Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4781

4781 - و حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان بن عيينة عن ابن سنان عن عبد الله بن شداد قال : وقعت رؤيا يوسف عليه السلام بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو ابن سنان نے ان کو عبداللہ بن شداد نے وہ کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کا خواب چالیس سال بعد واقع ہوا تھا اور اتنی مدت میں وہ خواب اپنی تکمیل اور اپنی انتہا کو پہنچا تھا۔

وقعت رؤيا يوسف بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ابن سنان ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4781

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4782

4782 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد الدرامي نا سعيد بن أبي مريم نا محمد بن جعفر حدثني زيد هو ابن أسلم عن عطاء عن أبي سعيد الخدري : أن رجالا من المنافقين في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا خرج من الغزو تخلفوا عنه و فرحوا بمقعدهم خلاف رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم اعتذروا إليه و حلفوا و أحبوا أن يحمدوا بما لم يفعلوا و لا تحسبنهم بمفازة من العذاب لفظ حديث أبي عبد الله رواه البخاري في الصحيح عن سعيد بن أبي مريم رواه مسلم عن الحلواني و غيره عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسین احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن ابومریم نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء نے ان کو ابوسعید خدری نے یہ کہ کچھ منافق آدمی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جہاد کے لئے نکلتے تھے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل جہاد نہیں ہوتے تھے بلکہ پیچھے رہ جاتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے اور گھروں میں بیٹھے رہنے پر خوش ہوتے اور اتراتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد سے واپس آتے تو یہ لوگ آپ کی خدمت میں معذرت پیش کر دیتے اور قسمیں کھا لیتے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ، جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریف ہو اے پیغمبر مت گمان کر تو ان کو عذاب سے چھٹکارا پانے والا۔ یہ ابوعبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سعید بن ابومریم سے۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا حلوانی وغیرہ سے اس نے سعید بن مریم سے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4782

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4783

4783 - أخبرنا الشيخ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب بن عبد القاهر نا أبو داود الطيالسي نا شعبة أخبرني يزيد بن خمير قال سمعت سليم بن عامر يحدث عن أوسط البجلي قال : سمعت أبا بكر رضي الله عنه يخطب فذكر النبي صلى الله عليه و سلم فبكى ثم قال : يعني النبي صلى الله عليه و سلم : عليكم بالصدق فإنه يهدي إلى البر و هما في الجنة و إياكم و الكذب فإنه يهدي إلى الفجور و هما في النار و سلوا الله اليقين و المعافاة فإن الناس لم يعطوا شيئا أفضل من المعافاة أو قال : العافية و لا تحاسدوا و لا تباغضوا و لا تقاطعوا و لا تدابروا كونوا عباد الله إخوانا

ہمیں خبر دی شیخ ابوبکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب بن عبدالقاھر نے ان کو ابوداؤد طیالسی نے ان کو سعید نے ان کو خبر دی یزید بن خمیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلیم بن عامر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اوسط بحلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جو کہ خطبہ دے رہے تھے انہوں نے حضور کا تذکرہ کیا تو رو پڑے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، تم لوگ سچ کو لازم پکڑو وہ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ دونوں جنت میں ہیں،اور تم بچاؤ اپنے آپ کو جھوٹ سے بے شک وہ گناہوں کی طرف راستہ دکھاتا ہے اور وہ دونوں جہنم میں ہیں۔اور اللہ سے یقین مانگو۔ اور عافیت مانگو۔ اس لئے کہ لوگوں کو عافیت سے افضل کوئی شئی عطا نہیں کی جاتی۔ یا یوں فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت مانگو۔اس لئے کہ لوگوں کو عافیت سے افضل کوئی شئی عطا نہیں کی جاتی۔ یا یوں فرمایا تھا کہ اللہ سے عافیت مانگو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے کو پس پشت نہ ڈالو اور ہو جاؤ اللہ کے بندے بھائی بھائی۔

أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ ← أَوْسَطٍ الْبَجَلِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يونس بن حبيب بن عبد القاهر ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4783

