسماعيل بن أبي خالد ثنا أبو بكر بن عمارة بن رؤيبة عن أبيه أنه قال : جاء شيخ من أهل البصرة إلى أبي فقال : حدثنا ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يلجن النار رجل صلى قبل طلوع الشمس و قبل غروبها فقال الشيخ أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم و سمعته أذناي و وعاه قلبي قال : الشيخ فأشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول كما قلت : ما واطأني عليه غيرك أخرجه مسلم من حديث وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ بن محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو ابو بکر بن عمارہ بن رئیبہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ اہل بصرہ سے ایک شخص میرے والد کے پاس آئے تھے اور فرمایا کہ آپ ہمیں حدیث بیان کیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی آپ فرماتے تھے خبر دار وہ آدمی جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو نماز پڑھتا ہو طلوع سورج اور غروف سورج سے قبل اس شیخ نے کہا آپ نے یہ واقعہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا انہوں نے کہا : جی ہاں اس کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور اس کو میرے دل نے یاد کیا۔ شیخ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ البتہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا جیسے آپ نے کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے فرما رہے تھے ۔ مجھے اس پر تیرے سوا کسی نے آگاہی نہیں کی صرف آپ نے کی ہے ۔ اس کو مسلم نے وکیع کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ اسماعیل بن خالد سے۔

أَبِيهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن محمد بن عبد الوهاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2839

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2840

2840 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن جارود بن دينار القطان ثنا عطاء بن مسلم و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا علي بن عبد العزيز و أبو شعيب الحراني قالا : ثنا عفان همام بن يحيى ثنا أبو جمرة عن أبي بكر بن عبد الله بن قيس عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى البردين دخل الجنة و في رواية القطان عن أبي بكر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث همام بن يحيى

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد بن صفار نے ان کو محمد بن جارود بن دینار قطان نے ان کو عطا بن مسلم نے (ح) اورہمیں خبر دی ہے محمد بن عبدالحافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے اور ابو شعیب حرانی نے دونوں نے کہا انکو عفان ہمام بن یحییٰ نے ان کو ابو حمزہ نے انکو ابو بکر بن عبداللہ بن قیس نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی (یعنی ٹھنڈے وقت کی نمازیں پڑھے جنت میں داخل ہو گا اور قطان کی روایت میں ابو بکر سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اسی کو ذکر کیا ہے اور اس کو بخاری و مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ہمام بن یحییٰ کی حدیث سے۔

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← عفان همام بن يحيى ← علي بن عبد العزيز و أبو شعيب الحراني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عطاء بن مسلم و ← محمد بن جارود بن دينار القطان ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2840

chevron_left Previous
1…101112…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood