Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4841

4841 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا جعفر بن محمد بن شاكر نا محمد يعني ابن سابق ح و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا سعد بن مسعود نا عبيد الله بن موسى نا شيبان عن فراس عن الشعبي عن عبد الله بن عمرو قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما الكبائر ؟ قال : الإشراك بالله قال : ثم ماذا ؟ زاد في رواية ابن سابق قال : ثم عقوق الوالدين ثم اتفقا قال : ثم ماذا ؟ قال : اليمين الغموس قال : قلت لعامر ما اليمين الغموس ؟ قال : الذي يقطع مال امرىء مسلم بيمين و هو كاذب رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن الحسين عن عبيد الله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی ٰنے ان کو ابوالعباس رحم نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو محمد بن سابق نے۔’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو سعد بن مسعود نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے فراس سے ان کو شعبی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور پوچھنے لگا یا رسول اللہ کبیرہ گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اس کے بعد کہا کہ اس کے بعد اور کون سا ہے؟ ابن سابق کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے۔اس کے بعد والدین کی نافرمانی ہے۔ اس کے بعد دونوں راوی متفق ہیں۔ کہا کہ اس کے بعد کون سا گناہ بڑا ہے؟ فرمایا۔ کہ جھوٹی قسم کھانا۔ کہتے کہ میں نے کہا عامر سے کہ یمین غموس کیا ہوتی ہے؟ وہ کہ وہ آدمی جو اپنی جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال کاٹ لے حالانکہ وہ جھوٹا ہو۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں محمد بن حسین سے اس نے عبیداللہ سے۔

جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← محمد يعني ابن سابق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4841

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4842

4842 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أبو عمر محمد بن جعفر القرشي نا جعفر بن حميد نا علي بن ظبيان عن أبي حنيفة عن ناصح بن عبد الله عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس مما عصي الله به هو أعجل عقابا من البغي و ما من شيء أطيع الله فيه أسرع ثوابا من الصلة و اليمين الفاجر تدع الديار بلا قع

ہمیں خبر دی ہے ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو ابوعمر محمد بن جعفر قرشی نے ان کو جعفر بن حمید نے ان کو علی بن ضبیان نے ان کو ابوحنیفہ نے ان کو ناصح بن عبداللہ نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں میں اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے ان میں سے کسی میں اس قدر جلدی اللہ کی پکڑ اور سزا نہیں آتی جتنی کے ظلم پر (بدکاری پر۔ زیادتی پر، حد سے بڑھنے۔ جھوٹ بولنے پر) آتی ہے۔ اور جن چیزوں سے اللہ کی اطاعت کی جاتی ہے ان میں سے کسی چیز پر اتنی جلدی ثواب نہیں ملتا جتنی کہ صلہ رحمی پر ملتا ہے اور ناجائز قسم وہ تو گھروں کو ویران اور برباد چھوڑ دیتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، ← جعفر بن حميد ← أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4842

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4843

4843 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين علي بن محمد المصري نا روح بن الفرج نا يحيى بن بكير نا الليث عن هشام بن سعد عن محمد بن المهاجر بن قنفذ التميمي عن أبي أمامة الأنصاري عن عبد الله بن أنيس الجهني : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أكبر الكبائر الشرك بالله و عقوق الوالدين و اليمين الغموس و ما حلف حالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل جناح البعوضة إلا كانت نكتة في قلبه يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین علی بن محمد مصری نے ان کو روح بن فرج نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو محمد بن مہاجر بن قنفذتیمی نے ان کو ابوامامہ انصاری نے ان کو عبداللہ بن انیس جھنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے اللہ کے ساتھ شرک کرنا والدین کی نافرمانی کرنا۔ جھوٹی اور ناجائز قسم کھانا۔ نہیں قسم اٹھاتا کوئی قسم اٹھانے والا اللہ قسم جھوٹی وہ اس میں اگرچہ پھر پَر کے برابر میں شامل ہو مگر قیامت کے دن اس کے دل میں نکتہ ہوگا۔ یا نشان ہوگا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي أُمَامَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← محمد بن المهاجر بن قنفذ التميمي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ← أبو الحسين علي بن محمد المصري ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4843

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4844

4844 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن أحمد بن أبي العوام نا أبو عاصم نا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي راشد عن عبد الرحمن بن شبل قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن التجار هم الفجار فقال رجل : يا رسول الله ألم يحل الله البيع قال بلى و لكنهم يحلفون فيأئمون

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو محمد بن احمد بن ابوالعوام نے ان کو عاصم نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے ان کو ابوراشد نے ان کو عبدالرحمٰن بن شبل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔بے شک تاجر فاجر ہیں۔ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کہ اللہ نے بیع کو حلال نہیں فرمایا۔فرمایا کہ حلال تو کیا ہے مگر وہ لوگ قسم کھاتے ہیں اور گنہگار ہو جاتے ہیں۔

إن التجار هم الفجار فقال رجل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أَبِي رَاشِدٍ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4844

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4845

4845 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن العباس المؤدب نا عفان بن مسلم نا أبان العطار نا يحيى بن أبي كثير : فذكره بإسناده غير أنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال و زاد فيه قال : إنهم يقولون و يكذبون و يحلفون و يأثمون و قال عن أبي راشد الحبراني خالفهما هشام الدستوائي فرواه عن يحيى عن أبي راشد و ذكر فيه سماعه من أبي راشد

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عباس ادیب نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو ابان عطار نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ علاوہ زریں اس نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ راوی نے اس میں یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں۔ کہ وہ لوگ یعنی تاجر بات کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ اور قسم کھاتے ہیں اور گنہگار ہو جاتے ہیں۔اور اس نے کہا کہ روایت ہے۔ ابوراشد جبرانی سے مخالفت کی ہے دونوں کی ہشام دستوائی نے اس نے اس کو روایت کیا یحییٰ سے اس نے ابوراشد سے اور اس نے اس میں اپنا سماع ذکر کیا ہے ابوراشد سے۔

يحيى بن أبي كثير فذكره بإسناده غير أنه ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4845

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4846

4846 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي نا معاذ بن هشام حدثني أبي عن يحيى بن أبي كثير حدثني أبو راشد الحبراني أنه سمع عبد الرحمن بن شبل يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن التجار هم الفجار قالوا : يا رسول الله أليس الله قد أحل البيع قال : بلى و لكنهم يحلفون فيأثمون و يحدثون فيكذبون

ہمیں اس کی خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو عثمان ابن احمد بن سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور حارثی نے ان کو معاذ بن ہشام نے ان کو ابویحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو ابوراشد حبرانی نے کہ انہوں نے سنا عبدالرحمٰن بن شبل سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ تجار فجار ہوتے ہیں۔لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ نے خرید و فروخت اور تجارت کو حلال نہیں فرمایا۔فرمایا کہ حلال تو کیا ہے مگر وہ لوگ قسم کھاتے اور گنہگار ہوتے رہتے ہیں اور بات کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔

"إنَّ التُّجَّارَ همُ الفُجَّارُ". ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أبو راشد الحبراني أنه ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4846

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4847

4847 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك نا يحيى نا الليث عن يونس عن ابن شهاب قال ابن المسيب إن أبا هريرة قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الحلف منفعة للسلعة ممحقة للربح رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن بكير و أخرجه مسلم من حديث ابن وهب و غيره عن يونس

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ابن مسیّب کہتے ہیں کہ بے شک ابوہریرہ نے فرمایا کہ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے۔ قسم سامان تجارت کو فروخت کرواتی ہے مگر منافع کی برکت مٹاتی ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا یحییٰ بن بکیر سے۔اور مسلم نے اس کو نقل کیا حدیث ابن وھب سے وغیرہ سے اور یونس سے۔

يُونُسَ ← يحيى بن بكير و أخرجه مسلم من حديث ابن وهب و غيره ← الحلف منفعة للسلعة ممحقة للربح رواه البخاري في الصحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← ابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4847

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4848

4848 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني مكرم بن أحمد بن مكرم القاضي نا أبو العباس أحمد بن سعيد الجمال نا عبد الله بن بكر السهمي نا حاتم بن أبي صغيرة عن عمرو بن دينار عن البراء بن عازب قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى البقيع فقال : يا معشر التجار حتى إذا إشرءبوا قال : إن التجار يحشرون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى و بر و صدق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو مکرم بن احمد بن مکرم قاضی نے ان کو ابوالعباس احمد بن سعید جمال نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو حاتم بن ابوصغیرہ نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے بقیع کی طرف اور فرمایا اے تاجروں کی جماعت گردن اوپر اٹھاؤ (یعنی میری طرف دیکھو) بے شک تاجر اٹھائیں گے قیامت کے دن دراں حالیکہ وہ فاجر و گنہگار ہوں گے سوائے اس تاجر کے جس نے تقویٰ اختیار کیا(بچ گیا) اور نیک رہا۔ اور سچ بولا۔

يا معشر التجار حتى إذا إشرءبوا ← أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى البقيع ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← أبو العباس أحمد بن سعيد الجمال ← مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُكْرَمٍ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4848

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4849

4849 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان عن ابن خيثم عن إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع الأنصاري ثم الزرقي عن أبيه عن جده رفاعة : أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المصلى فوجد الناس يتسابقون فقال : يا معشر التجار فاستجابوا له و رفعوا إليه أعناقهم و أبصارهم فقال : إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا إلا من اتقى و بر و صدق

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابن خثیم نے ان کو اسماعیل بن عبید بن رفاعہ بن رافع انصاری نے ثم الزرقی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا رفاعہ نے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ کی طرف نکلے انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے پایا تو حضور نے فرمایا۔ اے تاجر برادری لہذا تاجروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا اور اپنی گردنیں اور نگاہیں اوپر اٹھا کر آپ کی طرف دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا بے شک تاجر قیامت کے دن نافرمان اٹھائے جائیں گے سوائے ان کے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہوگا اور نیک سلوک کیا ہوگا اور سچ بولا ہوگا۔

أَبِيهِ ← إسماعيل بن عبيد بن رفاعة بن رافع الأنصاري ثم الزرقي ← ابن خيثم ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4849

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4850

4850 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا وهب بن جرير نا أبي قال : سمعت الأعمش يحدث عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يكلمهم الله عز و جل و لا ينظر إليهم يوم القيامة الآية رجل بايع لأمير لا يبايعه إلا للدنيا إن أعطاه وفى له و إن لم يعط لم يف له و رجل باع سلعة بعد العصر فحلف لقد أعطيت بها كذا و كذا كاذبا فباعها على ذلك و رجل على فضل ماء في الطريق فيمنعه ابن السبيل أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اعمش سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابوصالح سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ تین طرح کے لوگ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کلام بھی نہیں کرے گا اور قیامت کے دن ان کو نہیں دیکھے گا ایک تو وہ آدمی جس نے کسی امیر کے ہاتھ پر بیعت کی مگر صرف دنیا کے لئے کی۔ کہ اگر اس کو وہ دے گا تو یہ اس کے ساتھ وفا کرے گا ورنہ نہیں کرے گا۔ دوسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد یعنی دن چھپنے کے قریب اپنا سامان بیچتا ہے اور قسم کھاتا ہے کہ میں نے اتنے اتنے میں خریدی ہے حالانکہ جھوٹ بولتا ہے۔ پھر اسی جھوٹ اور جھوٹی قسم کے مطابق اس کو بیچتا ہے۔ تیسرا وہ آدمی جو فاضل پانی پر قابض ہے راستے پر بھی ہے مگر وہ مسافروں کو استعمال نہیں کرنے دیتا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4850

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4851

4851 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه نا جعفر الصائغ نا شعبة حدثني علي بن مدرك قال : سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير يحدث عن خرشة بن الحر عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة لا يكلمهم الله و لا ينظر إليهم يوم القيامة و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم قلت : يا رسول الله من هؤلاء خابوا و خسروا ؟ فأعادها ثلاث مرات قال المسبل و المنان و المنفق سلعته بالحلف الكاذب أو الفاجر أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان بن حسن فقیہ نے ان کو جعفر صائغ نے ان کو شعبہ نے ان کو علی بن مدرک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں خرشہ بن حر سے وہ ابوذر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا تین شخص ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا نہ ہی ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، میں نے کہا یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے؟ وہ ناکام و نامراد ہوگئے؟ اس کو تین بار آپ نے دہرایا۔فرمایا کہ ایک تو ٹخنوں سے نیچے تہہ بند لٹکانے والا۔ نیکی کسی کے ساتھ کر کے احسان جتلانے والا۔جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان بیچنے والا۔حلف کاذب فرمایا تھا یا حلف فاجر کہا تھا۔ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث شعبہ سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← جَعْفَرٌ الصَّائِغُ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4851

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4852

4852 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا سعيد بن عمرو نا حفص بن عاصم عن أبي عثمان عن سلمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة و لا يزكيهم و لهم عذاب أليم أشمط زان و عائل مستكثر و رجل جعل الله عز و جل له بضاعة فلا يبيع إلا بيمينه و لا يشتري إلا بيمينه

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسین محمد بن حسین سراج نے ان کو مطین نے ان کو سعید بن عمرو نے ان کو حفص بن عاصم نے ان کو ابوعثمان نے ان کو سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین شخص ہیں قیامت میں نہ تو اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا کالے اور سفید بالوں والا زانی (یا بوڑ ھازانی) عیالدار زیادہ عیال مانگنے والا۔ وہ آدمی جس کو اللہ نے مال اسباب دیا ہے مگر وہ اس کے باوجود سامان فروخت کرتا ہے تو قسم کھا کھا کر اور اگر خرید کرتا ہے تو قسم کھا کھا کر۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4852

chevron_left Previous
1…567…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood