شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5081
5081 - أخبرنا أبو محمد السكري ببغداد أنا أبو بكر الشافعي نا جعفر بن محمد بن الأزهر نا أبو عبد الرحمن الغلابي قال : حدثني بعض أصحاب أبي عيينة قال : كنا عنده فجاء رجل من أهل بغداد فقال له : كيف أبوك ؟ كيف حاله ؟ إني لأكثر ذكره فلما قام قال لأصحاب الحديث : انظروا إلى فصل القول قلت له : إني لأكثر ذكره و ما أكثر ذكره
ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے بغداد میں ان کو ابوبکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن ازھر نے ان کو ابوعبدالرحمٰن غلابی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے بعض اصحاب ابن ابوعیینہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس بیٹھے تھے لہذا ان کے پاس اہل بغداد میں سے ایک آدمی آگیا انہوں نے اس سے پوچھا کہ تیرے والد کا کیا حال ہے؟ وہ کیسے ہیں؟ میں کثرت کے ساتھ ان کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں جب وہ اٹھ کر چلا گیا تو اصحاب حدیث سے کہا توجہ کرو فصل قول کو دیکھو کہ میں نے اس سے کہا ہے کہ بے شک میں البتہ زیادہ کرتا ہوں اس کے ذکر کو۔ حالانکہ نہیں زیادہ کرتا میں اس کے ذکر کو۔
له كيف أبوك كيف حاله إني لأكثر ذكره فلما قام ← كنا عنده فجاء رجل من أهل بغداد ← بعض أصحاب أبي عيينة ← أبو عبد الرحمن الغلابي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5081
