Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5009

5009 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو السلمي نا محمد بن إبراهيم نا ابن بكير نا مالك عن يحيى بن سعيد عن أبي سلمة بن عبد الرحمن : أن امرأة كانت عند عائشة و معها نسوة فقالت امرأة منهن و الله لأدخلن الجنة فقد أسلمت و ما زنيت يوما و ما سرقت فأتيت في المنام فقيل لها أنت المتألية لتدخلن الجنة كيف و أنت تبخلين بما يعنيك و تتكلمين فيما لا يعنيك فلما أصبحت المرأة دخلت على عائشة فأخبرتها بما رأت و قالت : أجمعي النسوة اللاتي كن عندك حين قلت ما قلت فأرسلت إليهن عائشة فجئن فحدثتهن المرأة بما رأت في المنام

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعمرو سلمی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ کے پاس بیٹھی تھی۔ ان کے ساتھ دیگر عورتیں بھی تھیں۔ان میں سے ایک عورت نے کہا اللہ کی قسم میں جنت میں ضرور جاؤں گی، میں اسلام لائی ہوں۔ اور میں نے کبھی زنا نہیں کیا۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ چنانچہ اس عورت کو خواب آیا نیند میں دیکھتی ہے کہ اس سے کہا جا رہا ہے۔ کہ تم قسم کھاتی ہو کہ تم ضرور جنت میں جاؤ گی۔ کیسے جاؤ گی حالانکہ بخل کرتی ہو اس چیز کے بارے میں جو چیز تیرا مقصود ہوتی ہے۔اور اس چیز میں تم کلام کرتی ہو جو غیر مقصود ہوتی ہے۔ جب عورت نے صبح کی تو سیدہ عائشہ کے پاس آئی اوران کو خبر دی جو اس نے خواب دیکھا تھا۔ اور کہنے لگی کہ ان عورتوں کو جمع کر لو جو اس وقت موجود تھیں جب میں نے وہ بات کہی تھی۔لہذا سیدہ عائشہ نے ان کو بلا بھیجا تو وہ سب آگئیں چنانچہ اس عورت نے ان سب عورتوں کو اپنا خواب سنایا۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5009

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5010

5010 - و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن إبراهيم بن زياد نا طالوت نا عصام بن طليق نا سعيد عن أبي هريرة قال : قتل رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم شهيدا فبكت باكية فقالت : وا شهيداه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يدريك أنه شهيد فلعله كان يتكلم فيما لا يعنيه أو يبخل بفضل ما يعنيه

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو محمد بن ابراہیم بن زیاد نے ان کو طالوت نے ان کو عصام بن طلیق نے ان کو سعید نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ عہد رسول میں ایک شخص قتل ہو کر شہید ہو گیا کوئی رونے والی رو رہی تھی۔ اے شہیدا اے شہیدا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہے کہ وہ شہید ہے۔ شاید کہ وہ لایعنی کلام کرتا تھا یا وہ بخل کرتا ہو ضروری بات کے فضل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← عِصَامُ بْنُ طَلِيقٍ، ← طالوت ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5010

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5011

5011 - و روي في معناه عن الأعمش عن أنس و قيل عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس : و هو مذكور في باب السخاء

اور روایت کی گئی ہے اسی کے مفہوم میں اعمش سے اس نے حضرت انس سے اور کہا گیا ہے کہ اعمش سے اس نے ابوسفیان سے اس نے انس سے اور وہ مذکور ہے باب استخاء میں۔

أنس و هو مذكور في باب السخاء ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أنس و قيل ← الْاَعْمَشِ ← و روي في معناه

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5011

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5012

5012 - أخبرنا أبو الحسين المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا السري بن يحيى نا بكر بن عبد الله المزني قال : خرج جندب بن عبد الله و خرج معه رجال من إخوانه يشيعونه حتى إذا بلغ حصن المساكين قالوا له أوصنا قال : ألا لا تدخلوا هذا خبيثا و أوى بيده إلى فيه و لا تخرجوا منه خبيثا فإن أول ما ينتن من الإنسان بطنه قالوا له أوصنا قال : ألا و لا يحولن بين أحدكم و بين الجنة بعد ما أبصر بابها ملء كف من دم مسلم أهراقه

ہمیں خبر دی ابوالحسین مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو سیری بن یحییٰ نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے۔ وہ کہتے ہیں حیذب بن عبداللہ نکلے اور ان کے ساتھ کچھ اور آدمی تھے اس کے بھائیوں میں سے اس کو رخصت کرنے چلے حتیٰ کہ جب وہ مقام حصن مساکین تک پہنچے تو لوگ اس سے کہنے لگے کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ انہوں نے فرمایا۔ خبردار تم لوگ اس میں (منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا) خبیث اور ناپاک کو داخل نہ کرنا۔ اور اس سے خبیث نہ نکالنا (یعنی بری بات نہ کرنا۔) بے شک پہلی چیز انسان سے جو بدبو چھوڑتی ہے وہ اس کا اپنا پیٹ ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں اور وصیت کیجئے۔ اس نے کہا خبردار ہرگز حائل نہ ہو دنیا تمہارے اور جنت کے درمیان اس کا دروازہ دیکھ لینے کے بعد (یعنی اسلام کے بعد) ہتھیلی بھر خون مسلم کوئی اس کونہ بہا بیٹھے۔(یعنی قتل مسلم سے اجتناب کرنا۔)

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسين المقري

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5012

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5013

5013 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا محمد بن عبد الوهاب نا يعلى عن حارثة بن أبي الرجال عن عمرة قالت : قالت لي عائشة يا بنية لا تكلمي بالشيء الذي إذا عرفت به تعذرت فإنه لا يتعذر إلا من القبيح

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ نے ان کو حارثہ بن ابوالرجال ان کو عمرہ نے وہ کہتی ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے بیٹی کسی ایسی چیز کے بارے میں کلام نہ کرنا کہ بعد میں تجھے اس سے معذرت کرنا پڑے بے شک معذرت تو بری بات سے کی جاتی ہے۔

عَمْرَةَ ← حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ← يعلى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ آبَادِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5013

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5014

5014 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو عثمان البصري نا محمد بن عبد الوهاب نا يعلى بن عبيد نا سفيان عن عاصم عن ذكوان عن عائشة قالت : يتوضأ أحدكم من الطعام الطيب يأكله و لا يتوضأ من الكلمة العوراء يقولها

ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوعثمان بصری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم نے ان کو ذکوان نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ تم میں سے ایک آدمی پاکیزہ کھانا کھانے کے بعد وضو کرتا ہے مگر برا کلمہ کہنے کے بعد وضو نہیں کرتا۔

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5014

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5015

5015 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي نا الحسن بن المثنى بن معاذ العنبري نا حماد بن سلمة أنا ثابت : أن بني أنس قالوا لأنس ألا تحدثنا كما تحدث غرباء الناس قال : أي بني إنه من يكثر يهجر

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوسعید احمد بن یعقوب ثقفی نے ان کو حسن بن مثنی بن معاذ عبری نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے کہ بنو انس رضی اللہ عنہ کے ایک آدمی نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ ہمیں حدیث بیان نہیں کرتے جیسے آپ غریب لوگوں کو حدیث بیان کرتے ہیں۔اس نے کہا اے بیٹے بے شک حال یہ ہے کہ جوشخص زیادہ باتیں کرتا ہے۔ چھوڑا جاتا ہے۔

أي بني إنه من يكثر يهجر ← لأنس ألا تحدثنا كما تحدث غرباء الناس ← ثابت أن بني أنس ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5015

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5016

5016 - أخبرنا أبو محمد الموصلي نا أبو عثمان البصري نا أبو أحمد الفرا أنا يعلى بن عبيد نا الأعمش عن عمرو بن سلمة قال : قال عبد الله : ما من مسلمين على الأرض إلا بينهما ستر من الله عز و جل فإذا قال أحدهما للأخر هجرا هتك سترة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابومحمد موصلی نے ان کو ابوعثمان بصری نے ان کو ابومحمد فراء نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو عمرو بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ نے کہ دھرتی پر کوئی دو ایسے مسلمان نہیں ہیں مگر ان کے درمیان اللہ کی طرف پردہ ہے جب دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے کہتا ہے رک جا تو یا چھوڑ جا تو وہ اللہ کے پردے کو چاک کر دیتا ہے اور اس کی عزت کی ھتک کرتا ہے۔

عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أبو أحمد الفرا ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أبو محمد الموصلي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5016

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5017

5017 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي نا أبو العباس هو الأصم نا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي نا حسين بن علي عن زايده عن يزيد بن أبي زياد عن عمرو بن سلمة عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلمين إلا و بينهما ستر من الله عز و جل فإذا قال : أحدهما لصاحبه كلمة هجر خرق ستر الله قال أبو جعفر و نا مرة أخرى موقوفا قال الشيخ أحمد : الصواب موقوف كما رواه الأعمش و الله أعلم

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوجعفر احمد بن احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو حسین بن علی نے ان کو زائدہ نے ان کو یزید بن ابوزیاد نے ان کو عمرو بن سلمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دو مسلمان ایسے نہیں ہیں مگر دونوں کے درمیان اللہ کی طرف ایک پردہ ہے۔ جب ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے جدائی کا کلمہ کہتا ہے وہ اللہ کے پردہ عزت کو پچھاڑ ڈالتا ہے۔ ابوجعفر نے کہا۔ اور ہمیں خبر دی دوسری بار بطور موقوف روایت کے۔ شیخ احمد نے کہا کہ صحیح اور درست موقوف ہی ہے جیسے اعمش نے اس کو روایت کیا ہے؟

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5017

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5018

5018 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا إبراهيم بن نصر نا أبو علي الفرازي قال : قال وبرة بن عبد الرحمن أوصاني ابن عباس بكلمات لهن أحسن من الدهم الموقفة قال لي : يا وبرة لا تعرض فيما لا يعنيك فإن ذلك أفضل و لا آمن عليك الوزر ودع كثير مما يعنيك حتى ترى له موضعا فرب متكلف بحق تقي قد تكلم في الأمر يعنيه في غير موضعه فعطب و لا تمارين حليما و لا سفيها فإن الحليم يقليك و إن السفيه يرديك و اذكر أخاك إذا توارى عنك بكل ما تحب أن يذكرك به إذا تواريت عنه و دعه من كل ما تحب أن يدعك منه و اعمل عمل رجل يعلم أنه مجزي بالحسنات مأخوذ بالسيئات

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو ابراہیم بن نصر نے ان کو ابوعلی فزاری نے وہ کہتے ہیں کہ کہا وبرہ بن عبدالرحمٰن نے کہ مجھے حضرت ابن عباس نے وصیت فرمائی تھی بعض کلمات کے ساتھ۔البتہ وہ خوبصورت ہیں سرخ و سفید اونٹوں سے۔ اور مجھ سے کہا کہ اے وبرہ نہ درپے ہو تو اس چیز کے جو تیرے لئے مقصود نہیں ہے یہ بات افضل ہے۔ اور نہ بے فکر رہ تو اپنے اوپر بوجھ سے۔اور چھوڑ دے تو زیادہ تر کو اس میں سے جو تیرے لئے مقصود ہو یا ضروری ہو۔ یہاں تک کہ دیکھ تو موقع محل اس کے لئے بھی۔ بہت سے تکلف کرنے والے ہوتے ہیں صاف ستھرے حق کے ساتھ تحقیق کلام کیا انہوں نے معاملے میں بعینہ غیر محل میں لہذا تھک گئے اور نہ جھگڑا کرنا تم بردبار کے ساتھ نہ ہی بے وقوف کے ساتھ۔ اس لئے کہ بردبار دل میں تیرے ساتھ بعض رکھ لے گا اور بے وقوف تجھے ہلاک کر دے۔ اور یاد کر تو اپنے بھائی کو وہ جب تم سے چپ جائے ہر اس طریقے کے ساتھ جو تجھے پسند ہو کہ وہ تجھے اسکے ساتھ یاد کرے جب تو اس سے چپ جائے۔ اور چھوڑ تو اس کو ہر اس چیز سے جو تو پسند کرے کہ وہ تجھ کو چھوڑے اس سے اور عمل کرتا رہ تو اس آدمی کی طرح جو یہ جانتا ہے کہ اس کو نیکیوں پر جزا ملے گی اور گناہوں پر پکڑ ہوگی۔

أبو علي الفرازي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5018

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5019

5019 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الطيب طاهر بن أحمد البيهقي سحاباد ثنا خالي الفضل بن محمد الشعراني نا عبيد الله العايشي نا ابن مجاشع عن غالب القطان عن مالك بن دينار عن الأحنف عبد الله قيس قال : قال عمر رضي الله عنه من كثر ضحكه قلت هيبته و من كثر مزاحه استخف به و من أكثر من شيء عرف به و من كثر كلامه كثر سقطه و من كثر سقطه قل حياؤه و من قل حياؤه قل روعه و من قل روعه مات قلبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوالطیب طاہر بن احمد بیہقی سحاباد نے میرے ماموں فضل بن محمد شعرانی نے ان کو عبیداللہ عائشی نے ان کو ابن مجاشع نے ان کو غالب قطان نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو احنف بن قیس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس کا ہنسنا زیادہ ہو جائے اس کی ہیبت کم ہو جاتی ہے اور جس کا مذاق زیادہ ہو جائے اس کو ہلکا کر دیتی ہے جو شخص کسی شئی کی کثرت کرے وہ اس کی پہچان بن جاتی ہے اور جس کا کلام زیادہ ہو جائے اس کی تارکبات زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور جو گری پڑی بات زیادہ کرے۔ اس کی شرم حیاء کم ہو جاتی ہے اور جس کی حیاء کم ہو جائے۔اس کا ڈر کم ہو جاتا ہے۔ اور جس کا ڈر کم ہو جائے اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے۔

الأحنف عبد الله قيس ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← غَالِبٌ الْقَطَّانُ ← ابن مجاشع ← عبيد الله العائشي ← خَالِي الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ← أبو الطيب طاهر بن أحمد البيهقي سحاباد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5019

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5020

5020 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا مسلم بن إبراهيم نا شعبة نا قتادة قال : سألت أبا الطفيل عن حديث فقال : لكل مقام مقال

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے اس کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالطفیل سے پوچھا ایک حدیث کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ ہر مقام کے لئے الگ بات ہوتی ہے۔

حديث فقال لكل مقام مقال ← سَأَلْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَمْرُو بْنُ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5020

chevron_left Previous
1…192021…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood