Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5021

5021 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا محمد بن يوسف عن سفيان قال : قال عمر بن عبد العزيز : من لم يعد كلامه من عمله كثرت خطاياه و من عمل بغير علم كان ما يفسد أكثر مما يصلح

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن عبدالعزیز نے۔ جو شخص اپنی کلام کو اور اپنی بات چیت کو اپنے عمل میں سے شمار نہیں کرتا اس کے گناہ کثیر ہو جاتے ہیں۔ اور جو شخص بغیر علم کے عمل کرتا ہے اس کے فاسد اعمال اصلاح پذیر اعمال سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5021

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5022

5022 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل الصفار نا محمد بن علي الوراق نا مسلم بن إبراهيم نا حماد بن زيد نا أيوب قال : سمعت الحسن و تلا هذه الآية { ولكم الويل مما تصفون } قال هي و الله لكل واصف إلى يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ولكم الويل مما تصفون۔ تمہارے لئے ہلاکت ہے۔ جو کہ تم بیان کرتے ہو۔ فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ ہر وصف بیان کرنے والے کے لئے وعید ہے قیامت تک۔

هي و الله لكل واصف إلى يوم القيامة ← الحسن و تلا هذه الآية ولكم الويل مما تصفون ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5022

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5023

5023 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد قال : نا القعنبي فيما قرأ على مالك و أنه بلغه : أن عيسى بن مريم عليه السلام كان يقول لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فتقسوا قلوبكم فإن القلب القاسي بعيد من الله و لكن لا تعلمون و لا تنظرون في ذنوب الناس كأنكم أرباب انظروا فيها كأنكم عبيد فإنما الناس مبتلى و معافى فارحموا أهل البلاء و أحمدوا الله على العافية

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے قعنبی نے اس میں اس نے جو پڑھا مالک کے سامنے اور ان کو خبر پہنچی ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اللہ کے ذکر کے علاوہ کثرت کے ساتھ کلام نہ کیا کرو ورنہ تمہارے دل سخت ہو جائیں گے بے شک سخت دل اللہ سے دور ہو جاتا ہے لیکن تم نہیں جان سکتے۔اور لوگوں کے گناہوں پر نظر نہ رکھا کرو گویا کہ تم رب ہو کہ نظر رکھتے ہو۔ان میں نظر رکھو گویا کہ تم غلام ہو اس لئے کہ لوگ بعض گرفتار اور بعض چھوڑے ہوئے ہیں۔ چھٹکارا دیئے ہوئے ہیں۔اہل مصیبت پر ترس کھاؤ اور عافیت ملنے پر اللہ کا شکر ادا کرو۔

القعنبي فيما قرأ على مالك و ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5023

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5024

5024 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن نصير نا إبراهيم بن نصر حدثني إبراهيم بن بشار قال : سألت إبراهيم بن أدهم عن العبادة فقال : رأس العبادة التفكر و الصمت إلا من ذكر الله عز و جل و لقد بلغني حرف عن لقمان قال : قيل له يا لقمان ما بلغ من حكمتك ؟ قال لا أسأل عما قد كفيت و لا اتكلف ما لا يعنيني ثم قال يا ابن بشار : إنما ينبغي للعبد أن يصمت أو يتكلم بما ينتفع به من موعظة أو تنبيه أو تخويف أو تحذير

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر محمد بن نصیر نے ان کو ابراہیم بن نصر نے ان کو ابراہیم بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا ابراہیم بن ادھم سے عبادت کے بارے میں۔ انہوں نے فرمایا۔ عبادت کی اصل خوب غور و فکر کرنا (اللہ کی قدرت کے بارے میں) اور خاموش رہنا۔ مگر ذکر اللہ سے البتہ تحقیق مجھے کچھ حروف پہنچے ہیں حضرت لقمان حکیم کی طرف سے۔ کہتے ہیں اس سے کہا گیا اے لقمان کہ تم اپنی حکمت و دانائی کے اس مقام تک کیسے پہنچے ہو؟ فرمایا جس چیز کے بارے میں مجھے ضرورت نہیں ہوتی تھی اس کے بارے میں میں سوال نہیں کرتا۔ اور جس کی ضرورت ہوتی اس کے بارے میں پوچھنے سے تکلف نہیں کرتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابن شار۔ سوائے اس کے بعد کہ بندے کے لئے مناسب ہے کہ وہ خاموش رہے کلام کرے اس چیز کے بارے میں جس کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا سکے خواہ نصیحت ہو یا تنبیہ ہو تخویف ہو یا تحذیر ہو۔

لا أسأل عما قد كفيت و لا اتكلف ما لا يعنيني ثم ← قِيلَ لَهُ: يَا لُقْمَانُ مَا بَلَغَ مِنْ حِكْمَتِكِ ← لُقْمَانُ، ← الله عز و جل و لقد بلغني حرف ← رأس العبادة التفكر و الصمت إلا من ← العبادة ← سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَدْهَمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ← أبو جعفر محمد بن نصير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5024

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5025

5025 - أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن محمويه العسكري نا جعفر بن محمد نا آدم نا شعبة نا سيار أبو الحكم قال : قيل للقمان ما حكمك ؟ قال : لا أسأل عما قد كفيت و لا اتكلف ما لا يعنيني

ہمیں اس کی خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن محمودیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو سیار نے ان کو ابوالحکم نے کہتے ہیں کہ حضرت لقمان سے کہا گیا۔ کہ آپ کی دانائی کیا ہے۔ فرمایا کہ جس چیز سے مجھے کفایت کی گئی ہو اس کے بارے میں میں سوال نہیں کرتا۔ اور جو میری ضرورت ہو اس کے پوچھنے میں تکلف نہیں کرتا یا میرے مطلب کی نہ ہو بلاوجہ نہیں پوچھتا۔

لا أسأل عما قد كفيت و لا اتكلف ما لا يعنيني ← قيل للقمان ما حكمك ← سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5025

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5026

5026 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا إسحاق بن الحسن بن ميمون نا عفان نا حماد بن سلمة نا ثابت عن أنس : أن لقمان كان عند داود و هو يسرد الدرع فجعل يفتله هكذا بيده فجعل لقمان يتعجبب و يريد أن يسأله فتمنعه حكمته أن يسأل فلما فرغ منها ضمها على نفسه و قال : نعم درع الحرب هذه فقال لقمان : أن الصمت من الحكم و قليل فاعله كنت أريد أن أسألك فسكت حتى كفيتني هذا هو الصحيح عن أنس أن لقمان قال : الصمت حكم و قليل فاعله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو اسحٰق بن حسن بن میمون نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے کہ لقمان حکیم حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس موجود تھے اور وہ زرہ بنا رہے تھے انہوں نے اپنے ہاتھ سے بٹنا شروع کر دیا اور حضرت لقمان اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے۔ اور ان سے سوال کرنے کا ارادہ کیا مگر ان کی حکمت اور عقلمندی مانع ہوئی کہ وہ سوال کریں وہ جب اسے بنا کر فارغ ہو گئے تو ان کو اپنے نفس سے ملایا اور کہنے لگے کہ ہاں جنگ کی زرہ یہی ہے۔ لہذا حضرت لقمان نے کہا کہ خاموشی بھی حکمت و دانائی میں سے ہے مگر اس کو کرنے والے کم ہوتے ہیں میں نے آپ سے پوچھنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر میں پھر خاموش ہو گیا یہاں تک کہ آپ نے مجھے (سوال کرنے سے) کفایت کر لی یہ روایت صحیح ہے انس رضی اللہ عنہ سے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا کہ خاموشی حکمت ہے مگر اس کو کرنے والے کم ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5026

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5027

5027 - و قد أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا الساجي نا إبراهيم بن غسان نا أبو عاصم عن عثمان بن سعيد الكاتب عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الصمت حكم و قليل فاعله غلط في هذا عثمان بن سعيد هذا و الصحيح رواية ثابت

تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو ساجی نے ان کو ابراہیم بن غسان نے ان کو ابوعاصم نے ان کو عثمان بن سعید کاتب نے ان کو انس نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاموشی حکمت ہے اور اس کے کرنے والے کم ہیں۔ اس میں عثمان بن سعید نے غلطی کی ہے اور صحیح جو ہے وہ ثابت کی روایت ہے۔

أَنَسٍ، ← عثمان بن سعيد الكاتب ← أَبُو عَاصِمٍ ← إبراهيم بن غسان ← السَّاجِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و قد

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5027

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5028

5028 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا والدي نا محمد بن المسيب قال : سمعت عبد الله بن خبيق يقول : سمعت وهيب بن الهذيل يقول : سمعت يوسف بن أسباط يقول : سمعت مكث الحسن ثلاثين سنة لم يضحك و أربعين سنة لم يمزح

ہمیں ابوزکریا بن ابواسحاق نے خبر دی ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن مسیّب نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبداللہ خبیق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا وھیب بن ھذیل سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن اسباط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت حسن بصری سے تیس سال تک اسی طرح روکے رہے کہ ایک بار بھی نہیں ہنسے اور چالیس سال تک کوئی مذاق نہیں کی۔

مكث الحسن ثلاثين سنة لم يضحك و أربعين سنة لم يمزح ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← وهيب بن الهذيل ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5028

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5029

5029 - قال : و قال الحسن : لقد أدركت أقواما ما أنا عندهم إلا لص

کہتے ہیں کہ حسن بصری نے کہا کہ میں نے کئی ایسے لوگ پائے ہیں کہ میں ان کے نزدیک کچھ نہیں ہوں مگر چور ہی ہوں۔

عندهم إلا لص ← الحسن لقد أدركت أقواما ما ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5029

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5030

5030 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا عفان بن مسلم نا أبو الأشهب نا الحسن قال : كنا في أقوام ينفقون أوراقهم و يخزنون ألسنتهم و إنا بقينا في أقوام يرسلون ألسنتهم و يخزنون أوراقهم

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو ابوالاشہب نے ان کو حسن نے۔ انہوں نے کہا ہم لوگ ان لوگوں میں رہتے تھے۔ جو اپنے نوٹوں کو خرچ کرتے تھے اور اپنی زبانوں کی حفاظت کرتے تھے۔ اور بے شک ہم لوگ اب ایسے لوگوں میں باقی رہ گئے ہیں جو اپنی زبانوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے روپے پیسے کو خزانہ کر کے رکھتے ہیں۔

بقينا في أقوام يرسلون ألسنتهم و يخزنون أوراقهم ← كنا في أقوام ينفقون أوراقهم و يخزنون ألسنتهم و ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5030

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5031

5031 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا عفان بن مسلم نا جعفر بن سليمان نا المعلى بن زياد قال : قال مورق العجلي : أمر أنا في طلبه منذ عشرين سنة لم أقدر عليه و لست بتارك طلبه أبدا قالوا : و ما هو يا أبا المعتمر ؟ قال : الصمت عما لا يعنيني

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو معلیٰ بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہا مورق عجلی نے۔ ایک ایسا امر ہے جس کی طلب میں میں بیس سال سے لگا ہوا ہوں۔ مگر اس پر قادر نہیں ہو سکا۔ اور میں اس کی طلب کبھی ترک نہیں کروں گا۔لوگوں نے کہا کہ وہ کیا ہے اے ابوالمعتمر؟ فرمایا کہ خاموشی ہر اس چیز سے جس سے میرا مطلب نہیں ہے۔

الصَّمْتُ عَمَّا لاَ يَعْنِينِي. ← و ما هو يا أبا المعتمر ← في طلبه منذ عشرين ← مُوَرِّقٌ الْعِجْلِيّ أَمْرٌ ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5031

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5032

5032 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب نا أبو بكر عبد الله بن محمد بن عبيد القرشي حدثني إسحاق بن إسماعيل نا جرير عن أبي حيان التيمي قال : كان يقال ينبغي للعاقل أن يكون أحفظ للسانه منه موضع قدمه

ہمیں خبر دی ابوسہل محمد بن نصرویہ مہروزی نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن خنب نے ان کو ابوبکر عبداللہ بن محمد عبید قرشی نے ان کو اسحاق بن اسماعیل نے ان کو جریر نے ان کو ابوحیان تیمی نے کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں کہا جاتا تھا۔ عقل مند کے لئے مناسب ہے کہ وہ جس قدر قدم رکھنے کی جگہ کو دیکھ کر حفاظت سے قدم رکھتا ہے۔ زبان کی حفاظت اس سے کہیں زیادہ کرے۔

كان يقال ينبغي للعاقل أن يكون أحفظ للسانه منه موضع قدمه ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن خَنْبٍ ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5032

chevron_left Previous
1…202122…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood