Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5189

5189 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن حيان القاضي ثنا محمد بن أبي إسماعيل بن مهران ثنا المسيب بن واضح قال : قال عبد الله بن المبارك : كم من مركوب خير من راكبه و أطوع لله و أكثر ذكرا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن حیان قاضی نے ان کو محمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کو مسیّب بن واضع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارک نے کہا۔ کتنی سواریاں ہیں جو اپنے سوار سے اچھی ہیں اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت شعار ہیں ذکر اللہ زیادہ کرتی ہیں۔

الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← محمد بن أبي إسماعيل بن مهران ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5189

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5190

5190 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة ثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن أحمد التنيسي قدم علينا املاء ثنا الحسين بن عنبر الوشاء ثنا شريح بن يونس ثنا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه عن صدقة بن بشار قال : كان داود عليه السلام في محرابه أو نظر إلى دودة صغيرة فتعجب من خلقها و انطقها الله تعالى فقالت يا داود أنا على صغري أطوع منك على كبرك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن فضل بن نضیف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوبکر احمد بن ابراہیم بن احمد تنیسی نے بطور املاء کے جب وہ ہمارے ہاں آئے تھے۔ ان کو حسین بن عنبر و شآء نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابوداؤد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صدقہ بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں تھے کہ وہاں انہوں نے ایک چھوٹا سا کیڑا دیکھا جس کی تخلیق کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا چنانچہ اللہ نے اس کو بولنے کی طاقت عطا کی اور وہ بولا اے داؤد کہ میں اپنے اس سفر اور چھوٹے ہونے کے باوجود اور تیرے بڑے ہونے کے باوجود میں تجھ سے زیادہ اطاعت شعار ہوں۔

صدقة بن بشار ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَنْبَرٍ الْوَشَّاءُ، ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن أحمد التنيسي قدم علينا ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5190

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5191

5191 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب : عن عبد الوهاب بن عطاء في قول الله عز و جل : { إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات والهدى } قال : سمعت الكلبي يقول : هم اليهود قال : و من لعن شيئا ليس هو بأهل رجعت اللعنة على يهودي فذلك قوله تعالى : { و يلعنهم اللاعنون } قال الشيخ أحمد : و هذا إن كان قد أخذه من ثبت ففيه رخصة لمن سبق لسانه بلعن من ليس له بأهل من غير قصد فالله يغفر لنا خطايانا برحمته

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے اللہ کے اس قول کے بارے میں۔ ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينات والهدىٰ. بے شک جو لوگ چھپاتے ان واضح دلائل کو اور ہدایت کو اللہ نے جو اتاری ہے۔ ابن عطاء نے کہا کہ میں نے کلبی سے سنا وہ کہتے تھے کہ اس سے مراد یہود ہیں۔ اور کہا کہ جو شخص کسی شئی کو لعنت کرتا ہے جو شئی لعنت کا اہل نہیں ہوئی تو وہ لعنت کسی یہودی کی طرف رجوع کرتی ہے۔ یہی مراد ہے اس جملے سے کہ: ويلعنهم اللاعنون۔ اور لعنت کرتے ہیں ان کو لعنت کرنے والے۔ شیخ احمد نے کہا ہے (یہ جو کچھ مذکور ہوا) اگرچہ اس کو لیا ہے اس نے جس نے اس کو ثابت کیا ہے۔ تا ہم اس بارے اس آدمی کے لئے رخصت ہے جس کی زبان سے سبقت لسانی ہو جائے لعنت کے ساتھ غیر ارادی طور پر کسی ایسے پر جو اس کا اہل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا ہمارے لئے ہماری خطائیں اپنی رحمت کے ساتھ۔

هم اليهود ← الكلبي ← عبد الوهاب بن عطاء في قول الله عز و جل ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5191

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5192

5192 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن بن محبور الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون أنا أحمد بن محمد بن نصر اللباد أنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان قال : و أخبرني الكلبي عن أبي صالح عن ابن مسعود يعني في هذه الآية بوجه آخر قال : قال عبد الله بن مسعود : هو الرجل يلعن صاحبه في أمر يرى أنه قد أتى فيلعنه عليه قال : فترتفع اللعنة في السماء سريحا يعني سريعا فلا تجد صاحبها التي قبلت له أهلا فترجع إلى الذي تكلم بها فلا تجده لها أهلا فتنطلق فتقع على اليهود فهو قوله : { و يلعنهم اللاعنون } فمن تاب منهم ارتفعت عنهم اللعنة و كانت فيمن بقي من اليهود و هو قوله : { إلا الذين تابوا } الآية

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن بن محبور دھان نے ان کو حسین بن محمد بن ہارون نے ان کو احمد بن محمد بن نصر لباد نے ان کو یوسف بن بلال نے ان کو محمد بن مروان نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے کلبی نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابن مسعود نے یعنی اس آیت میں دوسری وجہ کے ساتھ وہ کہتے ہیں۔کہا عبداللہ بن مسعود نے وہ آدمی ہے جو اپنے ساتھی پر لعنت کرتا ہے کسی ایسے امر میں جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ اس نے فلاں چیز کا ارتکاب کیا ہے پھر وہ ان کو لعنت کرتا ہے لہذا وہ لعنت آسمان کی طرف جلدی جلدی بلند ہوتی ہے مگر لعنت اس کو نہیں پاسکتی جس کی طرف متوجہ کی گئی تھی لہذا اس کی طرف لوٹتی ہے جس نے اس کو بولا تھا اگر اس کو بھی اہل نہیں پاتی تو وہ چلی جاتی ہے اور وہ یہودیوں پر پڑتی ہے یہی مراد ہے اس آیت سے کہ: ويلعنهم اللاعنون۔ اور لعنت کرتے ہیں ان کو لعنت کرنے والے۔ جو شخص ان میں سے توبہ کر لیتا ہے تو لعنت ان سے اٹھ جاتی ہے اور ان میں باقی رہتی ہے جو باقی ہیں یہود سے یہی مراد ہے اس آیت سے الا الذين تابوا۔ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی الخ۔

ابن مسعود يعني في هذه الآية بوجه آخر ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← و، ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أبو عبد الرحمن بن محبور الدهان، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5192

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5193

5193 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي املاء و أبو طاهر الفقيه قراءة أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أبو الأزهر أحمد بن الأزهر ثنا روح بن عبادة ثنا شعبة ثنا عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال : كانت قريش تحلف بآبائها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان حالفا فلا يحلف إلا بالله أخرجاه في الصحيح من حديث عبد الله بن دينار

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے بطور املاء کے اور ابوطاہر فقیہ نے بطور قرآت کے ان کو خبر دی ابوبکر محمد بن حسن قطان نے ان کو ابوالازہر احمد بن ازھر نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو شعبہ نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ۔ قریش اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھاتے تھے۔لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قسم اٹھانے والا ہے نہ قسم کھائے مگر اللہ تعالیٰ کی۔ بخاری مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن دینار کی حدیث سے۔

كانت قريش تحلف بآبائها ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي املاء و أبو طاهر الفقيه قراءة

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5193

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5194

5194 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محبور الدهان أنا الحسين بن محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي عن أبي صالح : في قوله و من الناس من يشتري لهو الحديث يعني باطل الحديث بالقرآن قال ابن عباس : و هو النضر بن الحارث بن علقمة يشتري أحاديث الأعاجم و صنيعهم في دهرهم فرواه من حديث الروم و فارس و رستم و اسفنديار و القرون الماضية و كان يكتب الكتب من الحيرة و الشام و يكذب بالقرآن فأعرضت عنه فلم يؤمن به

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن محمد بن عبدالرحمٰن محبور دھان نے ان کو حسین بن محمد بن ہارون نے ان کو احمد بن محمد بن نضر نے ان کو یوسف بن بلال نے ان کو محمد بن مروان نے کلبی سے اس نے ابوصالح سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں۔ ومن الناس من يشترى لهو الحديث ليضل عن سبيل اللّٰه۔ یعنی جو لوگ لھو الحدیث خریدتے ہیں۔ اس سے مراد ہے باطل حدیث جھوٹی بات لاتے ہیں قرآن کے بدلے میں اور قرآن کی جگہ۔ (جیسے ہمارے آج کے دور کا حال ہے کہ لوگ قرآن کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور جھوٹی روایات جھوٹے قصے کہانیاں جھوٹی اور فرضی حکایتیں بیان کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں) اور یوں لوگوں کے ایمان بھی اور جیبیں بھی صاف کر جاتے ہیں۔ اور قرآن سے بھی محروم کر دیتے ہیں اس مذکورہ باب کا اور اس کے تحت مندرجہ آیات اور احادیث کا تقاضا ہے ان تمام مصیبتوں سے مسلمان اپنی زبانوں کی حفاظت کریں اور جھوٹی کتابیں نہ پڑھیں بلکہ قرآن مجید اور صحیح اور مستند احادیث کے مجموعوں کو پڑھیں۔ اے اللہ ہم سب کو ہدایات پر استقامت عطا فرما۔ (مترجم) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ نصر بن حارث بن علقمہ عجمیوں کی احادیث اور کہانیاں خرید کرتا تھا اور ان کے دور کے کارناموں کو پھر وہ ان کو حدیث روم و فارس۔ اور رستم و اسفند یار اور قرون گذشتہ سے روایت کرتا تھا، اور حیرہ اور شام کے بارے میں لکھتا، اور قرآن کی تکذیب کرتا اس طرح کی چیزوں سے منہ پھیر لینا چاہئے ان کو نہیں مانا چاہئے۔

الكلبي ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محبور الدهان

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5194

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5195

5195 - و بسط الحليمى رحمه الله تعالى الكلام في ذلك و احتج بما روي : عن النبي صلى الله عليه و سلم في أخبار كثيرة من النهي عن التشبه بالأعاجم و تكلم في بطلان ما يرويه بعض الجهال عن نبينا صلى الله عليه و سلم ولدت في زمن الملك العادل يعني أنو شروان و كان شيخنا أبو عبد الله الحافظ قد تكلم أيضا في بطلان هذا الحديث ثم رأى بعض الصالحين رسول الله صلى الله عليه و سلم في المنام فحكى له ما قال أبو عبد الله : فصدقه في تكذيب هذا الحديث و ابطاله و قال : ما قلته قط قال الحليمي رحمه الله تعالى : و لو كان قاله لكان إطلاقه بذلك لتعريفه بالاسم الذي كان يدعي به لا بوصفه بالعدل و الشهادة له به لأن الفرس كانوا يسمون أنو شروان الملك العادل و بهذا يسمى و يعرف فيهم و العدل في الخليفة إنما هو في الحكم و لا حكم إلا الله عز و جل

شیخ حلیمی نے اس بارے میں بڑی تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان بہت سی احادیث سے استدلال کیا ہے جو عجمیوں کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے سے نہی کے بارے میں نبی کریم سے مروی ہیں۔ اور شیخ نے اس روایت کے باطل ہونے کے بارے میں بھی کلام کیا ہے جس کو بعض جاہل۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں عادل بادشاه نوشیرواں کے عہد میں پیدا ہوا تھا۔ اور ہمارے شیخ ابوعبداللہ حافظ نے بھی اس روایت کے باطل ہونے کی بابت کلام کیا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے۔ اس کے بعد بعض صالحین نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے سامنے ازراہ سوال وہ کلام بیان کیا جو کچھ ابوعبداللہ نے کہا تھا لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی اس حدیث کی تکذیب اور ابطال کے بارے میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ہرگز ایسی بات نہیں کہی تھی۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہوئی یہ اس کا اطلاق اس کے ساتھ اس کی پہچان اور تعریف کرنے کے لئے ہوتا اور وہ میرے نام کے ساتھ ہوتا جس کے ساتھ اس کو پکارا جاتا تھا اس کی صفت عدالت کے ساتھ اور شہادت عدل کے ساتھ کہیں ہوتا، ( جب کہ حدیث مذکور میں صرف ملک عادل کہا گیا ہے۔) اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ اہل فارس اس کو یوں موسوم کرتے تھے،نوشیروان ملک عادل۔ یہی اس کا نام رکھا گیا تھا اور اسی نام کے ساتھ اس کی ان میں پہچان تھی۔ حکمران اور خلیفہ میں عدل تو ہوتا ہے حکم اور فیصلے میں جب کہ حکم اور فیصلہ تو صرف اللہ کا ہے اور بس۔

و بسط الحليمى تعالى الكلام في ذلك و احتج بما روي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5195

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5196

5196 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال : أن قوما يحسبون أبا جاد و ينظرون في النجوم و لا أرى لمن فعل ذلك من خلاق

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ ایک قوم کے لوگ حساب کرتے تھے ابجد کا اور ستاروں میں نظر رکھتے تھے مگر میں (اسلام میں) اس شخص کا کوئی حصہ نہیں سمجھتا جو یہ کام کرتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5196

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5197

5197 - أخبرنا أبو سعد محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد البرتي ثنا مسلم ثنا الحارث يعني ابن عبيد ثنا عبد الله بن الأخنس عن الوليد بن عبد الله عن يوسف بن ماهك عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تعلم علما من النجوم تعلم شعبة من السحر

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ان کے ابوعبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد برقی نے ان کو مسلم نے ان کو حارثی نے یعنی ابن عبید نے ان کو عبداللہ بن احنس نے ان کو ولید بن عبداللہ نے ان کو یوسف بن ماھک نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جس نے علم سیکھا نجوم کا اس نے سحر کا ایک شعبہ سیکھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عبد الله بن الأخنس ← الحارث يعني ابن عبيد ← مُّسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعد محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5197

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5198

5198 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا الزعفراني يعني الحسن بن محمد ثنا عبد الملك بن عبد العزيز ثنا عقبة الأصم عن عطاء عن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن النظر في النجوم

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہہ نے ان کو ابوحامد بن بلال نے ان کو زعفرانی نے یعنی حسن بن محمد نے ان کو عبدالملک بن عبدالعزیر نے ان کو عقبہ بن اصم نے ان کو عطاء نے ان کو ابوہریرہ ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے منع فرمایا تھا ستاروں میں نظر رکھنے سے۔

النظرِ في النُّجومِ ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← عُقْبَةُ الْأَصَمُّ، ← عبد الملك بن عبد العزيز ← الزعفراني يعني الحسن بن محمد ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5198

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5199

5199 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن مهران الأصبهاني ثنا محمد بن الصباح ثنا إسماعيل بن عياش حدثني عمرو بن قيس السكوني قال : سمعت عبد الله بن عمرو بن العاص يقول : من اشراط الساعة أن يظهر القول و يخزن الفعل و من اشراط الساعة أن ترفع الأشرار و توضع الأخبار و إن من اشراط الساعة أن يقرأ المشاة على رؤوس الملأ لا يغير قيل يا أبا عبد الرحمن كيف بما جاء من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما جاءكم عن من تأمنونه على نفسه و دينه فخذوا به و عليكم بالقرآن فإنه عنه مسكوت و به تجزون و كفى به واعظا لمن عقل و قيل يا أبا عبد الرحمن فما المشاة قال : ما استكتب من غير كتاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوسعید بن ابوعمرو نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو احمد بن مہران اصفہانی نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عمرو بن قیس سکونی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے وہ کہتے ہیں کہ۔ قیامت کی شرائط میں سے ہے یہ بات کہ قول ظاہر کیا جائے گا اور فعل چھپایا جائے گا۔ اور قیامت کی شرائط میں سے ہے کہ برے لوگوں کی عزت کی جائے گی۔ اور اچھے لوگوں کی عزت کم کی جائے گی۔اور بے شک قیامت کی شرائط میں سے ہے کہ مشاۃ والے بڑے سردار ہوں گے۔ اس میں تبدیلی نہیں کی جائے گی کہا گیا کہ اے ابوعبدالرحمٰن ہم کیا کریں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حد یث آ جائے آپ نے فرمایا۔ جو بات تمہارے پاس اس شخص سے آئے جس کی ذات اور جس کے دین کے بارے میں تمہیں اطمینان ہے تو اس کی بات کو لے لو اور تم قرآن کو لازم پکڑو کیونکہ وہ مسکوت عنہ ہے یعنی اس کے بارے میں کوئی بحث کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے ذریعے تم جزا دئیے جاؤ گے، اور جو شخص عقل رکھتا ہے اس کے لئے قرآن نصیحت کرنے والا کافی ہے۔ اور کہا گیا اے ابوعبدالرحمٰن یہ مشاۃ کیا ہے؟ فرمایا کتاب اللہ کے علاوہ جو کچھ لکھا گیا ہے۔

«مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ» ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ السَّكُونِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5199

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5200

5200 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز قال أبو عبيد : سألت رجلا من أهل العلم بالكتب الأولى قد عرفها و قرأها عن المشاة فقال : إن الأحبار و الرهبان من بني إسرائيل بعد موسى وضعوا كتابا فيما بينهم على ما أرادوا بينهم من غير كتاب الله عز و جل فسموه المشاة كأنهم يعني أنهم أدخلوا فيه ما شاؤا و حرفوا فيه ما شاؤا على خلاف كتاب الله تبارك صلى الله عليه و سلم تعالى قال أبو عبيد : فبهذا عرفت تأويل حديث عبد الله بن عمرو أنه إنما كره الأخذ عن أهل الكتاب لذلك المعنى و قد كان عنده كتب وقعت يوم اليرموك فأظنه قال هذا لمعرفته بما فيها

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ابوعبید نے میں نے ایک اہل علم آدمی سے پہلی کتابوں کے بارے میں پوچھا جس نے ان کو پڑھا تھا اور ان کو جانتا تھا مشاۃ سے اس نے کہا کہ بے شک بنی اسرائیل کے احبار اور رھبان نے (مولویوں اور پیروں نے) موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک کتاب وضع کی تھی باہمی اتفاق سے اس بنیاد پر جو انہوں نے آپس میں طے کی تھی بغیر کتاب اللہ کے انہوں نے اس کا نام مشاۃ رکھا تھا گویا کہ انہوں نے اس میں اپنی مرضی کی ہر بات داخل کر دی تھی اور کتاب اللہ کے خلاف اپنی مرضی کی ہر تحریف کر دی تھی۔ ابوعبیداللہ نے کہا کہ اس گذشتہ روایت سے آپ نے حضرت عبداللہ بن عمرو والی حدیث کی تاویل اور مطلب سمجھ لیا ہوگا کہ انہوں نے مکرر سمجھانا پسند کیا اہل کتاب سے کوئی روایت لینے کو اس معنی کی وجہ سے۔ اور ابن عمرو کے پاس کئی کتابیں تھیں جو جنگ یرموک میں ان کو ہاتھ لگی تھی میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ کتب انہوں نے یہ جاننے کے لئے رکھی تھیں کہ تاکہ پتہ ہو کہ ان میں کیا کیا ہے۔

عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5200

chevron_left Previous
1…343536…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood