Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5069

5069 - قال و كان لا يغتاب في مجلسه أحد و يقول : إن ذكرتم الله أغناكم و إن ذكرتم الناس تركناكم

فرمایا کہ مجلس میں کسی کی غیبت نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ فرماتے تھے اگر تم اللہ کا ذکر کرو گے تو وہ تمہیں غنی کر دے گا اور اگر تم لوگوں کا تذکرہ کرو گے تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔

إن ذكرتم الله أغناكم و إن ذكرتم الناس تركناكم ← و كان لا يغتاب في مجلسه أحد و

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5069

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5070

5070 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط نا علي بن عيسى البزار حدثني محمد بن الحسين نا عمر بن جرير البجلي قال : سمعت أبا طالب القاص يقول : كان يقال جوامع البرفي طول الفكرة و الصمت سلامة و الخوض في الباطل حسرة و ندامة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابوعثمان سعید بن عثمان حناط نے ان کو علی بن عیسیٰ براز نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو عمر بن جریر بجلی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوطالب واعظ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا جامع نیکی لمبی فکر و سوچ ہے اور خاموشی ہے سلامتی امر باطل اور بیہودہ گوئی میں گھسنا افسوس اور ندامت ہے۔

أبا طالب القاص ← عمر بن جرير البجلي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْبَزَّارُ، ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5070

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5071

5071 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو الحسين محمد بن عبد الله الغزال نا أبو بكر أحمد بن محمد بن الحسن الذهبي حدثني حبيب بن بشر قال : سمعت الأصمعي يقول : كان يقال الناس غانم و سالم و شاجب فالغانم من قال خيرا فغنم و السالم من سكت سلم و الشاجب من قال شرا فشجب أهلك نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسین محمد بن عبداللہ عزال نے ان کو ابوبکر احمد بن محمد بن حسن ذہبی نے ان کو حبیب بن بشر نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اصمعی سے وہ کہتے ہیں۔ کہا جاتا تھا کہ لوگ تین طرح کے ہیں۔ بلامشقت فائدہ حاصل کر نیوالے۔ دوسرے سالم رہنے والے۔ تیسرے بکواس کرنے والے ہلاک ہونے والے۔ غانم وہ ہے جو خیر کی بات کہے، اور سالم وہ ہے جو خاموشی اختیار کرے اور سلامت رہے اور شاجب وہ ہے جو بری بات کہے اور اپنے نفس کو ہلاک کرے۔

شرا فشجب أهلك نفسه ← خيرا فغنم و السالم من سكت سلم و الشاجب من ← كان يقال الناس غانم و سالم و شاجب فالغانم من ← الْأَصْمَعِيُّ ← حبيب بن بشر ← أبو بكر أحمد بن محمد بن الحسن الذهبي ← أبو الحسين محمد بن عبد الله الغزال ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5071

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5072

5072 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن علي عن أبي عبيد قال : سمعت أبا النضر يحدث عن شيبان عن آدم بن علي قال : سمعت أخا بلال مؤذن رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الناس ثلاث أقسام فسالم و غانم و شاجب فالسالم الساكت و الغانم الذي يأمر بالخير و ينهي عن المنكر و الشاجب الناطق بالخنا و المعين على الظلم قال أبو عبيد هكذا في الحديث و الشاجب الإثم الهالك و هو يرجع إلى هذا

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو علی نے ان کو ابوعبید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوالنضر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے شیبان سے وہ آدم بن علی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت بلال مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی سے کہتے تھے کہ لوگ تین طرح ہیں۔سالم۔ غانم۔ شاجب۔ سالم ساکت ہے خاموش رہنے والا۔ غانم وہ ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے اور شاجب وہ ہے جو بیہودہ بات کرے اور ظلم پر اعانت کرے۔ ابوعبید نے کہا کہ اسی طرح ہے حدیث میں اور شاجب گناہ ہلاکت کرنے والا۔ اور وہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔

آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ ← شَيْبَانَ ← أَبَا النَّضْرِ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5072

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5073

5073 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا عثمان بن أحمد بن السماك ثنا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشرا يقول : عساك أن لا تؤذي جليسك و أنت تؤذي الكرام يعني الملائكة و أخبرنا أبو الحسين أنا عثمان قال : و قال المروزي حدثني أبو الفتح السمسار قال : سمعت أبا نصر يعني بشر بن الحارث يقول : سمعت منصورا يقول : لما خلق الله عز و جل آدم قال : إني جاعل بفيك طبقا فإذا عرض لك أمر لا يحل أن تنطق فيه فاطبقه و إني جاعل لبصرك طبقا فإذا عرض لك أمر لا يحل أن تنظر فيه فاطبقه و إني جاعل لفرجك سترا فلا تكشفه على ما لا يحل لك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر سے وہ کہتے تھے کہ۔ عین ممکن ہے کہ تم اپنے ساتھی کو ایذا نہ پہنچاؤ۔ اور تم کراماً کاتبین فرشتوں کو ایذا پہنچاؤ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین نے ان کو عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ۔ کہا مروزی نے۔ ان کو حدیث بیان کی ابوالفتح سمسار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابونصر سے یعنی بشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا منصور سے وہ کہتے تھے کہ جب اللہ عزوجل نے آدم کو پیدا فرمایا تو فرمایا کہ بے شک میں تیرے منہ کے دو طبقے بنانے والا ہوں جب تجھے کوئی ایسا امر پیش آ جائے جہاں تیرا بولنا حلال نہ ہو تو تم منہ کو بند کر لینا۔ اور میں تیری آنکھوں کے طبقے بنا رہا ہوں جب تیرے سامنے کوئی ایسا امر پیش آ جائے کہ اس کو دیکھنا حلال نہ ہو تو تم آنکھوں کو بند کر لینا اور بے شک میں تیری شرم گاہ کے لئے پردہ بنانے والا ہوں جہاں تیرے لئے حلال نہ ہو اسے نہ کھولنا۔

لما خلق الله عز و جل آدم ← مَنْصُورًا ← أبا نصر يعني بشر بن الحارث ← أَبُو الْفَتْحِ السِّمْسَارُ ← المروزي ← و، ← عُثْمَانَ، ← أَبُو الْحَسَينِ ← عساك أن لا تؤذي جليسك و أنت تؤذي الكرام يعني الملائكة و ← بِشْرًا ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5073

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5074

5074 - أخبرنا أبو حازم الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله الواعظ بهراة يقول : سمعت الحسن بن علوية يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : القلب باب السكينة و اللسان باب القلب فإذا ضاع الباب دخل من أراد و خرج من أراد

ہمیں خبر دی ابوحازم حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر محمد بن عبدواعظ سے ہراۃ میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بن علویہ سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے تھے۔ دل سکینہ کا دروازہ ہے اور زبان دل کا دروازہ ہے جب دروازہ ضائع ہو جائے تو جو چاہے داخل ہو جائے اور جو چاہے خارج ہو جائے۔

يحيى بن معاذ الرازي ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← أبا بكر محمد بن عبد الله الواعظ بهراة ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5074

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5075

5075 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن جعفر بن أحمد بن موسى المزكي يقول : سمعت أبا النضر بكر بن محمد بن إسحاق بن خزيمة يقول : نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت الحسين بن منصور يقول : قال حفص بن عبد الرحمن كان شاب يأتي سعيد بن أبي عروبة و أعجبه و أشرب قلبه حب الفتى و كان يجلس مع الناس فيقوم و يذهب لا يسأله عن شيء قال : فتقدم إليه يوما فأقبل عليه سعيد و هش له فقال : يا أبا النصر القرعة إذا أخذت من المبطخة تدكي ؟ فذهب بسعيد و كان إذا ضحك اشتد ضحكه فأخذ يمسح يديه و يضحك و يقول : ( لسان الفتى نصف و نصف فؤاده فلم يبق إلا صورة اللحم و الدم ) ( و كأين ترى من ساكت لك معجب زيادته أو نقصه في التكلم )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابوبکر محمد بن جعفر بن احمد بن موسیٰ مزکی سے انہوں نے سنا ابوالنصر بکر بن محمد بن اسحاق بن خزیمہ سے ان کو ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے انہوں نے سنا حسین بن منصور سے وہ کہتے ہیں کہ حفص بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ سعید بن ابوعروبہ کے پاس ایک نوجوان آتے تھے۔ وہ انہیں بہت اچھے لگتے تھے بلکہ اس جوان کی محبت ان کے دل میں بس گئی تھی وہ آتے دیگر لوگوں کے ساتھ بیٹھتے پھر اٹھ کر چلے جاتے۔سعید سے کوئی بات بھی نہیں پوچھتے تھے کہتے ہیں کہ وہ ایک دن ان کی طرف بڑھے تو سعید بھی اس کی طرف آگے آگئے اور اس نوجوان کے لئے خوشی کا اظہار کیا۔ پس انہوں نے کہا اے ابوالنصر۔ لوکی جب تم نے مطبخ سے لی تم نے کوٹی؟ پس وہ جوان سعید کو لے گیا۔ اور وہ جب ہنستا تھا تو اس کا ہنسنا شدید ہو جاتا تھا وہ شروع ہوا سعید اس کے ہاتھوں کو چھوتے جاتے اور ہنستے جاتے تھے۔ اور کہہ رہے تھے (شعر جس کی مندرجہ ذیل مفہوم ہے) نوجوان کی زبان نصف ہے اور نصف اس کا دل ہے۔ پس نہیں باقی رہی مگر صورت گوشت اور خون کی۔ اور کتنے خاموش ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں جو تجھے اچھے لگتے ہیں اس کی خوبی یا خامی بات کرنے میں مضمر ہے۔

الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبَا النَّضْرِ بَكْرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبا بكر محمد بن جعفر بن أحمد بن موسى المزكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5075

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5076

5076 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد قال : سمعت أبا العباس الثقفي يقول : سمعت سهل بن علي يقول : نا عبد السلام بن صالح قال : سمع ابن المبارك رجلا يتكلم بما لا يعنيه فقال : احفظ لسانك إن اللسان سريع إلى المرء في قتله و إن اللسان يريد الفؤاد يدل الرجال على عقله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوالعباس ثقفی سے انہوں نے سنا سہل بن علی سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عبدالسلام بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مبارک سے سنا ایک آدمی کو جو بے مقصد بولے چلے جا رہا تھا۔لہذا انہوں نے فرمایا کہ میاں اپنی زبان کی حفاظت کر بے شک زبان بڑی سریع اور تیز ہے انسان کو قتل کرنے میں۔ اور بے شک زبان دل کا ڈاکخانہ ہے یہ مردوں کو اس کے عقل کی رہنمائی کرتی ہے۔

ابن المبارك رجلا يتكلم بما لا يعنيه ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ ← سَهْلُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أبا العباس الثقفي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5076

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5077

5077 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ قال : سمعت إسماعيل بن أحمد الجرجاني يقول : سمعت محمد بن المسيب يقول : سمعت عبد الله بن خبيق قال : سمعت يوسف بن أسباط يقول : قال سفيان الثوري يا شعيب لا تتكلم بلسانك ما يكسر أسنانك

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا اسماعیل بن احمد جرجانی سے انہوں نے سنا محمد بن مسبب سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن خبیق سے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سنا یوسف بن اسباط سے وہ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری نے کہا اے شعیب نہ کلام کر تو اپنی زبان کے ساتھ وہ جو تیرے دانت توڑ دے۔

سفيان الثوري يا شعيب لا تتكلم بلسانك ما يكسر أسنانك ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5077

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5078

5078 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا سليمان بن حرب نا أبو هلال عن داود بن أبي هند قال إياس بن معاوية : كل من لم يعرف عيبه فهو أحمق قيل له يا أبا واثلة فما عيبك قال : : كثرة الكلام قال : و نا حنبل نا حميدي نا سفيان عن عمرو قال : قال عمرو بن العاص إن الكلام إذا كثر فإنما هو بمنزلة العطاس لا يدري انتهت أوله أو آخره

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو ابوہلال نے ان کو داؤد بن ابوہند نے وہ کہتے ہیں کہا ایاس بن معاویہ نے۔ ہر وہ شخص جو اپنا عیب نہ پہچانے وہ سب سے بڑا بے وقوف ہے۔ ان سے پوچھا گیا اے ابوواثلہ آپ کا عیب کیا ہے بولے۔ کثرت کلام۔ اور کہا کہ ہمیں خبر دی حمیدی نے ان کو سفیان بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمرو بن العاص نے بے شک کلام جب زیادہ ہو جاتا ہے تو سوائے اس کے نہیں کہ وہ چھینک کی مانند ہوتا ہے نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا اول یا آخر ختم ہوگا۔

دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5078

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5079

5079 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا عبد الله بن محمد الفقيه بهمذان أنا أبو العباس محمد بن إسماعيل بن المهلب أنا عبيد الله بن محمد بن خنيس نا موسى بن محمد عن عطاء نا عبد الله بن خلف الجذامي عن أيوب الحميري قال : قال عمر بن عبد العزيز لمحمد بن المنكدر أي الخصال أوضع للمرء ؟ قال : كثرة كلامه و إذاعته أسراره و ثقته بكل أحد

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن محمد فقیہ نے ہمدان میں ان کو ابوالعباس محمد بن اسماعیل بن مہلب نے ان کو عبیداللہ بن محمد بن خنیس نے ان کو موسیٰ بن محمد نے ان کو عطاء نے ان کو عبداللہ بن خلف جذامی نے ان کو ایوب تیری نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن عبدالعزیز نے محمد بن منکدر سے کون سی خصلت آدمی کے لئے سب سے زیادہ عزت کو کم کرتی ہے؟ فرمایا کہ اس کی کلام کی کثرت اور اس کا اپنے راز افشاء کرنا اور ہر ایک پر یقین کر لینا۔

كثرة كلامه و إذاعته أسراره و ثقته بكل أحد ← عمر بن عبد العزيز لمحمد بن المنكدر أي الخصال أوضع للمرء ← أيوب الحميري ← عبد الله بن خلف الجذامي ← عَطَاءٍ، ← موسى بن محمد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ ← أبو العباس محمد بن إسماعيل بن المهلب ← عبد الله بن محمد الفقيه بهمذان ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5079

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5080

5080 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى نا أبو سعيد الحسن بن الأزهر بن الحارث نا علي بن الحسن الذهلي نا يعلى بن عبيد الطنافسي قال : دخلنا على محمد بن سوقه فقال : يا ابن أخي أحدثكم بحديث لعله ينفعكم فقد نفعني قال لنا عطاء بن أبي رباح : إن من قبلكم كانوا يعدون فضول الكلام ما عدا كتاب الله أو أمر بمعروف أو نهي عن منكر أو أن تنطق في معيشتك التي لا بد لك منها أتذكرون أن عليكم حافظين كراما كاتبين عن اليمين و عن الشمال قعيد ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد أما يستحي أحدكم لو نشرت صحيفة التي أملى صدر نهاره و ليس فيها شيء من أمر آخرته

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابوسعید حسن بن ازهر بن حارث نے ان کو علی بن حسن ذہلی نے ان کو یعلیٰ بن عبید طنافسی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم محمد بن سوقہ کے پاس ملنے کے لئے گئے انہوں نے کہا اے بھتیجے میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں ایک حدیث تاکہ تمہیں نفع دے اس نے مجھے بھی نفع دیا ہے کہ حضرت عطا بن ابورباح نے ہم سے کہا تھا۔ بے شک وہ لوگ جو تم سے قبل تھے۔ وہ درج ذیل چیزوں کے علاوہ کلام کرنے کو فضول کلام شمار کرتے تھے ماسوا کتاب اللہ کی تلاوت کے۔ یا امر باالمعروف یا نہی عن منکر۔ یا آپ بات کریں اپنی معیشت کے بارے میں جس کے سوا تیرے لئے کوئی چارہ کار نہ ہو۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ تمہارے اوپر کچھ محافظ مقرر ہے وہ لکھنے والے بزرگ فرشتے ہیں جو دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہیں۔ نہیں بولتا کوئی بات مگر اس کے پاس نگرانی کرنے والا تیار ہے۔ کیا کوئی ایک تمہارا شرم نہیں کرتا کہ اگر اس کا اعمال نامے کا صحیفہ کھولا جائے جو اس کے دن کے پہلے حصے میں لکھا گیا تھا لیکن اس میں اس کی آخرت کے بارے میں کوئی شئی نہ۔

لنا عطاء بن أبي رباح ← يا ابن أخي أحدثكم بحديث لعله ينفعكم فقد نفعني ← دَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← علي بن الحسن الذهلي، ← أبو سعيد الحسن بن الأزهر بن الحارث ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5080

chevron_left Previous
1…242526…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood