Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2817

2817 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا عبد الله بن يزيد ثنا حيوة أنا أبو عقيل أنه سمع الحارث مولى عثمان بن عفان قال : جلس عثمان بن عفان رضي الله عنه و جلسنا معه فجاء المؤذن فدعا عثمان بماء أظنه أنه سيكون بعد يتوضأ ثم قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ ثم قال : من توضأ مثل وضوئي ثم قام فصلى صلاة الظهر غفر له ما بينها و بين صلاة الصبح ثم صلى العصر غفر له ما بينها و بين الظهر ثم صلى المغرب غفر له ما بينها و بين العصر ثم صلى العشاء غفر له ما بينها و بين المغرب ثم لعله يبيت ليلته فإن قام فتوضأ فصلى الصبح غفر له ما بينه و بين صلاة العشاء و هي الحسنات يذهبن السيئات قال هذه الحسنات فما الباقيات الصالحات يا عثمان ؟ قال : لا إله إلا الله و سبحان الله و الحمد و لا إله إلا الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله العلي العظيم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو عبداللہ بن یزیدنے ان کو حیوۃ نے ان کو بو عقیل نے کہ انہوں نے سنا حارث مولیٰ عثمان بن عفان سے انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفان بیٹھے ہوئے تھے ہم لوگ بھی ساتھ بیٹھ گئے ۔ اتنے میں مؤذن آیا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے پانی منگوایا۔ میرا خیال تھا کہ اس کے بعد وہ وضو کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وضو کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے اس کے بعد وہ کھڑا ہو جائے اور نماز ‎ظہر ادا کرے اس کے لیے مغفرت ہو جائے گی ان گناہوں کی جو ظہر سے گزشتہ صبح تک ہوں گے اس کے بعد عصر پڑھے تو عصر سے گزشتہ ظہر تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے اس کے بعد مغرب پڑھے تو اس کے اور گزشتہ کے درمیان کے گناہ معاف ہو جائیں گے اس کے بعد عشاء پڑھے تو گزشتہ مغر ب سے اب تک جتنے گناہ ہوں گے وہ معاف ہو جائیں گے پھر شاید کہ وہ اپنی رات گزارے گا اگر وہ کھڑا ہوا اور اس نے صبح کی نماز پڑھ لی تو گزشتہ عشاء سے اب تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ یہی ہے ان الحسنات یذھبن السیئات۔ یعنی نیکیاں بدیوں کو اس طرح دور کر دیتی ہیں اور ختم کر دیتی ہیں فرمایا کہ یہ تو تھیں حسنات اور کیا حال ہے باقیات صالحات کا۔ اے عثمان ! یعنی باقی رہنی والی صالحات ۔ فرمایا کہ لا الٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ ولحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

الحارث مولى عثمان بن عفان ← أَبُو عَقِيلٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2817

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2818

2818 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا يوسف بن يعقوب : فذكره بإسناده مثله

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو یوسف بن یعقوب نے پھر انہوں نے اس کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ۔

يوسف بن يعقوب فذكره بإسناده مثله ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2818

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2819

2819 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر ح و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن أبي الحسن ثنا محمد بن إسحاق ثنا علي بن حجر قال : ثنا إسماعيل بن جعفر عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الصلوات الخمس و الجمعة إلى الجمعة كفارات لما بينهن ما لم تغش الكبائر رواه مسلم في الصحيح عن علي بن حجر

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہےمحمد بن عبداللہ حافظ ان کو خبر دی ہے احمد بن ابو الحسن نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو علی بن حجر نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیا ن کی ہے اسماعیل بن جعفر نے علاء سے اس نےا پنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا پانچ نمازیں اور جمعے سے جمعے تک ان کے درمیانے وقت کے گناہوں کے لئے کفارات ہیں جب تک کبیرہ گناہ نہ چھپا لیں (یعنی نہ حاوی ہو جائیں) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں علی بن حجر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أحمد بن أبي الحسن ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد المقرىء،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2819

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2820

2820 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو اليمان أنا شعيب قال و أخبرنا حجاج بن أبي منيع عن جده عن الزهري قال : أخبرني رجل من بني مالك بن كنانة ممن يتبع الفقه يقال له : الفحام أنه سمع أبا موسى الأشعري يقول و هو يحدثهم : أحدثكم حديث صلاتكم هذه إذا اجتنبتم الكبائر فنصلي الظهر ثم نحرق على أنفسنا فإذا صلينا العصر كفرت ما بينهما ثم نحرق على أنفسنا فإذا صلينا المغرب كفرت ما بينهما ثم نحرق على أنفسنا فإذا صلينا العشاء يريد العتمة كفرت ما بينهما ثم نحرق على أنفسنا فإذا صلينا الفجر كفرت ما بينهما إذا اجتنبت الكبائر هكذا جاء موقوفا على أبي موسى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو الیمان نے ان کو شعیب نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی حجاج بن منیع نے اپنے د ادا سے انہوں نے زہری سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی تھی بنی مالک بن کنانہ کے ایک آدمی نے جو کہ فقہ کی اتباع کرتا تھا نام اس کا فحام تھا اس نے سنا حضرت ابوموسیٰ اشعری سے کہتے تھے کہ وہ ان کی حدیث بیان کرتے تھے۔ میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں تمہاری اسی نماز کے بارے میں جب تم کبیرہ گناہوں سےا جتناب کرو ہم جب ظہر پڑھتے ہیں تو ہم اپنے خلاف ورزی کے گناہوں کو جلاتے ہیں جب ہم عصر ادا کرتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں پھر ہم جلاتے ہیں اور مغرب پڑھتے ہین ان کے مابین گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اس کے بعد ہم عشاء پڑھتے ہیں (اندھیرے والی کاارادہ کرتے تھے) تو وہ کفار ہ بن جاتی ہے۔ پھر ہم اپنے نفس کو جلاتے ہیں جب فجر پڑھتے ہیں تو دونوں کے درمیان جو کچھ وقت ہے وہ مٹ جاتے ہیں جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے یہ اسی طرح ابو موسیٰ پر موقوف آئی ہے۔

رجل من بني مالك بن كنانة ممن يتبع الفقه يقال له الفحام ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّهِ، ← حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ← و، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2820

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2821

2821 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو حامد الخسروجردي حدثني داود بن الحسين البيهقي ثنا أبو التقي هشام بن عبد الملك الحمصي ثنا بقية بن الوليد حدثني همام بن نجيح قال : سمعت الحسن يحدث عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من حافظين يرفعان إلى الله بصلاة رجل مع صلاة إلا قال الله تبارك و تعالى أشهدكما أني قد غفرت لعبدي ما بينهما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو حامد خسرو گردی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو ابو التقی ہشام بن عبدالملک حمصی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو ہمام بن نجیع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ حدیث بیان کرتے تھے انس بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اورجب وہ محافظ (فرشتے) اللہ کی طرف کسی آدمی کی نماز کولے کر اوپر کو چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں تم دونوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کے لیے وہ سب کچھ معاف کر دیا ہے جو دونوں نمازوں کےدرمیان تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← همام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أبو التقي هشام بن عبد الملك الحمصي ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أبو حامد الخسروجردي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2821

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2822

2822 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحسن بن مكرم ثنا يزيد بن هارون ثنا يحيى بن سعيد و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز : أن رجلا من كنانة ثم من بني مدلج لقي رجلا من الأنصار يقال له أبو محمد فسأله عن الوتر فقال له إنه واجب قال الكناني : فلقيت عبادة بن الصامت فذكرت ذلك له فقال كذب أبو محمد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : خمس صلوات فرضهن الله على عباده من أتى بهن لم يضيع شيئا منهن كان له عهد عند الله أن يدخله الجنة و من لم يأت بهن فليس له عند الله عهد إن شاء عذبه و إن شاء رحمه و في رواية يزيد أن المخدجي رجلا من بني كنانة حدثه أن أبا محمد رجلا من الأنصار كان يسكن الشام قال : إن الوتر واجب و أن المخدجي راح إلى عبادة بن الصامت فأخبره بذلك فقال عبادة فذكر الحديث بمعناه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو یحییٰ بن سعید نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حبان نے ان کو ابن محیریز نے کہ کنانہ کے ایک آدمی بنی مدلج سے انصار کا ایک آدمی ملا جسے ابو محمد کہا جاتا تھا اس نے ان سے وتر کے بارے میں پوچھا انہوں نے اس کو جواب دیا کہ وہ واجب ہیں۔ کنانی نے کہا کہ میں عبادہ بن صامت سے ملا اور میں نے ان سے یہ ذکر کیا انہوں نے فرمایا کہ ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے پانچ نمازیں ہیں ان کو اللہ نے فرض فرماد یا ہے اپنے بندوں پر جو شخص ان کو ادا کرے اور ان میں سے کسی شے کو ضائع نہ کرے۔ اس کے لیے اللہ کے نزدیک عہد وعدہ ہو گا کہ وہ ا س کو جنت میں داخل کرے اور جو شخص ان پانچ نمازوں کو ادا نہ کرے اس بندے کے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عہد نہیں ہو گا اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کو عذاب دے گا اور اگر چاہے گا اس کو معاف کر دے گا اور رحم کرے گا اور یزید کی ایک روایت میں ہے کہ ایک ادمی مخدجی تھا بنو کنانہ میں سے اس نے ان کو حدیث بیان کی تھی کہ ایک اٹھا تھا انصار میں سے ابو محمد شام میں رہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وتر واجب ہیں اور مخدجی حضرت عبادہ بن صامت کے پاس چلا گیا اور ان کو جا کر خبر دی اس بارے میں پھر اس نے اس کو ذکر کیا اسی معنی میں۔

ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← يحيى بن سعيد و ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2822

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2823

2823 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن منقذ المصري ثنا عبد الله بن يزيد المقري عن سعيد بن أبي أيوب حدثني كعب بن علقمة عن قيس بن هلال عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه ذكر الصلاة يوما فقال : من حافظ عليها كانت له نورا و برهانا و نجاة يوم القيامة ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نورا و لا برهانا و لا نجاة و كان يوم القيامة مع قارون و فرعون و هامان و أبي بن خلف الجمحي قال البيهقي رضي الله عنه : و هذا إذا لم يرحمه و بيانه في حديث عبادة بن الصامت إذا أراد تركها و هو لا يرى في تركها إثما و لا في فعلها برا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن منقذمصری نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے ان کو کعب بن علقمہ نے ان کو قیس بن ہلال نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے ایک دن نماز کا ذکر کیا اور فرمایا جو شخص ان کی حفاظت کرے گا اس کے لئے نور ہوں گے اور دلیل ہوں ہوں گی اور قیامت کے دن اس کے حق میں نجات ہوں گی اور جو شخص ان کی حفاظت نہیں کرے گا نہ اس کے لئے نور ہو گا نہ دلیل ہو گی نہ نجات ہو گی بلکہ وہ شخص قیامت کے دن قارون فرعون ہامان ابی بن خلف جمحی جیسے بڑے بڑے کافروں کے ساتھ ہو گا۔ (معاذ اللہ منہ) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ اس وقت ہو گا جب اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرے گا اور اس کا بیان عبادہ بن صامت کی حدیث میں ہے یعنی جب نماز کو ترک کرے اور وہ اس کو ترک کرنے میں گناہ نہ سمجھے اور اس کو کرنے میں نیکی سمجھے (پھر اس کا یہی انجام ہو گا)۔

الصَّلَاةَ يَوْمًا ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← قيس بن هلال ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← إبراهيم بن منقذ المصري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2823

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلوات و ما في أدائهن من الكفارات · حديث 2824

2824 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن حنظلة الأسدي و كان يقال له كاتب رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حافظ على الصلوات الخمس أو الصلاة المكتوبة على وضوئها و على مواقيتها و ركوعها و سجودها يراها حقا عليه حرم على النار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو حنظلہ اسدی نے اور ان کو کاتب رسول کہا جاتا تھا۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پانچ نمازوں کی حفاظت کرے یا فرض نمازوں کی ان کے وضو سمیت ان کے اوقات پر ان کے رکوع ان کو سجود پر سب کی حفاظت کرے اور اس کو حق سمجھے اپنے اوپر اس پر آگ حرام ہو گی۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the prayers and the atonement in their performance · Hadith 2824

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2825

2825 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان النيسابوري و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا محمد بن عبيد عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صلاة الجماعة تفضل على صلاة أحدكم بسبع و عشرين درجة أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن عبيد الله بن عمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عثمان سعید بن محمد بن محمد بن عبدان نیشا پوری نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان عامری نے انکو محمد بن عبید نے ان کو عبید اللہ بن عمر نے نافع سے ان کو ابن عمر نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کہ باجماعت نماز پڑھنا ستائیس درجے فضیلت رکھتا ہے ایک اکیلے آدمی کی نماز پر۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2825

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2826

2826 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا : أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك ح و أخبرنا أبو عبد الله ثنا علي بن عيسى ثنا محمد بن عمرو و موسى بن محمد و إبراهيم بن علي قالوا أنا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صلاة الجماعة أفضل من صلاة الفذ بسبع و عشرين درجة لفظ حديثهما سواء رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن عمرو نے اور موسی بن محمد اور ابراہیم بن علی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے انہوں نے کہا کہ میں نے پڑھی ہےمالک کے آگے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا با جماعت نماز افضل ہے ستائیس درجے اکیلے کی نماز سے۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← محمد بن عمرو و موسى بن محمد و إبراهيم بن علي ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2826

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2827

2827 - و أخبرنا أبو الحسن العلوي ثنا عبد الله بن محمد بن الحسن أخو أبي حامد ثنا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الحجاج بن الحجاج عن أيوب بن أبي تميمة عن نافع عن ابن عمر أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صلاة الجماعة تفضل على صلاة الفذ بسبع و عشرين

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن ابو حامد کے بھائی نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حجاج بن حجاج نے ان کو ا یوب بن ابی تمیمہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے کہ انہو ں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: با جماعت نماز بڑھ جاتی ہے اکیلے کی نماز پر ستائیس درجے۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، ← الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن أخو أبي حامد ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2827

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2828

2828 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا ابن بكير ثنا مالك ح و حدثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : صلاة الجماعة أفضل من صلاة أحدكم و حده بخمس و عشرين جزءا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو خبر دی ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے (ح) اور ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اس میں جو انہوں نے پڑھی مالک کے سامنے انہوں نے ابن شہاب سے اس نے سعید بن مسیب سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا باجماعت نماز افضل ہے تمہارے کسی اکیلے کی نماز سے پچیس حصے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2828

chevron_left Previous
1…91011…104
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood