شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2817
2817 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عبد الله بن يزيد ثنا حيوة أنا أبو عقيل أنه سمع الحارث مولى عثمان بن عفان قال : جلس عثمان بن عفان رضي الله عنه و جلسنا معه فجاء المؤذن فدعا عثمان بماء أظنه أنه سيكون بعد يتوضأ ثم قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ ثم قال : من توضأ مثل وضوئي ثم قام فصلى صلاة الظهر غفر له ما بينها و بين صلاة الصبح ثم صلى العصر غفر له ما بينها و بين الظهر ثم صلى المغرب غفر له ما بينها و بين العصر ثم صلى العشاء غفر له ما بينها و بين المغرب ثم لعله يبيت ليلته فإن قام فتوضأ فصلى الصبح غفر له ما بينه و بين صلاة العشاء و هي الحسنات يذهبن السيئات قال هذه الحسنات فما الباقيات الصالحات يا عثمان ؟ قال : لا إله إلا الله و سبحان الله و الحمد و لا إله إلا الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم
ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو عبداللہ بن یزیدنے ان کو حیوۃ نے ان کو بو عقیل نے کہ انہوں نے سنا حارث مولیٰ عثمان بن عفان سے انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفان بیٹھے ہوئے تھے ہم لوگ بھی ساتھ بیٹھ گئے ۔ اتنے میں مؤذن آیا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پانی منگوایا۔ میرا خیال تھا کہ اس کے بعد وہ وضو کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وضو کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اس کے بعد وہ کھڑا ہو جائے اور نماز ظہر ادا کرے اس کے لیے مغفرت ہو جائے گی ان گناہوں کی جو ظہر سے گزشتہ صبح تک ہوں گے اس کے بعد عصر پڑھے تو عصر سے گزشتہ ظہر تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے اس کے بعد مغرب پڑھے تو اس کے اور گزشتہ کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے اس کے بعد عشاء پڑھے تو گزشتہ مغر ب سے اب تک جتنے گناہ ہوں گے وہ معاف ہو جائیں گے پھر شاید کہ وہ اپنی رات گزارے گا اگر وہ کھڑا ہوا اور اس نے صبح کی نماز پڑھ لی تو گزشتہ عشاء سے اب تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ یہی ہے ان الحسنات یذھبن السیئات۔ یعنی نیکیاں بدیوں کو اس طرح دور کر دیتی ہیں اور ختم کر دیتی ہیں فرمایا کہ یہ تو تھیں حسنات اور کیا حال ہے باقیات صالحات کا۔ اے عثمان ! یعنی باقی رہنی والی صالحات ۔ فرمایا کہ لا الٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ ولحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
الحارث مولى عثمان بن عفان ← أَبُو عَقِيلٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2817
