Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5141

5141 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن أبي يزيد سمع أن ابن عباس يقول : خلال من خلال الجاهلية الطعن في الأنساب و النياحة و نسى الثالثة قال سفيان : يقولون : إنها الاستسقاء بالأنواء رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني عن سفيان

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نضر نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو عبداللہ بن یزید نے اس نے سنا ابن عباس سے جاہلیت کی خصلتوں میں سے ایک خصلت نسبوں میں طعن کرنا تھا۔ اور نوحے کرنا بین کرنا۔ تیسری چیز راوی بھول گیا ہے سفیان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بارش طلب کرتا ہے ستاروں کے طلوع و غروب سے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں علی مدینی سے اس نے سفیان سے۔

سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← سفيان يقولون إنها الاستسقاء بالأنواء رواه البخاري في الصحيح ← خلال من خلال الجاهلية الطعن في الأنساب و النياحة و نسى الثالثة ← أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5141

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5142

5142 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن سنان ثنا أبو عامر العقدي و أنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن أحمد بن يزيد الرياحي ثنا أبو عامر ثنا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام قال : قال أبو مالك الأشعري : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن في أمتي أربعا من أمر الجاهلية ليسوا بتاركيهن الفخر في الاحساب و الطعن في الأنساب و الاستقساء بالنجوم و النياحة على الميت كان النائحة إن لم تتب قبل أن تموت فإنها تقوم يوم القيامة عليها سربال أو سراويل من قطران و في رواية القزاز سرابيل من قطران ثم يغلي عليها دروعا من لهب النار أخرجه مسلم من حديث أبان عن يحيى بن أبي كثير فإن عورض هذا بحديث النبي صلى الله عليه و سلم في اصطفاء بني هاشم فقد قال الحليمي رحمه الله : لم يرد بذلك الفخر إنما أراد تعريف منازل المذكورين و مراتبهم كرجل يقول كان أبي فقيها لا يريد به الفخر و إنما يريد به تعريف حاله دون ما عداه و قد يكون أراد به الإشارة بنعمة الله عليه في نفسه و آبائه على وجه الشكر و ليس ذلك من الاستطالة و الفخر في شيء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن سنان نے ان کو ابوعامر عقدی نے۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو محمد بن احمد بن یزید ریاحی نے ان کو ابوعامر نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کوزید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے وہ کہتے ہیں کہ ابومالک اشعری نے کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ بے شک میری امت میں چار چیزیں جاہلیت کے امور میں سے وہ جنہیں چھوڑنے والے نہیں میں حسب نسب میں فخر کرنا۔ نسبوں میں طعن کرنا۔ ستاروں کے ساتھ بارش طلب کرنا۔ میت پر بین کرنا بین کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے پہلے توبہ نہ کر لے تو وہ قیامت کے دن جب اٹھے گی تو اس پر کرتا ہوگا یا پاجامہ پگھلائے ہوئے تانبے سے۔ لب اس پگھلے ہوئے تانبے کے پاجامے ہوں گے اس کے بعد اس پر زرھیں ابالی جائیں گی آگ کے شعلے سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابان کی حدیث سے اس نے یحییٰ بن ابوکثیر سے۔ اگر اس کا معارضہ کیا جائے حدیث رسول کے ساتھ جو بنی ہاشم کے منتخب کئے جانے کے بارے میں ہے۔ تو تحقیق شیخ حلیمی نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد فخر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ان کے مراتب و منازل ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر ایک آدمی کہتا ہے کہ میرا باپ فقیہ تھا تو اس کی مراد فخر نہیں ہوتی بلکہ یہ کہ کر وہ اس کے حال کی تعریف بتاتا ہے اور اس کی کیفیت بتاتا ہے اس کے ماسوا اس کا اور کوئی مطلب مراد نہیں ہوتا۔ اور کبھی اس کی مراد دیکھنے سے اللہ کی نعمت کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو اس کی اپنی ذات پر اور اس کے باپ دادے پر ہوتی ہے۔ یہ بطور شکر کے کرتا ہے اس میں اس کی طرف سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں اس کی طرف سے کوئی فخر ہوتا ہے۔

أَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ ← محمد بن أحمد بن يزيد الرياحي ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← أبو عامر العقدي و ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5142

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5143

5143 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة و المسعودي عن علقمة بن مرثد الحضرمي عن أبي الربيع عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أربع من أمر الجاهلية لن يدعهن الناس الطعن في الأنساب و النياحة على الميت و الأنواء و الاعداء أجرب بعير فأجرب مائة فمن أجرب البعير الأول وفقه جعفر بن عون عن مسعر عن علقمة

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن جبر نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے اور مسعودی نے ان کو علقمہ بن مرثد خضرمی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا چار کام امور جاہلیت میں سے لوگ ان کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے نسبوں میں طعن کرنا۔ میت پر رونا بین کر کے ستاروں کی تاثیر کا قائل ہونا۔ خارش والے اونٹ کی خارش متعدی کرنا (یعنی بیماریوں کا ایک سے دوسرے کو لگنے کا عقیدہ رکھنا۔) کہ ایک کو خارش ہو ایک سو کو وہ لگا دیتا ہے(یہ خیال رکھنا مگر یہ تو بتائیں کہ) پہلے والے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ جعفر بن عون نے مسعر سے اس نے علقمہ سے اس کو موقوف کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الرَّبِيعِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← شعبة و المسعودي ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5143

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5144

5144 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد و أنا محمد بن جعفر الأنباري ثنا محمد بن أحمد بن أبي العوام الرياحي ثنا أبي ثنا الحارث بن النعمان ثنا أبو زرعة الحجري عن سعيد بن أبي أيوب عن ابن عجلان عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خمس هن قواصم الظهر عقوق الوالدين و المرأة يأتمنها زوجها تخونه الإمام يطيعه الناس و يعصي الله عز و جل وعد عن نفسه خيرا فأخلف و اعتراض المرء في أنساب الناس

ہمیں خبر دی ابوالفتح محمد بن احمد بن ابوالفورس حافظ نے بغداد میں ان کو محمد بن جعفر انباری نے ان کو محمد بن احمد بن ابوالعوام ریاحی نے ان کو ان کے والد نے ان کو حارث بن نعمان نے ان کو ابوزرعہ حجری نے ان کو سعید بن ایوب نے ان کو ابن عجلان نے۔ ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پانچ چیزیں۔ قوام الظہر میں سے ہیں (ان امور میں سے جو کمر توڑ دیتے ہیں مراد ہے کہ عاقبت برباد کر دیتے ہیں۔) ۱۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ ۲۔ اور وہ عورت جس کو اس کا شوہر امین بناتا ہے اور وہ اس کی خیانت کرتی ہے۔ ۳۔ وہ امام خلیفہ بادشاہ لوگ جس کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ خود اللہ کی نافرمانی کرتا ہے۔ ۴۔ وہ آدمی جو اپنے دل کے ساتھ نفس کے ساتھ خیر کا اور بھلائی کرتے رہنے کا وعدہ کرتا ہے پھر اس کے خلاف کرتا (اپنے آپ سے بھی وعدہ خلافی کرتا ہے)۔ ۵۔ اور کسی انسان کا لوگوں کے نسبوں میں طعن کرنا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو زرعة الحجري ← الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← محمد بن جعفر الأنباري ← أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ ببغداد و

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5144

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5145

5145 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الطيب محمد بن عبد الله بن المبارك ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل البزار شريك محمد بن نصر ثنا يحيى بن يحيى ثنا عبد الله بن لهيعة عن الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليس لأحد على أحد فضل إلا بالدين أو عمل صالح حسب الرجل أن يكون فاحشا بذيا بخيلا جبانا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالطيب محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو ابواسحاق ابراہیم بن اسماعیل بزار شریک محمد بن نصر نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن لھیعہ نے ان کو حارث بن یزید نے ان کو علی بن رباح نے ان کو عقبہ بن عامر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایک کو کسی دوسرے پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں ہے مگر دین کے ساتھ یا فرمایا کہ عمل صالح کے ساتھ۔ آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ برائی میں حد سے بڑھ جائے۔ یا بکواس کر۔ بیہودہ گوئی کرنے والا ذلیل ہو بخیل ہو۔ بزدل ہو۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← عبد الله بن لهيعة ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل البزار شريك محمد بن نصر ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5145

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5146

5146 - أخبرنا ابن عبدن أنا ابن عبيد الصفار ثنا موسى بن هارون الطوسي ثنا يحيى بن إسحاق السيلحيني ثنا ابن لهيعة عن الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنسابكم هذه ليست بمسبة على أحدكم كلكم بنو آدم ليس لأحد على أحد فضل إلا بالدين أو تقوى و كفى بالرجل أن يكون بذيا فاحشا بخيلا

ہمیں خبر دی ابن عبدان نے ان کو ابن عبید صفار نے ان کو موسیٰ بن ہارون طوسی نے ان کو یحییٰ بن اسحاق سیلحسینی نے ان کو ابن لھیعہ نے ان کو حارث بن یزید نے ان کو علی بن رباح نے ان کو عقبہ بن عامر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا یہ تمہارے نسب تم میں سے کسی پر گالی اور عیب نہیں ہیں۔ ہر ایک تم میں اولاد آدم ہے کسی ایک کو کسی ایک پر کوئی فضیلت نہیں ہے مگر دین کے ساتھ یا تقویٰ کے ساتھ کسی آدمی کے (اچھا نہ ہونے کے لئے یہی بات) کافی ہے کہ وہ بیہودہ بکنے والا فحش گوئی کرنے والا فحش کام کرنے والا بخیل ہو۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← موسى بن هارون الطوسي ← ابن عبيد الصفار ← ابن عبدن

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5146

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5147

5147 - أنشدنا الأستاذ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم أنشدنا أبو بكر الإسماعيلي أنشدنا أبو بكر بن المرزبان أنشدني الفضل بن أبي طاهر : لنفسه ( حسب الفتى أن يكون ذا حسب في نفسه ليس نسبه حسبه ) ( ليس الذي يبتدي به نسبا كمن إليه قد انتهى نسبه ) ليس الذي يبتدي به نسبا لمن إليه قد انتهى نسبه

ہمیں شعر سنائے استاذ ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم نے ان کو شعر سنائے ابوبکر اسماعیلی نے ان کو ابوبکر بن مرزبان نے ان کو فضل بن ابوطاہر نے اپنے اشعار۔ جن کا مفہوم یہ ہے آدمی کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ صاحب شرافت ہو اپنی ذات میں۔ اس کا نسب اس کے لئے کافی نہیں ہے (نہ ہی اس کا نسب اس کی شرافت ہے) کیونکہ جس انسان کے ساتھ نسب کی ابتدا ہوئی تھی وہ اس کی طرح نہیں تھا جہاں نسب ختم ہو رہا ہوگا۔ (مثلاً نسب کی ابتدا آدم علیہ السلام سے ہوئی تھی۔ جہاں بھی نسب کو ختم کریں گے وہ آدم جیسے تو نہیں ہوگا۔ )

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5147

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5148

5148 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا سفيان بن عيينة عن عمرو قال : كان بين عمرو بن العاص وبين المغيرة بن شعبة كلام في الوهط فسبه المغيرة فقال عمرو : يا آل هصيص أيسبني ابن شعبة قال ابنه عبد الله : إنا لله وإنا إليه راجعون بدعوى القبائل وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن دعوى القبائل قال : فاعتق ثلاثين رقبة قال الشيخ أحمد : ومما يدخل في هذا الباب

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابوعمر بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ کے درمیان ایک باغ کے بارے میں جھگڑا ہوا تو حضرت مغیرہ نے ان کو گالی دے دی لہذا حضرت عمرو بن العاص نے کہا۔اے آل ھصیص (پاؤں تلے روندا ہوا) کیا مجھے ابن شعبہ نے گالی دی ہے؟ ان کے بیٹے عبداللہ نے کہا۔ انا للّٰه وانا اليه راجعون. آپ نے تو جاہلیت والی پکار پکاری ہے حالانکہ تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل کے دعویٰ اور پکار سے منع فرمایا تھا راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس غلطی کی تلافی کرنے کے لیے تیس غلام آزاد کئے تھے۔ شیخ احمد نے کہا۔ بعض ان روایات میں سے جو اس باب میں داخل ہیں۔(یہ ہیں۔)

عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5148

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5149

5149 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن أيوب أنا أحمد بن يونس ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أن عمرو بن مطر أنا إبراهيم بن شريك الكوفي ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو بكر بن عياش عن الحسن بن عمرو الفقيمي عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن أبيه عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس المؤمن بالطعان و لا اللعان و لا الفاحش البذيء وفي رواية قتادة ولا الفاحش و لا البذيء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو احمد بن یونس نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن شریک کوفی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کو حسن بن عمرو فقیمی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ مؤمن نہ تو طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے نہ ہی لعنت کرنے والا نہ ہی بد گویا بے حیا ہوتا ہے نہ ہی بیہودہ گو بدزبان ہوتا ہے۔ اور قتادہ کی ایک روایت میں ہے فحش گوئی کرنے والا اور بیہودہ بکواس کرنے والا ہوتا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← إبراهيم بن شريك الكوفي ← أبو نصر بن قتادة أن عمرو بن مطر ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5149

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5150

5150 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفرايني أنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا عباد بن العوام ثنا محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس المؤمن باللعان و لا الطعان و لا الفاحش و لا البذيء

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن ابوالمعروف نے ان کو ابوسہل اسفرائنی نے ان کو ابوجعفر حذاء نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو محمد بن عمرو بن علقمہ نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ مؤمن لعن طعن کرنے والا بکواس اور بیہودہ گوئی کرنے والا نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، ← أبو سهل الاسفرايني ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5150

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5151

5151 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن يوسف و أبو الحسن بن أبي علي السقا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا عبد الله بن وهب أخبرني سليمان بن بلال عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا ينبغي لصديق أن يكون لعانا رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن سعيد عن ابن وهب و قال محمد بن جعفر عن العلاء في هذا الحديث : لا ينبغي للمؤمن أن يكون لعانا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابومحمد بن یوسف اور ابوالحسین بن ابوعلی سقا نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو علاء بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صدیق کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ہارون بن سعید سے اس نے ابن وہب سے اور کہا محمد بن جعفر علائی نے اس حدیث میں کہ مؤمن کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5151

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5152

5152 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن زيد بن أسلم قال : كان عبد الملك بن مروان يرسل إلى أم الدرداء فتبيت عند نسائه ويسائلها عن الشيء فقام ليلة فدعا خادمة فأبطأت عليه فلعنها فقالت : لا تعلن فإن أبا الدرداء حدثني إنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن اللعانين لا يكونون يوم القيامة شفعاء و لا شهداء رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے انہوں نے کہا کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان بی بی ام درداء کے پاس آدمی بھیجتے تھے وہ آکر ان کی عورتوں کے پاس رات کو رہتی تھیں اور وہ خود بھی ان سے (دینی مسائل پوچھتے تھے) ایک مرتبہ وہ رات کو اٹھے اور خادمہ کو بلایا اس نے دیر کر دی لہذا عبدالملک نے اسکو لعنت کی بی بی ام درداء نے سنا تو فرمایا کہ لعنت نہ کر بے شک ابودرداء نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے بے شک لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ تو سفارشی ہوں گے اور نہ ہی گواہ ہوں گے۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں۔اسحاق بن ابراہیم سے اس نے عبدالرزاق سے۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5152

chevron_left Previous
1…303132…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood