Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4829

4829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان نا أيوب قال : سمعت عكرمة يقول : سمعت ابن عباس يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صور صورة عذب و كلف أن ينفخ فيها و ليس بنافخ و من تحلم كاذبا عذب و كلف أن يعقد بين شعرتين و ليس بعاقد و من استمع إلى حديث قوم و هم له كارهون صب في أذنه الأنك يوم القيامة قال سفيان : الأنك الرصاص رواه البخاري في الصحيح عن علي بن عبد الله عن سفيان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو بشر بن موسیٰ حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عکرمہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص کوئی تصویر بنائے گا قیامت میں اس کو اس بات کی تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس میں روح بھی ڈالے (ظاہر ہے کہ وہ روح کہاں سے لائے گا؟) لہذا نہیں ڈال سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے عذاب دیا جائے گا اور اس بات کی تکلیف دیا جائے گا کہ دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگائے (ظاہر ہے کہ وہ کیسے گرہ لگا سکتا ہے؟) لہذا وہ نہیں لگا سکے گا اور جو شخص دوسروں کی بات کی طرف کان لگائے جب کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ حضرت سفیان نے کہا کہ انک سے مراد سیسہ ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں علی بن عبداللہ سے اس نے سفیان سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4829

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4830

4830 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني أسامة بن زيد الليثي أن عبد الوهاب بن بخت بضم الموحدة و سكون المعجمة و بعدها مثناه تقريبا حدثه أنه سمع النصري حدثه أنه سمع واثلة بن الأسقع يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أفرى الفرى أن يرى العبد عينيه في المنام ما لم ترو أن يدعي لغير أبيه و أن يقول علي ما لم أقل

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے اسامہ بن زید لیثی نے ان کو عبدالوہاب بن بخت نے کہ انہوں نے سنا نضری سے انہوں نے سنا واثلہ بن اسقع سے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے کہ سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی بندہ خواب کی آنکھوں میں وہ دیکھے جو حقیقت میں دیکھتا کہ وہ اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کر کے پکارا جائے اور یہ کہ وہ مجھ پر وہ بات کہے۔ جو میں نے نہ کہی ہو۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 4830

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4831

4831 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن بكر المروزي نا عبد الله بن بكر السهمي نا بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للذي يحدث فيكذب فيضحك به الناس ويل له ويل له

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے ان کو عبداللہ بن بکر سہمی نے ان کو بہنر بن حکم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہلاکت ہے اس آدمی کے لئے جو حدیث بیان کرے اور جھوٹ بولے ایسی حدیث جس سے وہ لوگوں کو ہنسائے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4831

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4832

4832 - أخبرنا أبو الحسين بن أبي علي الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية نا إسماعيل قال : سمعت يحيى بن عبيد الله التيمي يقول سمعت أبي يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ليضحك بها أهل المجلس يهوي بها أبعد ما بين السماء و الأرض و إن الرجل ليزل على لسانه أشد ما يزل على قدميه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن ابوعلی حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوعتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنایحییٰ بن عبیداللہ تیمی سے انہوں نے سنا اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ بے شک بندہ کوئی کلمہ کہتا ہے وہ اسے صرف اہل مجلس کو ہنسانے کے لئے کہتا ہے وہ اس کے ذریعے اتنی گہرائی میں ڈالا جائے گا جو آسمان اور زمین کے درمیان مسافت ہے۔ بیشک آدمی اپنی زبان کی وجہ اتنی زیادہ پھسلتا ہے جتنی کہ اپنے پیروں پر سے نہیں پھسلتا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو الحسين بن أبي علي الحافظ

Hadith 4832

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4833

4833 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاذ العدل نا أحمد بن سلمة و محمد بن نعيم نا محمد بن أسلم نا المومل بن إسماعيل نا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بجماعة يضحكون و يلعبون فقال : أكثروا ذكر هاذم اللذات يعني الموت

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشا دعدل نے ان کو احمد بن سلمہ نے اور محمد بن نعیم نے ان کو محمد بن اسلم نے ان کو مؤمل بن اسماعیل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جماعت کے پاس سے گذرے جو ہنس رہے تھے اور کھیل کود کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ کثرت کے ساتھ لذات کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو یاد کرو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ← أحمد بن سلمة و محمد بن نعيم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4833

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4834

4834 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي حدثني إبراهيم بن نصر المنصوري حدثني إبراهيم بن بشار قال : سمعت إبراهيم بن أدهم يقول : مر عبد الله بن عمر على قوم مجتمعين و عليه بردة حسناء فقال رجل من القوم إن أنا سلبته بردته فما لي عندكم ؟ فجعلوا له شيئا فأتاه فقال : يا أبا عبد الرحمن بردتك هذه لي قال : فقال إني اشتريتها أمس قال : قد أعلمتك و أنت في حرج من لبسها قال : فخلعها ليدفعها إليه قال : فضحك القوم فقال : ما لكم ؟ فقالوا : هذا الرجل بطال قال : فالتفت إليه فقال له : يا أخي أما علمت أن الموت أمامك لا تدري متى يأتيك صباحا أو مساء ليلا أو نهارا ثم القبر و هول المطلع و منكر و نكير و بعد ذلك القيامة يوم يخسر فيه المبطلون فأبكاهم و مضى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر خلدی نے ان کو ابراہیم بن نصیر منصوری نے ان کو ابراہیم بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن ادھم سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو جمع ہو رہے تھے۔اور حضرت ابن عمر پر ایک خوبصورت چادر تھی۔لہذا ان لوگوں میں سے ایک نے۔ (ازراہ مذاق یا ازارہ شرارت) یہ کہا کہ اگر میں یہ چادر چھین لوں تو تم لوگ مجھے کیا دو گے؟ انہوں نے اس کے لئے کچھ مقرر کر دیا۔ چنانچہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔اے ابوعبدالرحمٰن یہ آپ کی چادر میری ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ میں نے تو کل ہی یہ خریدی ہے۔ وہ شخص بولا کہ میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ آپ اس کو پہن کر گنہگار ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں حضرت ابن عمر نے اس کو دینے کے لئے اوڑھی ہوئی چادر اتار لی راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ ہنس پڑے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم لوگوں کو کیا ہوا۔ کیوں ہنس رہے ہو؟ ان لوگوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کہ اے بھائی کیا آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ موت تیرے سامنے موجود ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ وہ تمہارے پاس کب آ جائے صبح کو یا شام کو رات کو یا دن کو۔اس کے بعد قید ہے اور ہولناک منظر ہے۔ اور منکر نکیر ہیں اور اس کے بعد قیامت ہے جس دن جھوٹے خسارے میں پڑ جائیں گے حضرت ابن عمر نے یہ الفاظ نہایت مؤثر انداز میں کہے جس سے ان کو رلا دیا پھر خود چلے گئے۔

فالتفت إليه ← هذا الرجل بطال ← مَا لَكُمْ؟ ← فضحك القوم ← فخلعها ليدفعها إليه ← قد أعلمتك و أنت في حرج من لبسها ← إني اشتريتها أمس ← يا أبا عبد الرحمن بردتك هذه لي ← سلبته بردته فما لي عندكم فجعلوا له شيئا فأتاه ← رجل من القوم إن ← مر عبد الله بن عمر على قوم مجتمعين و عليه بردة حسناء ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← إبراهيم بن نصر المنصوري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4834

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4835

4835 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ أخبرنا محمد بن إسحاق الثقفي نا الزبير بكار الزبيري نا أيوب بن سليمان حدثني ابن أبي حازم قال : قدم سفيان الثوري المدينة فسمع القاضري يتكلم بما يضحك منه الناس فقال : يا شيخ أما علمت أن تذر يوما يخسر فيه المبطلون قال : فلم يزل يعرف ذلك في القاضري حتى لقي الله عز و جل و أما تأكيد المكذب باليمين فقد جاء فيه سوى ما ذكرناه من قول الله عز و جل : { ويحلفون على الكذب وهم يعلمون } و قول الله عز و جل : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة ولا يكلمهم الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم }

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو محمد بن اسحاق ثقفی نے ان کو زبیر بکار زبیری نے ان کو ایوب بن سلیمان نے ان کو ابن ابوحازم نے وہ کہتے ہیں سفیان ثوری مدینے میں آئے انہوں نے قاضری کا کلام سنا جس سے لوگ ہنستے تھے۔ انہوں نے فرمایا اے شیخ کیا آپ نہیں جانتے ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں باطل گوئی کرنے والے خسارے میں ہوں گے کہتے ہیں کہ (اس بات کا ان پر اتنا اثر ہوا کہ) ہمیشہ ان پر اس نصیحت کا اثر محسوس کیا گیاحتیٰ کہ ان کا انتقال ہوگیا (یعنی مرتے دم تک انہوں نے لوگوں کو ہنسانے کا عمل ترک کر دیا۔) باقی رہا جھوٹ کو قسم کے ساتھ پکا کرنا تو اس بارے میں وہ احادیث تو ہیں ہی جو ہم ذکر کر چکے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے۔ (۱) ويحلفون على الكذب وهم يعلمون. منافق لوگ جھوٹ پر قسمیں کھا لیتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ اور ارشاد ہے: (۲)ان الذين يشترون بعهد اللّٰه و ايمانهم ثمنا قليلا اولئك لا خلاق لهم في الاخرة ولا يكلمهم اللّٰه ولا ينظر اليهم يوم القيمة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم. بے شک جو لوگ اللہ کے عہد کے بدلے میں اور اپنی قسموں کے بدلے میں حقیقتاً معاوضہ لینے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں اجر و ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہے نہ ہی اللہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف نظر کرم کرے گا قیامت کے دن نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔

يا شيخ أما علمت أن تذر يوما يخسر فيه المبطلون ← القاضري يتكلم بما يضحك منه الناس ← قدم سفيان الثوري المدينة ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الزبير بكار الزبيري ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4835

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4836

4836 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم أنا وكيع أنا الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على يمين صبر ليقتطع بها مال امرء مسلم لقي الله و هو عليه غضبان و تصديق ذلك في كتاب الله عز و جل : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } إلى آخر الآية فدخل الأشعث بن قيس فقال ما يحدثكم أبو عبد الرحمن ؟ قال : كذا و كذا قال : صدق في نزلت كان بيني و بين رجل في أرض خصومة فاختصمنا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هل لك بينة ؟ قلت : لا قال : فيمينه قلت : إذا يحلف قال من حلف على يمين صبر ليقتطع بها مال امرء مسلم لقي الله و هو عليه غضبان فأنزل الله عز و جل : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } إلى آخر الآية رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش و زاد فيه غيره عن الأعمش و هو فيها فاجر و قال شعبة عن الأعمش : كاذبا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابووائل نے ان کو عبداللہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اس لئے جھوٹی قسم کھائے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے ناحق کسی مسلمان کا مال کاٹ کھائے۔ اللہ کے آگے اس حال میں پیش ہوگا کہ وہ اس پر سخت غضبناک ہوگا۔ اس حدیث کی تصدیق قرآن میں موجود ہے۔ وہی مذکورہ آیت۔ ان الذين يشترون بعهداللّٰه وايمانهم ثمنا قليلا. الخ۔ جو لوگ اللہ کا عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے حقیر معاوضہ حاصل کرتے ہیں الیٰ آخرہ۔ (یہ حدیث بیان ہو ہی رہی تھی کہ اتنے میں) اشعث بن قیس آگئے انہوں نے پوچھا کہ تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ابوعبدالرحمٰن؟ ان کو بتایا گیا کہ ایسے ایسے بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ کہا ہے میرے بارے میں تو یہ نازل ہوئی ہے (واقعہ یہ ہوا تھا کہ) میرے اور ایک آدمی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا ہم لوگ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تیرے پاس گواہ ہیں میں نے کہا کہ نہیں ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس کی قسم پر اعتبار کرنا ہوگا اگر وہ قسم کھا لیتا ہے۔ میں نے کہا حضرت وہ تو قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا ناحق مال کھائے گا اللہ تعالیٰ کے آگے پیش ہوگا تو وہ اس پر سخت ناراض ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی۔ ان الذين يشترون بعهداللّٰه وايمانهم ثمنا قليلا. تا آخر آیت اس کو مسلم نے روایت کیا ہے اسحٰق بن ابراہیم سے اور بخاری نے دوسرے طریق سے اعمش سے اور بخاری کے علاوہ دیگر نے اعمش سے اس کو روایت کرتے ہوئے یہ اضافہ کیا ہے ایسی قسم جس میں وہ فاجر ہے گناہ کرنے والا ہے یعنی جھوٹا ہے اور شعبہ نے اعمش سے روایت کرتے ہوئے کاذباً کا اضافہ کیا ہے یعنی جھوٹی قسم کھانے والا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4836

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4837

4837 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله بن يزيد نا وهب بن جرير نا شعبة عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من حلف على يمين كاذبا ليقتطع بها مال امرء مسلم أو قال : أخيه لقي الله و هو عليه غضبان قال فأنزل الله تصديق ذلك في القرآن : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } إلى آخر الآية قال : فمر الأشعث فقال في نزلت و في رجل اختصما في بئر أخرجه البخاري في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران ان کو ابوجعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن یزید نے ان کو وھب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابووائل نے ان کو عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے جھوٹی قسم کسی مسلمان کا مال اڑانے کے لئے یا فرمایا تھا اپنے بھائی کا مال اڑانے کے لئے وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت ناراض ہوگا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق قرآن مجید میں اتاری ہے: ان الذين يشترون بعهداللّٰه وايمانهم ثمنا قليلا الخ . کہتے ہیں کہ اتنے میں حضرت اشعث گذرے انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک آدمی کے بارے میں ہم لوگوں نے ایک کنویں کے بارے میں جھگڑا کیا تھا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں نقل کیا ہے شعبہ کی حدیث سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4837

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4838

4838 - و روينا في حديث أبي أمامة الحارثي : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من اقتطع حق امرء مسلم بيمينه فقد أوجب الله له النار و حرم عليه الجنة فقال رجل : يا رسول الله و إن كان شيئا يسيرا فقال : و إن كان قضيبا من أراك

اور ہم نے روایت کی ہے ابوامامہ حارثی کی حدیث سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص کسی مسلمان کا حق مارنے کے لئے قسم کھا لے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم واجب کر دیتے ہیں اور اس پر جنت حرام کر دیتے ہیں۔ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اگرچہ وہ مال تھوڑا سا بھی ہو؟ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی ڈنڈی ہی کیوں نہ ہو۔

و روينا في حديث أبي أمامة الحارثي

Hadith 4838

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4839

4839 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد بن أبي الحسن نا محمد بن إسحاق نا علي بن حجر نا إسماعيل بن الفقيه عن العلا بن عبد الرحمن عن معبد بن كعب السلمي عن أخيه عبد الله بن كعب عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فذكره رواه مسلم في الصحيح عن علي بن حجر و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواحمد بن ابوالحسن نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو علی بن حجر نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو معبد بن کعب سلمی نے ان کو ان کے بھائی عبداللہ بن کعب نے ان کو ابوامامہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر فرمایا۔ پھر راوی نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا علی بن حجر وغیرہ سے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ ← العلا بن عبد الرحمن ← إسماعيل بن الفقيه ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4839

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4840

4840 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن جرير هو ابن حازم قال : سمعت عدي بن عدي الكندي يحدث في حلقة بمنا قال : حدثني رجاء بن حيوة و العرس بن عميرة عن عدي بن عميرة الكندي أن امرؤ القيس بن عابس الكندي خاصم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من حضرموت في أرض قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للحضرمي البينة فلم تكن له بينة فقضى على امرء القيس باليمين فقال الحضرمي أمكنته يا رسول الله من اليمين ذهبت و الله أرضي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين كاذبة ليقتطع بها مال أخيه لقي الله عز و جل يوم يلقاه و هو عليه غضبان قال : و قال رجاء و تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : { إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا } إلى آخر الآية فقال امرؤ القيس : فماذا لمن تركها ؟ قال له : الجنة قال : فإني أشهدك إني قد تركتها

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابواسامہ نے ان کو جریر ابن حازم نے انہوں نے سنا عدی بن عدی کندی سے وہ حدیث بیان کرتے تھے منیٰ کے ایک حلقے میں۔انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی تھی رجاء بن حیوۃ نے اور عرس بن عمیرہ نے ان کو عدی بن عمیرہ کندی نے یہ امرء القیس بن عامہ کندی حضر موت کے ایک آدمی کے ساتھ زمین کا ایک جھگڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تھے رسول اللہ نے حضرمی سے کہا کہ تم گواہ پیش کرو اس کے پاس گواہ نہیں تھے لہذا آپ نے امرء القیس کے خلاف قسم کی بنیاد پر فیصلہ کر دیا حضرمی نے کہا کہ یا رسول اللہ آپ نے اس کو قدرت دے دی ہے اللہ کی قسم میری زمین گئی حالانکہ اللہ کی قسم زمین میری ہے رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر اپنے مسلمان بھائی کا مال کاٹنا چاہتا ہے جس دن وہ اللہ کے پاس آئے گا تو وہ اس پر سخت ناراض ہوگا۔ کہتے ہیں کہ رجاء نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔ ان الذين يشترون بعهداللّٰه و ايمانهم ثمنا قليلا. آخر تک۔ چنانچہ امرء القیس نے پوچھا یا رسول اللہ اس کو کیا ملے گا جو اپنا مال چھوڑ دے؟ آپ نے فرمایا! کہ اس کے لئے جنت ہے لہذا وہ کہنے لگے کہ میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اس زمین کو چھوڑ دیا ہے۔

رجاء بن حيوة و العرس بن عميرة ← في حلقة بمنا ← عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ ← جرير هو ابن حازم ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Hadith 4840

chevron_left Previous
1…456…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood