شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5165
5165 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي أنا يزيد بن هارون أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي برزة : أن جارية بينما هي على راحلة أو بعير عليها بعض متاع القوم بين جبلين فتضايق بها الجبل فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم عليها فلما أبصرته جعلت تقول : حل اللهم العنها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صاحب الجارية لا يصحبنا راحلة أو بعير عليها لعنة من الله كما قال أخرجه مسلم في الصحيح من أوجه عن سليمان التيمي
ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابوعثمان نے ان کو ابوبرزہ نے کہ ایک لونڈی ایک اونٹ پر یا سواری پر سوار تھی۔ اس پر کچھ اور لوگوں کا سامان بھی تھا۔ دو پہاڑوں کے درمیان چل رہی تھی اچانک پہاڑ نے ان کو بھنیچ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف لائے جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگی کہ جو میں نے اللهم العنها۔ کی بددعا کی تھی (یعنی اے اللہ اس کو لعنت کر) وہی اتر پڑی ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کون ہے اس لڑکی کا مالک۔ وہ سواری یا وہ اونٹ ہمارے ساتھ ہم سفر نہ رہے جس پر اللہ کی طرف سے لعنت ہے۔ یا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے کئی طریقوں سے اس نے سلیمان تیمی سے۔
أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5165
