Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4985

4985 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر أحمد بن عبيد الحافظ بهمدان نا إبراهيم محمد الحسين نا عثمان بن صالح حدثني عبد الله بن لهيعة حدثني رداح عن ابن حجيرة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا رأيتم العبد يعطي زهدا في الدنيا و قلة منطق فاقتربوا منه فإنه يلقي الحكمة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر احمد بن عبید حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو عبداللہ بن لھیعہ نے ان کو دراج نے ان کو ابن حجیرہ نے ان کو ابوہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم ایسے بندے کو دیکھو جو دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی کی نعمت عطا کیا گیا ہے پس اس شخص کے قریب ہو جاؤ بے شک وہ حکمت و دانائی دل میں القاء کیا گیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ حُجَیْرَۃَ ← رداح ← عبد الله بن لهيعة ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← إبراهيم محمد الحسين ← جعفر أحمد بن عبيد الحافظ بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4985

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4986

4986 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر بن محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن علي بن حسين وأخبرنا أبو طاهر أنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفحام نا محمد بن يحيى الذهلي نا وهيب نا معمر عن علي بن حسين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعينه هذا مرسل ح

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر بن محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زھری نے ان کو علی بن حسین نے.... اور ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر نے ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم قحام نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو وہیب نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو علی بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک انسان کے اسلام کی اچھائی اور خوبی میں سے ہے غیر ضروری امور کو ترک کر دینا۔ یہ حدیث مرسل ہے۔’’ح“۔

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← مَعْمَرٌ، ← وُهَيْبٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَحَّامُ ← علي بن حسين وأخبرنا أبو طاهر ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر بن محمد بن الحسين القطان ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4986

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4987

4987 - و قد أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو بكر محمد بن محمد بن أحمد بن رجا الأديب من أصل سماعه و أبو القاسم علي بن الحسن الطهماني قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن الوليد البيروتي نا أبي أنا الأوزاعي أخبرني قرة بن عبد الرحمن عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه إسناد الأول أصح

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے اور ابوبکر محمد بن محمد بن احمد بن رجآء ادیب نے اس کے اصل سماع میں سے اور ابوالقاسم علی بن حسن طھمانی نے ان لوگوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بیروتی نے ان کو ان کے والد نے ان کو اوزاعی نے ان کو خبر دی قرہ بن عبدالرحمٰن نے زہری سے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لایعنی اور بے فائد ہ امور کا ترک کر دینا انسان کے اسلام کی خوبی ہے۔ پہلی اسناد زیادہ صحیح ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4987

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4988

4988 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا عبد الرزاق نا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن عمرو بن شرحبيل قال : قال عبد الله بن مسعود : إن طول الصلاة و قصر الخطبة مئنة من فقه الرجل يقول علامة

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو سفیان نے ان کو اعمش نے ان کو ابووائل نے ان کو عمر بن شرحبیل نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عبداللہ بن مسعود نے۔ بے شک نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو چھوٹا کرنا آدمی کے فقیہ ہونے کی علامت ہے۔ کہتے ہیں علامت ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4988

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4989

4989 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا علي بن الحسن بن بيان المقري نا شريح بن يونس ح و أنا : أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني نا أحمد بن موسى الحمار نا شريح بن يونس نا عبد الرحمن بن عبد الملك بن الجر عن أبيه عن واصل بن حيان عن أبي وائل قال : خطبنا عمار فأبلغ و أوجز فلما نزل قلنا يا أبا اليقظان لقد أبلغت و أوجزت فلو كنت نفست فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن طول صلاة الرجل و قصر خطبته مئنة من فقهه فأطيلوا الصلاة و اقصروا الخطبة فإن من البيان سحرا رواه مسلم في الصحيح عن شريح بن يونس لفظهما سواء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کوعلی بن حسن بن زیاد فقری نے ان کو شریح بن یونس نے ’’ح“ ان کو خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے ان کو احمد بن موسیٰ حماد نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبدالملک بن جد نے ان کو ان کے والد نے ان کو واصل بن حیان نے ان کو ابووائل نے وہ کہتے ہیں ہم لوگوں کو خطبہ دیا عمار نے اور جو کہ بہت ہی بلیغ اور بہت ہی مختصر تھا۔ جب وہ ممبر سے اترے تو ہم نے کہا اے ابوالیقطان البتہ آپ نے بہت ہی بلیغ اور مختصر خطبہ دیا اگر آپ تفصیل سے کام لیتے تو بہتر ہوتا انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے۔ بے شک آدمی کا نماز کو لمبا کرنا اور خطبہ کو چھوٹا کرنا علامت ہے اس کی فقاہت (فقیہ ہونے کی) پس لمبا کیا کرو نماز کو اور چھوٹا کیا کرو خطبے کو بے شک بیان میں مخفی تاثیر ہوتی ہے۔ (یا جادو کی سی تاثیر ہوتی ہے۔)

أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن بن عبد الملك بن الجر ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الْحِمَارُ، ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← علي بن الحسن بن بيان المقري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4989

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4990

4990 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم عن أبيه : أن عمر بن الخطاب دخل على أبي بكر الصديق و هو يجبذ لسانه فقال عمر : مه يغفر الله لك فقال أبو بكر هذا أوردني الموارد

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو انہوں نے ما لک کے سامنے پڑھا۔ زید بن اسلم سے اس نے ان کے والد سے یہ کہ عمر بن خطاب ابوبکر صدیق کے پاس گئے وہ اپنی زبان کو پکڑ کر کھینچ رہے تھے حضرت عمر نے کہا۔ ٹھہر جائیے اللہ آپ کو معاف فرمائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا یہی ہے جس نے مجھے کئی گھاٹوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4990

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4991

4991 - قال : و فيما قرأ على مالك أنه بلغه : أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم كانت ترسل إلى بعض أهلها بعد العتمة فتقول ألا تريحون كتابكم

کہتے ہیں اس میں جو انہوں نے مالک کے سامنے پڑھا۔ بے شک حال یہ ہے کہ سیدہ عائشہ زوجہ رسول اپنے بعض گھر والوں کے پاس عشاء کے بعد کسی کو بھیج کر کہتی تھیں کیا تم لوگ اپنے اعمال نامے کو آرام نہیں دیتے ہو۔

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4991

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4992

4992 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا سعيد بن عامر نا أبو عامر صالح بن رستم عن عبيد بن هلال عن الأحنف قال : جلست إلى أبي ذر و هو يسبح فأقبل علي فقال : إملاء الخير على خير أليس خيرا ؟ قال : قلت بلى أصلحك الله ثم أقبل على تسبيحه ثم قال : و السكوت خير من إملاء الشر أليس كذلك ؟ قلت : بلى ثم قال : و جليس الصالح خير من الوحدة أليس كذلك ؟ قلت بلى قال : و الوحدة خير من جليس السوء أليس كذلك ؟ قلت بلى

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فہام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ابوعامر صالح بن رستم نے ان کو عبید بن ہلال نے ان کو احنف نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ تسبیح پڑھ رہے تھے (یعنی سبحان اللہ) پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ خیر پر خیر کو لکھوانا کیا خیر نہیں ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ہاں ہے اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے۔ پھر وہ اپنی تسبیح کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پھر فرمایا خاموشی بہتر ہے شر اور برائی لکھوانے سے کیا ایسے نہیں ہے؟ میں نے کہا ہاں ہے۔ اس کے بعد فرمایا اچھا اور نیک ساتھی اکیلے ہونے سے بہتر ہے کیا صحیح نہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ اور فرمایا کہ اکیلا رہنا بہتر ہے برے ساتھی سے کیا صحیح نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ایسے ہی ہے۔

و جليس الصالح خير من الوحدة أليس كذلك قلت بلى ← و السكوت خير من إملاء الشر أليس كذلك قلت بلى ثم ← قلت بلى أصلحك الله ثم أقبل على تسبيحه ثم ← إملاء الخير على خير أليس خيرا ← جلست إلى أبي ذر و هو يسبح فأقبل علي ← الأحنف ← عبيد بن هلال ← أَبُو عَامِرٍ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4992

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4993

4993 - و حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه نا محمد بن الهيثم القاضي نا الهيثم بن جميل الأنطاكي نا شريك عن أبي المحجل عن صدقة بن أبي عمران بن حطان قال : لقيت أبا ذر فوجدته في المسجد مختبئا بكساء أسود وحده فقال : يا أبا ذر ما هذه الوحدة ؟ فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الوحدة خير من جليس السوء و الجليس الصالح خير من الوحدة و املاء الخير خير من السكوت و السكوت خير من املاء الشر

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو محمد بن ہیثم قاضی نے ان کو ہیثم بن جمیل انطاکی نے ان کو شریک نے ان کو ابوالحجل نے ان کو صدقہ بن ابوعمران نے ان کو عمران بن حطان نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مسجد میں کالی چادر اوڑھ کرا کیلے چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ عمران نے کہا کہ اے ابوذر یہ کیا وحدۃ و تنہائی ہے؟ پس کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ فرماتے تھے تنہائی بہتر ہے برے ساتھی سے۔ اور نیک ساتھی بہتر ہے خلوت سے اور خیر پر خیر کو لکھوانا خاموشی سے بہتر ہے۔ اور خاموشی بہتر ہے برائی لکھوانے سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← يا أبا ذر ما هذه الوحدة ← لقيت أبا ذر فوجدته في المسجد مختبئا بكساء أسود وحده ← صدقة بن أبي عمران بن حطان ← أَبِي الْمُحَجَّلِ، ← شَرِيکٍ ← الهيثم بن جميل الأنطاكي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4993

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4994

4994 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أبادي نا الفضل بن محمد بن المسيب نا عبيد الله العائشي نا دوير بن مجاشع عن غالب القطان عن مالك بن دينار عن الأحنف بن قيس قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : من كثر ضحكه قلت هيبته و من كثر مزاحه استخف به و من أكثر من شيء عرف به و من كثر كلامه كثر سقطه قل حياؤه و من قل حياؤه قل ورعه و من قل ورعه مات قلبه

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوطاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو فضل بن محمد بن مسیّب نے ان کو عبیداللہ عائشی نے ان کو دویر بن مجاشع نے ان کو غالب قطان نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو احنف بن قیس نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جو شخص زیادہ ہنستا ہے اس کا رعب کم ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص زیادہ مذاق کرتا ہے ہلکا اور بے وزن ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص کسی شئی کو زیادہ کرتا ہے وہ اس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اور جو شخص زیادہ ہوتا ہے اس کے کلام کی غلطی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور جس کی کلام کی غلطی زیادہ ہو جائے۔اس کی حیا کم ہو جاتی ہے اور جس کی حیا کم ہو جائے اس کا تقوی اور پرہیزگاری کم ہو جاتی ہے۔ اور جس کی پرہیزگاری کم ہو جائے اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے۔

الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← غَالِبٌ الْقَطَّانُ ← دوير بن مجاشع ← عبيد الله العائشي ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4994

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4995

4995 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا عثمان بن صالح نا ابن وهب عن يونس بن يزيد عن ابن شهاب حدثني عبيد الله بن عبد الله أنه بلغه أن عمر بن الخطاب كان يقول : لا تعترض فيما لا يعنيك و اعتزل عدوك و احتفظ من خليل إلا الأمين فإن الأمين من القوم لا يعد له شيء و لا تصحب الفاجر ليعلمك من فجوره و لا تفشي إليه سرك و استبشر في أمرك الذين يخافون الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ ان کو خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کہتے تھے کہ جو چیز تیرا مقصود نہیں ہے اس میں تو اعتراض نہ کر ۔ اور اپنے دشمن سے تو علیٰحدہ رہ۔ اور نگاہ رکھ حفاظت کر تو جگری دوست کی۔سوائے امین کے اس لئے کہ قوم میں سے جو امین ہوتا ہے کوئی چیز ان کے برابر نہیں ہوسکتی۔ اور فاجر و بدکردار کی صحبت اختیار نہ کر ورنہ وہ اپنے فجور اور گناہوں کی آپ کو ہی تعلیم دے دے گا۔ اور فاجر کے آگے اپنا راز افشاء نہ کرنا۔ اور اپنے معاملے میں ان لوگوں سے مشورہ کر جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

عبيد الله بن عبد الله أنه بلغه أن عمر بن الخطاب كان ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4995

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4996

4996 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا إسحاق بن الحسن بن ميمون نا حماد بن سلمة عن يونس بن عبيد أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : يحسب المؤمن من ألغى أن يؤذي جليسه فيما لا يعنيه و أن يجد على الناس بما يأتي و أن يظهر له من الناس ما يخفي عليه من نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو اسحٰق بن حسین بن میمون نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مؤمن کے گمراہ ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ اپنے رفیق اور ساتھی کو تکلیف پہنچائے لایعنی اور غیر مقصودی بات پر۔ اور یہ کہ لوگوں پر غصہ اور ناراضگی کرے اس بات پر جو کام خود کرے اور یہ کہ جو چیز اس پر اپنے نفس کی مخفی ہے وہ لوگوں کے آگے ظاہر کر دے۔

يونس بن عبيد أن عمر بن الخطاب ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4996

chevron_left Previous
1…171819…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood