Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4817

4817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن ابن أبي مليكة أو غيره عن عائشة : فذكره بالشك في إسناده هكذا رواه معمر و رواه محمد بن أبي بكير عن أيوب عن إبراهيم بن ميسرة عن عائشة كان أبغض الخلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الكذب قال البخاري هو مرسل يعني بين إبراهيم بن ميسرة و عائشة و لا يصح حديث ابن أبي مليكة قال البخاري : ما أعجب حديث معمر عن غير الزهري فإنه لا يكاد يوجد فيه حديث صحيح

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم دبری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابن ابوملیکہ نے یا اس کے سوا کسی اور نے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی نے اس کوشک کے ساتھ ذکر کیا ہے اس کی اسناد میں اسی طرح اس کو روایت کیا ہے معمر نے۔ اور اس کو روایت کیا ہے محمد بن ابوبکیر نے ان کو ایوب نے ان کو ابراہیم بن میسرہ نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ ساری مخلوق سے زیادہ ناپسند حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ تھا۔ بخاری نے کہا کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ یعنی ابراہیم بن مسیرہ اور سیدہ عائشہ کے درمیان۔ اور حدیث ابن ابی ملیکہ صحیح نہیں ہے۔ بخاری نے کہا ہے کہ غیر زہری سے معمر کی حدیث کتنی عجیب ہے۔ بے شک حال یہ ہے کہ اس میں حدیث صحیح ہوتی ہی نہیں۔

اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← أَيُّوبَ، ← عائشة فذكره بالشك في إسناده هكذا رواه معمر و رواه محمد بن أبي بكير ← ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَوْ غَيْرِهِ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4817

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4818

4818 - أخبرنا بهذا الكلام أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني أنا أبو أحمد بن فارس قال : قال البخاري فذكره قا الشيخ و روي من وجه آخر عن أيوب عن ابن سيرين عن عائشة و لا يصح

ہمیں اس کلام کے بارے میں خبر دی ابوبکر فارسی نے ان کو ابواسحٰق اصفہانی نے ان کو ابواحمد بن فارس نے وہ کہتے ہیں کہ بخاری نے کہا ہے۔ پس ذکر کیا ہے اس کو شیخ نے۔ اور ایک اور طریق سے روایت کی گئی ہے ایوب سے اس نے ابن سیرین سے۔اس نے عائشہ سے۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔

عائشة و لا يصح ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← البخاري فذكره قا الشيخ و روي من وجه آخر ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← بهذا الكلام أبو بكر الفارسي

Hadith 4818

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4819

4819 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن يحيى بن سليمان نا عاصم بن علي نا الربيع بن صبيح عن يزيد الرقاشي عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن للشيطان كحلا و لعوقا و نشوقا أما لعوقه فالكذب و أما نشوقه فالغضب و أما كحله فالنوم

ہمیں خبر دی ہے ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو محمد بن یحییٰ بن سلام نے ان کو عاصم بن ابوعلی نے ان کو ربیع بن صبیح نے ان کو مزید رقاشی نے ان کو انس نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ بے شک شیطان کا سرمہ ہے۔ اور چاٹنے کی چیز ہے اور چھینک لانے والی چیز ہے۔اس کے چاٹنے کی چیز تو جھوٹ ہے۔ اور چھینک غضب اور غصہ ہے اور اس کا سرمہ نیند ہے۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن يحيى بن سليمان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Hadith 4819

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4820

4820 - أخبرنا أبو جعفر المستملي نا أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الهلالي أنا عبد الله بن زيدان البجلي نا هناد بن السري نا عمر بن هارون ح أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا المعمري نا عثمان بن أبي شيبة نا عمر بن هارون عن ثور بن يزيد عن يزيد بن شريح عن جبير بن نفير عن النواس بن سمعان الكلابي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك مصدق و أنت له كاذب كذا قيل عن جبير في هذا الإسناد و قد روينا في حديث بقية عن أبي شريح ضباره بن مالك الحضرمي أنه سمع أباه يحدث عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير أن أباه حدثه عن سفيان بن أسيد الحضرمي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره

ہمیں خبر دی ابوجعفر مستملی نے ان کو ابوسعید اسماعیل بن احمد ہلالی نے ان کو عبداللہ بن زید بجلی نے ان کو ہناد بن سری نے ان کو عمر بن ہارون نے ’’ح‘‘ ہمیں خبر دی علی بن اہمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معمری نے ان کو عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو عمر بن ہارون نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو یزید بن شریح نے ان کو جبیر بن نضیر نے ان کو نواس بن سمعان کلابی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ یہ سب سے بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کو ایک بات بتائے اور اس کو صحیح مان لے مگر تم نے اس سے جھوٹ بولا ہو۔اس طرح کہا گیا جبیر کو اسی اسناد میں اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے حدیث بقیہ میں ابوشرع ضباری بن مالک جعفری سے کہ اس نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے تھے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر سے یہ کہ ان کے والد نے ان کو حدیث بیان کی ہے سفیان بن اسید حضرمی سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔

النواس بن سمعان الكلابي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← يزيد بن شريح ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْمَعْمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ الْبَجَلِيُّ ← أبو سعيد إسماعيل بن أحمد الهلالي ← أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي

Hadith 4820

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4821

4821 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد أنا عبيد بن شريك نا عبد الوهاب نا بقية : فذكره أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو أمية الطرسوسي نا عثمان بن عمر أنا يونس بن يزيد الأيلي عن أبي شداد عن مجاهد أن أسماء بنت عميس قالت : كانت صاحبة عائشة التي هيأتها فأدخلتها على النبي صلى الله عليه و سلم في نسوة فما وجدنا عنده قرى إلا قدحا من لبن فتناوله فشرب منه ثم ناوله عائشة فاستحيت منه فقلت : لا تردي يد رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذته فشربته ثم قال : ناولي صواحبك فقلن لا نشتهيه فقال لا تجمعن كذبا و جوعا فقلت : إن قالت أحدنا لشيء تشتهيه أيعد ذلك كذبا فقال : إن الكذب يكتب كذبا حتى أظنه قال و الكذيبة تكتب كذيبة

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبیدہ بن شریک نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو بقیہ نے پھر اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔

مُجَاهِدٍ ← أبي شداد ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن ← بقية فذكره ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 4821

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4822

4822 - أخبرنا أبو الحسين علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عباس الأسفاطي نا أبو الوليد نا ليث بن سعد عن محمد بن عجلان عن مولى لعبد الله بن عامر عن عبد الله بن عامر يعني ابن ربيعة قال : جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم بيتنا و أنا صبي صغير فذهبت ألعب فقالت لي أمي : يا عبد الله تعالى أعطيك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أردت أن تعطيه ؟ قال : أردت أن أعطيه تمرا قال : أما إنك لو لم تفعلي كتبت عليك كذبة و رواه يحيى بن أيوب عن محمد بن عجلان عن زياد مولى عبد الله بن عامر بن ربيعة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوامیہ طرسوسی نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو یونس بن یزید ایلی نے ان کو ابوشداد نے ان کو مجاہد نے ان کو اسماء بنت عمیس نے وہ کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ کی ایک سہیلی تھی۔ اسے انہوں نے تیار کیا تھا وہ دیگر عورتوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں مگر ہم لوگوں نے ان کے پاس ضیافت کے لئے کچھ نہ پایا سوائے دودھ کے ایک پیالے کے۔سیدہ عائشہ نے وہ پیالہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر پیا پھر سیدہ عائشہ کو پکڑوا دیا مگر ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم آگئی لہذا اس نے ان سے کہا کہ۔ رسول اللہ کا ہاتھ واپسی نہ لوٹائیے عائشہ نے وہ پیالہ لے لیا اور اس میں سے پی لیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی سہیلیوں کو پکڑا دیجئے۔ انہوں نے کہا ہمیں اس کی بھوک نہیں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوک اور جھوٹ کو جمع نہ کریں۔ میں نے عرض کیا اگر ہم میں سے کوئی یہ کہے کسی شئی کے بارے میں جس کی ایک بھوک ہو کہ مجھے اس کی حاجت یا خواہش نہیں ہے تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ جھوٹ۔ جھوٹ لکھا جاتا ہے حتیٰ کہ میں نے گمان کیا کہ آپ نے فرمایا چھوٹا سا جھوٹ بھی جھوٹ لکھا جاتا ہے۔

عبد الله بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ ← مولى لعبد الله بن عامر ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← عَبَّاسٌ الْأُسْفَاطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن أحمد بن عبدان

Hadith 4822

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4823

4823 - أنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن لي زوجا و لي ضرة و إني أتشبع من زوجي أقول : أعطاني كذا و كساني و هو كذب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور أخرجه مسلم في الصحيح من حديث وكيع و عبدة بن سليمان عن هشام هكذا و أخرجه من حديث عبدة و أبي أسامة و أبي معاوية عن هشام عن امرأته فاطمة عن أسماء

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس اسفاطی نے ان کو ابوالولید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو عبداللہ بن عامر کے غلام نے ان کو عبداللہ بن عامر نے یعنی ابن ربیعہ نے وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے جب کہ میں چھوٹا بچہ تھا میں کھیلنے جانے لگا تو میری امی نے آواز دی میرے پاس آؤ میں کچھ دوں گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس کو کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے بہر حال اگر تم کچھ بھی دینے کا ارادہ نہ کرتیں تو تیرے خلاف جھوٹ بولنا لکھ دیا جاتا۔ اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن ایوب نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو زیاد مولیٰ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے۔

عائشة أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4823

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4824

4824 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر ببغداد أنا أحمد بن سلمان نا بشر بن موسى نا الحميدي نا سفيان أنا هشام عن امراته فاطمة بنت المنذر أنه سمعها تحدث عن جدتها أسماء : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : المتشبع بما لم ينل كلابس ثوبي زور قال سفيان : يرى الناس عليه ثوبين يظنون أنهما له و ليسا له هو متشبع بما ليس له كذلك المتشبع بمالم ينل و قوله : لم ينل لم يعطه و قال الحميدي و من يسكن الصفراء يعظم طحاله و يغبط بما في بطنه و هو جائع الصفراء مكان ههنا نحو الروحا

ان کو خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عائشہ نے کہ ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بولی کہ یا رسول اللہ میرا شوہر بھی ہے اور میری سوکن بھی ہے۔ چنانچہ میں اپنے شوہر سے تکلیف شکم سیری ظاہر کرتی ہوں۔ میں کہتی ہوں کہ اس نے مجھے یہ دیا ہے وہ دیا ہے مجھے یہ کپڑا پہنایا ہے۔حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ زبردستی بڑ مارنے والا اس چیز کے ساتھ جو اس کو نہ ملی ہو اس شخص کی مثل ہے جس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن رکھے ہوں۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث وکیع سے اور عبدہ بن سلیمان نے ان کو ہشام نے اسی طرح۔اور اس کو نقل کیا ہے حدیث عبدہ سے اور ابوسامہ سے اور ابومعاویہ سے ہشام سے اس نے اپنی عورت فاطمہ بنت منذر سے کہ اس نے سنی تھی وہ حدیث بیان کرتی ہے اپنی دادی اسماء سے کہ رسول اللہ نے فرمایا، شکم سیری کی بڑھا دینے والا اس چیز کے ساتھ جو اس کو کسی نے عطا نہ کی ہو اس کی مثل ہے جیسے کوئی جھوٹ کا لباس پہن لے۔ سفیان نے کہا کہ لوگ دیکھیں کہ فلاں پر دو کپڑے ہیں۔لوگ یہ گمان کر یں کہ یہ دو کپڑے اسی کے ہیں۔حالانکہ وہ دونوں اس کے نہ ہوں تو وہ شخص متشبع ہوتا ہے بڑھا رہتا ہے اس چیز کے لئے جو اس کی نہیں ہے اور اسی طرح وہ بڑ مارنے والا ہوتا ہے جس کو کسی نے دیا نہ ہو اور وہ یہی ظاہر کرے۔ اس کا یہ قول لم ینل کا معنی ہے کہ اس کو کسی نے نہ دیا ہو۔ اور کہا حمیدی نے کہ جس شخص کی صفرا ختم ہو جائے اس کی تلی بڑھ جاتی ہے اور اس بڑھ جانے کی وجہ سے وہ یہ سمجھتا جاتا ہے کہ پیٹ بھرا ہوا ہے حالانکہ وہ بھوکا ہوتا ہے صفرا اس جگہ پر مثل روحاء کے ہے۔

جدتها أسماء ← امراته فاطمة بنت المنذر أنه سمعها تحدث ← هِشَامٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر ببغداد

Hadith 4824

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4825

4825 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا عبد الله الزبير بن عبد الواحد حدثني أحمد بن علي المدائني نا إسحاق بن إبراهيم الكباش حدثني أسيد بن سعيد حدثني الشافعي قال : قال عمي محمد بن علي قال لنا شيخ : من أظهر شكرك بما لم تأته إليه فاحذر أن يكفر نعمتك فيما أتيت إليه

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو عبداللہ زبیر بن عبد الواحد نے ان کو احمد بن علی مدائنی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم کباش نے ان کو اسید بن سعید نے ان کو شافعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا میرے چچا محمد بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ہم سے شیخ نے جو شخص تیرا شکر کرے اس پر جو تم نے اس کو نہ دیا ہو تو تم اس بات سے ڈرو کہ وہ تمہاری نعمت کی ناشکری کر دے جب تم اس کو عطا کرو۔

عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ← الشَّافِعِیُّ ← أسيد بن سعيد ← إسحاق بن إبراهيم الكباش ← أحمد بن علي المدائني ← عبد الله الزبير بن عبد الواحد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Hadith 4825

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4826

4826 - حدثنا أبو الحسين بن محمد بن الحسين بن داود العلوي نا أبو حامد بن الشرقي نا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم نا يحيى بن سعيد القطان عن شعبة أخبرني منصور عن ربعي بن حراش عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تكذبوا علي فإنه من كذب علي يلج النار أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسین بن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابوحامد بن شرقی نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی منصور نے ان کو ربعی بن حراش نے ان کو علی بن ابوطالب نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر جھوٹ نہ بولا کرو کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ بولے گا وہ ختم ہو جائے گا۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں شعبہ کی حدیث۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← أبو الحسين بن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Hadith 4826

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4827

4827 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمرو بن السماك نا عبد الرحمن بن محمد الحارثي نا يحيى بن سعيد عن سعيد بن عبيد قال : سمعت علي بن ربيعة قال : سمعت المغيرة بن شعبة خرج يوما فرقي المنبر فحمد الله و أثنى عليه فقال : ما بال هذا النوح في الإسلام و كان مات رجل من الأنصار فنيح عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن كذبا علي ليس ككذب على أحد فمن كذب علي متعمدا فليتبوء مقعده من النار و سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من نيح عليه يعذب بما نيح عليه مخرج من الصحيحين من حديث سعيد بن عبيد و قد مضى الكلام في النوح في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمر بن سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد حارثی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن ربیعہ سے انہوں نے سنا مغیرہ بن شعبہ سے وہ ایک دن گھر سے نکلے اور منبر پر براجمان ہوئے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فرمایا کہ کیا حالت ہے اس نوحے کی بین کی اسلام کے اندر حالانکہ انصاریوں میں سے ایک آدمی کا انتقال ہوگیا تھا تو اس پر نوحہ کیا گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے۔ مجھ پر جھوٹ بولنا اس طرح نہیں ہے جیسے تم میں سے کسی کا کسی پر جھوٹ بولنا پس جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا جان بوجھ کر اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور میں نے رسول اللہ سے سنا فرماتے تھے۔ جس پر نوحہ کیا جائے اس کو نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔

المغيرة بن شعبة خرج يوما فرقي المنبر فحمد الله و أثنى عليه ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4827

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4828

4828 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان نا محمد بن أبي بكر المقدمي نا يحيى يعني ابن سعيد عن عوف نا رجاء عن سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم في رؤياه قال : فانطلقنا فأتينا على رجل مستلق لقفاه و إذا آخر قائم عليه بكلوب من حديد و إذا هو يأتي أحد شقي وجهه فيشرشر شدقه إلى قفاه و منخره إلى قفاه و عينه إلى قفاه قال : ثم يتجول إلى الجانب الآخر فيفعل به مثل ما فعل بالجانب الأول فما يفرغ من ذلك الجانب حتى يصح الأول كما كان ثم يعود فيفعل كما كان فعل به في المرة الأولى قال : قلت سبحان الله ما هذان قالا : انطلق فذكر الحديث ثم قال في التفسير فأما الرجل الذي أتيت عليه يشرشر شدقه إلى قفاه و عينه إلى قفاه و منخراه إلى قفاه فإنه الرجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الآفاق أخرجه البخاري في الصحيح من حديث عوف

ہمیں خبر دی ابوعمر ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن ابن سفیان نے ان کو محمد بن بکر مقدمی نے ان کو یحییٰ نے یعنی ابن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابورجآء نے ان کو سمرہ بن جندب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے خواب کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ (اس نے خواب دیکھا) ہم دو آدمی چلے جا رہے ہیں اتنے ہم ایک ایسے آدمی کے اوپر جا پہنچتے ہیں جو کہ چت لیٹا ہوا ہے اور دوسرا آدمی لوہے کا کدال یا کونڈی سنبھالے ہوئے ہے وہ لیٹنے والے کے چہرے کی ایک طرف سے آتا ہے اور اس اوزار کو اس کے ایک طرف کی باچھ میں ڈال کر کھینچتا ہے جس کے ساتھ وہ اس کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے۔ پھر اس کے ایک نتھنے کو گدی تک چیر دیتا ہے پھر آنکھ گدی تک چیر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوسری جانب آ جاتا ہے اور دوسری باچھ کے ساتھ اور نتھنے کے ساتھ اور آنکھ کے ساتھ بھی وہی حشر کرتا ہے جو اس نے پہلے کے ساتھ کیا تھا اتنے میں پہلا حصہ درست ہو چکا ہوتا ہے پھر وہ اس پر آ جاتا ہے اور اس کے ساتھ بھی وہی پہلے والا عمل دہراتا ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ دونوں نے کہا کہ آپ چلے۔ آپ نے حدیث ذکر کی اور اس کی تعبیر میں فرمایا کہ بہر حال وہ آدمی جس کے کلے ے جا رہے تھے اور ناک اور آنکھیں گدی تک وہ انسان تھا جو صبح کو اپنے گھر سے نکلتا ہے اور جھوٹ بولنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹ تمام اطراف میں پھیل جاتا ہے۔ بخاری نے اس کو نقل کیا حدیث عوف سے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← رَجَاءٍ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Hadith 4828

chevron_left Previous
12345…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood