Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4973

4973 - أخبرنا أبو جعفر كامل بن أحمد بن المستملي أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الرازي املاء من كتابه نا محمد بن المسيب الأرغياني نا محمد بن هاشم البعلبكي نا الوليد بن مسلم نا صدقة بن خالد عن زيد بن واقد عن بسر بن عبيد الله عن وائلة قال : بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ أقبل رجل عليه شارة حسنة ما أدري من رأيت رجلا أبهى لعيني فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يتكلم كلاما إلا أحب الرجل أن يعلوا كلامه كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لا يحب هذا و حزبه يلوون بأسنتهم للناس لي البقرة لسانها بالراعي كذلك يلوي الله وجوههم و ألسنتهم في النار

ہمیں خبر دی ابوجعفر کامل سے بن احمد بن مستملی نے ان کو خبر دی ابواسحٰق ابراہیم بن احمد رازی نے بطور املاء کے اپنی کتاب میں سے ان کو محمد بن مسیّب رغیانی نے ان کو محمد بن ہاشم بعلبکی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو صدقہ بن خالد نے ان کو زید بن وافد نے ان کو بسر بن عبداللہ نے ان کو واثلہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا۔اس پر خوبصورت پوشاک تھی میں نہیں جانتا کہ میں نے کونسا آدمی دیکھا ہے جو میری نظروں میں اس سے زیادہ خوبصورت ہو حضور جو بھی بات کرتے میں نے دیکھا کہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے کلام کو کلام رسول سے اونچا کر دے اس کے بعد وہ اٹھ گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے گروہ کو پسند نہیں کرتا۔ یہ لوگ اپنی زبانوں کو گھماتے ہیں لوگوں کے لئے مثل گھومانے بیل کے اپنی زبان کو چرنے کے لئے (یا چارے کے لئے) یعنی جیسے جانور زبان مار کر چارہ سمیٹتا ہے۔ ایسے اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں کو اور زبانوں کو آگ میں موڑے گا۔

وائلة. ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الرازي ← أبو جعفر كامل بن أحمد بن المستملي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4973

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4974

4974 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا ابن السرح نا ابن وهب عن عبد الله بن المسيب عن الضحاك بن شرحبيل عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال أو الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا و لا عدلا

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد ابن سرح نے ان کو ابن وہب نے ان کو عبداللہ بن مسیّب نے ان کو ضحاک بن شرحبیل نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شخص کلام کا ایر پھیر اس لئے سیکھے تاکہ وہ اس کے ذریعے مردوں کے یا لوگوں کے دلوں کو قید کر سکے قابو کر سکے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرضی یا نفلی کوئی عبادت قبول نہیں کرے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ السَّرْحِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4974

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4975

4975 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا سليمان بن عبد الحميد البهراني أنه قرأ في أصل إسماعيل بن عياش و حدثه محمد بن إسماعيل ابنه قال : حدثني أبي حدثني ضمضم عن شريح بن عبيد نا أبو طيبة : أن عمرو بن العاص قال يوما و قام رجل فأكثر القول فقال عمرو لو قصد في قوله لكان خيرا له سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لقد رأيت أو أمرت أن أتجوز في القول فإن الجواز في القول هو خير

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو سلیمان بن عبدالحمید مہرانی نے کہ انہوں نے پڑھا اسماعیل بن عیاش کی اصل میں اور اس کو حدیث بیان کی محمد بن اسماعیل نے ان کے بیٹے نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے ان کو ضمضم نے ان کو شریح بن عبید نے ان کو ابوطیبہ نے ان کو عمرو بن عاص نے ایک دن انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے زیادہ بات چیت کی۔لہذا عمرو نے کہا اگر وہ بات کرنے میں اعتدال سے کام لیتا تو اس کے حق میں بہتر ہوتا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے ۔البتہ تحقیق میں دیکھتا ہوں یا یوں کہا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کلام میں اختصار کروں بیشک بات میں اختصار کرنا بہتر ہے۔

سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4975

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4976

4976 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا يعلي بن عبيد نا أبو حيان عن مجمع التميمي قال : كان لعمر بن سعد إلى أبيه حاجة فقدم بين يدي حاجته كلاما مما يحدث الناس و يوصلون لما يكن سمعه منه فيما مضى فلما فرغ قال : يا بني قد فرغت من كلامك ؟ قال : نعم قال : ما كنت من حاجتك أبعد و لا كنت فيك أزهد مني منذ سمعت كلامك هذا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سيكون قوم يأكلون ألسنتهم كما يأكل البقر من الأرض

ہمیں خبر دی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوجعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن غرزہ نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو ابوحیان نے ان کو مجمع تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن سعد کو اپنے والد سے کوئی کام تھا لہذا اس نے اپنی حاجت سے قبل کوئی بات چیت کی جس طرح لوگ کرتے ہیں پھر وہ سلسلہ کو جوڑتے ہیں اس بات سے جو ان کا مقصود کلام ہوتا ہے۔ جب وہ بات سے فارغ ہوئے انہوں نے کہا اے بیٹے آپ بات کر کے فارغ ہو گئے؟ بولے جی ہاں فرمایا کہ تو اپنی حاجت سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اور میں تیرے بارے میں بے رغبت و بے تعلق نہیں ہوں جب سے میں نے تیرا یہ کلام سنا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ کہ عنقریب لوگ ہوں گے وہ اپنی زبانوں کو ایسے کھائیں گے جیسے بیل زمین سے کھاتا ہے۔

مجمع التميمي ← أَبُو حَيَّانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4976

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4977

4977 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا مسعر عن أبي علقمة قال مسعر : أراه عن عبد الله قال : ليأتين على الناس زمان يأكلون فيه بألسنتهم كما تأكل البقر بألسنتها هذا موقوف

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعر نے ان کو ابوعلقمہ نے کہا مسعر نے میں خیال کرتا ہوں اسکو عبداللہ سے انہوں نے کہا البتہ لوگوں میں ایک وقت آئے گا وہ اس میں اپنی زبانوں کے ساتھ ایسے کھائیں گے جیسے بیل کھاتا ہے اپنی زبان کے ساتھ۔ یہ روایت موقوف ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مِسْعَرٌ أُرَاهُ ← أَبِي عَلْقَمَةَ ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4977

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4978

4978 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الحسن أحمد بن محمد العنزي يقول : سمعت عثمان بن سعيد الدارمي يقول : سمعت نعيم بن حماد يقول : سمعت ابن المبارك يقول : أدركت أصحابنا يقطعون الكلام يريد أنهم كانوا يخافون حديث النبي صلى الله عليه و سلم يكون قوم يأكلون بألسنتهم

ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوالحسن احمد بن محمد غزی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عثمان بن سعید دارمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نعیم بن حماد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مبارک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پالیا اپنے اصحاب کو کہ وہ کلام کو قطع کرتے ہیں وہ ارادہ کرتے ہیں کہ بے شک وہ ڈرتے تھے نبی کریم کی حدیث سے کہ کچھ لوگ ہوں گے کہ وہ اپنی زبانوں کے ذریعے کھائیں گے۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبَا الْحَسَنِ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيَّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4978

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4979

4979 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا ابن عثمان نا عمر بن علي أنا عبد رب بن هلال بن أبي هلال قال : أنبأني ميمون بن مهران قال : إني لعند عمر بن عبد العزيز إذ فتح له منطق حسن حتى رق له أصحابه قال : ففطن لرجل منهم و هو يحذف دمعته قال : فقطع منطقه قال ميمون : فقلت له امض في منطقك يا أمير المؤمنين فإني أرجو أن يمن الله عز و جل به على من سمعه و انتهى إليه فقال : بيده إليك عني فإن القول فتنة و الفعال أولى بالمرء من القول

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن عثمان نے ان کو عمر بن علی نے انکو عبید بن ہلال بن ابوہلال نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی میمون بن مھران نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک میں بیٹھا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس اچانک انہوں نے کوئی سلسلہ کلام شروع کیا جو انتہائی خوبصورت تھا جس سے اہل مجلس کے دل بہت ہی نرم ہو گئے کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے دیکھا کہ ایک آدمی کے آنسوں بہہ رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے اپنی بات کا سلسلہ منقطع کر دیا حضرت میمون نے عرض کیا اے امیر المومنین آپ اپنی کلام کا سلسلہ جاری رکھیں میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے برکت دے گا اس پر جو اس بات کو سنے گا مگر انہوں نے بات ختم کر دی اور ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا اسی کو مجھ سے محفوظ رکھو بے شک بات چیت ایک فتنہ ہے۔ انسان کے قول سے اس کا عمل زیادہ بہتر ہے۔

إني لعند عمر بن عبد العزيز ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← عبد رب بن هلال بن أبي هلال ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← ابْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4979

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4980

4980 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر الفحام نا محمد بن يحيى نا إبراهيم بن حمزة عن عبد العزيز بن أبي حازم عن العلا عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله لا يحب قيل و قال و كثرة السؤال و إضافة المال أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبي صالح عن أبي هريرة و أخرجه في الصحيح من حديث المغيرة بن شعبة عن النبي صلى الله عليه و سلم و هذا إسناد صحيح على شرط مسلم

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر فحام نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو ابراہیم بن حمزہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابوحازم نے ان کو علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے زیادہ قیل و قال کو اور کثرت سوال کو اور اضاعت مال کو۔ اس کو نقل کیا ہے مسلم نے ابوصالح کی حدیث سے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مغیرہ بن شعبہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اسناد صحیح ہے امام مسلم کی شرط کے مطابق۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلا ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أبو بكر الفحام، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4980

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4981

4981 - أ أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن عبد الملك بن عمير قال أخبرني و زاد قال : كتب معاوية إلى المغيرة بن شعبة أن أكتب إلي بشيء من حديث رسول الله صلى الله عليه و سلم فكتب إليه إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتعوذ من ثلاثة من عقوق الأمهات و من وأد البنات و من منع و هات و سمعته ينهى عن ثلاثة قيل و قال و إضاعة المال و كثرة السؤال قال و سمعته يقول : اللهم لا مانع لما أعطيت و لا معطي لما منعت و لا راد لما قضيت و لا ذا الجد منك الجد

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ لکھا حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو کہ آپ میرے پاس کوئی حدیث رسول لکھ کر بھیجئے حضرت مغیرہ نے ان کی طرف یہ لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے ماؤں کی نافرمانی سے اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے اور منع کرنے اور حکایت سے اور میں نے ان سے سنا آپ تین چیزوں سے منع کرتے تھے۔ قیل و قال سے۔ مال کو ضائع کرنے سے۔ کثرت سوال سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فرماتے تھے۔اے اللہ تو جو کچھ عطا کرے اسے روکنے والا کوئی نہیں ہے اور جو چیز تو روک لے اس کو دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اور جو کچھ فیصلہ کرے اس کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ اور کسی عزت دار کو اس کی عزت تیرے عذاب سے نہیں بچاسکتی۔

مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← و زاد ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أ أبو الحسين بن بشران

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4981

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4982

4982 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي الرفا نا أبو محمد زكريا بن داود الخفاف نا يحيى بن يحيى ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إبراهيم بن عصمه نا أبي نا يحيى بن يحيى أنا أبو معاوية عن العوام بن جويرية عن الحسن عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أربع لا يصبن إلا بعجب الصمت و هو أول العبادة و التواضع و ذكر الله و قلة الشيء

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی رفاء نے ان کو ابومحمد زکریا بن داؤد خفاف نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ”ح“ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابراہیم بن عصمہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابومعاویہ نے ان کوعوام بن جویریہ نے ان کو حسن نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار چیزیں ہیں وہ نہیں ملتیں۔ مگر بڑی مشکل کے ساتھ۔خاموشی جو کہ اول عبادت ہے۔ اور تواضع و عاجزی۔ذکر اللہ۔اور شئی کی قلت۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْعَوَّامُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو محمد زكريا بن داود الخفاف ← أبو علي الرفا ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4982

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4983

4983 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم نا أبي نا يحيى بن يحيى ح و أخبرنا أبو النصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى أنا عبد الله بن لهيعة عن يزيد بن عمرو عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صمت نجا رواه إسحاق الحنظلي عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے نضر بن قتادہ نے اور ابوبکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن لھیعہ نے ان کو یزید بن عمرو نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حنبلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پالی۔ روایت کیا ہے اس کو اسحاق حنظلی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ← عبد الله بن لهيعة ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← عمرو بن مطر ← أبو النصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي ← و، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4983

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4984

4984 - أخبرناه أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو محمد السلمي نا السراح نا إسحاق أنا يحيى بن يحيى : فذكره بإسناده نحوه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابومحمد سدی نے ان کو سراج نے ان کو اسحاق نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے انہوں نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل۔

يحيى بن يحيى فذكره بإسناده نحوه ← إِسْحَاقُ ← السراح ← أبو محمد السلمي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4984

chevron_left Previous
1…161718…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood