Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3900

3900 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا الحضرمي جطين نا أحمد بن حنبل نا عبد الرزاق عن جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم يكن فتمرات فإن لم يكن حثا حثيات من ماء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حضرمی نے جطین نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ثابت سے اس نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغر ب کی نماز پڑھنے سے قبل تازہ کھجوروں کے ساتھ افطار کر لیتے تھے۔ اگر تازہ کھجور نہ ہوتی تو پھر خشک کھجور کے ساتھ اگر خشک بھی نہ ہوتیں تو پھر پانی کے چلو ایک دو گھونٹ پی لیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← الحضرمي جطين ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3900

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3901

3901 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق حدثني أبو عبد الله و هو أحمد بن حنبل نا عبد الرزاق أنا أبي عن وهب بن منبه قال : إن الرجل إذا سرد الصوم زاغ بصره عن موضع فإذا أفطر على حلاوة رجع إلى موضعه

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحق نے ان کو حضرت ابو عبداللہ نے یعنی احمد بن حنبل نے اس کو عبدالرزاق نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی جب روزہ مسلسل رکھتا ہے تو اس کی نظر اپنی جگہ سے گھومنے اور بھٹکنے لگتی ہے اور جب میٹھی چیز کے ساتھ افطار کرتا ہے تو اپنی جگہ پر لوٹ آتی ہے ۔

موضع فإذا أفطر على حلاوة رجع إلى موضعه ← إن الرجل إذا سرد الصوم زاغ بصره ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو عبد الله و هو أحمد بن حنبل ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3901

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3902

3902 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن حمشاذ أخبرني يزيد بن الهيثم أن إبراهيم بن أبي الليث حدثهم نا الأشجعي عن سفيان عن حصين بن عبد الرحمن عن رجل عن معاذ قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أفطر قال : الحمد لله الذي أعانني فصمت و رزقني فأفطرت 3902 - مكرر ـ و رواه هشيم عن حصين عن معاذ بن زهرة أنه بلغه : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا أفطر قال : اللهم لك صمت و على رزقك أفطرت و روينا عن ابن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أفطر قال : ذهب الظمأ و ابتلت العروق و ثبت الأجر إن شاء الله

ہمیں خبر دی حضرت ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو خبر دی یزید بن ہشم نے ان کو ابراہیم بن ابواللیث نے ان کو حدیچ بیان کی ہے ۔ ان کو خبر دی ہے ۔ اشجعی نے ان کو سفیان نے ان کو حصین بن عبدالرحمن نے ان کو ایک آدمی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم جب افطار کرتے تھے تو یہ دعا کرتے :الحمدللہ الذی اعاننی فصمت و رزقنی فافطرت "تمام شکر اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میری مدد فرمائی تو میں نے روزہ رکھا پھر مجھے اس نے رزق دیا تو میں نے افطار کیا ۔

مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ ← حُصَيْنٍ ← الحمد لله الذي أعانني فصمت و رزقني فأفطرت مكرر و رواه هشيم ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أفطر ← مُعَاذٌ، ← رَجُلٌ: ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← يزيد بن الهيثم، أن إبراهيم بن أبي الليث ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3902

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3903

3903 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار نا الحسن بن علي بن بحر بن بري نا محمد بن يزيد بن خنيس قال : قال عبد العزيز بن أبي رواد قال نافع قال ابن عمر : كان يقال إن لكل مؤمن دعوة مستجابة عند إفطاره إما أن يعجل له في دنياه أو يدخر به في آخرته قال : فكان ابن عمر يقول عند إفطاره : يا واسع المغفرة اغفر لي

مکررہے ۔ اور روایت کیا ہے اس کو ہیثم نے ان کو حصین نے معاذ بن زہرہ سے کہ ان کو خبر پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم جب افطار کرتے تھے تو کہتے تھے :اللھم لک صمت و علی رزقک افطرت " اے اللہ میں نے روزہ رکھا تیرے لیے اور تیرے ہی رزق کے ساتھ افطار کیا "۔ اور ہم نے روایت کی حضرت ابن عمرسے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم جب افطار کرتے تھے تو یوں کہتے تھے : ذھب الظما وابتلت العروق و ثبت الاجرانشاءاللہ "پیاس بجھ گئی ہے اور رگیں تر ہو گئی ہیں اور اجر پکا ہو گیا ہے انشاءاللہ ۔

ابن عمر كان يقال ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← الحسن بن علي بن بحر بن بري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3903

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3904

3904 - أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب الفقيه أنا عبيد بن عبد الواحد نا هشام بن عمار نا الوليد بن مسلم نا إسحاق بن عبد الله عن عبيد الله بن أبي ملكية أنه سمعه يحدث عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للصائم عند فطره دعوة ما ترد قال : و سمعت عبد الله يقول عند فطره : اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو حسن بن علی بن بحربن بری نے ان کو محمد بن یزید بن خنیس نے انہوں نے کہا کہ عبدالعزیز بن انوداؤد نے کہا کہ نافع نے کہا کہ ابن عمر نے فرمایا کہا جاتا تھا بے شک مؤمن کے لیے ایک دعا قبول ہوتی ہے ۔ اس کے افطار کے وقت پھر یا تو وہ اس کو جلدی دنیا میں دے دی جاتی ہے ۔ یا س کے لئے آخرت کا ذخیرہ کر دی جاتی ہے۔نافع کہتے ہیں کہ حضرت عمر افطار کے وقت یوں کہتے تھے :یا واسع المغفرۃاغفرلی "اے وسیع بخشش والے مجھے بھی بخش دے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عبيد الله بن أبي ملكية أنه سمعه ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3904

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3905

3905 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدباس بمكة نا محمد بن علي بن زيد المكي نا الحكم بن موسى نا الوليد بن مسلم : فذكره بإسناده غير أنه قال : سمعت سمعت سمعت و قال عبد الله بن عمرو بن العاص و زاد في آخره ذنوبي و إسحاق هو ابن عبيد الله مدني يروي عنه الوليد بن مسلم و يعقوب ين محمد شنجاني لم يثبتاه فقالا إسحاق بن عبد الله و قد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن باس نے مکہ میں ان کو محمد بن علی بن زید مکی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ میں نے سنا ہے ۔(میں نے سنا ہے ، میں نے سنا ہے۔)اور کہا ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص سے اور آخر میں اس نے یہ زیادہ کیا ہے ۔ ذنوبی ۔بخش دے میرے گناہوں کو ۔ اور اسحٰق وہ عبید اللہ مدنی ہے اور اس سے روایت کرتا ہے ولید بن مسلم اور یعقوب بن محمد شنجانی دونوں نے اس کو ثابت نہیں کیا اور دونوں نے کہا ہے کہ اسحاق بن عبداللہ ۔اور تحقیق ( باقی ذیل میں )

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3905

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3906

3906 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أحمد بن علي الخراز نا عيسى بن مساور اللؤلؤي نا الوليد بن إسحاق بن عبيد الله المدني قال : سمعت فذكره و لم يقل في آخره ذنوبي

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو عیسیٰ بن مساور لؤلوی نے ان کو ولید نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ مدنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا پھر مذکورہ کو ذکر کیا ۔ مگر آخر میں اس نے ذنوبی میرے گناہوں کو ۔ کا ذکر نہیں کیا ۔

فذكره و لم يقل في آخره ذنوبي ← الوليد بن إسحاق بن عبيد الله المدني ← عيسى بن مساور اللؤلؤي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3906

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3907

3907 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا أبو محمد المليكي عن عمر بن شعيب عن أبيه عن جده قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول للصائم عند إفطاره دعوة مستجابة فكان عبد الله بن عمرو إذا أفطر دعى أهله و ولده و دعا

ہمیں خبر دی حضرت ابو بکر بن فورک نے ان کوعبداللہ بن جعفر ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد ان کو ابومحمد ملیکی نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے فرماتے تھے کہ افطار کے وقت روزہ دار کی ایک دعا قبول ہوتی ہے لہذا حضرت عبداللہ بن عمرو جب افطار کرتے تھے تو اپنے گھر والوں کو بلاتے تھے اور بیٹیوں کو اور دعا کرتے تھے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عمر بن شعيب ← أبو محمد المليكي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3907

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3908

3908 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا عبد الملك بن محمد نا روح بن عبادة عن شعبة و هشام و حماد بن سلمة عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسحروا فإن في السحور بركة رواه البخاري في الصحيح عن آدم عن شعبة و أخرجه مسلم من وجه آخر عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو شعبہ نے اور ہشام نے اور حماد بن سلمہ نے ان کو عبدالعزیز بن صہیب نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا سحری کھایا کرو اس لئے کہ سحری کھانے میں برکت ہوتی ہے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اس نے شعبہ سے ۔ اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے عبدالعزیز سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شعبة و هشام و حماد بن سلمة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3908

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3909

3909 - أخبرنا علي بن محمد المقرىء أنا الحسين بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا عمران عن قتادة عن أنس قال : ثلاث من أطاقهن أطاق الصوم من أكل قبل أن يشرب و تسحر و قال : هذا موقوف و روي من وجه آخر في ذلك عن أنس مرفوعا كما

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو عمران نے ان کوقتادہ نے ان کو انس نے وہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ہیں جو شخص ان کی طاقت دیا گیا وہ روزے کی طاقت دیا گیا ۔ جو شخص پینے سے قبل کھائے اور سحری کرے ۔ انہوں نے کہا یہ حدیث موقوف ہے ۔ احمد نے کہا دسرے طریق سے روایت کی گئی ہے اس سے بطور مرفوع روایت جیسے (ذیل کی روایت ۔)

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسين بن محمد بن إسحاق، ← علي بن محمد المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3909

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3910

3910 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن إسحاق بن إبراهيم العدل نا محمد بن الحجاج بن عيسى يعني الوراق النيسابوري نا القعنبي نا سلمة بن وردان عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى رجلا من أصحابه طليحا فقال : مالي أراك طليحا ؟ قال : إني أمسيت صائما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تسحر و أكل قبل أن يشرب و مس شيئا من الطيب قوي على الصيام ـ سلمة بن وردان غير قوي و سائر رواته ثقات و روي من وجه آخر كما

ہمیں اس کی خبر ہے ابوعبد اللہ حا فظ نے ان کو احمد بن اسحٰق بن ابراہیم عدل نے ان کو محمد بن حجاج بن عیسٰی یعنی دراق نیسا پوری نے ان کو قعنبی نے ان کو مسلمہ بن وردان نے ان کو انس بن مالک نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اپنےاصحاب میں سے ایک آدمی کو لاغر و کمزور دیکھا تو

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَلَمَۃُ بْنُ وَرْدَانَ ← الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن الحجاج بن عيسى يعني الوراق النيسابوري ← أحمد بن إسحاق بن إبراهيم العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3910

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ ما يفطر الصائم عليه و ما يقول عند فطره · حديث 3911

3911 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانيء نا جعفر بن محمد بن سوار نا جعفر بن محمد بن نوح نا محمد بن عيسى الطباع نا شعيب بن محمد الحريري نا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أنس بن مالك قال : دخل النبي صلى الله عليه و سلم المسجد و رأى رجلا طليحا يعني داخلا فقال : ما بال صاحبكم ؟ قالوا : صائم يا رسول الله قال : من أحب أن يقوى على الصيام فليتسحر و ليقل و يشم طيبا و لا يفطر على الماء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو جعفر بن محمد بن سوار نے ان کو جعفر بن محمد بن نوح نے ان کو محمد بن عیسٰی طباع نے ان کو شعیب بن محمد حریری نے ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ انتہائی کمزور ہو رہا ہے پوچھا کہ تمہارے ساتھی کو کیا ہوا ہے ؟لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ وہ روزہ دار ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاہے کہ روزے پر قوی ہو اسے چاہیے کہ وہ سحری کرے اور دوپہر کے وقت تھوڑا سا آرام کرے اور خوشبو استعمال کرے اور پانی کے ساتھ افطار نہ کرے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← شعيب بن محمد الحريري ← محمد بن عيسى الطباع ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُوحٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - What breaks the fast on him and what he says when breaking his fast · Hadith 3911

chevron_left Previous
1…99100101…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood