Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4949

4949 - أخبرنا كامل بن أحمد المستملي أنا إسماعيل بن أحمد الجرجاني نا أبو الأزهر جماهر بن محمد الدمشقي نا هشام بن عمار نا محمد بن عيسى بن سميع نا ابن أبي الزعيزعة و هو محمد نا عطاء بن أبي رباح عن أبي الدرداء أنه قال : إني لا أقول و لا أسرق و لا أشرب الخمر قيل : لم ؟ قال : لإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : البلاء موكل بالقول ما قال عبد بشيء لا أفعله إلا ترك الشيطان كل شيء من الأشياء فولع بذلك منه حتى يوتمه

ہمیں خبر دی کامل بن احمد مستملی نے ان کو اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو ابوازرهر جماهر بن محمد دمشقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو محمد بن عیسیٰ بن سمعی نے ان کو ابن ابوزعزعہ نے ان کا نام محمد ہے۔ان کو عطاء بن ابوریاح نے ان کو ابودرداء نے کہ انہوں نے کہا بے شک میں نہ بولتا ہوں نہ چوری کرتا ہوں نہ شراب پیتا ہوں پوچھا گیا کہ وہ کیسے؟ فرمایا کہ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے کہ مصیبت قول کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے بندہ جس چیز کے بارے میں کہتا ہے کہ میں یہ کام نہیں کروں گا بس شیطان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے اس کے بارے میں حرص و لالچ دیتا ہے حتیٰ کہ اس میں اس کو واقع کر دیتا ہے۔

البلاء موكل بالقول ما ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لِأَنِّي ← إني لا أقول و لا أسرق و لا أشرب الخمر قيل لم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابن أبي الزعيزعة و هو محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو الأزهر جماهر بن محمد الدمشقي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ← كامل بن أحمد المستملي،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4949

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4950

4950 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر أنا الحسين بن يحيى بن عياش نا علي بن أشكاب نا عمرو بن محمد البصري نا زكريا بن سلام عن المنذر بن بلال عن أبي جحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي العمال أحب إلى الله ؟ قال : فسكتوا فلم يجبه أحد قال : هو حفظ اللسان

ہمیں خبر دی ابوالفتح ہلال بن محمد بن جعفر نے ان کو حسین بن یحییٰ بن عیاش نے ان کو علی بن اشکاب نے ان کو عمرو بن محمد بصری نے ان کو زکریا بن سلام نے ان کو منذر بن بلال نے ان کو ابوحجیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سا عمل الله کے ہاں زیادہ محبوب ہے؟ کہتے ہیں کہ لوگ خاموش ہو گئے کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب نہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہے زبان کی حفاظت کرنا۔

أَبِي جُحَيْفَةَ ← المنذر بن بلال ← زَكَرِيَّا بْنِ سَلاَّمٍ ← عمرو بن محمد البصري ← عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ← أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4950

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4951

4951 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن موسى الصيدلانبي نا إبراهيم بن أبي طالب نا محمد بن علي بن شقيق نا علي بن حفص المدايني نا إبراهيم بن عبد الله بن الحرث عن حاطب عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله عز و جل فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله عز و جل قسوة القلب و إن أبعد الناس من الله القلب القاسي

اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن موسیٰ صید لانی نے ان کو ابراہیم بن ابوطالب نے ان کو محمد بن علی بن شقیق نے ان کوعلی بن حفص مدائنی نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ بن حرث نے ان کو حاطب نے ان کو عبداللہ بن دینار نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ذکر کے سوا کثرت سے کلام نہ کیا کرو اس لئے کہ اللہ کے ذکر سوا کثرت کلام سے سختی ہوتی ہے اور اللہ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ دور وہ ہے جو سخت دل والا ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← حَاطِبٍ ← إبراهيم بن عبد الله بن الحرث ← عَلِیُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَائنِیُّ ← محمد بن علي بن شقيق ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← محمد بن موسى الصيدلانبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4951

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4952

4952 - و أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن محمد الخرمي أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي نا محمد بن أيوب أخبرني محمد بن عبد الله بن إسماعيل نا علي بن حفص : فذكره بإسناد مثله

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن محمد خرفی نے ان کو ابوالعباس محمد بن اسحٰق ضبعی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو خبر دی محمد بن عبداللہ بن اسماعیل نے ان کو علی بن حفص نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے مذکور کی مثل۔

علي بن حفص فذكره بإسناد مثله ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن محمد الخرمي ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4952

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4953

4953 - حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا عبد الله بن صالح حدثني يحيى بن أيوب عن هشام بن حسان عن الحسن عن عمران بن حصين : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : مقام الرجل للصمت أفضل من عبادة ستين سنة

ہمیں حدیث بیان کی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن محمد سراج نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید درامی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن بن عمران بن حسین نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آدمی کے لئے خاموشی کا مقام ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4953

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4954

4954 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن سليمان الواسطي و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الباغندي محمد بن سليمان نا محمد بن يزيد بن خنيس المكي قال : دخلنا على سفيان الثوري بمكة نعوده في دار العطارين فدخل عليه سعيد بن حسان المخزومي يعوده فقال له سفيان : الحديث الذي حدثتينه عن أم صالح أردده علي فقال : حدثني أم صالح بنت صالح عن صفية بنت شيبة عن أم حبيبة قالت : قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلام ابن آدم كله عليه لا له إلا أمر بمعروف أو نهي عن منكر أو ذكر الله عز و جل فقال محمد بن يزيد ما أشد هذا الحديث : فقال سفيان : و ما شدة هذا الحديث إنما جاءت به امرأة هذا في كتاب الله عز و جل الذي أرسل به نبيكم صلى الله عليه و سلم أما سمعت الله يقول : { لا خير في كثير من نجواهم إلا من أمر بصدقة أو معروف أو إصلاح بين الناس } فهو هذا بعينه أو ما سمعت قول الله عز و جل يقول : { يوم يقوم الروح والملائكة صفا لا يتكلمون إلا من أذن له الرحمن وقال صوابا } فهو هذا بعينه أو ما سمعت الله يقول : { و العصر } { إن الإنسان لفي خسر } { إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر } فهو هذا بعينه دخل لفظ حديث أحدهما في حديث الآخر

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن سلیمان واسطی نے اور ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو باغندی محمد بن سلیمان نے ان کو محمد بن یزید خنیس مکی نے وہ کہتے ہیں کہ ہم مکہ میں سفیان ثوری کے پاس ملنے گئے۔ ہم ان کی طبع پرسی کرنے گئے تھے دار عطارین میں چنانچہ ان کو ملنے کے لئے سعید بن حسان مخزومی بھی آگئے وہ بھی بیمار پرسی کرنے آئے تھے۔ سفیان نے ان سے پوچھا کہ وہ حدیث جو آپ نے مجھ کو بیان کی تھی ام صالح سے اسے ذرا میرے سامنے دہرائیے انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی تھی ام صالح بنت صالح نے صفیہ بنت شیبہ سے اس نے ام حبیبہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ کہ ابن آدم کا کلام سب کا سب اس کے اوپر وبال ہوتا ہے سوائے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کے یا ذکر اللہ کے۔ تو محمد بن یزید نے کہا کتنی سخت ہے یہ حدیث ؟ سفیان نے کہا کہ اس حدیث کی کیا شدت ہے سوائے اس کے نہیں کہ ایک عورت اس کو لائی ہیں دوسری عورت سے یہ بات تو کتاب اللہ میں ہے جس کے ساتھ تمہارے نبی بھیجے گئے تھے کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے نہیں سنا فرماتے ہیں کے۔ لا خير في كثير من نجواهم الا من امر بصدقة او امر بمعروف او اصلاح بين الناس. کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے ان کی بہت سرگوشیوں میں ہاں مگر جو شخص حکم کرے صدقہ کرنے کا یا کسی بھی معروف کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کا۔ تو وہ حدیث والی بات بعینہ یہی ہے جو اس آیت میں ہے۔ کیا تم نے یہ فرمان الہٰی نہیں سنا۔ يوم يقوم الروح والملائكة صفا لا يتكلمون الا من اذن لم الرحمن و قال صواباً۔ جس دن جبرائیل امین اور فرشتے بصورت صف کھڑے ہوں گے۔ نہیں کلام کر سکیں گے سوائے اس کے جس کو رحمٰن اجازت دے اور درست بات کرے وہ حدیث والی بات بعینہ یہی ہے۔ کیا تم نے یہ فرمان الہٰی نہیں سنا: والعصر ان الانسان لفي خسر الا الذين امنوا وعملوا الصالحات وتواصو بالحق وتواصو بالصبر. زمانے کی قسم بیشک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔ تو بات بعینہ یہی ہے۔ دونوں حدیثوں میں سے ایک کے الفاظ دوسری میں داخل ہو گئے ہیں۔

محمد بن يزيد بن خنيس المكي ← الْبَاغِنْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← محمد بن سليمان الواسطي و ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4954

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4955

4955 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي ببغداد أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن غالب حدثني عبد الصمد بن النعمان نا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أحدكم يتكلم بالكلمة من رضوان الله ما يلقي لها بالا يرفعه الله بها درجات و عن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله ما يلقي لها بالا فهو يهوي بها في جهنم رواه البخاري في الصحيح من وجه آخر عن عبد الرحمن بن عبد الله

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے بغداد میں ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو عبدالصمد بن نعمان نے ان کو عبدالرحمٰن عبداللہ بن دینار نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ بیشک ایک انسان تم میں سے کلام کرتا ہے اللہ کی رضامندی کے کلمہ کے ساتھ جس کی وہ پرواہ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کرتا ہے اور بے شک ایک بندہ کلام کرتا ہے اللہ کی ناراضگی کے کسی کلمہ کے ساتھ حالانکہ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا مگر وہ اسی کے سبب سے جہنم میں گر جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے دوسرے طریق سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4955

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4956

4956 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق و علي بن حمشاد قالا حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي قال : نا إبراهيم بن حمزة أنا عبد العزيز بن أبي حازم و عبد العزيز بن محمد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسين الحجاجي أنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم نا ابن أبي عمر نا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن يزيد ابن الهاد عن محمد بن إبراهيم بن عيسى بن طلحة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يهوي بها في النار بعد ما بين المشرق و المغرب رواه مسلم عن ابن أبي عمر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے اور علی بن حمشاد نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابراہیم بن حمزہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابوحازم نے اور عبدالعزیز بن محمد نے ’’ح“اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسین حجاجی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو ابن ابوعمر نے ان کو عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے ان کو یزید بن ہاد نے ان کو محمد بن ابراہیم بن عیسیٰ بن طلحہ نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک بندہ البتہ کسی کلمہ کو بولتا ہے اس میں وہ کوئی بات واضح نہیں کرتا مگر اس کے سبب سے وہ جہنم میں گر جائے گا اتنی دوری جیسے مشرق و مغرب کے درمیان ہے۔ اس کو مسلم نے ابن عمر سے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← محمد بن إبراهيم بن عيسى بن طلحة ← يَزِيْدُ ابْنُ الْهَادِ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ الْحَجَّاجِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عبد العزيز بن أبي حازم و عبد العزيز بن محمد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أبو بكر بن إسحاق و علي بن حمشاد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4956

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4957

4957 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد الدارمي نا سعيد بن أبي مريم نا ابن الدراوردي حدثني محمد بن عمرو بن علفمة عن أبيه عن جده عن بلال بن الحارث أنه : سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن أحدكم ليتكلم بالكلمة من رضوان الله ما يظن أن تبلغ ما بلغت فيكتب الله بها رضوانه إلى يوم يلقاه و إن أحدكم ليتكلم بالكلمة من سخط الله و ما يظن أن تبلغ ما بلغت فيكتب الله بها سخطه إلى يوم يلقاه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابولنصر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن ابومریم نے ان کو ابن دراوردی نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عمرو ابن علقمہ نے اپنے والد سے انہوں نے ان کے دادا سے ان کو بلان بن حارث نے بے شک اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے۔ بے شک ایک تمہارا البتہ بولے گا کوئی کلمہ اللہ کی رضامندی کا حالانکہ وہ بندہ یہ گمان بھی نہیں کرے گا کہ وہ کلمہ پہنچ جائے گا اس مقام تک جہاں وہ پہنچا ہوگا لہذا اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے لئے اپنی رضا لکھ دیں گے قیامت تک۔ اور بے شک ایک آدمی تنہا البتہ کلام کرے گا ایک کلمہ کی اللہ کی ناراضگی میں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا کہ وہ ناراضگی کی اس حد تک پہنچ جائے گا جہاں تک پہنچا ہوگا لہذا اللہ تعالیٰ قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دے گا اس کے ذریعے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← بلال بن الحارث أنه ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن عمرو بن علفمة ← ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4957

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4958

4958 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو أمية الطرسوسي نا معاوية بن عمرو نا أبو إسحاق الفزاري عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن ميمونة بن أبي شبيب عن معاذ بن جبل قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فأصاب الناس ريح فتقطعوا فضربت ببصري فإذا أنا قريب الناس من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : لأغتنمن خلوته اليوم فدنوت منه فقلت يا رسول الله أخبرني بعمل يقربني أو قال يدخلني الجنة و يباعدني من النار قال : لقد سألت عن عظيم و إنه ليسير على من يسره الله عليه تعبد الله و لا تشرك به شيئا و تقيم الصلاة المكتوبة و تؤتي الزكاة المفروضة و تحج البيت و تصوم رمضان و إن شئت أنبأتك بأبواب الخير قلت : اجل يا رسول الله قال : الصوم جنة و الصدقة تكفر الخطيئة و قيام الليل في جوف الليل يبتغي به وجه الله ثم قرأ الآية { تتجافى جنوبهم عن المضاجع } ثم قال : إن شئت أنبأتك برأس الأمر و عموده و ذروة سنامه قلت أجل يا رسول الله قال : أما رأس الأمر فالإسلام و أما عموده فالصلاة و أما ذروة سنامه فالجهاد و إن شئت أنبأتك بأملك الناس من ذلك كله فأقبل رجلان فخشيت أن يشغلاه عني قلت : و ما هو يا رسول الله بأبي و أمي فأشار بأصبعه إلى فيه فقلت : و إنا لنؤاخذ بكل ما نتكلم به قال : ثكلتك أمك يا معاذ و هل يكب الناس على مناخرهم في جهنم إلا حصائد ألسنتهم و هل تتكلم إلا بما عليك أو لك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوسعید بن ابوعمرو نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابوامیہ طرسوسی نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابواسحٰق فزاری نے ان کو اعمش نے ان کو حبیب میں ابوثابت نے ان کو صحون بن ابوشبیب نے ان کو معاذ بن جبل نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لوگوں پر سخت ہوا چلی لہذا لوگ بکھر گئے میں نے نظر ماری تو میں دیگر لوگوں کی نسبت رسول اللہ سے قریب تر تھا میں نے سوچا کہ آج میں حضور کے ساتھ اپنی خلوت کو غنیمت جانوں گا لہذا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے قریب کر دے یا یوں کہا کہ مجھے جنت میں داخل کر دے اور مجھے جہنم سے دور کر دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایک عظیم امر کے بارے میں پوچھا ہے لیکن وہ آسان ہے اس کے لئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کرو اور تم فرض نماز قائم کرو۔ اور تم زکوۃ ادا کرو جو فرض ہے۔ اور تم بیت اللہ کا حج کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں خیر کے دروازوں کی خبر دے دوں میں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا۔ کہ روزہ ڈھل ہے (گناہوں سے بچنے کے لئے) اور صدقہ غلطی اور گناہ کو مٹاتا ہے۔ اور رات کو کھڑے ہو کر عبادت کرنا آدھی رات کے بعد اس کے ساتھ اللہ کی رضا طلب کی جاتی ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: تتجا فى جنو بهم عن المضاجع. بستروں سے ان کی کروٹیں علیٰحدہ رہتی ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تجھے بتلاؤں رأس الامر کے بارے یعنی اصل امر کے بارے میں بتا دوں اور اس کے ستون کے بارے میں اور اس کی چوٹی کے بارے میں؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ رأس الامر اور معاملے کا اصل اسلام ہے (یعنی مسلمان ہونا) اور اس کا ستون نماز ہے۔ بہر حال اس کی چوٹی اور سب سے اونچی چیز جہاد ہے۔ اور اگر تم چاہو تو میں تجھے ان تمام چیزوں کے بارے میں لوگوں میں زیادہ مالک اور قدرت والے کے بارے میں بتا دوں۔اتنے میں دو آدمی آگئے میں نے سوچا کہ یہ آپ کو مجھ سے مصروف کر دیں گے۔ میں نے کہا وہ کیا ہے یا رسول اللہ۔ میرے ماں باپ قربان ہوں چنانچہ آپ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا۔ تو میں نے کہا کہ کیا ہم لوگوں سے جو کچھ ہم بات چیت کرتے ہیں اس کے بارے میں بھی مؤاخذہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا۔ تیری ماں تجھے گم پائے اے معاذ۔لوگوں کو جہنم میں ان کے ناکوں کے بل قیامت میں نہیں ڈالیں گی مگر ان کی اپنی زبانوں کی کھتیاں کٹی ہوئی۔ جو کچھ تم کلام کرتے ہو وہ یا تو تیرے اوپر وبال ہوگا یا تیرے لئے فائدہ مند ہوگا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← ميمونة بن أبي شبيب ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4958

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4959

4959 - و نا أبو أمية نا سليمان بن يحيى عن ثعلبة بن عبد الله بن أبي عمرة حدثني أبي عن الحكم عن ميمون بن أبي شبيب عن معاذ بن جبل : عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

ہمیں خبر دی ابوامیہ نے ان کو سلیمان بن یحییٰ نے ان کو ثعلبہ بن عبداللہ بن ابوعمرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو حکم نے ان کو میمون بن ابوشبیب نے ان کو معاذ بن جبل نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مثل۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ ← أَبِي ← ثعلبة بن عبد الله بن أبي عمرة ← سليمان بن يحيى ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4959

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 4960

4960 - و روينا من حديث أبي وائل و عروة بن النزال أو النزال بن عروة عن معاذ : ـ

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے ابووائل سے اور عروہ بن نزال سے یا نزال بن عروہ سے اس نے معاذ سے۔

مُعَاذٌ، ← ائل و عروة بن النزال أو النزال بن عروة ← و روينا من حديث أبي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 4960

chevron_left Previous
1…141516…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood