Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5165

5165 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي أنا يزيد بن هارون أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي برزة : أن جارية بينما هي على راحلة أو بعير عليها بعض متاع القوم بين جبلين فتضايق بها الجبل فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم عليها فلما أبصرته جعلت تقول : حل اللهم العنها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صاحب الجارية لا يصحبنا راحلة أو بعير عليها لعنة من الله كما قال أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن سليمان التيمي

ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابوعثمان نے ان کو ابوبرزہ نے کہ ایک لونڈی ایک اونٹ پر یا سواری پر سوار تھی۔ اس پر کچھ اور لوگوں کا سامان بھی تھا۔ دو پہاڑوں کے درمیان چل رہی تھی اچانک پہاڑ نے ان کو بھنیچ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف لائے جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگی کہ جو میں نے اللهم العنها۔ کی بددعا کی تھی (یعنی اے اللہ اس کو لعنت کر) وہی اتر پڑی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کون ہے اس لڑکی کا مالک۔ وہ سواری یا وہ اونٹ ہمارے ساتھ ہم سفر نہ رہے جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے۔ یا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے کئی طریقوں سے اس نے سلیمان تیمی سے۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5165

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5166

5166 - أخبرنا محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفرايني أنا أبو جعفر الحذاء أنا علي بن المديني ثنا جرير بن عبد الحميد عن ليث عن ابن عطية قال : كان عبد الله بن أبي الهذيل إذا لعن شاة لم يشرب من لبنها و إذا لعن دجاجة لم يأكل من بيضها

ہمیں خبر دی محمد بن ابوالمعروف نے ان کو ابوسہل اسفرائنی نے ان کو ابوجعفر حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو لیث نے ان کو ابن عطیہ نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ھذیل۔ اگر کسی بکری کو لعنت کر لیتے تھے تو اس کا دودھ نہیں پیتے تھے اور اگر مرغی کو لعنت کرتے تو اس کا انڈا نہیں کھاتے تھے۔

ابْنُ عَطِيَّةَ، ← لَيْثٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، ← أبو سهل الاسفرايني ← محمد بن أبي المعروف

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5166

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5167

5167 - و حدثنا علي ثنا حماد بن زيد عن عمرو بن مالك النكري قال : سمعت أبا الجوزاء يقول : ما لعنت شيئا قط و لا أكلت شيئا ملعونا قط و لا آذيت أحدا قط

ہمیں حدیث بیان کی علی نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عمرو بن مالک نکری نے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالجوزا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی شئی کو لعنت نہیں کی اور نہ ہی ملعون چیز کھائی ہے اور نہ ہی کبھی کسی کو اذیت دی ہے۔

أَبَا الْجَوْزَاءِ ← عمرو بن مالك النكري، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5167

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5168

5168 - حدثنا أبو حازم الحافظ أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير حدثني بكر بن مضر عن ابن الهاد عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إنه قال : يا معشر النساء تصدقن و لو من حليكن اكثرن الاستغفار فأني رأيتكن أكثر أهل النار فقالت امرأة منهن جزلة و ما لنا يا لنا يا رسول الله أكثر أهل النار فقال : تكثرن اللعن و تكفرن العشير و ما من ناقصات عقل و دين أغلب لذي لب منكن فقالت يا رسول الله و ما نقصان العقل و الدين قال شهادة امرأتين تعدل شهادة رجل فهذا نقصان العقل و تمكث الليالي لا تصلي و تفطر في رمضان فهذا نقصان الدين رواه مسلم في الصحيح عن أبي الطاهر عن ابن وهب عن بكر بن مضر

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوحازم حافظ نے ان کو ابوعمر اسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو ابوعبدالله محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے مکر بن مضر نے ان کو ابن ہاد نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آپ نے فرمایا۔ اے عورتوں کی جماعت تم لوگ صدقہ ضرور دو اگرچہ تمہارے زیور کا ہی کیوں نہ ہو۔ اور استغفار کی ضرور کثرت کرو میں نے تم لوگوں کو کثرت کے ساتھ جہنم میں دیکھا ہے۔ ان میں سے ایک عورت نے جو کہ ذرا مضبوط اور پکی عقل والی تھی پوچھا کہ یا رسول اللہ ہمیں کیا ہوا کیوں ہم جہنم میں زیادہ دیکھی گئی۔ آپ نے جواب دیا تم لوگ کثرت کے ساتھ لعنت کرتی ہو۔ اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی ناقص عقل اور ناقص دین والی جو صاحب عقل پر زیادہ غالب ہو تم سے۔اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ہمارے دین اور عقل کی ناقص (ادھورا) ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دو عورتوں کی شہادت برابر ہے ایک آدمی کی شہادت کے۔ یہ دلیل ہے اس کے عقل کے کم ہونے کی۔ عورت ٹھہری رہتی ہے کئی کئی راتیں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی رمضان کا روزہ رکھتی ہے یہ اس کے دین کی کمی ہے۔ اس کو روایت کیا مسلم نے صحیح میں ابوطاہر سے اس نے ابن وہب سے اس نے بکر بن مضر سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5168

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5169

5169 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب حدثني سليمان بن بلال و عبد العزيز بن محمد الدراوردي و مسلم الزنجي عن صالح بن كيسان : إن الديك صرخ مرة من عند النبي صلى الله عليه و سلم فسبه رجل من القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الديك فإنه يدعو إلى الصلاة هذا منقطع و اختلف فيه على صالح بن كيسان

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالعباس اصم نے بحر بن نضر نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے اور عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے ان کو مسلم زنجی نے ان کو صالح بن کیسان نے کہ مرغا چیخا نبی کریم کے پاس لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس کو گالی دے دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرغی کو گالی نہ دو کیونکہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ یہ روایت منقطع ہے اور اختلاف کیا گیا ہے صالح بن کیسان سے۔

سليمان بن بلال و عبد العزيز بن محمد الدراوردي و مسلم الزنجي ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5169

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5170

5170 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أبو عمرو و أحمد بن حازم ثنا سويد بن سليمان ثنا مسلم بن خالد ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن أحمد بن نصر ثنا صالح بن محمد ثنا مسلم عن صالح بن كيسان عن عون بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبيه عن أبيه مسعود : إن ديكا صرخ مرة و عند النبي صلى الله عليه و سلم ناس فقال رجل منهم : اللهم العنه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تلعنه أو لا تسبه فإنه يدعو إلى الصلاة و في حديث جناح عن أبيه عن جده : إن ديكا صاح عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال رجل

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر نے ان کو ابوجعفر بن رحیم نے ان کو ابوعمرو اور احمد بن حازم نے ان کو سوید بن سلیمان نے ان کو مسلم بن خالد نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن احمد بن نصر نے ان کو صالح بن محمد نے ان کو مسلم نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو عون بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومسعود نے ایک مرتبہ مرغے نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آواز لگائی اور حضور کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے ایک آدمی نے ان میں سے کہا اللہ اس کو لعنت کر لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کو لعنت نہ کرو یا فرمایا کہ تم اس کو گالی نہ دو یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ اور جناح کی حدیث میں ہے ان کے والد سے اس نے ان کے دادا سے۔ کہ بے شک نبی کریم کے پاس ایک مرغ چیخا تو ایک آدمی نے کہا۔ اے اللہ۔

أبيه مسعود ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللِّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُّسْلِمٍ ← صالح بن محمدٍ، ← محمد بن أحمد بن نصر، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبو عمرو و أحمد بن حازم ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5170

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5171

5171 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن صالح بن كيسان عن عبيد الله بن عتبة عن زيد بن خالد الجهني قال : لعن رجل ديكا عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تلعنه فإنه يدعو إلى الصلاة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو عبیداللہ بن عتبہ نے ان کو زید بن خالد جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مرغے کو لعنت دی تھی تو نبی کریم نے فرمایا تھا کہ۔ تم اس کو لعنت نہ کرو وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔

لعن رجل ديكا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5171

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5172

5172 - و أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة عن صالح بن كيسان عن عبيد الله بن عبد الله عن زيد بن خالد الجهني قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا الديك فإنه يدعوا إلى الصلاة قال : و قال أبو داود : مرة عن عبد العزيز عن صالح عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه قال : و هذا أثبت عندي

ہمیں خبر دی استاد ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ نے ان کو زید بن خالد جھنی نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مرغے کو گالی نہ دو وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کیا ابوداؤد نے ایک بار عبدالعزیز سے اس نے صالح سے ان کو عبداللہ بن ابوقتادہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک زیادہ ثابت ہے۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5172

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5173

5173 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو عمر بن مطر ثنا محمد بن أيوب ثنا أحمد بن يونس ثنا عبد العزيز يعني ابن أبي سلمة الماجشون : فذكره بالإسناد الأول غير إنهما قالا : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن سب الديك و قال : إنه يوقظ للصلاة و في رواية ابن نصر يؤذن بالصلاة 5173 - مكرر ـ و روي أيضا عن عبد العزيز بن محمد عن صالح بن كيسان عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن زيد بن خالد : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تسبوا الديك فإنه يؤذن للصلاة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ان کو ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوعتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابوسلمہ حبشون نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عبدالعزیز یعنی ابن ابوسلمہ نے حبشوں نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا اسناد اول کے ساتھ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ مرغے کو گالی دینے سے اور فرمایا کہ بے شک وہ نماز کے لئے جگاتا ہے اور ابن نصر کی روایت میں ہے کہ نماز کے لئے اذان دیتا ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5173

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5174

5174 - أخبرناه أبو نصر بن قتادة أنا عمرو بن مطر ثنا محمد بن أيوب ثنا الحسين بن حريث ثنا عبد العزيز بن محمد : فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو حسین بن حریث نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے۔ پھر اس کو ذکر کیا ہے اس نے۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، فَذَكَرَهُ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عمرو بن مطر ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5174

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5175

5175 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عثمان بن عمر ثنا الحجبي ثنا علي بن أبي علي عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله ديكا رجلاه في النجوم و عنقه تحت العرش منطوية فإذا كان هنة من الليل صاح : سبوح قدوس فصاحت الديكة قال الشيخ تفرد بإسناده هذا علي بن أبي علي اللهبي و كان ضعيفا و روي عن زهدم بن الحارث عن العرس بن عميرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أتم منه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو حجبی نے ان کو علی بن ابو علی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا ایک خاص مرغا ہے جس کے پاؤں ستاروں میں ہیں گردن اس کی عرش کے نیچے لیٹی ہوئی ہے جب رات میں کوئی عطا اور بخشش ہوتی ہے تو وہ فرشتہ چیختا ہے سبوح، قدوس۔لہذا مرغا چیختا ہے۔ شیخ نے کہا کہ اس اسناد کے ساتھ علی بن ابوعلی بھی کا تفرد ہے اور وہ ضعیف تھا اور روایت کیا گیا زھدم بن حارث سے اس نے عرس بن عمیرہ سے اس نے نبی کریم سے اس سے بھی زیادہ مکمل طور پر۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← علي بن أبي علي ← الْحَجَبِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5175

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5176

5176 - و أخبرنا ابن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك ثنا نعيم بن حماد أبو عبد الله بدمشق ثنا علي اللهبي ثنا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم : بإتخاذ الديك الأبيض هذا بهذا الإسناد منكر تفرد به اللهبي و روى فيه بإسناد مرسل و هو به أشبه

ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو ابوعبداللہ نے دمشق میں ان کو علی بن ابی علی لھبی نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ نے سفید مرغا لینے کا حکم دیا تھا یہ روایت ایسی اسناد کے ساتھ منکر ہے۔ لھبی اس کے ساتھ متفرد ہے اور اس بارے میں ایک مرسل روایت بھی ہے جو اس سے زیادہ بہتر ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← علي اللهبي ← نعيم بن حماد أبو عبد الله بدمشق ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← ابن عبدان ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5176

chevron_left Previous
1…323334…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood