شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4841
4841 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا جعفر بن محمد بن شاكر نا محمد يعني ابن سابق ح و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا سعد بن مسعود نا عبيد الله بن موسى نا شيبان عن فراس عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما الكبائر ؟ قال : الإشراك بالله قال : ثم ماذا ؟ زاد في رواية ابن سابق قال : ثم عقوق الوالدين ثم اتفقا قال : ثم ماذا ؟ قال : اليمين الغموس قال : قلت لعامر ما اليمين الغموس ؟ قال : الذي يقطع مال امرىء مسلم بيمين و هو كاذب رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن الحسين عن عبيد الله
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے ان کو ابوالعباس رحم نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو محمد بن سابق نے۔’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو سعد بن مسعود نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے فراس سے ان کو شعبی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور پوچھنے لگا یا رسول اللہ کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اس کے بعد کہا کہ اس کے بعد اور کون سا ہے؟ ابن سابق کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے۔اس کے بعد والدین کی نافرمانی ہے۔ اس کے بعد دونوں راوی متفق ہیں۔ کہا کہ اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟ فرمایا۔ کہ جھوٹی قسم کھانا۔ کہتے کہ میں نے کہا عامر سے کہ یمین غموس کیا ہوتی ہے؟ وہ کہ وہ آدمی جو اپنی جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال کاٹ لے حالانکہ وہ جھوٹا ہو۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں محمد بن حسین سے اس نے عبیداللہ سے۔
جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← محمد يعني ابن سابق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4841
