Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5105

5105 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا ابن أبي الدنيا نا عبيد الله بن عمر حدثني عبد الله بن داود عن القاسم بن سلمان عن الشعبي : لعن المغني و المغنى له

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو حدیث بیان کی عبداللہ بن داؤد نے قاسم بن سلمان سے ان کو شعبی نے لعن المغى المغنى له۔ لعنت کی گئی ہے گانے والے پر اور اس پر جس کے لئے گانا گایا گیا۔ (یعنی گانے والا اور گانا سننے والا دونوں پر لعنت ہے۔)

الشعبي لعن المغني و المغنى له ← القاسم بن سلمان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5105

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5106

5106 - قال : و أنا الحسين نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني أبي و أحمد بن منيع نا مروان بن شجاع عن عبد الكريم الجزري قال : إذا رأيتم الرجل قد هجر المسجد و عكف على الغناء و الشراب فلا تسألوا عنه

انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے حسین نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ان کے والد نے اور احمد بن منبع نے ان کو مروان بن شجاع نے ان کو عبدالکریم جزری نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم دیکھو کہ فلاں آدمی مسجد کو خیر باد کہہ چکا ہے اور گانے اور پینے کی محفل آباد کر چکا ہے اس کے بارے مت پوچھو۔ (یعنی اس کی خیر صلاح مت پوچھو۔)

عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ← أبي و أحمد بن منيع ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الحسين ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5106

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5107

5107 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن محمد نا أحمد بن إبراهيم بن كثير نا أبو إسحاق الطلقاني عن الفضل بن موسى عن داود بن عبد الرحمن عن خالد بن عبد الرحمن قال : كنا في عسكر سليمان بن عبد الملك فسمع غناء من الليل فأرسل إليهم بكرة فجيء بهم فقال : إن الفرس لتصهل فيسوق له الرمكة و إن الفحل ليخطر فتضبع له الناقة و إن التيس فتستحرم به العنز و إن الرجل ليتغنى فتشتاق إليه المرأة ثم قال : اخصوهم فقال عمر بن عبد العزيز : هذا مثلة و لا يحل فخلى سبيلهم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو احمد بن ابراہیم بن کثیر نے ان کو ابواسحاق طلقانی نے ان کو افضل بن موسیٰ نے ان کو داؤد بن عبدالرحمٰن نے ان کو خالد بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سلیمان بن عبدالملک کے لشکر میں تھے۔ انہوں نے رات کو گانے کی آواز سنی تو صبح ان کے پاس بندہ بھیج کر ان کو طلب کر لیا۔ اور ان سے کہا کہ بے شک گھوڑ ا جب ہنہناتا ہے تو اس کے پاس گھوڑی ضرور چل کر آتی ہے۔ اور بے شک نر اونٹ البتہ جھومتا ہے بڑ بڑاتا ہے تو اس کے لئے اونٹنی جفتی کی خواہش کرتی ہے۔ اور بے شک بکرا (چھیلا۔ البتہ) بڑ بڑاتا ہے تو مادہ بکری اس کی طرف مائل ہوتی ہے۔ اور بے شک آدمی البتہ گاتا ہے سر لگاتا ہے تو عورت اس کی طرف مشتاق ہوتی ہے۔ اس کے بعد حکم دیا کہ ان کو خصی کر دو۔ لہذا حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سفارش کی کہ یہ مثلہ ہوگا (ناک کان کاٹ کر عیب دار کرنا) جو کہ حلال نہیں ہے لہذا خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے ان کو چھوڑ دیا (تنبیہ کرنے کے بعد۔)

كنا في عسكر سليمان بن عبد الملك ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أبو إسحاق الطلقاني ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5107

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5108

5108 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسبن بن صفوان نا عبد الله بن محمد حدثني الحصين بن عبد الرحمن قال : قال الفضيل بن عياض الغناء رقية الزنى 5108 - أخبرنا أبو الحسين أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني إبراهيم بن محمد الرفدي عن أبي عثمان الليثي قال : قال يزيد بن الوليد الناقض يا بني أمية إياكم و الغناء فإنه ينقص الحياء و يزيد في الشهوة و يهدم المروءة و إنه لينوب عن الخمر و يفعل ما يفعل السكر فإن كنتم لا بد فاعلين فجنبوه النساء إن الغناء داعية الزنى

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو حصین بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض نے فرمایا: الغناء رقية الزنا۔ گناہ زنا کا منتر ہے۔

أبي عثمان الليثي ← إبراهيم بن محمد الرفدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحَسَينِ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ: الْغِنَاءُ رُقْيَةُ الزِّنَى ← الْحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الحس بن بن صفوان ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5108

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5109

5109 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا ابن صفوان نا عبد الله بن محمد قال : حدثني محمد بن الفضل الأزدي قال : نزل الحطه رجل من العرب و معه ابنته مليكة فلما جنه الليل سمع غناء فقال لصاحب المنزل : كف هذا عني قال له : و ما تكره من ذلك فقال : إن الغناء زائدة من زائدة الفجور و لا أحب أن تسمعه هذه يعني ابنته فإن كففته و إلا خرجت عنك قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : ترك الغناء و الإعراض عن استماعه خير لما ذهب إليه هؤلاء السلف رحمهم الله ثم إن كان شعر محظور فهو حرام و ذلك بأن يكون مقولا في جنس غير حلال كالغلمان أو في محرمة من جنس حلال قال الحليمي رحمه الله : و إنما خرج ذلك لما فيه من الإغراء بالحرام فدخل في قوله تعالى : { و لا تعاونوا على الإثم و العدوان } و إن كان الغناء بشعر قيل في المجلس المحلل لا في عين الخاصة فلا بأس

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو محمد بن فضل ازدی نے وہ کہتے ہیں کہ ایک عرب رات کو کسی کے ہاں مہمان بنا اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی۔ جب رات چھا گئی تو اس نے گانا گانے کی آواز سنی تو گھر کے مالک سے کہا کہ اس کو مجھ سے روک دو۔ اس نے کہا کہ اس میں سے آپ کیا ناپسند کرتے ہیں؟ عرب نے کہا کہ بے شک گانا ایک اضافہ ہے اضافی گناہوں میں سے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میری یہ بیٹی اس کو سنے اگر آپ اس کو روکتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں تیرے گھر سے نکل جاتا ہوں۔ شیخ احمد رحمہ اللہ نے فرمایا۔ کہ گانا گانے کو چھوڑ دینا اور اس کے سننے سے گریز کرنا بہتر ہے بوجہ اس کے کہ یہ تمام مذکور سلف رحمہم اللہ اسی طرف گئے ہیں۔ پھر دیکھا جائے گا کہ اگر گانے کے اشعار ممنوع ہیں برے ہیں تو حرام ہے یہ اس لئے ہے کہ یہ الفاظ ہیں غیر حلال جنس کے جیسے لڑکے وغیرہ۔ یا جنس غیر حرام حلال جنس سے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا سوائے اس کے نہیں کہ اس کو نکالا ہے اس لئے کہ اس میں حرام کا دھوکہ ہے یا حرام پر جری کرنا ہے اندر اسی آیت کے تحت داخل ہے۔ ولا تعاونوا على الاثم والعدوان۔ نہ تعاون کرو گناہ اور سرکشی پر۔ اگر گانا شعر کے ساتھ ہو جو حلال مجلس میں کہے گئے ہوں نہ کہ کسی خاص غلط محفل کے تو اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔

محمد بن الفضل الأزدي ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5109

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5110

5110 - فقد روينا عن عائشة قال : دخل أبو بكر و عندي جاريتان من جواري الأنصاري يغنيان بما تناولت الأنصار يوم بعاث قالت : و ليستا بمغنيتين فقال أبو بكر : أمزمور الشيطان في بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و ذلك يوم عيد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا بكر إن لكل قوم عيدا و هذا عيدنا

اور تحقیق ہم نے روایت کیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے (والد محترم) سیدنا ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے جب کہ میرے پاس دو لڑکیاں بیٹھی تھیں انصاریوں کی لڑکیوں میں سے دونوں گانا گا رہی تھیں ان اشعار کے ساتھ جو جنگ بغات والے دن انصار نے کہے تھے۔سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ وہ گانے والیاں نہیں تھیں ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا شیطانی سہریں یا گانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہو رہے ہیں؟ اور یہ عید کا دن تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر ہر قوم کی ایک خوشی اور عید ہوتی ہے۔یہ ہماری عید ہے۔

عَائِشَةَ ← فَقَدْ رُوِّينَا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5110

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5111

5111 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا أحمد بن عبد الحميد نا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث أبي أسامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید نے ان کو ابواسامہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا اور بخاری مسلم نے ان کو نقل کیا ہے صحیح میں ابواسامہ کی روایت سے۔

عائشة فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث أبي أسامة ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5111

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5112

5112 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري نا عثمان بن سعيد الدارمي نا عبد الله بن عبد الجبار الجابري نا عبد الله بن حميد قال : سأل أبي الزهري و أنا أسمع هل كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم رخصة في الغناء ؟ فقال الزهري : نعم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا هو بجارية في يدها دف تغني فلما رأت رسول الله صلى الله عليه و سلم تخوفت و أشفقت و أنشأت تقول : ( يا أيها الركب المحول رحله هل لا نزلت بدار عبد مناف ) ( ثكلتك أمك لو نزلت بدارهم منعوك من ضيم و من أقراف )

اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواسحٰق ابراہیم بن اسماعیل قاری نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن عبدالجبار جابری نے ان کو عبداللہ بن حمید نے وہ کہتے ہیں سوال کیا میرے والد نے زہری سے اور میں سن رہا تھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے گانا گانے کے بارے میں رخصت تھی؟ یا رخصت ہے؟ تو امام زہری نے فرمایا جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اچانک آپ نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں دف تھی اور وہ گانا گا رہی تھی، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ڈرنے لگی اور گھبرانے لگی اور شعر پڑھتے ہوئے کہنے لگی۔(اشعار کا مفہوم میں ہے۔) اے سوار جو اپنے پالان پر براجمان ہے کیوں نہیں اترا تو دار عبد مناف میں۔ گم پائے تجھے تیری ماں اگر تو ان کی دار میں اترتا تو وہ بچے روک دیتے ظلم و ستم سے اور سرکشی سے۔

سأل أبي الزهري و ← عَبْدِ اللهِ بْنِ حُمَيْدٍ ← عبد الله بن عبد الجبار الجابري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5112

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5113

5113 - و روينا عن جماعة من الصحابة رضي الله عنهم : ترنمهم بالأشعار و هذا في الأشعار التي يكون إشنادها حلالا و يكون الترنم بها في بعض الأحايين دون بعض فإن كان يغني بها فيتخذ الغناء صناعة يؤتى عليه و يأتي له و يكون منسوبا إليه مشهورا به فقد قال الشافعي رحمة الله عليه : لا تجوز شهادته و ذلك أنه من اللهو المكروه الذي يشبه الباطل و إن من صنع هذا كان منسوبا إلى السفه و سقاطة المروءة و من رضي هذا لنفسه كان مستحقا و إن لم يكن محرما بين التحريم قال الشيخ أحمد : و إن لم يداوم على ذلك لكنه ضرب عليه بالأوتار فإن ذلك لا يجوز بحال و ذلك لأن ضرب الأوتار دون الغناء غير جائز لما فيه من الأخبار و بمعناه ذكره الحليمي رحمه الله و غيره

ہم نے روایت کی ہے صحابہ کی جماعت سے سر کے ساتھ انکا اشعار کہنا۔ یہ اشعار ہوتے تھے جو اشناد (معنوی طور پر غلط میں حرام نہیں ہوتے تھے) بلکہ حلال ہوتے تھے۔اور ان کے ساتھ سر لگانا یا ترنم کے ساتھ پڑھنا بعض اقات میں ہوتا تھا۔ بعض اوقات میں نہیں ہوتا تھا۔ اگر ان کے ساتھ گانا گایا ہوتا تو (اسلام میں) گانے کو ایک صنعت کے طور پر لیا گیا ہوتا۔ جس کو اپنایا جاتا۔ اور اس پر عمل ہوتا۔ اوران میں ہر صحابی کی طرف کوئی گانا منسوب ہوتا اور اسی کے نام سے مشہور ہوتا۔ پس تحقیق فرمایا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہ گانا گانے والے کی شہادت جائز نہیں ہے۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ گانا مکروہ کھیل ہے جو کہ باطل کے مشابہ ہے۔ اور بے شک جس شخص نے بھی یہ کام کیاوہ حماقت و بے وقوفی کی طرف منسوب ہوا۔ اور مروت اور اخلاقی گراوٹ کی طرف منسوب ہوا اور جس نے اس پیشے کو اپنے لئے پسند کیا بے عزت ہوا۔ اگرچہ واضح تحریم کے ساتھ حرام نہ بھی ہو۔ شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اگر اس طرح اشعار گانے کو ہمیشہ نہ کرے مگر اس پر اوتار پیٹے (ڈھولک دف وغیرہ آلات موسیقی استعمال کرے) تو یہ کسی حال میں بھی درست نہیں ہے۔ ناجائز ہے۔ کیونکہ گانے کے بغیر بھی یہ آلات بجانا ناجائز ہے۔

و روينا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5113

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5114

5114 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني معاوية بن صالح عن حاتم عن مالك بن أبي مريم عن عبد الرحمن بن غنم الأشعري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ليشربن أناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها و يضرب على رؤوسهم المعازف يخسف الله بهم الأرض و يجعل منهم قردة و خنازير

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے اور ابوبکر احمد بن حسن نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم نے ان کو ابن وہب نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو حاتم نے ان کو مالک بن ابومریم نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے ان کو رسول اللہ نے کہ انہوں نے فرمایا۔البتہ ضرور کچھ لوگ میری امت میں سے شراب پئیں گے۔ اس کو اس نام کے علاوہ کوئی نام دیں گے اور ان کے سروں پر گانے بجانے کے آلات پیٹے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو زمین میں دھنسا دیں گے اور ان میں بعض کو بندر اور بعض کو سور بنا دے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري، ← مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← حَاتِمٌ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5114

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5115

5115 - و روينا في هذا المعنى عن عطية بن قيس بن عن عبد الرحمن بن غنم عن أبي عامر أو أبي مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم ليكونن في أمتي أقوام يستحلون الحرير و الخمر و المعازف ثم ذكر ما يكون على بعضهم من المقت و على بعضهم من المسخ و من ذلك الوجه أخرجه البخاري في الصحيح

ہم نے روایت کی ہے اس معنی میں عطیہ بن قیس سے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو ابوعامر نے ان کو ابومالک نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ البتہ ضرور ہوں گے میری امت میں وہ لوگ جو حلال سمجھیں گے ریشم کو اور شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کو۔ اس کے بعد وہ ذکر کیا جو ان کے بعض پر ہوگا غصہ اللہ کی ناراضگی۔ اور بعض پر شکلیں بدل جانا۔ اور اسی طریق سے اس کا نقل کیا ہے بخاری صحیح میں۔

أبي عامر أو أبي مالك ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عطية بن قيس بن ← و روينا في هذا المعنى

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5115

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5116

5116 - فروينا عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تبارك و تعالى حرم عليكم الخمر و الميسر و الكوبة و هي الطبل

پس ہم نے روایت کی ہے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا۔ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے اوپر حرام کر دیا ہے شراب کو اور جوئے کو اور الکوبتہ کو یہ طبل اور ڈھولک ہے۔ یا بڑا ڈھول۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← فروينا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5116

chevron_left Previous
1…272829…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood