Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5081

5081 - أخبرنا أبو محمد السكري ببغداد أنا أبو بكر الشافعي نا جعفر بن محمد بن الأزهر نا أبو عبد الرحمن الغلابي قال : حدثني بعض أصحاب أبي عيينة قال : كنا عنده فجاء رجل من أهل بغداد فقال له : كيف أبوك ؟ كيف حاله ؟ إني لأكثر ذكره فلما قام قال لأصحاب الحديث : انظروا إلى فصل القول قلت له : إني لأكثر ذكره و ما أكثر ذكره

ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے بغداد میں ان کو ابوبکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن ازھر نے ان کو ابوعبدالرحمٰن غلابی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے بعض اصحاب ابن ابوعیینہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس بیٹھے تھے لہذا ان کے پاس اہل بغداد میں سے ایک آدمی آگیا انہوں نے اس سے پوچھا کہ تیرے والد کا کیا حال ہے؟ وہ کیسے ہیں؟ میں کثرت کے ساتھ ان کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو اصحاب حدیث سے کہا توجہ کرو فصل قول کو دیکھو کہ میں نے اس سے کہا ہے کہ بے شک میں البتہ زیادہ کرتا ہوں اس کے ذکر کو۔ حالانکہ نہیں زیادہ کرتا میں اس کے ذکر کو۔

له كيف أبوك كيف حاله إني لأكثر ذكره فلما قام ← كنا عنده فجاء رجل من أهل بغداد ← بعض أصحاب أبي عيينة ← أبو عبد الرحمن الغلابي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5081

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5082

5082 - قال و نا الغلابي حدثني أبي حدثني عبد الله بن ثعلبة الحنفي قال : ذاكرت محمد بن مسلم الطائفي فضول النظر ؟ فقال : ما أدري غير أن عبد الله بن المبارك حدثني قال : حدثني عبد الوهاب بن مجاهد أنهم بنوا غرفة في دارهم مقابل من دخل من باب الدار فمكث ثلاث عشرة سنة أو أربع عشرة سنة فرفع أبي رأسه فقال : متى أحدثتم هذه الغرفة

اور کہا ہے انہوں نے کہ ہمیں خبر دی ہے غلابی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن علی حنفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے یاد دہانی کرائی محمد بن مسلم طائفی کو غیر ضروری نظر کیا ہے؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا علاوہ اس کے کہ عبداللہ بن مبارک نے مجھے بات بتائی تھی کہ ان کو بتائی عبدالوہاب بن مجاہد نے کہ ان لوگوں نے اپنے گھر میں اوپر ایک کمرہ بنایا تھا گھر کے دروازے کے سامنے جس کو تیرہ چودہ سال گذر گئے کہ ایک دن میرے والد نے سر اٹھا کر دیکھا تو پوچھا کہ تم لوگوں نے یہ کمرہ یہ بالاخانہ کب بنایا۔

ما أدري غير ← ذاكرت محمد بن مسلم الطائفي فضول النظر ← عَبْدَ اللهِ بْنَ ثَعْلَبَةَ الْحَنَفِيَّ، ← أَبِي ← الغلابي، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5082

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5083

5083 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين عن عبيد الله بن محمد عن عبد الجبار بن النصر السلمي قال : مر حسان بن أبي سنان بغرفة فقال : متى بنيت هذه ؟ ثم أقبل على نفسه فقال : تسألين عما لا يعنيك لأعاقبنك بصوم سنة فصامها

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو عبیداللہ بن محمد نے ان کو عبدالجبار بن نصر سلمی نے انہوں نے کہا کہ حسان بن ابوسنان ایک بالا خانے کے پاس سے گذرے اور پوچھا کہ یہ کب بنا ہے؟ پھر اپنے آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم ایسی چیز کے بارے میں کیوں سوال کر رہے ہو جس کی تمہیں ضرورت نہیں ہے البتہ میں تجھے سزا دوں گا ایک سال کے روزے رکھنے کی پھر انہوں نے سال بھر کے روزے رکھے۔

تسألين عما لا يعنيك لأعاقبنك بصوم سنة فصامها ← متى بنيت هذه ثم أقبل على نفسه ← مَرَّ حَسَّانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ بِغُرْفَةٍ ← عبد الجبار بن النصر السلمي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5083

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5084

5084 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : و فيما ذكر شيخنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو حفص مولى بني هاشم عن أبي زيد محمد بن حسان قال : سمعت ابن المبارك يقول : ( اغتنم ركعتين زلفى إلى الله إذا كنت فارغا مستريحا ) ( و إذا ما هممت بالنطق في الباطل فاجعل مكانه تسبيحا ) ( فاغتنام السكوت أفضل من خوض و إن كنت في الحديث فصيحا )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے۔ کہتے ہیں کہ اس میں جو ہمارے شیخ ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابوبکر بن ابوالدنیا نے ان کو ابوحفص مولیٰ بنی ہاشم نے ان کو ابوزید محمد بن حسان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مبارک سے وہ کہتے ہیں۔ (شعر جن کا مفہوم یہ ہے۔) جب تو فارغ ہو آرام کر رہا ہوتو دو رکعت نقل کو پڑھ کر اللہ کا قرب حاصل کرنے کو غنیمت سمجھ۔ اور جب کسی باطل میں بولنے کا ارادہ کرے تو اس کی جگہ اللہ کی تسبیح کر۔ خاموشی کو غنیمت جاننا افضل ہے کسی بات میں منہمک ہونے سے اگرچہ صحیح ہو۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أبي زيد محمد بن حسان ← أبو حفص مولى بني هاشم ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← شيخنا أبو عبد الله الصفار ← و فيما ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5084

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5085

5085 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد حدثني إبراهيم بن عبد الواحد العبسي نا وريزة بن محمد الحمصي حدثني عبد الله بن عبد الوهاب بن محمد الخوارزمي قال : كان عبد الله بن المبارك كثيرا ما يتمثل بأبيات حميد النحوي اغتنم ركعتين فذكر الأبيات الثلاثة غير أنه قال بالحديث فصيحا

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کوخبر دی ابوبکر محمد بن داؤد بن سلیمان زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبدالواحد عیسیٰ نے ان کو وریزہ بن محمد حمصی نے ان کو عبداللہ بن عبدالوہاب نے بن محمد خوارزمی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارک اکثر مثل بیان کرتے تھے حمید نحوی کے اشعار کے ساتھ غنیمت سمجھ دو رکعتیں تین اشعار ذکر فرمائے مذکور صرف فی الحدیث کی جگہ بالحدیث فرمایا۔

عبد الله بن عبد الوهاب بن محمد الخوارزمي ← وريزة بن محمد الحمصي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَبْسِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5085

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5086

5086 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنشدني أبو القاسم عبيد الله بن محمد قاضي الرملة قال : أنشدني منصور بن إسماعيل الفقيه لنفسه : ( الخير أجمع في السكو ت و في ملازمة البيوت ) ( فإذا تأتى ذا و ذاك فاقتنع بأقل قوت )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا کہ مجھے شعر سنایا ابوالقاسم عبیداللہ بن محمد قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے ابوالحسن علی بن محمد قاضی رملہ نے وہ کہتے ہیں مجھے شعر سنائے منصور بن اسماعیل فقیہ نے جو ان کا اپنا کلام ہے۔ جن کا مفہوم یہ ہے۔ خاموشی اختیار کرنے اور اپنے گھروں میں رہنے کی پابندی کرنے میں خیر زیادہ جمع ہے جب تم یہ دونوں کام کرو تو تم کم سے کم روزی پر قناعت بھی کرو۔

أنشدني أبو القاسم عبيد الله بن محمد قاضي الرملة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5086

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5087

5087 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يمتلئ جوف الرجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي معاوية و عن أبي سعيد الأشج عن وكيع عن الأعمش و زاد فيه قيحا يريه و أخرجه البخاري من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابومعاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے البتہ اگر انسان کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے اسے شعر سے بھرے۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں ابوکریب سے اس نے ابومعاویہ سے اس نے ابوسعید اشج سے اس نے وسیع سے اس نے اعمش سے اس نے اس میں یہ لفظ اضافہ کیا ہے فحاًیریہ اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے اعمش سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5087

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5088

5088 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا زكريا الساجي نا الحارثي نا أبو هلال الراسبي عن عبد الله بن بريدة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قال في الإسلام شعرا مقذعا فلسانه هدر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو زکریا ساجی نے ان کو حارثی نے ان کو ابوہلال راسی نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اسلام میں (آنے کے بعد) شعر کہے اس حال میں کے فحش گوئی کرنے والا ہو لہذا اس کی زبان ضائع اور رائیگاں ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ ← الْحَارِثِيُّ، ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5088

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5089

5089 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد بن هارون أنا قزعة بن سويد الباهلي عن عاصم بن مخلد عن أبي الأشعث الصنعاني عن شداد بن أوس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرض ببيت شعر بعد عشاء الآخرة لم يقبل له الصلاة تلك الليلة و كذلك رواه عبد القدوس بن حبيب عن أبي الأشعث و روينا عن عائشة أنها قالت : كان الشعر أبغض الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال الشيخ أحمد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو قرعہ بن سوید باہلی نے ان کو عاصم بن مخلد نے ان کو ابوالاشعث صنعانی نے ان کو شداد بن اوس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شعر گوئی کرے گھر میں عشاء کے بعد اس رات اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عبدالقدوس بن حبیب نے ابوالاشعث سے۔ اور ہم نے روایت کی ہے سیدہ عائشہ سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ شعر گوئی (جو مذکورہ قبائح سے پر ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ابغض الحدیث تھے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے سخت نفرت تھی۔)

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَاصِمِ بْنِ مَخْلَدٍ، ← قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5089

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5090

5090 - ـ : و قد روينا فيما يباح من الشعر و يكره بعض ما بلغنا في الجزء السادس و السابع من كتاب الشهادات من كتاب السنن من أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله

ہم نے احادیث روایت کی ہیں۔ان اشعار کے بارے میں جو مباح اور جائز ہیں۔اور بعض مکروہ ہیں ان روایات کے مطابق جو ہمارے پاس پہنچی ہیں۔ ہم نے ان کو کتاب الشہادت کی چھٹی۔ساتویں جز میں روایت کیا ہے کتاب السنن میں سے جو شخص ان پر مطلع ہونا چاہے انشاءاللہ وہ اسی کی طرف رجوع کرے۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5090

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5091

5091 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : لما هبط إبليس قال : أي رب قده فما عمله ؟ قال : السحر فما قرآنه ؟ قال : الشعر قال : فما كتابه ؟ قال : الوشم قال فما طعامه ؟ قال : كل ميتة و ما لم يذكر اسم الله عليه قال : فما شرابه ؟ قال : كل مسكر قال : فأين مسكنه ؟ قال : الحمام قال : فأين مجلسه ؟ قال : الأسواق قال : فما صوته ؟ قال : المزمار قال : فما مصائده ؟ قال : النساء

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں جب ابلیس کو زمین پر اتارا گیا تھا تو اس نے پوچھا تھا۔ میرا عمل کیا ہوگا ؟ فرمایا سحر اور جادو۔اس نے پوچھا کہ میرا قرآن کیا ہوگا؟ فرمایا کہ شعر۔ اس نے پوچھا کہ میری کتاب کیا ہوگی؟ فرمایا وشم یعنی جسم کو گود کر اس میں نیل وغیرہ رنگ بھرنا۔ اس نے کہا کہ اس کا طعام کیا ہوگا؟ فرمایا کہ ہر مردار اور وہ جس پر اللہ نام ذکر نہ کیا جائے۔ اس نے پوچھا کہ اس کا پینا کیا ہوگا؟ فرمایا ہر نشہ آور چیز۔ اس نے پوچھا کہ اس کا ٹھکانہ کیا ہوگا؟ فرمایا کہ بیت الخلاء۔ اس نے پوچھا کہ اس کا اٹھنا بیٹھنا کیا ہوگا؟ فرمایا کہ بازار۔اس نے پوچھا کہ اس کی آواز کیا ہوگی؟ فرمایا کہ بانسری اور راگ اور گانا بجانا اس نے پوچھا کہ اس کا چال کیا ہوگا؟ فرمایا کہ عورتیں ہوں گی۔

النِّسَاءِ. ← فما مصائده ← المزمار ← فما صوته ← الأسواق ← فأين مجلسه ← الحَمَّامُ. ← فأين مسكنه ← كُلِّ مُسْكِرٍ» ← فما شرابه ← كل ميتة و ما لم يذكر اسم الله عليه ← فما طعامه ← الْوَشْمِ ← فما كتابه ← الشِّعْرُ ← السحر فما قرآنه ← أي رب قده فما عمله ← لما هبط إبليس ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5091

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5092

5092 - و بإسناده قال أنا معمر عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن أربى الربى شتم الأعراض و أشد الشتم الهجاء و الرواية أحد الشاتمين

اپنی اسناد کے ساتھ اس نے کہا ہے کہ ہمیں خبر دی ہے معمر نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا ربا اور سود عزت کی گالی دینا ہے اور سب سے زیادہ سخت گالی ھجو اور برائی کرنا ہے اور اس کو نقل کرنے والا دو گالی دینے والوں میں سے ایک ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5092

chevron_left Previous
1…252627…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood