Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5153

5153 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير عن أبي قلابة عن ثابت بن الضحاك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا نذر فيما لا يملك و لعن المؤمن كقتله و من قتل نفسه في الدنيا بشيء عذب به يوم القيامة ومن حلف بملة غير الإسلام كاذبا فهو كما قال ومن قال لمؤمن يا كافر فهو كقتله قال و أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة عن ثابت بن الضحاك رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فذكره بمعناه غير إنه لم يذكر النذر أخرجاه في الصحيح من حديث أيوب و يحيى بن أبي كثير

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو ثابت بن ضحاک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ انسان جس چیز کا مالک نہیں ہے اس کی نذر اور منت بھی نہیں ہے، اور مؤمن کو لعنت کرنا اس کوقتل کرنے کی مثل ہے اور جو شخص دنیا میں اپنے آپ کو قتل کر کے (خود کشی کر لے) قیامت میں اسی چیز کا عذاب دیا جائے گا۔ اور جو شخص اسلام کے علاوہ غیر اسلامی ملت کے ساتھ قسم کھا لے جھوٹی قسم۔ وہ ایسے ہے جیسے اس نے کہا۔ اور جس نے مؤمن سے کہا اے کافر وہ اس کو قتل کرنے کی مثل ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو ثابت بن ضحاک نے مرفوع کیا ہے نبی کریم تک پھر اس نے اس کا معنی ذکر کیا ہے علاوہ اس کے کہ اس نے نذر کا ذکر نہیں کیا بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث ایوب سے اور یحییٰ بن ابوکثیر سے۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5153

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5154

5154 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطن ببغداد أنا محمد بن أحمد بن عيسى بن عبدك الرازي ثنا أبو عامر عمرو بن تميم ثنا ابن الأصبهاني ثنا يزيد بن المقدام بن شريح عن أبيه عن جده عن عائشة : قالت مر النبي صلى الله عليه و سلم بأبي بكر وهو يلعن بعض رقيقة فالتفت إليه فقال : لعانين وصديقين كلا ورب الكعبة قال : فأعتق أبو بكر يومئذ بعض رقيقه ثم جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا أعود

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو محمد بن احمد بن عیسیٰ بن عبدک رازی نے ان کو ابوعمار عمرو بن تمیم نے ان کو ابن اصفہانی نے ان کو یزید بن مقدام بن شریح نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق کے پاس گذرے وہ کسی غلام کو لعنت کر رہے تھے۔ آپ اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اور فرمایا کہ لعنت کرنے والے اور صدیقین ہرگز اچھے نہیں ہو سکتے رب کعبہ کی قسم۔ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق نے اس دن اس کی تلافی کے لئے غلام آزاد کر دیا اس کے بعد حضور کی خدمت میں آ کر کہا کہ میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔

عَائِشَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ← أَبُو عَامِرٍ عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ، ← محمد بن أحمد بن عيسى بن عبدك الرازي ← أبو الحسين بن الفضل القطن

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5154

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5155

5155 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحسن بن مكرم البزار ثنا عثمان بن عمر ثنا كثير بن زيد عن سالم عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينبغي للمسلم أن يكون لعانا و قال سالم : و ما سمعت ابن عمر لعن شيئا قط

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم بزار نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو کثیر بن زید نے ان کو سالم نے ان کو عمر نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسلمان کی شایان شان نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔ اور کہا سالم نے کہا کہ میں نے نہیں سنا کہ کبھی حضرت ابن عمر نے کسی کو لعنت کی ہو۔ یا کسی شئی کولعنت کی ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5155

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5156

5156 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال : أراد ابن عمر أن يلعن خادما فقال اللهم الغ فلم يتمها و قال : إن هذه الكلمه ما أحب أن أقولها

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے اپنے خادم کو لعنت کرنے کا ارادہ کیا۔ اور یوں کہا الـلـهــم الخ (کہنا چاہتے تھے الـعـن اللّٰہ تو اس کو لعنت کر مگر سوچا کہ یہ ایسا کلمہ ہے۔ جس کو کہاں بھی میں پسند نہیں کرتا لہذا بیچ لفظ میں اپنی زبان کو روک لیا اور پورا لفظ لعنت کرنے کا استعمال نہ کیا۔

إن هذه الكلمه ما أحب أن أقولها ← أراد ابن عمر أن يلعن خادما فقال اللهم الغ فلم يتمها و ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5156

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5157

5157 - و بهذا الإسناد عن الزهري عن سالم قال : ما لعن ابن عمر خادما له قط إلا واحدا فأعتقه

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے زہری سے اس نے سالم سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی اپنے خادم کو لعنت نہیں کی تھی ہاں ایک خادم کو ایک بار کہہ دی تھی لہذ اپھر انہوں نے (اس کی تلافی کرنے کے لئے) اس کو آزاد کر دیا تھا۔

ما لعن ابن عمر خادما له قط إلا واحدا فأعتقه ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5157

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5158

5158 - و عن الزهري سمعته يقول : كانوا يضربون رقيقهم و لا يلعنونهم

اور میں نے سنا ہے زہری سے وہ کہتے تھے وہ لوگ (یعنی صحابہ کرام) اپنے غلام کو مار لیتے تھے مگر اس کو لعنت نہیں کرتے تھے۔ (زبان کی حفاظت کا یہ عالم تھا۔)

كانوا يضربون رقيقهم و لا يلعنونهم ← الزُّهْرِيِّ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5158

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5159

5159 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الأعمش عن أبي ظبيان أن حذيفة قال : ما تلاعن قوم إلا حق عليهم القول

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو اعمش نے ان کو ابوسفیان نے کہ حضرت حذیفہ نے کہا۔ نہیں ایک دوسرے کو لعنت کرتی کوئی قوم مگر ان پر بات پکی ہو جاتی ہے۔

ما تلاعن قوم إلا حق عليهم القول ← أبي ظبيان أن حذيفة ← الْاَعْمَشِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5159

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5160

5160 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن جمشاد ثنا محمد بن أيوب أنا مسلم بن إبراهيم ح و أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله ثنا مسلم ثنا هشام ثنا قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تلاعنوا بلعنة الله و لا بغضب الله و لا بالنار لفظهما سواء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم ’’ح‘‘ ہمیں خبر دی علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابومسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو مسلم نے ان کو ہشام نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ بن جندب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔ اللہ کی لعنت کسی پر نہ بھیجو نہ ہی اللہ کی غضب کی نہ ہی اللہ کی جہنم کی کسی کو بد دعا دو۔ دونوں روایتوں کے الفاظ برابر ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← مُّسْلِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن عبدان، ← و، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← علي بن جمشاد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5160

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5161

5161 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا حماد يعني ابن سلمة عن قتادة عن الحسن عن سمرة قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تلاعنوا بلعنة الله و لا بغضب الله و لا بالنار

ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو حماد نے یعنی ابن سلمہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن نے ان کو سمرۃ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لعنت کی اللہ کے غضب کی اور اللہ کی آگ کی بد دعا کسی کو نہ دیا کرو۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5161

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5162

5162 - أخبرنا أبو علي الروذبارى أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود أحمد بن صالح ثنا يحيى بن حسان ثنى الوليد بن رباح قال : سمعت نمران يذكر عن أم الدرداء قالت سمعت أبا الدرداء يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا لعن شيئا صعدت اللعنة إلى السماء فتغلق أبواب السماء دونها ثم تهبط إلى الأرض فتغلق أبوابها دونها ثم تأخذ يمينا و شمالا فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذي لعن فإن كان لذلك أهلا و إلا رجعت إلى قائلها قال : أبو داود و قال مروان بن محمد و هو رباح بن الوليد سمع منه و ذكر أن يحيى بن حسان و هم فيه و في هذا المعنى حديث أبي العالية و ذلك مذكور في فصل كراهية سب الريح

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد احمد بن صالح نے ان کو یحییٰ بن حسان نے ان کو ولید بن رباح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نمران سے وہ ذکر کرتے تھے ام درداء سے وہ کہتی تھیں کہ میں نے سنا ہے ابودرداء سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ کہ بندہ جب کسی شئی کولعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے اس کے بعد دائیں بائیں گھومتی ہے۔ پس جس وقت اس کو کوئی راستہ نہیں ملتا تو پھر وہ اس کی طرف جاتی ہے جس کے لئے لعنت کی گئی تھی اگر وہ اس کا اہل ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ کہا ابوداؤد نے اور کہا مروان بن محمد نے یعنی رباح بن ولید نے انہوں نے ان سے سنا اور یہ ذکر کیا کہ یحییٰ بن حسان بھی ان میں ہیں۔اور اسی مفہوم میں ابوالعالیہ کی حدیث بھی ہے۔ اور وہ مروی ہے اور یہ مذکور ہے ہوا کو گالی دینے کی فصل میں۔

أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← نِمْرَانَ يَذْکُرُ ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← أبو داود أحمد بن صالح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5162

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5163

5163 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا حسين الجعفي عن عمر بن ذر عن العيزار بن جرول الحضرمي قال : كان منا رجل يقال له أبو عمير قال : و كان مواخيا لعبد الله فكان عبد الله يأتيه في منزله فأتاه مرة فلم يوافقه في المنزل فدخل على امرأته قال : فبينما هو عندها إذا أرسلت خادمتها في حاجة فأبطأت عليها فقالت قد أبطأت لعنها الله قال : فخرج عبد الله فجلس على الباب قال : فجاء أبو عمير فقال لعبد الله ألا دخلت على أهل أخيك قال : فقال : لقد فعلت و لكنها أرسلت الخادم في حاجة فأبطأت عليها فلعنتها و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا خرجت اللعنة من في صاحبها نظرت فإن وجدت مسلكا في الذي وجهت إليه و إلا عادت إلى الذي خرجت منه و إني كرهت أن أكون كسبيل اللعنة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو حسین جعفی نے عمر بن ذر نے ان کو عیزار بن جرول حضرمی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی تھا اسے ابوعمیر کہتے تھے اس نے عبداللہ کے ساتھ بھائی بندی کر رکھی تھی۔ حضرت عبداللہ کا اس کے گھر میں آنا جانا تھا۔ ایک مرتبہ حسب عادت اس کے گھر میں آئے تو وہ گھر میں نہیں تھے۔ لہذا وہ ان کی اہلیہ کے پاس رک گئے۔ ابھی وہ اسی کے پاس ہی رکے ہوئے تھے کہ اتنے میں اس عورت نے اپنی خادمہ کو کسی کام سے بھیجا مگر اس نے دیر کر دی۔ لہذا مالکن نے کہا اللہ اس کو لعنت کرے اس نے دیر کر دی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جملہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمر نے اس عورت کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا فوراً گھر سے باہر نکل کر دروازے پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں ابوعمیر بھی آگئے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ سے پوچھا کیا آپ اپنے بھائی کے گھر والوں میں اور بچوں میں اندر نہیں گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں اندر گیا تھا مگر انہوں نے خادم کو کسی کام سے بھیجا تھا اس نے دیر کر دی اور انہوں نے اس کو لعنت کر دی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے کہ جب لعنت۔ لعنت کرنے والے کے منہ سے نکل جاتی ہے تو وہ راستہ دیکھتی ہے اگر وہ اس طرف راستہ پالیتی ہے جس کی طرف متوجہ کی گئی تھی۔ تو ٹھیک ورنہ وہ لوٹ آتی اس کی طرف جس سے نکلی تھی۔ بے شک میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ہو جاؤں مثل راستے لعنت کے۔ (کہ کہیں لعنت مجھ سے گذر کر ہی نہ جائے۔)

الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ ← عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5163

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5164

5164 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا سليمان بن حرب و عارم ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي الملهب عن عمران بن حصين : إن النبي صلى الله عليه و سلم كان في سفر فسمع لعنة فقال : ما هذه ؟ قالوا : هذه فلانة لعنت راحلتها فقال : ضعوا عنها فإنها ملعونة قال : كأني أنظر إليها ناقة مزقا رواه مسلم في الصحيح عن أبي الربيع عن حماد و رواه الثقفي و غيره عن أيوب قال : فكان لا يأويها أحد و في رواية أبي برزة الأسلمي عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة لا يصاحبنا ناقة عليها لعنة الله أو كما قال

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن عبیداللہ صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور عارم نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو ابن مہلب نے ان کو عمران بن حسین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ نے امت کی آواز سنی تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا یہ فلاں عورت ہے۔ اس نے اپنی سواری کولعنت کی ہے، آپ نے فرمایا کہ پھینک دو اس کو سواری سے یہ خود ملعون ہے راوی کہتا ہے کہ (ایسے لگ رہا ہے) جیسے کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں تیز رفتار اوٹنی تھی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابوربیع سے اس نے حماد سے اور اس کو روایت کیا ہے ثقفی وغیرہ نے ایوب سے وہ کہتے ہیں کہ پھر اس کو کوئی جگہ نہیں دیتا تھا۔ اور ابوبردہ اسلمی کی روایت میں نبی کریم سے روایت ہے اس قصے میں کہ۔ تمہارے ساتھ ہم سفر نہ رہے وہ اونٹنی جس پر اللہ کی لعنت ہے۔ یا جیسے ہی آپ نے فرمایا تھا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أبي الملهب ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و عارم ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5164

chevron_left Previous
1…313233…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood