شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4829
4829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا أيوب قال : سمعت عكرمة يقول : سمعت ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صور صورة عذب و كلف أن ينفخ فيها و ليس بنافخ و من تحلم كاذبا عذب و كلف أن يعقد بين شعرتين و ليس بعاقد و من استمع إلى حديث قوم و هم له كارهون صب في أذنه الأنك يوم القيامة قال سفيان : الأنك الرصاص رواه البخاري في الصحيح عن علي بن عبد الله عن سفيان
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عکرمہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص کوئی تصویر بنائے گا قیامت میں اس کو اس بات کی تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس میں روح بھی ڈالے (ظاہر ہے کہ وہ روح کہاں سے لائے گا؟) لہذا نہیں ڈال سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کی تکلیف دیا جائے گا کہ دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگائے (ظاہر ہے کہ وہ کیسے گرہ لگا سکتا ہے؟) لہذا وہ نہیں لگا سکے گا اور جو شخص دوسروں کی بات کی طرف کان لگائے جب کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ حضرت سفیان نے کہا کہ انک سے مراد سیسہ ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں علی بن عبداللہ سے اس نے سفیان سے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 4829
