Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4997

4997 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا سعيد بن مسعود نا يزيد بن هارون أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن عمر قال : بحسب المؤمن من الكذب أن يحدث بكل ما سمع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابوعثمان نے ان کو عمر نے انہوں نے فرمایا۔ مؤمن کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے وہ ہر بات بیان کر دے۔

بِكُلِّ مَا ← بحسب المؤمن من الكذب أن ← عُمَرَ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4997

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4998

4998 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا أبو الوليد نا قيس عن أبي حصين عن يحيى بن وثاب عن مسروق عن عبد الله هو ابن مسعود قال : إياكم و فضول الكلام بحسب الرجل أن يبلغ حاجته

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو ابوالولید نے ان کو قیس نے ان کو ابوحصین نے ان کو یحییٰ بن وثاب نے ان کو مسروق نے ان کو عبداللہ نے یعنی ابن مسعود نے انہوں نے فرمایا۔ بچاؤ تم اپنے آپ کو فضول کلام سے آدمی کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنی حاجت کو بیان کر دے۔

إياكم و فضول الكلام بحسب الرجل أن يبلغ حاجته ← عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← قَيْسٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4998

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4999

4999 - و أخبرنا أبو طاهر أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا معاوية بن عمرو نا زائدة عن عبد الملك بن عمير حدثني آل عبد الله : أن عبد الله أوصى ابنه عبد الرحمن فقال : أوصيك باتقاء الله و ليسعك بيتك و ابك من خطيئتك و أملك عليك لسانك

ہمیں خبر دی ابوطاہر نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کومحمد بن یحییٰ نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کوزائدہ نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو حدیث بیان کی آل عبداللہ نے کہ حضرت عبداللہ نے اپنے بیٹے کو وصیت کی یعنی عبدالرحمٰن کو اور فرمایا۔ کہ میں آپ کو وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے اور آپ کو آپ کا گھر ہی کافی رہے(یعنی باہر وقت ضائع کرنے کی بجائے گھر میں رہے) اور اپنی غلطی پر آپ کو رونا چاہئے۔اور آپ کو اپنی زبان قابو رکھنا چاہئے۔

آلُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ أَوْصَى ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَن ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4999

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5000

5000 - أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني نا أبو بكر محمد بن جعفر نا محمد عبد الله إبراهيم نا ابن بكير نا مالك عن يحيى بن سعيد : أن عبد الله عبد الله مسعود قال لإنسان : إنك في زمان قليل قرأؤه كثير فقهاؤه يحفظ فيه حدود القرآن و يضيع فيه حروفه قليل من يسأل كثير من يعطي يطيلون الصلاة فيه و يقصرون فيه الخطبة يبدون فيه بأعمالهم قبل أهوائهم و سيأتي على الناس زمان كثير قراؤه قليل فقهاؤه يحفظ فيه حروف القرآن و يضيع حدود كثير من يسأل قليل من يعطي يطيلون فيه الخطبة و يقصرون فيه الصلاة يبدون أهوائهم قبل أعمالهم

ہمیں خبر دی ابواحمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے ان کو ابوبکر محمد بن جعفر نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک نے ان کو یحییٰ بن سعید نے یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا بے شک تم ایسے زمانے میں ہو۔ جس کے قراء قلیل ہیں اس کے فقہاء کثیر میں قرآن سمجھنے والا جس میں قرآن کی حدود کی حفاظت کی جا رہی۔ اور اس کے الفاظ کی طرف توجہ کم دی جا رہی ہے۔ جس زمانے میں سائل کم ہیں اور دینے والے زیادہ ہیں۔ اس زمانے میں لوگ نماز کو لمبا کرتے ہیں،اور خطبے اور تقریر کو چھوٹا کرتے ہیں۔ اس زمانے میں لوگ اپنی خواہشات سے پہلے اپنے اعمال کو سامنے لاتے ہیں۔ اور عنقریب لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ جس کے قراء کثیر ہوں کے مگر فقہاء یعنی قرآن سمجھنے والے قلیل ہوں گے۔ اس دور میں قرآن کے حروف کی حفاظت کی جائے گی اور قرآن کی حدود ضائع کی جائیں گی۔ مانگنے والے کثیر اور دینے والے قلیل ہوں گے۔ اس دور میں لوگ خطبے اور تقریر لمبی کریں گے اور اس میں نماز کو چھوٹا کریں گے لوگ اپنے اعمال کو سامنے کرنے سے پہلے اپنی خواہشات کو آگے لائیں گے۔

يحيى بن سعيد أن عبد الله عبد الله مسعود ← مَالِكٍ، ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← محمد عبد الله إبراهيم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5000

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5001

5001 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا إسماعيل بن عبد الكريم الصنعاني نا إبراهيم بن عقيل عن أبيه عن وهب بن منبه قال : كان ابن عباس جالسا في المسجد الحرام و معه وهب بن منبه فنهض ابن عباس يتهادى على عطاء بن أبي رباح و عكرمة فلما دنا من باب المسجد إذا هو بقوم يتجادلون قد علت أصواتهم فوقف ابن عباس عليهم و قال لعكرمة : ادع لي ابن منبه فدعاه فقال له ابن عباس حدث هؤلاء حديث الفتى قال : نعم قال : لما اشتد الجدال بين أيوب و أصحابه قال فتى معهم لأصحاب أيوب في الجدال قولا شديدا ثم أقبل على أيوب فقال : و أنت يا أيوب قد كان في عظمة الله و جلال الله و ذكر الموت ما يكل لسانك و يكسر قلبك و يقطع حجتك ألم تعلم يا أيوب أن عبادا أسكتتهم خشية لله عن الكلام من غير عي و لا بكم و إنهم لهم الفصحاء الطلقاء الألباء العالمون بالله و بآياته لكنهم إذا ذكروا عظمة الله انقطعت ألسنتهم و انكسرت قلوبهم و طاشت أحلامهم و عقولهم فرقا من الله وهيبة له فإذا استفاقوا من تلك استبقوا إلى الله بالأعمال الزكية و النية الصادقة يعدون أنفسهم مع الظالمين و إنهم لأبرار برآء و مع المقصرين المقطعين و إنهم لأكياس أتقياء و لكنهم لا يستكثرون لله الكثير و لا يرضون له بالقليل و لا يدلون له بالأعمال فهم حيث ما ألفيتهم مهتمون مشققون خائفون وجلون

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو اسماعیل بن عبدالکریم صنعانی۔ ان کو ابراہیم بن عقیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس مسجد الحرام میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہب بن منبہ ان کے ساتھ تھے۔ پس ابن عباس اٹھے اور عطاء بن ابورباح اور عکرمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلائے گئے۔ جب مسجد کے دروازے کے قریب پہنچے اچانک وہ کھڑے ہوگئے باہم جھگڑنے اور بحث کرنے لگ گئے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ حضرت ابن عباس ان کے پاس کھڑے ہو گئے۔ اور مکرمہ سے کہا ابن منبہ کو میرے پاس بلاؤ انہوں نے ان کو بلا لیا حضرت ابن عباس نے اسے کہا کہ ان لوگوں کو نوجوان والی حدیث سنائیے ذرا انہوں نے کہا ٹھیک ہے وہب بن منبہ نے کہا کہ جب حضرت ایوب اور ان کے ساتھیوں کے درمیان جھگڑا سخت ہو گیا تو، ایک نوجوان نے کہا جو ان کے ساتھ تھا۔ حضرت ایوب کے اصحاب سے جدال کے بارے میں سخت قول اور سخت بات کہی پھر حضرت ایوب کی طرف آیا اور کہنے لگا۔ اور آپ اے ایوب تحقیق ہے اللہ کی عظمت میں اور اللہ کے جلال میں اور موت کے یاد کرنے میں وہ چیز جو تیری زبان کوشل کر دے اور تیرے دل کو توڑ دے اور تیری حجت کو کاٹ دے۔ کیا آپ جانتے نہیں اے ایوب۔ کہ کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جن کو بات کرنے سے اللہ کے خوف نے خاموش کر رکھا ہے بغیر کسی بیماری کے اور گونگے پن کے۔ بے شک ان میں فصحاء بھی ہیں آزاد ہیں صاحب عقل ہیں عالم ہیں اللہ کے بارے میں۔ اور اللہ کی آیات کے بارے میں۔ لیکن وہ جب اللہ کی عظمت کو دیکھتے ہیں تو ان کی زبانین کٹ جاتی ہیں اور ان کے دل ٹوٹ جاتے ہیں اور ان کے حوصلے اور ان کے عقل اللہ کے خوف سے اور اس کی ہیت سے اڑ جاتے ہیں۔ پھر جس وقت اس خاص کیفیت سے واپس ہوش میں آتے ہیں تو پھر وہ دوبارہ اللہ کی طرف لپکتے ہیں پاکیزہ اعمال کے ساتھ اور سچی نیت کے ساتھ۔ وہ اپنے نفسوں کو ظالموں میں شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ نیک ہیں برائی سے بری ہیں۔اور وہ اپنے آپ کو کوتاہی کرنے والوں تعلق ختم کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں۔حالانکہ وہ عقلمند اور دانا ہیں اور متقی و پرہیزگار ہیں۔لیکن وہ اللہ کے لئے کثیر عمل کو کثیر نہیں سمجھتے اور اس کے لئے قلیل پر راضی نہیں ہوتے۔اور وہ اس کے لئے ہونے والے اعمال کو نہیں بتاتے۔ اور تم ان کو جہاں بھی پاؤ سخت کوشش کرنے والے۔ ڈرنے والے خوف کھانے والے نادم ہوتے ہیں۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلٍ، ← إسماعيل بن عبد الكريم الصنعاني ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5001

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5002

5002 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى نا أبو نعيم ح و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان نا أبو سهل بن زياد القطان نا الحارث بن محمد نا الفضل بن دكين أبو نعيم نا سفيان عن عبد الله بن دينار قال : سمعت ابن عمر يقول : إن حق ما طهر الإنسان لسانه

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو ابونعیم نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فصل قطان نے ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو ابونعیم نے ان کو سفیان نے ان کو عبداللہ بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عمر سے کہتے تھے۔ بے شک یہ حق ہے لازم ہے کہ انسان اپنی زبان کو پاک رکھے۔

إن حق ما طهر الإنسان لسانه ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5002

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5003

5003 - سمعت أبو عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا عمرو بن مطر يقول : سمعت محمد بن المنذر يقول : سمعت يوسف بن مسلم يقول : نا علي بن بكار عن ابن عون عن إبراهيم قال : قال عبد الله يعني ابن مسعود و الذي لا إله غيره ما شيء أحق بطول السجن من اللسان

میں نے سنا ابوعبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعمرو بن مطر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن منذر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن مسلم سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے علی بن بکار نے ان کو ابن عون نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے کوئی ایسی شئی نہیں ہے جو لمبی قید کی زبان سے زیادہ حق دار ہو زیادہ لائق ہو۔ (یعنی سب سے پابندی کے لائق زبان ہے۔)

إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ بَكَّارٍ، ← يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن المنذر ← أَبَا عَمْرِو بْنَ مَطَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5003

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5004

5004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا حفص بن غياث عن عبد الله بن عون عن عطاء الواسطي عن أنس ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا أحمد ابن الوليد الفحام نا عبد الوهاب بن عطاء نا ابن عون عن عطاء عن رجل من أهل البصرة قال : قال أنس بن مالك : لا يتقي الله عبد حق تقاته حتى يخزن من لسانه لفظهما سواء و روي ذلك مرفوعا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو عبداللہ بن عون نے عطاء واسطی سے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو ابن عون نے ان کو عطاء نے اہل بصرہ کے ایک آدمی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک نے فرمایا۔ بندہ اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے یہاں تک کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں اور یہ مرفوعاً مروی ہے۔

رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← أحمد ابن الوليد الفحام ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← أَنَسٍ، ← عَطَاءٍ الْوَاسِطِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5004

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5005

5005 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن عبد الله بن سليمان نا سفيان بن بشر الكوفي نا حفص بن غياث عن ابن عون عن عطاء البزاز عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يصيب أحدكم حقيقة الإيمان حتى يخزن لسانه و روي من وجه آخر مرفوعا عن أنس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے ان کو سفیان بن بشر کوفی نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو ابن عون نے ان کو عطا بزاز نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ تم میں سے کوئی آدمی ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔حتیٰ کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔

أَنَسٍ، ← عطاء البزاز ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5005

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5006

5006 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ و غيرهما نا أبو العباس هو الأصم نا أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي نا بقية بن الوليد نا إسماعيل عن عطاء عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يستكمل أحدكم حقيقة الإيمان حتى يخزن من لسانه قال الشيخ أحمد : إسماعيل هذا هو ابن عياش و عطاء هو ابن عجلان فيما حدثنا السلمي عن الأصم و ليسا بالقويين و رواه أيضا مروان الفزاري عن عطاء بن عجلان

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے اور ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوعقبہ احمد بن فرج حجازی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو اسماعیل نے ان کو عطاء نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک تمہارا ایمان کی حقیقت کو کامل نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ اپنی زبان کی نگرانی کرے شیخ احمد نے کہتے ہیں۔ کہ اس روایت میں اسماعیل سے مراد ابن عیاش ہے۔اور عطاء سے مراد ابن عجلان ہے اس کے مطابق جو ہمیں سلمی نے حدیث بیان کی ہے اصم سے۔ مگر وہ دونوں قوی نہیں ہیں۔اور اس کو مروان فزاری نے عطا بن عجلان سے اس کو روایت کیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَطَاءٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ و غيرهما

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5006

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5007

5007 - أخبرنا علي بن محمد المهرجاني بن السقا نا محمد بن أحمد بن يوسف نا أحمد بن عثمان نا أحمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن إبراهيم عن يونس بن عبيد عن حميد بن هلال قال : قال لي عبد الله بن عمرو : ذر ما لست منه في شيء و لا تنطق فيما لا يعنيك و اخزن لسانك كما تخزن دراهمك

ہمیں خبر دی علی بن محمد مہر جانی بن سقا نے ان کو محمد بن احمد بن یوسف نے ان کو احمد بن عثمان نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حمید بن ہلال نے وہ کہتے ہیں اور مجھے عبداللہ بن عمر نے کہا۔ چھوڑ دے تو اس چیز کوتو جس کے درپے نہیں ہے۔ اور جو چیز تیرا مقصود نہیں ہے اس میں تو زبان ہی نہ کھول، اور تو اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کر جس طرح تو دراہم کو چھپا کر حفاظت کرتا۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ← محمد بن أحمد بن يوسف ← علي بن محمد المهرجاني بن السقا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5007

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5008

5008 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا أبو الدرداء أنا عتبة بن السكن عن أبي بكر السلامي رفعه إلى حذيفة بن اليمان قال : إن الكلام بسبعة أغلاق إذا خرج منه كتب و إذا لم يخرج لم يكتب القلب و اللهاة و اللسان و الحنكين و الشفتين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابودرداء نے ان کو عتبہ بن سکن نے ان کو ابوبکر سلامی نے انہوں نے اس کو مرفوع نقل کیا ہے حذیفہ بن یمان تک وہ فرماتے ہیں کہ کلام سات پردوں میں ہوتی ہے۔ جس وقت ان سے باہر آ جاتی ہے لکھی جاتی ہے اور جب تک باہر نہیں آتی لکھی نہیں جاسکتی۔ وہ سات غلاف یہ ہیں۔ دل۔ گلے کا کور۔ زبان۔ دو تالو۔ اور دو ہونٹ۔

إِنَّ الْكَلَامَ بِسَبْعَةِ أَغْلَاقٍ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ ← أَبِي بَكْرٍ السَّلَامِيُّ،رَفَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5008

chevron_left Previous
1…181920…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood