شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4817
4817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن ابن أبي مليكة أو غيره عن عائشة : فذكره بالشك في إسناده هكذا رواه معمر و رواه محمد بن أبي بكير عن أيوب عن إبراهيم بن ميسرة عن عائشة كان أبغض الخلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الكذب قال البخاري هو مرسل يعني بين إبراهيم بن ميسرة و عائشة و لا يصح حديث ابن أبي مليكة قال البخاري : ما أعجب حديث معمر عن غير الزهري فإنه لا يكاد يوجد فيه حديث صحيح
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم دبری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابن ابوملیکہ نے یا اس کے سوا کسی اور نے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے راوی نے اس کوشک کے ساتھ ذکر کیا ہے اس کی اسناد میں اسی طرح اس کو روایت کیا ہے معمر نے۔ اور اس کو روایت کیا ہے محمد بن ابوبکیر نے ان کو ایوب نے ان کو ابراہیم بن میسرہ نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ ساری مخلوق سے زیادہ ناپسند حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ تھا۔ بخاری نے کہا کہ یہ حدیث مرسل ہے۔ یعنی ابراہیم بن مسیرہ اور سیدہ عائشہ کے درمیان۔ اور حدیث ابن ابی ملیکہ صحیح نہیں ہے۔ بخاری نے کہا ہے کہ غیر زہری سے معمر کی حدیث کتنی عجیب ہے۔ بے شک حال یہ ہے کہ اس میں حدیث صحیح ہوتی ہی نہیں۔
اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← أَيُّوبَ، ← عائشة فذكره بالشك في إسناده هكذا رواه معمر و رواه محمد بن أبي بكير ← ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَوْ غَيْرِهِ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Hadith 4817