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4784

4784 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا عثمان بن أبي شيبة نا جرير عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الصدق يهدي إلى البر و إن البر يهدي إلى الجنة و عن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا و عن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار و عن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن عثمان بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ان کو ابووائل نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اور بے شک ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک صدیق یعنی بہت بڑا سچا لکھ دیا جاتا ہے۔اور بے شک جھوٹ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں بے شک ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک کذاب اور بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اور مسلم نے صحیح میں عثمان بن ابوشیبہ سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4784

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4785

4785 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا سليمان بن حرب نا شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن عبد الله قال : أحسن الحديث كتاب الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم و شر الأمور محدثاتها و إنما توعدون لآت و ما أنتم بمعجزين قال : هذا عن مرة أو غيره عن عبد الله ألا عليكم بالصدق فإنه يقرب إلى الجنة و لا يزال العبد يصدق حتى يكتب عند الله صديقا و يثبت البر في قلبه فلا يكون للفجور موضع أبرة يستقر فيه ألا و إياكم و الكذب فإنه يهدي إلى الفجور أو قال : إلى النار و لا يزال العبد يكذب حتى يكتب عند الله كذابا و يثبت الفجور في قلبه فلا يكون للبر موضع إبرة يستقر فيه رواه البخاري في الصحيح عن آدم عن شعبة ولم يشك في إدراجه في الحديث و قد أخرجناه في آخر كتاب المدخل من حديث آدم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعیہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے فرمایا کہ خوبصورت بات کتاب اللہ ہے اور خوبصورت سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔ اور تمام امور میں سے بدتر امور دین میں نئی بدعات ہیں اور بے شک تمہیں جس چیز کا وعدہ دیا گیا ہے وہ چیز آنے والی ہے اور تم لوگ اس کو روک نہیں سکتے۔ راوی کہتے ہیں کہ مرہ سے مروی ہے یا اس کے غیر سے عبداللہ سے۔ خبر دار تم لوگ سچائی کو لازم پکڑو بے شک سچائی جنت کے قریب کرتی ہے ہمیشہ ایک بندہ سچ بولتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا سچا لکھ دیا جاتا ہے اور نیکی اس کے دل میں گھر کر لیتی ہے لہذا گناہوں کے لئے اس کے دل میں ایک سوئی کے برابر بھی جگہ باقی نہیں رہتی جس میں برائی ٹھہر سکے۔ خبردار بچاؤ تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بے شک وہ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے۔ یا کہا تھا کہ جہنم کی طرف۔اور ہمیشہ ایک بندہ جھوٹ بولتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے اور گناہ اس کے دل میں گھر کر لیتے ہیں حتیٰ کہ اس کے دل میں نیکی کے لئے ایک سوئی کی جگہ بھی باقی نہیں رہتی جس میں وہ ٹھہر سکے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اس نے شعبہ سے اس نے اس کو حدیث میں درج کرنے میں شک نہیں کیا۔ اور ہم نے اس کو کتاب المدخل میں حدیث آدم سے نقل کیا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4785

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4786

4786 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن جعفر بن برقان قال : قال : ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا إن البعيد ما ليس بآت ألا لا يجعل الله لعجلة أحد و لا تجد لأمر الناس فإن شاء الله لا ما شاء الناس يريد الله أمرا و يريد الناس أمرا ما شاء الله كان و لو كره الناس لا مقرب لما باعد الله و لا مباعد لما قرب الله و لا يكون شيء ألا بإذن الله أصدق الحديث كتاب الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم و شر الأمور محدثاتها وكل محدثه بدعة و كل بدعة ضلالة قال معمر : و قال : غير جعفر عن ابن مسعود و خير ما ألقى في القلب اليقين و خير الغنى غنى النفس و خير العلم ما نفع وخير الهدي ما أتبه و ما قل و كفى و خير مما كثر و ألهى و إنما يصير أحدكم إلى موضع أربعة اذرع فلا تملوا الناس و لا تسأموهم فإن لكل نفس نشاطا و إقبالا و إن لها سآمة و إدربار ألا و شر الرؤيا رؤيا الكذب الكذب يقود إلى الفجور و إن الفجور يقود إلى النار ألا و عليكم بالصدق فإن الصدق يقود إلى البر و إن البر يقود إلى الجنة واعتبروا في ذلك أنهما الفتيان التقتا يقال للصادق صدق و بر ويقال للفاجر كذب و فجر و قد سمعنا نبيكم صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال العبد يصدق حتى يكتب صديقا و لا يزال يكذب حتى يكتب كذابا ألا و إن الكذب لا يصلح في جد و لا هزل و لا إن يعد الرجل منكم صبية ثم لا ينجز له ألا و لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم قد طال عليهم الأمد فقست قلوبهم وابتدعوا في دينهم فإن كنتم لا محالة سائليهم ما وافق كتابكم فخذوه و ما خالفه فذكر عبد الله كلمة يعني أمسكوا عنه واسكتوا ألا و إن أصغر البيوت البيت الذي ليس فيه من كتاب الله شيء ألا و إن البيت الذي ليس فيه من كتاب الله خرب لخراب البيت الذي لا عامر له ألا و إن الشيطان يخرج من البيت الذي يسمع سورة البقرة تقرأ فيه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو جعفر بن برقان نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے کہا ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔خبر دار دور وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے۔ خبر دار اللہ تعالیٰ کسی ایک کے جلدی کرنے کی وجہ سے جلدی نہیں لائیں گے۔ آپ لوگوں کے امر سے کچھ نہیں پائیں گے۔ بیشک وہی کچھ ہوگا جو اللہ چاہے گا اور وہ نہیں ہوگا جو کچھ لوگ چاہیں گے۔ اللہ ارادہ کرتا ہے ایک امر کا اور لوگ ارادہ کرتے ہیں دوسرے امر کا۔اللہ جو کچھ ارادہ کرتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے اگرچہ لوگ اس کو ناپسند بھی کریں جس چیز کو اللہ دور کرے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو کوئی دور کرنے والا نہیں اس کو اللہ قریب کرے۔ اور کوئی کام نہیں ہوتا مگر اللہ کے حکم سے۔سب سے زیادہ سچی حدیث کتاب اللہ ہے اور خوبصورت سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین کام دین میں نوپیدا کام ہیں اور ہر نوپیدا کام (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ معمر نے کہا ہے کہ ابن مسعود سے جعفر کے علاوہ دیگر نے روایت کیا ہے کہ بہترین چیز جو دل میں ڈالی گئی وہ یقین ہے۔اور بہترین غنیٰ نفس اور دل کا غنیٰ ہوتا ہے۔ اور بہترین علم وہ ہے جو نفع دے اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے جو قلیل ہو اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو بہت ہو اور اس سے غفلت و لاپرواہی برتی جائے۔ یقینی بات ہے کہ ایک تمہارا رجوع کرے گا اور لوٹے گا چار ہاتھ (زمین کی طرف) لہذا لوگوں کو نہ تو اداس کرو نہ ہی ان کو نظر انداز کرو۔ بیشک ہر نفس کے لئے ایک نشاط اور خوشی ہوتی ہے اور بخت کامیابی ہوتی ہے۔ اور بیشک اس کے لئے نحوست اور بدبختی بھی ہوتی ہے۔ خبر دار بدترین خواب جھوٹا خواب ہے۔ جھوٹ گناہوں کی طرف چلاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف چلاتے ہیں۔خبر دار لازم پکڑو تم سچائی کو بے شک سچائی نیکی کی طرف چلاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف چلاتی ہے عبرت و نصیحت پکڑو تم اس بارے میں بے شک وہ دونوں جوان ہیں جو باہم ملتے ہیں صادق کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا اور نیکی کی اور گناہگار کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا اور ہم نے تو تمہارے نبی سے سنا تھا وہ فرماتے تھے ایک بندہ ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ خبر دار بیشک جھوٹ درست نہیں ہوتا نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں۔اور نہ اس طرح مناسب ہے کر تم میں سے کوئی آدمی اپنے بچے کو وعدہ دے بچے سے وعدہ کرے اس کے بعد وہ اس کو پورا نہ کرے۔ خبر دار تم میں سے کوئی آدمی اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھے بے شک ان پر طویل ہوگئی ہے مدت بندان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔اور انہوں نے دین میں بدعت ایجاد کر لی ہے۔ اگر تم لا محالہ ان سے پوچھتے بھی ہو تو جو تمہاری کتاب قرآن کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دو۔ پھر عبداللہ نے ایک کلمہ ذکر کیا یعنی اس سے رک جاؤ۔ اور خاموش رہو۔ بے شک تمام گھروں میں سے ذلیل ترین گھر وہ ہے جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی شئی نہ ہو۔ خبر دار بے شک وہ گھر جس میں کتاب اللہ میں سے کچھ نہ ہو وہ ویران ہے اور ویران گھر وہ ہے جس کو کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ خبر دار بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں وہ سن لے کہ سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4786

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4787

4787 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الإمام أبو بكر بن إسحاق أنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني عثمان بن أبي شيبة نا جرير عن إدريس الأودى عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله : رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الكذب لا يصلح منه جد و لا هزل و لا أن يعد الرجل ابنه ثم لا ينجز له إن الصدق يهدي إلى البر و إن البر يهدي إلى الجنة و إن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار إنه يقال للصادق صدق و بر و يقال للكاذب كذب و فجر و إن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا و يكذب حتى يكتب عند الله كذابا

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو امام ابوبکر بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو جریر نے ان کو ادریس اودی نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے حدیث کو مرفوع کیا رسول اللہ کی طرف۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ بے شک جھوٹ کسی طرح بھی درست نہیں ہوتا نہ مذاق میں نہ حقیقت میں اور نہ یہ درست ہے کہ کوئی آدمی اپنے بیٹے سے وعدہ کرے پھر وہ اس کو پورا نہ کرے۔ بے شک سچ نیکی کی ہدایت دیتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے۔اور بے شک جھوٹ گناہوں کی طرف راستہ دکھاتا ہے اور بے شک گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔ بے شک سچے کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا ہے اور نیکی کی ہے اور جھوٹے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اور گناہ کیا ہے بے شک آدمی البتہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بہت بڑا سچا لکھ دیا جاتا ہے اور ایک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔

عبد الله رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← الإمام أبو بكر بن إسحاق ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4787

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4788

4788 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن أبي مسعود قال : إنما هما اثنتان الهدي و الكلام فأحسن الكلام كلام الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم ألا و إياكم المحدثات و البدع فإن شر الأمور محدثاتها و كل محدثة ضلالة ألا لا يطولن عليكم المد فتقسوا قلوبكم ألا كل ما هو آت قريب ألا إن البعيد ما ليس آت ألا إن الشقي من شقي في بطن أمه و السعيد من وعظ بغير ألا و شر الرؤيا الرؤيا الكذب ألا و إن الكذب لا يصلح في جد و لا هزل و لا أن يعد الرجل منكم صبية ثم لا ينجز له ألا و إن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار و أن الصدق يهدي إلى البر و إن البر يهدي إلى الجنة و إنه يقال للصادق صدق و بر و يقال للكاذب كذب و فجر و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن العبد ليكذب حتى يكتب كاذبا و يصدق حتى يكتب صديقا ثم قال إياكم و العضة أتدرون ما العضة النميمة و نقل الأحاديث

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابواسحاق نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو ابومسعود نے فرمایا کہ بے شک وہ دو چیزیں ہیں ایک سیرت ہے اور دوسری چیز کلام ہے۔سو سب سے حسین ترین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے خوبصورت اور اچھی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔خبر دار تم بچاؤ اپنے آپ کو نئے کاموں سے اور بدعتوں سے۔ بے شک بدترین کام (دین) میں نوپیدا کام ہیں۔اور ہر نیا بنایا ہوا (اور دین میں) بدعت و گمراہی ہے۔ خبر دار نہ طویل ہو جائے تمہارے اوپر امیدیں جو کہ سخت کر دے تمہارے دلوں کو خبر دار ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ خبر دار بعید وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے خبر دار بد بخت وہ ہے اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔ اور سعادت مند وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کر لے۔ خبر دار بدترین خواب جھوٹا خواب ہے۔ خبر دار بے شک جھوٹ ٹھیک نہیں ہے نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں اور نہ ہی بایں صورت کہ تم میں سے کوئی آدمی بچے سے وعدہ کرے پھر اس کو پورا نہ کرے۔ خبر دار جھوٹ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔اور بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔اور بے شک سچ بولنے والے سے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا ہے اور درست کیا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والے کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اور گناہ کیا ہے اور بے شک میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ بے شک بندہ البتہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور ایک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ سچا لکھ دیا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ بچاؤ تم اپنے آپ کو منہ کے ساتھ کاٹ کھانے سے کیا تم جانتے ہو کہ وہ کاٹ کھانا کیا ہے وہ چغل خوری ہے۔اس کے بعد کئی احادیث نقل کی ہیں۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4788

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4789

4789 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الملك بن محمد نا وهب بن جرير نا شعبة عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن عبد الله قال : إن الكذب لا يصلح منه جد و لا هزل اقرأوا إن شئتم { يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله و كونوا مع الصادقين } قال عبد الله : فهل ترون في الكذب من رخصة

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبدالملک بن محمد نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو ابوعبیدہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک جھوٹ سے کچھ بھی درست نہیں ہے نہ حقیقت میں اور نہ ہی مذاق میں اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھو۔ ياايها الذين امنوا اتقواللّٰہ وكونوا مع الصٰدقين. اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہو جاؤ تم سچوں کے ساتھ۔ عبداللہ نے کہا کہ (اس آیت کو پڑھنے کے بعد) کیا تم لوگ کہیں جھوٹ بولنے کی کوئی رخصت پاتے ہو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4789

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4790

4790 - كذا قال عبد الله بن مسعود : فيما روي عنه إن الكذب لا يصلح منه جد و لا هزل

اسی طرح کہا ہے عبداللہ بن مسعود نے اس میں جو اس سے مروی ہے کہ بے شک جھوٹ کسی طرح بھی درست نہیں ہے نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں۔

-كَذَا

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4790

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4791

4791 - فأما الحديث الذي أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا إسماعيل بن أحمد نا محمد بن الحسين بن قتيبة نا حرملة بن يحيى أنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أخبرني حميد بن عبد الرحمن بن عوف : عن أمه أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط و كانت من المهاجرات الأول اللاتي بايعن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس فيقول خيرا أو ينمي خيرا قال ابن شهاب : و لم أسمعه يرخص في شيء مما يقول الناس كذبا إلا ثلاثة الحرب فإن الحرب خدعة و الإصلاح بين الناس و حديث الرجل امرأته و حديث المرأة زوجها رواه مسلم عن حرملة بن يحيى دون قوله فإن الحرب خدعة و رواه عبد الوهاب بن أبي بكر عن الزهري موصولا مرفوعا في الثلاث فقد قال الحليمي رحمه الله : إن ذلك ليس على صريح الكذب فإنه لا يحل بحال و إنما المباح من ذلك ما كان على سبيل التورية

بہر حال وہ حدیث جس کی ہمیں ابوعبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ان کو اسماعیل بن احمد نے ان کو محمد بن حسین بن قتیبہ نے ان کو حرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو خبر دی ہے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ان کو ان کی ماں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومعیط نے وہ خاتون پہلی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ کے ساتھ بیعت کی تھی۔ اس خاتون نے اسے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے۔ وہ جھوٹا نہیں ہے جو (جھوٹ بول کر) لوگوں کے مابین صلح کرا دے پس وہ خیر کی بات کرے یا خیر کی چغلی کرے۔ ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ان سے نہیں سنا کہ کسی شئی میں رخصت اس میں سے جس کو لوگ جھوٹ کہتے ہیں مگر تین چیزوں میں۔ جنگ میں اس لئے کہ جنگ دھوکہ دینا ہوتی ہے اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔مرد کا اپنی بیوی سے یا بیوی کا اپنے مرد سے اصلاح کی بات کرنا اس کو مسلم نے روایت کیا ہے مروطہ بن یحییٰ سے سوائے اس قول کے کہ بے شک جنگ دھوکہ ہوتی ہے اور ان کو روایت کیا ہے عبدالوہاب بن ابوبکر نے زہری سے بطور موصول روایت ہے۔ مرفوع رواتیوں میں تحقیق کہا ہے شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے بے شک یہ صریح کذب نہیں ہے کیونکہ صریح جھوٹ کسی حال میں حلال نہیں ہے، سوائے اس کے نہیں کہ اس بارے میں جو چیز مباح اور جائز ہے وہ ہے جو بطور توریہ کے ہو۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4791

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4792

4792 - ـ : و قد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أراد سفرا ورى بغيره قال الحليمي رحمه الله : و ذلك كما يقول القائل : إذا أراد أن يلبس الوجه الذي يقصد على غيره للطريق الآخر أسهل هو أم وعر و يسأل عدد منازله ليظن من سمع أنه يريده و هو يريد غيره و هكذا الإصلاح بين الزوجين لم يبح فيه صريح الكذب و لكن التعريض كالمرأة تشكو أن زوجها يبغضها و لا يحسن إليها فتقول لها لا تقولي ذلك فمن له غيرك و إذا لم يحبك فمن يحب و إذا لم يحسن إليك فمن يحسن إحسانه و نحو ذلك مما يوهمها أن زوجها بخلاف ما تظنه و إن كانت صادقة في ظنها ليصلح ذلك ما بينها و على هذا القياس يقول في الصلاح بين الإثنين و قول إبراهيم عليه السلام إني سقيم أراد به سأسقم و قوله لسارة أختي أراد به في الدين لا في النسب و قوله بل فعله كبيرهم هذا مقيد بقوله إن كانوا ينطقون و إنما سميت هذه الألفاظ كذبا لأنها أوهمت الكذب و إن كانت بأنفسها غير كذب قال الشيخ أحمد رضي الله عنه :

اور تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو دوسری سمت کا رخ کرتے۔ اور لوگوں کو شک تھا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ یہ توریہ اس طرح ہوتا ہے۔ کہ کوئی آدمی جب ارادہ کرے سفر میں جانے کا اور وہ جس راستے سے جانا چاہتا ہے اس کو لوگوں سے چھپانا چاہے اور وہ اپنی باتوں سے یہ تاثر دے کہ وہ فلاں دوسرے راستے سے گیا ہے یہ ظاہر کرنے کے لئے وہ لوگوں سے اس راستے کی تفصیل پوچھے جہاں سے نہیں جانا ہے کہ کیا وہ راستہ آسان ہے؟ یا مشکل ہے؟ اس کی منزلیں کتنی ہیں؟ تاکہ جو بھی سنے وہ یہ سمجھے کہ یہ شخص اسی راستے سے جائے گا جبھی تو اس کی تفصیل پوچھ رہا تھا جب کہ اس کا ارادہ کہیں اور راستے سے ہو۔اور اسی طرح معاملہ میاں بیوی کے مابین کا ہے اس میں بھی صریح جھوٹ مباح نہیں ہے۔ مگر تعریض کرنا مثلاً جیسے بیوی شکایت کرے اپنے شوہر کی کہ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ساتھ اچھا نہیں رہتا جب کہ کوئی آدمی اس سے یہ کہتا ہے کہ ایسی بات نہ کہو۔اس کےلئے تیرے سوا اور کون ہوگا؟ اگر تیرے ساتھ محبت نہیں کرے گا؟ تو پھر کس سے کرے گا۔ جب تیرے ساتھ اچھا نہیں رہے گا تو پھر کس کے ساتھ اچھا رہے گا اور اسی طرح کی دوسری گفتگو جو جس سے وہ کہنے والا عورت کے دل میں یہ خیال پیدا کر دے کہ اس کا شوہر اس کے خلاف ہے جو وہ گمان کرتی ہے۔ اگرچہ وہ عورت اپنے گمان میں فی الواقع سچی ہو۔ کہنے والا اس لئے کہتا ہے تاکہ دونوں کے درمیان صلح کرا دے اس اختلاف سے جو ان دونوں کے درمیان ہے۔اور اسی قیاس پر بات کرے دو آدمیوں کے درمیان۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ میں بیمار ہوں ان کی مراد تھی کہ میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔اور اسی طرح ان کا اپنی بیوی سارہ کے بارے یہ کہنا کہ وہ میری بہن ہے اور ارادہ یہ کیا تھا کہ دین میں نہ کہ نسب میں۔ اور اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ یہ بتوں کی توڑ پھوڑ ان میں سے بڑے نے کی ہے یہ مقید ہے ان کا نو اینطقون کے ساتھ۔ کہ اگر یہ یہ بولتے ہوتے تو۔ باقی ان الفاظ کو کذب کا نام دیا گیا ہے اس لئے کہ یہ کذب کا وہم و خیال پیدا کرتے ہیں اگرچہ وہ بذات خود جھوٹ نہیں ہیں۔ شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔

القائل إذا أراد ← الحليمي و ذلك كما ← و قد جاء

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4792

chevron_left Previous
1234…40
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood