شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الطهارات · حديث 2709
2709 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمرو ثنا محمد بن علي بن بطحاء ثنا عفان ح و حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أملاء أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب أنا محمد بن عيسى بن السكن ثنا عفان أنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : عن النبي صلى الله عليه و سلم إنه كان يقول : الطهور شطر الإيمان و الحمد لله تملأ الميزان و سبحان الله و الله أكبر تملأ ما بين السماء و الأرض و الصلاة نور و الصدقة برهان و الصبر ضياء و القرآن حجة لك أو عليك و الناس يغدون فبائع نفسه فموبقها أو مبتاع فمعتقها أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبان بن يزيد العطار قال : أبو عبد الحليمي رحمه الله فيما بلغه عن يحيى بن آدم في قوله و الطهور شطر الإيمان قال : لأن الله عز و جل سمى الصلاة إيمانا فقال { و ما كان الله ليضيع إيمانكم } يعني صلاتكم إلى بيت المقدس و لا يجوز الصلاة إلا بوضوء فهما شيئان كل واحد منهما نصف الآخر
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بکر بن محمد صیرفی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن بطحاء نے ان کو عفان نے(ح) اور ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب نے ان کو محمد بن عیسیٰ بن سکن نے ان کو عفان نے ان کو ابان بن یزید نے انکو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابو سلام نے ان کو ابو مالک اشعری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ آپ فرمایا کرتے تھے طہارت و پاکیزگی حاصل کرنا " غسل وضو وغیرہ " نصف ایمان ہے" یا ایمان کا حصہ ہے" اور الحمد اللہ کہنا ترازو کے پلے کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ کہنا اور اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کے درمیان خلاء کو بھر دیتے ہیں اور نماز نور اور روشنی ہے اور صدقہ کرنا دلیل و برہان ہے اور صبر کرنا ضیاء اور روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے یا تو تیرے واسطے یا تیرے خلاف اور لوگ صبح کو جب اُٹھتے ہیں تواپنے آپ کو فروخت کرتے ہیں وہ اپنے نفس کو ہلاک کرتے ہیں یا اس کے فائدے کو ساتھ خریدتے ہیں اور اس کو آزاد کرواتے ہیں"یعنی انسان کی روز مرہ کی زندگی اپنے ہر کام کے اختیار سے مسلسل ایک سودا گری یا اللہ کی بندگی اور رضا طلبی یا غرو ضا والی ایک نجات کا دوسری ہلاکت کا سبب ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ابان بن یزید عطار کی روایت سے۔ ابو عبدالحلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت میں جوان کو پہنچی ہے یحییٰ بن آدم سے اس قول کے بارے میں الطھور شطر الایمان کی طہارت "وضو" آدھا ایمان ہے شیخ فرماتے ہیں یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان کا نام دیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وماکان اللہ لیضیح ایمانکم اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دیں یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو اور نماز وضو کے بغیر جائز نہیں ہو سکتی تو یہ دو چیزیں ہیں ہر ایک دونوں میں سے دوسری کی نصف ہے یعنی دوسری کے مقابلے میں نصف۔ نصف ایمان طہارت اور نصف ایمان نماز دونوں مل کر پورا ایمان ہیں۔ (مترجم)
أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter of the Twenty People of Faith and it is a chapter in the purity · Hadith 2709
