شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5009
5009 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو السلمي نا محمد بن إبراهيم نا ابن بكير نا مالك عن يحيى بن سعيد عن أبي سلمة بن عبد الرحمن : أن امرأة كانت عند عائشة و معها نسوة فقالت امرأة منهن و الله لأدخلن الجنة فقد أسلمت و ما زنيت يوما و ما سرقت فأتيت في المنام فقيل لها أنت المتألية لتدخلن الجنة كيف و أنت تبخلين بما يعنيك و تتكلمين فيما لا يعنيك فلما أصبحت المرأة دخلت على عائشة فأخبرتها بما رأت و قالت : أجمعي النسوة اللاتي كن عندك حين قلت ما قلت فأرسلت إليهن عائشة فجئن فحدثتهن المرأة بما رأت في المنام
ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو سلمی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ کے پاس بیٹھی تھی۔ ان کے ساتھ دیگر عورتیں بھی تھیں۔ان میں سے ایک عورت نے کہا اللہ کی قسم میں جنت میں ضرور جاؤں گی، میں اسلام لائی ہوں۔ اور میں نے کبھی زنا نہیں کیا۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ چنانچہ اس عورت کو خواب آیا نیند میں دیکھتی ہے کہ اس سے کہا جا رہا ہے۔ کہ تم قسم کھاتی ہو کہ تم ضرور جنت میں جاؤ گی۔ کیسے جاؤ گی حالانکہ بخل کرتی ہو اس چیز کے بارے میں جو چیز تیرا مقصود ہوتی ہے۔اور اس چیز میں تم کلام کرتی ہو جو غیر مقصود ہوتی ہے۔ جب عورت نے صبح کی تو سیدہ عائشہ کے پاس آئی اوران کو خبر دی جو اس نے خواب دیکھا تھا۔ اور کہنے لگی کہ ان عورتوں کو جمع کر لو جو اس وقت موجود تھیں جب میں نے وہ بات کہی تھی۔لہذا سیدہ عائشہ نے ان کو بلا بھیجا تو وہ سب آگئیں چنانچہ اس عورت نے ان سب عورتوں کو اپنا خواب سنایا۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5009
