Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5129

5129 - أخبرنا أبو طالب عمر بن إبراهيم بن سعيد الوقاجي البغدادي بمكة أخبرنا أبو محمد بن ساسي ثنا أبو مسلم ثنا حجاج ثنا هشام عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تفتخروا بآبائكم الذين ماتوا في الجاهلية فو الذي نفسي بيده لما يدحرج الجعل بأنفه خير من أبائكم الذبن ماتوا في الجاهلية تابعه أبو داود الطيالسي عن هشام

ہمیں خبر دی ابوطالب عمر بن ابراہیم بن سعد وقاجی بغدادی نے مکہ میں۔ ان کو خبر دی ابومحمد بن ساسی نے ان کو ابومسلم نے ان کو حجاج نے ان کو ہشام نے ان کو ایوب نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ تم لوگ ان باپ دادوں کے ساتھ فخر نہ کیا کرو جو جاہلیت میں مر چکے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ وہ بت جو ناک کے بل لڑھکائے جائیں وہ تمہارے ان باپ دادوں سے بہتر تھے جو جاہلیت میں مر گئے ہیں۔ ابوداؤد طیالسی نے اس کا متابع بیان کیا ہے ہشام سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← هِشَامٍ ← حجاج، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أبو محمد بن ساسي ← أبو طالب عمر بن إبراهيم بن سعيد الوقاجي البغدادي بمكة

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5129

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5130

5130 - أخبرني أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا إبراهيم بن إسحاق الحربي ثنا بشر بن آدم ثنا عبد الله بن جعفر ثنا عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال : خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة فقال : أما بعد أيها الناس فإن الله عز و جل قد أذهب عنكم عيبة الجاهلية وتعاظمها بآبائها فالناس رجلان مؤمن تقي كريم وفاجر شقي مهين و الناس كلهم بنو آدم وخلق الله آدم من تراب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو ابراہیم بن اسحٰق حربی نے ان کو بشر بن آدم نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ خطبہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اور فرمایا اما بعد ۔ اے لوگو بے شک اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کا عیب اور باپ دادوں پر فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے لوگ دو طرح کے ہیں۔مؤمن متقی کریم ہے اور کافر محروم ذلیل ہے لوگ سب کے سب اولاد آدم ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔

خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5130

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5131

5131 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن قتادة و علي بن زيد بن جدعان قالا : كان بين سعد بن أبي وقاص و سلمان الفارسي شيء فقال سعد وهم في مجلس انتسب يا فلان فانتسب ثم قال للأخر انتسب ثم قال للآخر حتى بلغ سلمان فقال انتسب يا سلمان قال : ما أعرف لي أبا في الإسلام ولكن سلمان ابن الإسلام فنمى ذلك إلى عمر فقال عمر رضي الله عنه لسعد ولقيه انتسب يا سعد فقال : انشدك الله يا أمير المؤمنين قال : فكأنه عرف فأبى أن يدعه حتى انتسب ثم قال : للأخر حتى بلغ سلمان فقال انتسب يا سلمان فقال : انعم الله علي بالإسلام فأنا سلمان ابن الإسلام فقال عمر : قد علمت قريش أن الخطاب كان أعزهم في الجاهلية وإن عمر ابن الإسلام أخ لسلمان ابن الإسلام أما و الله لولا لعاقبتك عقوبة يسمع بها أهل الأمصار أو ما علمت أو ما سمعت إن رجلا انتمى إلى تسعة أياء في الجاهلية فكان عاشرهم في النار و انتمى رجل إلى رجل في الإسلام وترك ما فوق ذلك وكان معه في الجنة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے اور علی بن زید بن جدعان نے دونوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابووقاص اور سلمان فارسی کے درمیان کوئی بات تھی (ناراضگی وغیرہ یا مذاق کی) محفل میں دونوں بیٹھے تھے۔ حضرت سعد نے کسی اور سے کہا اے معمر ذرا اپنا نسب کا سلسلہ بیان کیجئے اس نے اپنا نسب بتا دیا۔ پھر انہوں نے ایک اور آدمی سے کہا کہ آپ اپنا سلسلہ نسب بیان کیجئے،اس نے بھی بیان کر دیا۔ اس کے بعد ایک اور سے کہا اسی طرح پوچھتے پوچھتے حضرت سلمان فارسی تک پہنچ گئے تو فرمایا کہ اے سلمان آپ بھی اپنا سلسلہ نسب بتائیے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں اسلام میں تو اپنا باپ ہیں جانتا۔ ہاں میں سلمان ابن اسلام ہوں۔ اس بات کی حضرت عمر کو شکایت کی گئی تو انہوں نے سعد سے ملاقات کر کے کہا سعد ذرا اپنا سلسلہ نسب بتائیے۔سعد نے کہا امیرالمؤمنین میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ گویا کہ حضرت سعد سمجھ گئے تھے (کہ سلمان نے شکایت کردی ہے) حضرت عمر نے سعد کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ اس نے اپنا نسب بیان کیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی سے نسب پوچھا۔ اسی طرح پوچھتے پوچھتے حضرت سلمان تک پہنچے تو ان سے بھی حضرت عمر نے پوچھا کہ اے سلمان آپ اپنا سلسلہ نسب بتائیے۔اس نے کہا کہ اللہ نے مجھ پر اسلام کے ساتھ انعام فرمایا ہے لہذا میں سلمان ابن اسلام ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ قریش اچھی طرح جانتے ہیں کہ (میرے والد) خطاب جاہلیت میں ان میں سے زیادہ عزت دار تھے (مگر سن لو کہ) بے شک عمر ابن اسلام ہے، بھائی ہے سلمان بن اسلام کا خبردار اگر نہ ہوتی (ایک بات) تو میں تمہیں ایسی سزا دیتا جس کو زمانہ سنتا (تمام شہروں والے سنتے) کیا تم جانتے نہیں؟ (یا یوں کہا) کیا تم نے سنا نہیں؟ کہ ایک آدمی نے اپنی نسبت جاہلیت کے نو باپوں کی طرف کی تھی وہ خود ان میں سے دسواں جہنم میں ہو گیا تھا اور دوسرے آدمی نے اپنی نسبت صرف ایک آدمی کی طرف کی تھی اسلام میں، اور اس سے اوپر والوں کو چھوڑ دیا تھا اور وہ جنت میں اس کے ساتھ ہوگا۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جو آگے مذکور ہے۔)

قتادة و علي بن زيد بن جدعان ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5131

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5132

5132 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماش ثنا أحمد بن حاتم الطويل عن أبي بكر بن عياش عن حميد الكندي عن عبادة بن نسي عن أبي ريحانة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من انتسب إلى تسعة أباء كفار يريد بهم عزا وشرفا فهو عاشرهم في النار

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن ابوقماش نے ان کو احمد بن حاتم طویل نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کو حمید کندی نے ان کو عبادہ بن نسی نے ان کو ابوریحانہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جو شخص اپنی نسبت نو کافر باپوں کی طرف کر کے ان کے ساتھ اپنی عزت و شرافت کا ارادہ کرے وہ ان کے ساتھ دسواں ہوگا جہنم میں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي رَيْحَانَةَ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← حميد الكندي ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← أحمد بن حاتم الطويل ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5132

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5133

5133 - أخبرنا علي بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن الفضل البلخي ثنا عبد الله بن محمد ثنا عبد الله بن نمير ثنا يزيد بن أبي زياد بن أبي الجعد عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي بن كعب قال : انتسب أو قال : استب رجلان على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أحدهما : أنا فلان بن فلان أنا فلان بن فلان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انتسب أو قال استب رجلان على عهد موسى فقال أحدهما : أنا فلان بن فلان إلى تسعة ما أنت لا أم لك قال : أنا فلان بن فلان ابن الإسلام فأوحى الله إليه موسى هذان المنتسبان أو قال المتسابان أما أنت أيها المعتزي أو المنتسب إلى تسعة أباء في النار فأنت عاشرهم في النار وأما أنت أيها المنتسب إلى اثنين فأنت ثالثهما في الجنة وقيل عن عبد الرحمن عن معاذ

ہمیں خبر دی علی بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو عبداللہ بن غیر نے ان کو یزید بن ابوزیاد بن ابوالجعد نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ نے ان کو ابی بن کعب نے انہوں نے کہا کہ انتساب کیا یا یوں کہا کہ گالی دی دو آدمیوں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دونوں میں سے ایک نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں نو باپوں تک۔ تو ایسا نہیں ہے تیری ماں نہ ہو۔ دوسرے نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں لہذا اللہ نے اس کی طرف وحی کی۔اے موسیٰ یہ دونوں نسبت کرنے والے ہیں۔ یا کہا کہ دونوں باہم گالی دینے والے ہیں۔ بہر حال اپنے آپ کو منسوب کرنے والا نو باپوں کی طرف جو کہ آگ میں ہیں تو ان میں دسواں ہے آگ میں۔اور بہر حال تو اے دو کی طرف نسبت کرنے والے تو ان دونوں کے ساتھ تیسرا ہے جنت میں۔اور کہا گیا ہے عبدالرحمٰن بن معاذ سے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إسماعيل بن الفضل البلخي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن عبدان،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5133

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5134

5134 - حدثناه الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد و أنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن المديني ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا جرير عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن معاذ بن جبل : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : انتسب رجلان في بني إسرائيل على عهد موسى عليه السلام أحدهما كافر و الآخر مسلم فانتسب الكافر إلى تسعة أباء فقال : المسلم أنا فلان بن فلان وبرئت ممن سواهم فخرج منادي موسى ينادي أيها المنتسبان قد قضى بينكما ثم قال : أيها الكافر أما أنت فانتسبت إلى تسعة أباء كفار و أنت عاشرهم في النار و أما أنت أيها المسلم فقصرت على أبوين مسلمين و برئت ممن سواهم فأنت من أهل الإسلام و برئت ممن سواهم

ہمیں حدیث بیان کی امام ابومطیب سے سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد نے اور ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن مد ینی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو جریر نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے اپنے بڑوں سے اپنی نسبت بیان کی ان میں سے ایک کافر تھا دوسرا مسلمان تھا۔ کافر نے اپنے نو باپوں کی طرف نسبت کی (یعنی دادا پر دادا سے نو پشتوں تک نسبت بیان کی) اور مسلمان نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں باقیوں سے بری ہوں لہذا موسیٰ علیہ کی طرف منادی کرنے والا منادی کرتا ہوا نکلا اے دو نسبت کرنے والو تحقیق تم دونوں کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہے پھر کہا کہ اے کفر کرنے والے تم نے اپنی نسبت جوڑی تھی نو باپ دادوں کی طرف لہذا اس نسبت تفاخر جاہلی کی وجہ سے تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے جہنم میں۔ بہر حال تم اے مسلمان تم نے صرف دو مسلمان باپ دادے کی نسبت بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور ماسواء سے اظہار برأت کیا ہے۔ لہذا تو اہل اسلام میں سے ہے اور اس کے ماسوا سے بری ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد و ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5134

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5135

5135 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو شعيب الحراني حدثني أحمد بن أبي شعيب ثنا موسى بن اعين عن خالد بن يزيد ثنا أبو عبد الملك عن القاسم عن أبي أمامة قال : عير أبو ذر بلالا بأمه فقال : يا ابن السوداء و إن بلالا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فغضب فجاء أبو ذر و لم يشعر فأعرض عنه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما أعرضك عني إلا شيء بلغك يا رسول الله قال أنت الذي تعير بلالا بأمه قال النبي صلى الله عليه و سلم : و الذي أنزل الكتاب على محمد أو ما شاء الله أن يحلف ما لا حد على فضل إلا بعمل إن أنتم إلا كطف الصاع

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابوشعیب حرافی نے ان کو احمد بن ابوشعیب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو موسیٰ بن اعین نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو ابوعبدالملک نے قاسم سے ان کو ابوامامہ نے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوذر نے حضرت بلال کو ان کی ماں کے بارے میں طعنہ دیا۔ اور کہا کہ اے ابن سوداء۔ اور حضرت بلال رسول اللہ کے پاس آئے اور ان کو خبر دی اور حضور ناراض ہوئے جب ابوذر رضی اللہ عنہ حضور کے پاس آئے تو آپ نے اس سے منہ پھیر لیا وہ بولے یا رسول اللہ آپ نے اس لئے مجھ سے منہ پھیرا ہے کہ آپ کو میری کوئی شکایت پہنچی ہے آپ نے فرمایا کہ تم نے بلال کو اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ ان کی قسم کھائی جائے۔ مجھ پر کسی کو فضیلت نہیں مگر عمل کے ساتھ نہیں ہو تم لوگ مگر صاع کے پیمانے میں بھری ہوئی چیز کی مانند (یعنی جسے سارے دانے بکھرے ہوتے ہیں۔)

عير أبو ذر بلالا بأمه ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ، ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5135

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5136

5136 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد ابن بنت أحمد بن إبراهيم ابن بنت نصر بن زياد حدثني جدي حدثني نصر بن زياد القاضي ثنا سلم بن سالم عن شيخ من بني ليث عن أبي عثمان النهدي عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا أمامة ما أنا و أمة سفعاء الحذين شفعاء المعصمين أمنت بربها و تحننت على ولدها إلا كهاتين و فرق بين السبابة و الوسطى و الله اذهب فخر الجاهلية و تكبرها بآبائها كلكم لآدم و حواء كطف الصاع بالصاع و إن أكرمكم عند الله أتقاكم فمن أتاكم ترضون دينه و أمانته فزوجوه سلم بن سالم البلخي غير قوي و قد رواه عن رجل مجهول

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد بنت احمد کے بیٹے نے ابن ابراہیم ابن بنت نصر بن زیاد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو نصر بن زیاد قاضی نے ان کو سلم بن سالم نے ان کو شیخ نے بنو لیث سے ان کو ابوعثمان نہدی نے ان کو ابوامامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے ابوامامہ۔ نہیں ہوں میں اور ایک لونڈی جو سر سے گنجی ہو (یا جھلے منہ والی ہو) برابر۔ سفارشی عزت داروں کے۔ وہ جواپنے رب پر ایمان رکھتی ہے اور اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔ مگر ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔اور اپنے سے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے درمیان فاصلہ کیا۔ اللہ نے جاہلیت کے فخر اور تکبر اور باپ دادے پر اترانے کو ختم کر دیا ہے تم میں ہر کوئی آدم و حوا کی اولاد ہے برابر جیسے ایک صاع کی پیمائش دوسرے کے برابر ہوتی ہے۔ بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا تم میں سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والا جو شخص تمہارے پاس آئے جس کے دین اور امانت کو تم پسند کرتے ہو بس اس کو رشتہ دے دو اور بیاہ کر دو سلم بن سالم بلخی غیر قوی سے اور اس نے ایک مجہول آدمی سے روایت کی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← شيخ من بني ليث ← سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، ← نصر بن زياد القاضي ← جَدِّي، ← أبو محمد ابن بنت أحمد بن إبراهيم ابن بنت نصر بن زياد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5136

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5137

5137 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا محمد بن عثمان بن ثابت الصيدلاني ثنا محمد بن الفضل بن جابر السقطي ثنا العلاء بن مسلمة الهذلي البصري ثنا شبيه أبو قلابة عن الجريري عن أبي نضرة عن جابر بن عبد الله قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في وسط أيام التشريق خطبة الوداع فقال : يا أيها الناس أن ربكم واحد و إن أباكم واحد ألا لا فضل لعربي على عجمي و لا لعجمي على عربي و لا لأحمر على أسود و لا أسود على أحمر إلا بالتقوى إن أكرمكم عند الله أتقاكم ألا هل بلغت قالوا بلى يا رسول الله قال فليبلغ الشاهد الغائبثم ذكر الحديث في تحريم الدماء و الأموال و الأعراض في هذا الإسناد بعض من يجهل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو محمد بن عثمان بن ثابت صیدلانی نے ان کو محمد بن فضل بن جابر سقطی نے ان کو علا بن مسلمہ حذلی بصری نے ان کو شیبہ نے ان کو ابوقلابہ نے ان کو جریری نے ان کو ابونضرہ نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ؟ ہیں کہ ہمیں خطبہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے مطابق آخری خطبہ ارشاد فرمایا۔ اے لوگ بے شک تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ خبردار کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت ہے۔ اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر ہاں مگر تقویٰ کے ساتھ ہے بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔ خبردار کیا میں نے دین پہنچادیا ہے۔ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا جو لوگ یہاں موجود ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان تک یہ باتیں پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ اس کے بعد راوی نے حدیث ذکر کی خون کی حرمت کے بارے میں۔ مالوں اور عزتوں کے بارے میں۔ اس اسناد میں بعض مجہول بھی ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← شبيه أبو قلابة ← العلاء بن مسلمة الهذلي البصري ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5137

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5138

5138 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء ثنا محمد بن الحسن المخزومي بالمدينة قال : حدثتني أم سلمة بنت العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيها عن جدها عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل يقول يوم القيامة أمرتكم فضيعتم ما عهدت إليكم فيه و رفعتم أنسابكم فاليوم أرفع نسبي و أضيع أنسابكم اين المتقون اين المتقون إن أكرمكم عند الله أتقاكم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو محمد بن حسن مخزومی نے مدینے میں وہ کہتے ہیں مجھ پر حدیث بیان کی ام سلمہ بنت علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابوہریرہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے میں نے تمہیں حکم دیا تھا تم نے اس عہد کو ضائع کر دیا تھا جو میں نے اس میں تمہارے ساتھ کیا تھا تم لوگوں نے اپنے اپنے نسبوں کو اونچا کیا تھا اور آج میں اپنا نسب اونچا کرتا ہوں اور تمہارے نسبوں کو ضائع کرتا ہوں کہاں ہیں تقویٰ والے کہاں میں تقوے والے؟ بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جدها ← أَبِيهَا ← حدثتني أم سلمة بنت العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب ← محمد بن الحسن المخزومي بالمدينة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5138

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5139

5139 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب ثنا محمد بن القاسم الأسدي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحفيد ثنا أحمد بن نفير ثنا أبو غسان النهدي قالا ثنا طلحة بن عمرو عن عطاء بن أبي رباح عن أبي هريرة : أنه تلا قول الله عز و جل { إن أكرمكم عند الله أتقاكم } قال إن الله يقول يوم القيامة : يا أيها الناس جعلت نسبا و جعلتم نسبا فجعلت أكرمكم أتقاكم و ابيتم إن لا تقولوا فلان ابن فلان أكرم من فلان بن فلان و إني أرفع اليوم نسبي واضع أنسبكم أين المتقون زاد النهدي في رواية قال طلحة : فقال لي عطاء : يا طلحة ما أكثر الأسماء يوم القيامة على اسمي و اسمك فإذا دعى فلا يقوم إلا من عفا هذا هو المحظوظ بهذا الإسناد موقوف

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو محمد بن قاسم اسدی نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ بن احمد حفید نے ان کو احمد بن نضری نے ان کو ابوغسان نہدی نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے طلحہ بن عمر نے ان کو عطا بن ابورباح نے ان کو ابوہریرہ نے کہ انہوں نے اللہ کا یہ فرمان تلاوت کیا۔ ان اکرمکم عنداللّٰه اتقاكم. فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے۔ اے لوگو میں نے ایک نسبت مقرر کیا تھا اور تم نے بھی ایک نسب مقر رکیا تھا۔ میں نے تم میں سے زیادہ عزت والا تم میں سے زیادہ تقویٰ والے کو بنایا تھا۔ اور تم لوگوں نے انکار کر دیا تھا۔ یہ کہ نہ کہوں تم کو فلاں بن فلاں زیادہ عزت والا ہے فلاں بن فلاں سے میں آج کے دن اپنے مقرر کردہ نسب (تقویٰ کو) اونچا کرتا ہوں اور تمہارے مقرر کردہ نسبوں کو ضائع کرتا ہوں کہاں ہے تقوے والے۔ نہدی نے ایک روایت میں۔ اضافہ کیا ہے۔ کہ طلحہ نے کہا کہ مجھ سے عطاء نے کہا اے طلحہ قیامت کے دن میرے اور تیرے نام پر کس قدر زیادہ نام ہوں گے اللہ تعالیٰ جب بلائیں گے نہیں کھڑا ہوگا مگر وہی جس کو اس نے معاف کر دیا ہوگا۔ اس اسناد کے ساتھ ہی محفوظ ہے موقوف ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5139

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5140

5140 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا يحيى بن محمد العنبري ثنا أبو علي الحسين بن أحمد بن الفضيل البلخي ثنا مجاهد بن موسى ثنا الوليد بن مسلم عن طلحة بن عمرو عن عطاء عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول الله تبارك و تعالى يوم القيامة : أيها الناس فذكره إلى قوله أين المتقون قال : فلا يقوم إلا من عفا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوزکریا یحییٰ بن محمد عنبری نے ان کو ابوعلی حسین بن احمد بن فضل بلخی نے ان کو مجاہد بن موسیٰ نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو طلحہ بن عمرو نے ان کو عطاء نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے اے لوگو۔ پھر راوی نے اس کو ذکر کیا ہے المتقون تک اور کہا ہے کہ نہیں کھڑ اہو گا مگر جس کو اس نے معاف کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ← أبو علي الحسين بن أحمد بن الفضيل البلخي ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5140

chevron_left Previous
1…293031…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood