Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4853

4853 - أخبرنا أبو بكر محمد بن رجا الأديب نا أبو الحسن محمد بن محمد بن الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز نا حجاج نا حماد ح و حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني نا بكير بن أحمد بن سهل الصوفي بمكة نا جعفر بن محمد بن الحسن الفريابي نا إبراهيم بن الحجاج نا حماد بن سلمة عن عبيد الله بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربعة يبغضهم الله البياع الحلاف و الفقير المختال و الشيخ الزاني و الإمام الجائر

ہمیں خبر دی ابوبکر محمد بن رجاء ادیب نے ان کو ابوالحسن محمد بن محمد بن حسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو حجاج نے ان کو حماد نے ”ح“ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو بکیر بن احمد بن سہل صوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو جعفر بن محمد بن حسن فریابی نے ان کو ابراہیم بن حجاج نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو سعید بن ابوسعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار شخص ہیں اللہ تعالیٰ ان سے بغض رکھتے ہیں قسم کھا کر مال فروخت کرنے والا فقیر و غریب مگر متکبر و مغرور۔ بوڑھا بدکار ظالم بادشاہ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْفِرْيَابِيُّ، ← بكير بن أحمد بن سهل الصوفي بمكة ← أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصفهاني ← و، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ ← أبو بكر محمد بن رجا الأديب

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4853

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4854

4854 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا الحارث بن محمد بن الحارث الصياد نا هشام بن عبد الملك أبو التقى نا بقية حدثني ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أطيب الكسب كسب التجار الذي إذا حدثوا لم يكذبوا و إذا ائتمنوا لم يخونوا و إذا وعدوا لم يخلفوا و إذا اشتروا لم يذموا و إذا باعوا لم يطروا و إذا كان عليهم لم يمطلوا و إذا كان لهم لم يعسروا

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو حارث بن محمد بن حارث صیاد نے ان کو ہشام بن عبدالملک ابوالتقی نے ان کو بقیہ نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک پاکیزہ ترین کسب تاجروں کا ہے وہ تاجر جب بات کریں تو جھوٹ نہیں بولتے اور جب امانت رکھوائے جائیں تو خیانت نہیں کرتے جب وعدہ کرتے ہیں تو خلاف نہیں کرتے جب خریدتے ہیں زیادہ نہیں لیتے جب بیچتے ہیں تو کم کر کے نہیں دیتے جب ان کے ذمہ قرض ہو تو تاخیر نہیں کرتے جب ان کو کسی سے قرض لینا ہو تو تنگی نہیں کرتے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← بَقِيَّةُ ← هشام بن عبد الملك أبو التقى ← الحارث بن محمد بن الحارث الصياد ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4854

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4855

4855 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن عيسى العطار نا كثير بن هشام نا كلثوم بن جوشن عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التاجر الصدوق الأمين المسلم مع الشهداء يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن عیسیٰ عطار نے ان کو کثیر بن ہشام نے ان کو کلثوم بن جوشن نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سچا اور امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4855

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4856

4856 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحسين بن مكرم نا عبد الله بن بكر نا الحجاج بن فرافضة : أن رجلين كانا يتبايعان عند عبد الله بن عمر فكان أحدهما يكثر الحلف فبينما هم كذلك إذ مر عليهما رجل فقام عليهما فقال للذي يكثر الحلف منهما يا عبد الله اتق الله و لا تكثر الحلف فإنه لا يزيد في رزقك إن حلفت و لا ينقص من عمرك رزقك إن لم تحلف قال : امض لما يعنيك قال : إن ذا مما يعنيني قالها ثلاث مرات و رد عليه قوله قال : فلما أراد أن ينصرف عنهما قال : اعلم أن من آية الإيمان أن تؤثر الصدق حيث يضرك على الكذب حيث ينفعك و لا يكن في قولك فضل على فعلك ثم انصرف فقال عبد الله بن عمر : إلحقه فاستكتبه هذه الكلمات فقال : يا عبد الله أكتبني هذه الكلمات يرحمك الله فقال الرجل : ما يقدر الله تعالى من أمريكن فأعادهن عليه حتى حفظه ثم مشى معه حتى وضع إحدى رجليه في المسجد فما أدرى أأرض لحسته أو سماء اقتلعته قال : كانوا يرونه الخضر أو إلياس عليهما السلام

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو حسین بن مکرم نے ان کو عبداللہ بن بکر نے ان کو حجاج بن فرافضہ کہ دو آدمی آپس میں خرید وفروخت کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمر کے سامنے۔ ایک ان میں سے کثرت کے ساتھ قسم کھا رہا تھا۔ وہ دونوں اسی حال میں تھے کہ اتنے میں ان کے قریب سے کوئی دوسرا آدمی گذرا جوان کو معاملہ کرتے ہوئے دیکھ کر رک گیا اور ان کو دیکھنے لگا۔ پھر وہ آدمی اس شخص سے کہنے لگا جو زیادہ قسم کھا رہا تھا۔ اے اللہ کے بندے اللہ سے ڈر زیادہ قسمیں نہ کھا اس لئے کہ اگر تم زیادہ قسمیں کھاؤ گے تو اس سے تمہارا رزق زیادہ نہیں ہو جائیگا۔ اور اگر تم قسم نہیں کھاؤ گے تو تمہاری زندگی سے تمہارا رزق کم نہیں ہو جائے گا۔ ( قسم کھانے والے نے اس سے کہا) جاجا تو اپنا کام کر۔ اس نے جواب دیا یہی میرا کام ہے۔ یہی میرا کام ہے۔ یہی میرا کام ہے۔ ( تین بار یہی کہا اور اس کی بات کا جواب دیا) کہتے ہیں کہ جب وہ ان دونوں ( لین دین کرنے والوں سے) لوٹنے لگا تو۔ کہنے لگا یقین کیجئے کہ یہ بات ایمان کی نشانی ہے کہ تم سچ کو جھوٹ پر ترجیح دو جہاں تجھے سچ نقصان دے( اس قدر کہ) پھر وہ سچ تجھے خود نفع دے گا۔ اور تیرا قول تیرے فعل سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کہہ کر جانے لگا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے( قسم کھانے والے سے کہا) جلدی جاؤ تم اس کے پاس اور یہ کلمات اس سے لکھوالو۔ چنانچہ اس نے کہا اے اللہ کے بندے اللہ تم پر رحم کرے مجھے کلمات لکھوادو۔ لہذا اس آدمی نے کہا کہ اللہ نے جو امر مقدر کیا ہے وہ ہوکر رہے گا پھر اس نے وہ کلمات بار بار دہرائے حتیٰ کہ اسے وہ کلمات یاد ہو گئے۔ اس کے بعد یہ اس آدمی کے ساتھ چلے گئے یہاں تک کہ اس آدمی نے دو میں سے ایک قدم مسجد میں رکھا پھر میں نہیں جانتا کہ کیا ہواس کو زمین کھا گئی یا اسے آسمان نے اچک لیا ( بس وہ اچا تک غائب ہو گیا) راوی کہتا ہے وہ لوگ اس کو حضرت خضر علیہ السلام یا حضرت الیاس علیہ السلام کہتے تھے۔

الحجاج بن فرافضة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ، ← الحسين بن مكرم ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4856

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4857

4857 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر عبد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة نا الحسن بن الطيب نا قتيبة نا بكر بن مضر عن صخر بن عبد الله عن زياد بن أبي حبيب قال : بلغني أن من حملة العرش من يسيل من عينيه أمثال الأنهار من البكاء فإذا رفع رأسه قال : سبحانك ما تخشى حق خشيتك قال الله عز و جل : لكن الذين يحلفون باسمي كاذبين لا يعلمون

ہمیں حدیث بیان کی ابومحمد بن یونس نے ان کو ابوبکر عبداللہ بن یحییٰ طلحی نے کوفے میں ان کو حسن بن طیب نے ان کو قتیبہ نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو صخر بن عبداللہ نے ان کو زیاد بن ابوحبیب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ عرش الہی کو اٹھانے والے وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں سے رونے کی وجہ سے نہروں کی مثل آنسوں بہتے ہیں۔ جب وہ اپنا سر اٹھاتے ہیں تو کہتے ہیں اللہ تو پاک ہے ہم نے تجھ سے ڈرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتے ہیں مگر وہ لوگ جو میرے نام کی قسمیں جھوٹی کھاتے ہیں وہ نہیں جانتے۔

زِيَادِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ، ← الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الطَّلْحِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4857

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4858

4858 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي نا إبراهيم بن أبي عثمان عن أبي حرزة : أن العشر الآيات التي كتب الله تبارك و تعالى لموسى في الألواح : أن اعبدني و لا تشرك بي شيئا و لا تحلف باسمي كاذبا فإني لا أزكي و لا أطهر من حلف باسمي كاذبا و اشكر لي و لوالديك أنسألك في أجلك و أقيك المتالف و لا تسرق و لا تزن فاحجب عنك نور وجهي و تغلق عن دعائك أبواب سمواتي و لا تغدر بحليل جارك و أحب للناس ما تحب لنفسك و لا تشهد بما لم يعه سمعك و يفقه قلبك فإني واقف أهل الشهادات على شهاداتهم يوم القيامة ثم سائلهم عنها و لا تذبح لغيري فإنه لا يصعد إلي من قربان أهل الأرض إلا ما ذكر عليه اسمي أما الكذب الذي يضربه الكذب غيره فنحو أن يشتمه بالباطل و يضيف إليه ما يشينه به و منه القذف بالزنا و قد شرع الله فيه الحد أو يشهد عليه زورا بمال أو طلاق أو عتق أو قتل فيجمع ذلك ذنوبا منها الكذب و منها الإضرار بالمشهود عليه و منها أنه نصب نفسه منصب الأمناء و نصبه الحاكم ذلك المنصب ثم أنه كان و منها الجرأة على الله تعالى فإنه يشهد عليه الحاكم المنفذ عن الله تعالى في مجلس يمضي فيه أحكامه و لم يوضع إلا للعدل بين الناس

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق بن ایوب ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ بن عامری اویسی نے ان کو ابراہیم بن ابوعثمان نے ان کو ابوحرزہ نے کہ وہ دس آیات جنہیں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے تختیوں پرلکھوا دیا تھا یہ تھیں کہ تم میری ہی عبادت کرنا۔ میرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرنا۔ اور میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم نہ کھانا بیشک میں اس شخص کو پاک نہیں کروں گا نہ ہی مطہر کروں گا جو شخص میرے نام کے ساتھ جھوٹی قسم کھائے گا۔ تم میرا شکر کرنا اور اپنے والدین کا شکر کرنا۔ میں تیرے لئے تیرے اجل میں تاخیر کر دوں گا۔ اور تجھے بچاؤں گا متفق ہوکر۔ اور تم چوری نہ کرنا۔ زنا نہ کرنا۔ ( ورنہ تجھ سے میری ذات کا نور چپ جائے گا۔ اور تیری دعا کے آگے میرے آسانوں کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اور اپنے پڑوسی کی عزت کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا۔ اور لوگوں کے لئے وہی پسند کرنا جو کچھ تم اپنے لئے پسند کرو۔ اور تم اس چیز کی شہادت نہ دینا جس کو تیرے کانوں نے سن کر محفوظ نہ کیا ہو اور تیرے دل نے اس کو نہ سمجھا ہو۔ بیشک میں اہل شہادات کو ان کی شہادتوں پر قیامت کے دن کھڑا کروں گا۔ پھر میں ان سے ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اور تم میرے سواکسی اور کے نام پر جانور ذبح نہ کرنا( غیر اللہ کے نام پر) بے شک حال یہ ہے کہ اہل زمین کی قربانیاں میری طرف( قبولیت کے لئے) اس وقت تک نہیں چڑھتیں جب تک ان پر میرا نام نہ لیا جائے۔ بہر حال جو جھوٹ کے ذریعے دوسرے کو نقصان پہنچائے اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کو جھوٹی اور باطل گالی اور الزام دے اور اس کے اوپر اس کا اضافہ کرے کہ اس کو عیب لگائے۔ اسی قبیلے سے ہے زنا کی تہمت لگانا حالانکہ اللہ نے اس میں حد مقرر کر رکھی ہے۔ یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے دے۔ مال کے بارے میں یا طلاق کے بارے میں۔ یا غلام آزاد کرنے کے بارے میں۔ یا قتل کے بارے میں( اس طرح کا فعل) کئی کئی گناہوں پر مشتمل ہے منجملہ ان کے ایک ان میں سے جھوٹ بھی ہے۔ ایک ان میں سے اضرار با مشہود ہے( یعنی جس کے خلاف شہادت دی ہے اس کو نقصان پہنچانا۔ اور ان گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہیکہ وہ اپنے آپ کو امینوں کے منصب پر کھڑا کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس منصب کا حاکم گردانتا ہے۔ پھر یہ کہ وہ اس کے بارے گویا حاکم ہے۔ اور ان مجموعہ گناہوں میں سے ایک اللہ تعالیٰ پر جسارت کرتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے اس طرح کی شہادت وہ حاکم دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے نافذ کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسی مجلس میں جس میں اس کے احکام جاری ہوتے ہیں جو کہ صرف لوگوں کے درمیان انصاف کرنے کے لئے قائم کی گئی اور بر پاہوگئی ہوتی ہے۔

أبي حرزة أن العشر الآيات التي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، ← عبد العزيز بن عبد الله بن العامري الأويسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4858

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4859

4859 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور نا أحمد بن سلمة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن إبراهيم بن الفضل نا أحمد بن سلمة نا قتيبة بن سعيد نا الليث عن ابن الهاد عن سعد بن إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من الكبائر شتم الرجل والديه فقالوا : يا رسول الله هل يشتم الرجل والديه ؟ قال : نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ منصور نے ان کو احمد بن سلمہ نے’’ ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کومحمد بن ابراہیم بن فضل نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو لیث نے ان کو ابن ھاد نے ان کو سعد بن ابراہیم نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمر و بن العاص نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالیاں دے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں یہ گالی دیتا ہے کسی کے باپ کو پھر وہ پلٹ کر گالی دیتا ہے اس کے والد کو۔ یہ گالی دیتا کسی کی ماں کو اور وہ گالی دیتا ہے اس کی ماں کو۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے بیچ میں حبیبہ سے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّيَ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4859

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4860

4860 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن عبيد الله يعني ابن أبي بكر عن أنس قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الكبائر فقال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و شهادة الزور أو قال : قول الزور أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی استاذ ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عبیداللہ نے یعنی ابن ابوبکر نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ کسی کوقتل کرنا ۔ جھوٹی گواہی دینا۔ یا شہادت کی جگہ قول زور کہا تھا۔ بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے شعبہ کی روایت ہے۔

قول الزور أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة ← الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس و شهادة الزور أو ← الْکَبَائِرُ ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← عبيد الله يعني ابن أبي بكر ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4860

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4861

4861 - فروينا عن حبيب بن النعمان الأسدي عن خريم بن فاتك قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قائما فقال : عدلت شهادة الزور بالشرك بالله ثلاث مرات ثم تلا هذه الآية : { فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور } { حنفاء لله غير مشركين به } أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا محمد و يعلى ابنا عبيد عن سفيان بن محمد العصفري عن أبيه عن حبيب فذكره

ہم نے روایت کی ہے۔ حبیب بن نعمان اسدی سے ان کو حریم بن فاتک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی جب ہٹے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ کہ جھوٹی گواہی دینا اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے برابر ہے۔ تین بار آپ نے یہ اعلان فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی۔ فاجتنبو الرجس من الاوثان . واجتنب اقول الزور حنفاء لله غير مشركين به. بچو تم بتوں کی گندگی سے اور بچو تم جھوٹی مات کرنے سے دراں حالیکہ یکسو ہونے والے اللہ کے لئے اس کے ساتھ شرک نہ کرنے والے۔ ( ظاہر ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹی بات کرنے کو شرک سے اجتناب کے ساتھ اور شرک نہ کرنے کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے ۔ مترجم) ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغز رہ نے ان کو خبر دی محمد نے اور یعلی بن عبید نے۔ ان کو سفیان بن محمد عصفری نے ان کو ان کے والد نے ان کو حبیب نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، ← حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ، ← فروينا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4861

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4862

4862 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا الثوري عن عاصم بن بهدلة عن وائل بن ربيعة قال : سمعت عبد الله يقول : عدلت شهادة الزور الشرك بالله ثم قرأ هذه الآية : { فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور } و أما الملق فإنه مذموم إلا في طلب العلم لما جاء من أنه لا حسد و لا ملق إلا في العلم أو في طلب العلم قال الشيخ أحمد و هذا الحديث إنما يروي بإسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابومحمد بن عبداللہ یحییٰ کسری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ان کو عاصم بن بھدلہ نے ان کو وائل بن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا عبداللہ سے وہ کہتے تھے کہ جھوٹی شہادت دینا شرک باللہ کے برابر ہے پھر انہوں نے بھی یہی مذکورہ آیت پڑھی۔ فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتبنوا قول الزور. بہر حال خوشامد کرنا مذموم ہے مگر طلب علم میں اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ: لاحسد ولا ملق الا في العلم اوطلب العلم کی اور خوشاد کرتا جا رہی ہے حرم میں باطل علم میں: کہ حسد کرنا اور خوشامد کرنا جائز نہیں ہے مگر علم میں یا طلب علم میں۔ شیخ احمد نے کہا کہ یہ حدیث مروی ہے اسنادضعیف کے ساتھ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وَائِلِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4862

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4863

4863 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا محمد بن يزيد السلمي نا حفص بن عبد الرحمن نا الحسن بن دينار عن خصيب بن جحدر عن النعمان بن سالم عن عبد الرحمن بن غنم عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس من خلق المؤمن التملق و لا الحسد إلا في طلب العلم الحسن بن دينار ضعيف بمرة و كذلك خصيب بن جحدر و الله أعلم و روي من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن دلویہ وقاق نے ان کو محمد بن یزید سلمی نے ان کو حفص بن عبدالرحمٰن نے ان کو حسن بن دینار نے ان کو نصیب بن جحدر نے ان کو نعمان بن سالم نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی فطرت میں سے نہیں ہے چاپلوسی کرنا اور نہ ہی حسد کرنا ہاں طلب علم کے لئے (درست ہے)۔ حسن بن دینار ضعیف ہے کئی بار۔ اور اسی طرح خصیف بن جحدر بھی۔ واللہ اعلم اور ایک دوسری ضعیف وجہ سے بھی مروی ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← خصيب بن جحدر ← الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4863

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4864

4864 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا معاذ بن المثني نا عمران بن الحصين نا ابن علاثة عن الأوزاعي عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ملق و لا حسد إلا في طلب العلم قال الحليمي رحمه لله : و الملق من أفعال أهل الذلة و الضعة و مما يزري بفاعله و يدل على سقاطته و قلته مقدار نفسه عنده و ليس لأحد أن يهين نفسه كما ليس لغيره أن يهينه

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤد نے رزاز سے کہ ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو معاذ بن مثنی نے ان کو عمران بن حصین نے ان کو ابن علاثہ نے اوزاعی سے اس نے زہری سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوشامد اور چاپلوسی کرنا اور حسد کرنا طلب علم کے سوا نہیں ہے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ چاپلوسی کرنا افضل ذلت و رسوائی میں سے ہے جو اس کے کرنے والے کی کم عزتی یا بے عزتی کرتی ہے اور اس کے گرے پڑے ہونے پر دلالت کرتی ہے اور اپنے آپ کو اس کے نزدیک حقیر و ذلیل دکھانے کے لئے ہوتی ہے جب کہ جیسے کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی توہین کرے اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ کوئی اپنے نفس کو کسی کے سامنے خود ذلیل کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابن علاثة ← عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4864

chevron_left Previous
1…678…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood