Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5201

5201 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن غالب بن حرب ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن جابر الجعفي عن الشعبي عن عبد الله بن الحارث قال : دخل عمر بن الخطاب رضي الله عنه على النبي صلى الله عليه و سلم بكتاب فيه مواضع من التوراة فقال : هذه كتب أصبتها مع رجل من أهل الكتاب أعرضها عليك فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم تغيرا شديدا لم أر مثله قط فقال عبد الله بن الحارث لعمر أما ترى وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر : رضيت بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد نبيا فسرى عن النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو نزل موسى فاتبعتموه و تركتموني لضللتم أنا حظكم من النبين و أنتم حظي من الأمم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن غالب بن حرب نے ان کو ابوحذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو جابر جعفی نے ان کو شعبی نے ان کو عبداللہ بن حارث نے وہ کہتے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم کے پاس پہنچے ایک تحریر لے کر جس میں تورات کے بعض مقام لکھے ہوئے تھے۔ عرض کیا کہ یہ چند تحریریں ہیں جو مجھے اہل کتاب کے ایک آدمی کے ساتھ ملی ہیں میں ان کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں (یہ سنتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے سے بدل گیا بڑے شدید طریقے سے جو کہ میں نے ایسا غصہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔عبداللہ بن حارث نے حضرت عمر سے کہا کہ کیا آپ رسول اللہ کا چہرہ نہیں دیکھ رہے۔ لہذا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں اورا سلام کے دین ہونے پر راضی ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوں لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھندا ہوا تو ارشاد فرمایا۔ اگر موسیٰ علیہ السلام اتر آئے اور تم لوگ اس کی اتباع کرنے لگ جاؤ اور مجھے چھوڑ دو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے میں نبیوں میں سے (آخری ہوں اور امتوں میں سے آخری ہوں) نبیوں میں سے تمہارے حصے کا میں ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصے کے ہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5201

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5202

5202 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الزاق عن معمر عن أيوب عن أبي قلابة : أن عمر بن الخطاب مر برجل يقرأ كتابا فاستمعه ساعة فاستحسنه فقال للرجل : اكتب لي من هذا الكتاب قال : نعم فاشترى أديما فهيأه ثم جابه إليه فنسخ له في ظهره و بطنه ثم أتى به النبي صلى الله عليه و سلم فجعل يقرأه عليه و جعل وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم يتلون فضرب رجل من الأنصار بيده الكتاب و قال : ثكلتك أمك يا ابن الخطاب ألا ترى وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم منذ اليوم و أنت تقرأ عليه هذا الكتاب فقال النبي صلى الله عليه و سلم عند ذلك : إنما بعثت فاتحا و خاتما و أعطيت جوامع الكلم و فواتحه و اختصر لي الحديث اختصارا فلا يهلكنكم المتهوكون

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابوقلابہ نے کہ عمر بن خطاب ایک آدمی کے پاس سے گذرے وہ کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔تھوڑی دیر وہ اس کو سنتے رہے انہوں نے اس کو اچھا سمجھا اور اس آدمی سے کہا میرے لئے بھی اس تحریر میں سے لکھ دو اس نے کہا کہ اچھا۔ لہذا عمر نے ایک چمڑا خرید کیا اور لکھنے کے لئے صاف کیا جو اس کے حوالے کیا اس نے چمڑے کی دونوں جانب لکھ دیا اس کے بعد عمر اس کو لے کر نبی کریم کے پاس لے کر آگئے۔ اور اس کو حضور کے سامنے پڑھنے لگے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا انصار کے ایک آدمی نے اس تحریر پر ہاتھ مارا یعنی ہاتھ مار کر چھین لی اور کہنے لگے تیری ماں تجھے گم پائے غصہ سے اے عمر ابن خطاب کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ نہیں دیکھ رہے اور ان پر یہ تحریر پڑھے جا رہے ہو اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سوائے اس کے نہیں کہ میں فاتح اور خاتم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میں جامع کلمات دیا گیا ہوں اور سورتوں کے آغاز دیا گیا ہوں۔ اور میرے لئے بات مختصر کر دی گئی ہے انتہائی اختصار۔ نہ ہلاک کر دیں تم کو حیران پریشان لوگ۔ (یعنی دین میں حیران و پریشان غیر مطمئن)۔

أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عبد الزاق، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5202

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5203

5203 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الإمام أبو بكر أحمد بن يوسف الضبعي أنا محمد بن أحمد بن هارون العودي ثنا الشاذكوني ثنا يوسف بن خالد ثنا أبو النصر بن عبد الله أنه سمع خلاد بن السائب يحدث به عن عمر بن الخطاب قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن تعليم التوراة قال : لا تتعلمها و أمن بها و تعلموا ما أنزل إليكم و آمنوا به يوسف بن خالد غيره أوثق منه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو امام ابوبکر احمد بن یوسف ضبعی نے ان کو محمد بن احمد بن ہارون نے عودی نے ان کو شاذکونی نے ان کو یوسف بن خالد نے ان کو ابوالنصر بن عبداللہ نے انہوں نے سنا خلاد بن سائب سے وہ اس کو حدیث بیان کرتے ہیں عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تورات کی تعلیم کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ تم اس پر ایمان تو لے آؤ مگر اس کی تعلیم حاصل نہ کرو تم اس کتاب کی تعلیم حاصل کرو جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے اور اس کے ساتھ ایمان بھی لاؤ۔ یوسف بن خالد کے سوا دیگر راوی اس سے زیادہ پکا راوی ہے۔

تعليم التوراة ← سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بِهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← أبو النصر بن عبد الله أنه ← يوسف بن خالد ← الشَّاذَكُونِيُّ، ← محمد بن أحمد بن هارون العودي، ← الإمام أبو بكر أحمد بن يوسف الضبعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5203

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5204

5204 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري ح و أخبرنا عبد الله أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا علي بن محمد بن عيسى ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله أن عبد الله بن عباس قال : يا معشر المسلمين كيف تسئلون أهل الكتاب عن شيء و كتابكم الذي أنزل الله على رسول أحدث الأخبار بالله تعرفونه محضا لم تشب و قد حدثكم الله أن أهل الكتاب قد بلوا من كتب الله و غيروا و كتبوا بأيديهم الكتب و قالوا هذا من عند الله ليشتروا به ثمنا قليلا أفلا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مسألتهم فلا و الله ما رأينا منهم قط يسألكم عن الذي أنزل عليكم لفظ حديث شعيب و رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی صفانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی عبداللہ نے ان کو خبر دی ابومحمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابوالیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے زہری سے ان کو خبر دی عبداللہ بن عبداللہ نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا اے مسلمانوں کی جماعتیں تم لوگ اہل کتاب سے کس شئی کے بارے میں پوچھتے ہو۔ حالانکہ تمہاری کتاب جو اللہ نے رسول کے اوپر نازل کی ہے تازہ ترین ہے اللہ کے بارے میں تم اس کو خالص طریقہ پر جاتے ہو۔ وہ کتاب پرانی نہیں ہوئی ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ تمہیں بتا چکے ہیں کہ اہل کتاب نے کتاب اللہ میں تبدیلی کر دی تھی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ لی تھی۔ اور یہ کہنے لگ گئے تھے کہ یہی اللہ کی طرف سے ہے یہ سب کچھ انہوں نے حقیر و ذلیل قیمت اور پیسہ کھانے کے لئے کیا تھا۔ کیا اللہ نے تمہیں منع نہیں کیا ان سے پوچھنے سے اس علم کے ذریعے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔اللہ کی قسم ہم نے اہل کتاب کے کسی آدمی کو کبھی بھی تم لوگوں سے کوئی مسئلہ پوچھتے نہیں دیکھا جو تمہارے اوپر نازل ہوا ہے۔ یہ شعیب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ اور اس کو بخاری نے صحیح میں ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← و، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5204

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5205

5205 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن الزهري : أن حفصة جاءت إلى النبي صلى الله عليه و سلم بكتاب من قصص يوسف في كتف فجعلت تقرأ عليه و النبي صلى الله عليه و سلم يتلون وجهه فقال : و الذي نفسي بيده لو أتاكم يوسف و أنا بينكم فاتبعتموه و تركتموني لضللتم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ صفانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو حفصہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تحریر لکھی ہوئی لائی تھیں حضرت یوسف کے قصوں کے بارے میں، بکری کے شانے کی ہڈی پر لکھی ہوئی تھی لا کر ان کے سامنے پڑھنے لگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے بدل گیا اور فرمانے لگے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تمہارے پاس خود یوسف علیہ السلام آ جائے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم لوگ اس کی اتباع کر لو اور مجھے چھوڑ دو تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5205

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5206

5206 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : أخبرني ابن أبي نملة الأنصاري أن أبا نملة أخبره أنه بينا هو جالس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءه رجل من اليهود و مر بجنازة فقال : يا محمد هل تكلم هذه الجنازة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الله أعلم فقال اليهود : أنها تتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما حدثكم فلا تصدقوهم و لا تكذبوهم و قولوا آمنا بالله و كتبه و رسله فإن كان باطلا لم تصدقوه و إن كان حقا لم تكذبوه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابن ابونملہ نے انصاری نے ان کو ابونملہ نے اس کو خبر دی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک آپ کے پاس ایک یہودی آ گیا اور وہاں سے ایک جنازہ گذر رہا تھا۔ یہودی کہنے لگا اے محمد کیا آپ اس جنازے سے کلام کر کے دکھائیں گے۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے۔ یہودی نے کہا کہ یہ کلام کرے گا رسول اللہ نے فرمایا کہ یہودی جو کچھ تمہیں بیان کریں نہ تو تم اس کی تصدیق کیا کرو اور نہ ہی اس کی تکذیب کیا کرو۔ بلکہ یوں کہو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اگر ان کی خبر جھوٹی ہوئی تو تم جھوٹ کی تصدیق نہیں کرو گے اور اگر وہ بات سچ ہوئی تو تم اس کی تکذیب سے بچ جاؤ گے۔

ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5206

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5207

5207 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن المثنى ثنا عثمان بن عمر بن المبارك ثنا يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : كان أهل الكتاب يقرؤن التوراة بالعبرانية فيفسرونها بالعربية لأهل الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصدقوا أهل الكتاب و لا تكذبوهم و قولوا آمنا بالله و ما أنزل و ما أنزل إليكم و إلهنا و إلهكم واحد و نحن له مسلمون رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن بشار عن عثمان بن عمر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوعبداللہ ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن مثنی نے ان کو عثمان بن عمر بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب تورات کو پڑھتے تھے عبرانی زبان میں اور اس کی تشریح اور تفسیر کرتے تھے عربی زبان میں اہل اسلام کے لئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ تو تم اہل کتاب کو سچا مانا کرو نہ ہی ان کو جھوٹا قرار دیا کرو۔ بلکہ کہا کرو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو تمہاری طرف اتاری گئی۔ اور ہمارا معبود اورتمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں محمد بن بشار سے اس نے عثمان بن عمر سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عثمان بن عمر بن المبارك ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5207

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5208

5208 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة أنا عطاء بن السائب عن عبد الله بن حبيب : أن ابن عمر قال لمملوكه : أفيك خير حتى أعتقك قال : ألا أخبرك بمثل ضربه أو قاله كسرى فقال له : ألا أراني أريد أن أعتقك و تخبرني عن كسرى و الله لا أعتقك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو عبداللہ بن حبیب نے یہ کہ حضرت ابن عمر نے اپنے غلام سے فرمایا۔ کیا تیرے اندر کوئی خیر و بھلائی ہے تاکہ میں اس کی بنا پر تجھے آزاد کر دوں۔ غلام نے کہا کیا میں آپ کو بتا دوں۔اس کی مثل کہا گیا ہے۔ اس کو ابن عمر نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھ رہے مجھے کہ میں آزاد کرنا چاہتا ہوں اور تم مجھے خبر دے رہے ہو کسریٰ کے بارے میں اللہ کی قسم میں تجھے آزاد نہیں کروں گا۔

كسرى و الله لا أعتقك ← له ألا أراني أريد أن أعتقك و تخبرني ← ألا أخبرك بمثل ضربه أو قاله كسرى ← لمملوكه أفيك خير حتى أعتقك ← عبد الله بن حبيب أن ابن عمر ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5208

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المنطق و ما فيه من الأدب · حديث 5209

5209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا يحيى بن إبراهيم ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يقولن أحدكم خبثت نفسي و ليقل لقست نفسي رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر و حرملة عن ابن وهب و أخرجه البخاري من حديث ابن المبارك عن يونس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوزکریا یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی ایک تم میں سے یہ نہ کہا کرے کہ میرا نفس ذلیل اور کمینہ ہو گیا ہے بلکہ یوں کہے کہ میرا نفس سخت اور مسخر ہو گیا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوالطاہر سے اور حرملہ سے اس نے ابن وہب سے اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابن مبارک کی حدیث سے اس نے یونس سے۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا يحيى بن إبراهيم

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Chapter on memorizing logic and literature · Hadith 5209

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المنطق و ما فيه من الأدب · حديث 5210

5210 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن محمد ثنا محمد بن بشر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يقولن أحدكم خبثت نفسي و ليقل لقست نفسي

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو محمد بن بشر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہرگز ایک تمہارا یہ نہ کہے کہ میرا نفس حقیر و ذلیل ہو گیا ہے۔ بلکہ اسے چاہئے کہ یوں کہے میرا نفس مسخر اور سخت ہو گیا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Chapter on memorizing logic and literature · Hadith 5210

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المنطق و ما فيه من الأدب · حديث 5211

5211 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف ثنا سفيان أن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يقولن أحدكم خبثت نفسي و ليقل لقست نفسي رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن يوسف الفريابي و أخرجه مسلم من حديث هشام

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو ہشام بن غروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خبردار ہرگز تمہارا ایک یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہو گیا ہے اسے چاہئے کہ یوں کہے البتہ میرا دل سخت ہو گیا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں محمد بن یوسف فریابی سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث ہشام سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← سفيان أن هشام بن عروة ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Chapter on memorizing logic and literature · Hadith 5211

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في حفظ المنطق و ما فيه من الأدب · حديث 5212

5212 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد صاحب ثعلب قال : أخبرني ثعلب قال : و أخبرني أبو نصر عن الأصمعي قال العرب تقول : لقست نفسي أي عثت و منه النهي عنه لا يقولن أحدكم عثت نفسي و لكن يقول : لقست نفسي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوعمر محمد بن عبدالواحد زاہد صاحب ثعلب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ثعلب نے اس نے کہا کہ مجھے خبر دی ابونصر نے اصمعی نے کہ عرب کہتے ہیں کہ۔لقست نفسی یعنی عثت نفسی۔ میرا نفس فسادی ہو گیا ہے۔ اور اس سے نہی بھی اسی قبیل سے ہے۔ جس کے الفاظ بھی یہی ہو کہ تم میں سے کوئی ایک ہرگز نہ کہے کہ عثت نفسی کہ میرا نفس مفبد ہو گیا ہے بلکہ یہ کہے کہ میرا دل سخت ہو گیا ہے۔

ثعلب. ← أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد صاحب ثعلب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Chapter on memorizing logic and literature · Hadith 5212

chevron_left Previous
1…353637…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood