Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1087

1086 - اخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا جعفر بن محمد بن نصير ثنا أبو محمد الجريري قال : سمعت سهل بن عبد الله التستري قول : ينبغي للعاقل أن يقول : إلهي ! إن بعد علمي فإن عبدك كرمك أرجو دوامها عندي و لا أتوهم عليها إذ خلقتني و صيرتني عبدا لك أن تكلني إلى نفسي أو تولي أمري غيرك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد نصیر نے ان کو ابو محمد جریری نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن تستری سے سنا وہ فرماتے تھے۔ عقلمند کو چاہیے کہ وہ یوں دعا کرے ۔ اے میرے معبود ! میرے اس یقین کے بعد کہ میں تیرا بندہ ہوں ، میں تیرے کرم کے میرے پاس ہمیشہ رکھنے کی امید کرتا ہوں ۔ جب آپ نے مجھے پیدا کیا ہے ، اور مجھے اپنا بندہ بنایا ہے ، میں اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا کہ آپ مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیں گے ۔ یا میرا معاملہ آپ اپنے ماسوائے کے حوالے کر دیں گے۔

سهل بن عبد الله التستري قول ينبغي للعاقل أن ← أبو محمد الجريري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1087

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1088

1087 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل أحمد بن محمد بن سهل الصيرفي ببغداد ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط الزاهد ثنا سعيد بن بحر القراطيسي حدثني بهدلة بن نمير قال : كنت في مجلس يزيد بن هارون أكتب الحديث بواسط و كانت نفقتي قد قلت فقال لي رجل من الزهاد : من تؤمل في هذا البلد لم نزل بك ؟ فقلت : يزيد بن هارون فالتفت إلي مغضبا قال لي : إذا و الله لا يسعفك في حاجتك و لا يبلغك أملك و لا يعطيك سؤلك فقلت له : و لم ذلك ؟ قال : لأني قرأت في الكتب السالفة : أن الله تبارك و تعالى يقول في بعض أسفار التوراة : و عزتي و جلالي و جودي و كرمي لأقطعن أمل كل مؤمن غيري بالإياس و لألبسنه ثوب المذلة ما بقي في الناس و لأنحينه عن بابي و لأطردنه من وصلي أيؤمل غيري في الشدائد و الشدائد بيدي ؟ و يرجي غيري ؟ و يطرق بالفقر أبواب الملوك و الأبواب المغلقة و مفاتيحها بيدي ؟ و بابي مفتوح لمن دعاني من الذي قرع بابي فلم أفتح له ؟ و من الذي دعاني فلم أجبه و من الذي سألني فلم أعطه و ذكر حديثا طويلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل احمد بن محمد بن سہل صیرفی نے بغداد میں ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان خیاط زاہد نے ان کو سعید بن بحر قرا نے ان کو بہدلہ بن نمیر نے وہ کہتے ہیں کہ: میں یزید بن ہارون کی مجلس میں مقام واسط میں حدیث لکھا کرتا تھا ، میرا خرچہ تھوڑا رہ گیا تھا۔ چنانچہ ایک آدمی نے جو کہ زاہدوں میں سے تھا مجھ سے کہا: آپ کے ساتھ جو پریشانی آئی ہوئی ہے اس میں آپ کس شہر میں آرزو رکھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا یزید بن ہارون سے ۔چنانچہ وہ زاہد غصہ سے میری طرف متوجہ ہوا اور بولا اس وقت اللہ کی قسم وہ تیری حاجت میں کام نہیں آئیں گے ، اور تجھے تیری امید تک نہیں پہنچائیں گا۔ اور تیرا سوال تجھے نہیں دے گا۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہو گا وہ زاہد شخص بولا کہ اس لئے کہ میں نے بعض کتب سابقہ میں پڑھا تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں توراۃ کے بعض دفتروں میں سے ہے ۔ مجھے میری عزت کی قسم ہے ، مجھے میرے جلال کی قسم ہے ، اور میرے جود و سخا کی دور اور میرے کرم کی قسم ہے کہ میں ہر آرزو کرنے والے کی آرزو کاٹ دوں گا۔ مایوس کرنے کے ساتھ جو آرزو میرے ماسوائے ہو گی۔ اور میں اس کو ذلت کا لباس پہناؤں گا جب تک وہ لوگوں میں رہے گا، اور میں ضرور اس کو اپنے دروازے سے ایک طرف کردوں گا، اور اپنے وصل سے دور بھگا دوں گا ، کیا وہ سختیوں میں میرے ماسوا سے امید کرتا ہے حالانکہ شدائد تو میرے ہاتھ میں ہیں ، اور میرے ماسوا سے امید قائم کرتا ہے ۔ اور فقرو احتیاج کے ساتھ راتوں کو بادشاہوں کے دروازوں پر جاتا ہے حالانکہ وہ دروازے بند ہوتے ہیں ۔ ان کی چابیاں تو میرے ہاتھ میں ہیں ۔ اور جب کہ مجھے پکارنے والے کے لیے میرا دروازہ کھلا ہے ۔ کوئی جس نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور میں نے اپنا دروازہ اس کے لئے نہ کھولا ہو؟ اور کون ہے وہ جس نے مجھے پکارا ہو اور میں نے اسے جواب نہ دیا ہو؟ اور کون ہے وہ جس نے مجھ سے سوال کیا ہو اور میں نے اس کو عطا نہ کیاہو؟ اس نے بڑی لمبی حدیث ذکر کی ۔

بهدلة بن نمير ← سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط الزاهد ← أبو الفضل أحمد بن محمد بن سهل الصيرفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1088

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1089

1088 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أبو صالح ثنا الليث بن سعد قال : رأيت إسماعيل بن عقبة بصيرا ثم رأيته قد عمي ثم رأيته بصيرا فقلت : أليس رأيتك بصيرا ثم عميت ثم أبصرت ؟ قال : نعم قلت وبم ذاك ؟ قال : رأيت في المنام فقيل لي قل : يا قريب يا مجيب يا سميع الدعاء يا لطيف لما يشاء فقلتها فرد على بصري

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کوابو صالح نے ان کو لیث بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسماعیل بن عقبہ بینا دیکھا تھا پھر کچھ عرصے بعد دیکھا تو وہ نابینا ہو چکے تھے پھر کچھ عرصے بعد دیکھا تو وہ پھر بدستور بینا تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی آنکھیں پہلے صحیح تھیں پھر میں نے دیکھا کہ آپ نابینا ہو گئے تھے ۔ پھر اب دیکھتا ہوں کہ آپ بینا ہو گئے ہیں ، یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کچھ الفاظ سکھلائے گئے ہیں میں نے وہ پڑھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ بینائی عطا کر دی وہ یہ تھے۔ "یا قریب یا مجیب یا سمیع الدعآء یا لطیف لما یشآء"

اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Hadith 1089

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1090

1089 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها قال : ثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا محمد بن لإسحاق بن راهويه ثنا الفضل بن يعقوب ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال : لما أخذ أبو جعفر المنصور إسماعيل بن أمية و أمر به إلى السجن مر بحائط مكتوب لعيه يا ولي نعمتي و يا صاحبي في وحدتي و عدتي في كربتي ! فلم يزل يدعو بها حتى خلى سبيله ثم مر على ذلك الحائط فنظر إليه فلم ير شيئا مكتوبا

ہمیں خبر دی ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد شبانہ ہمدانی نے ہمدان میں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بات بتائی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن راہویہ نے ان کو فضل بن یعقوب نے ان کو محمد بن یوسف فریابی نے وہ کہتے ہیں کہ جب خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت اسماعیل بن امیہ کو گرفتار کر لیا اور ان کو جیل میں قید کر دینے کا آرڈر کر دیا ۔ تو وہ ایک دیوار سے گذرے تو دیکھا کہ دیوار پر کچھ بھی لکھا ہوا نہیں ہے (یعنی یہ اللہ کی طرف سے تھا) دعا یہ تھی۔"یا ولی نعمتی ویا صاحبی فی وحدتی ، وعدتی فی کربتی"۔ اے میری نعمتوں کے مالک ۔ اے میری تنہائی کے میرے ساتھی ، اور میرے کرب میں میرا اثاثہ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← محمد بن لإسحاق بن راهويه ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الهمداني بها

Hadith 1090

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1091

1090 - أخبرنا أبو سعيد بن شبانة ثنا أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي العدل أنا علي بن أبي صالح ثنا أبو حاتم ثنا محمد بن عبد الكريم قال : سمعت سعيد بن عنبسة بن سعيد قال : بينما رجل جالس في الكعبة و هو يعبث بالحصا و يخذفها إذ رجع حصاة منها فصارت في أذنه فعالجوه بكل الحيل فلم يقدروا على إخراجها فبينما هو ذات يوم جالسا إذ سمع قارئا يقرأ هذه الآية : { أمن يجيب المضطر إذا دعاه و يكشف السوء } فوثب الرجل فقال : يا رب أنت المجيب و أنا المضطر اكشف ضر ما أنا فيه قال : فندرت الحصاة من أذنه

ہمیں خبر دی ابو سعید بن شبانہ نے ان کو ابو العباس فضل بن فضل کندی عدل نے ان کو علی بن ابو صالح نے ان کو ابو حاتم نے ان کو محمد بن عبدالکریم نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن عنبسہ بن سعید سے انہوں نے فرمایا:یکایک آیک آدمی حرم میں بیٹھا ہو ا کنکریوں سے کھیل رہا تھا اور کنکریاں پھینک رہا تھا اچانک ایک کنکری ان میں سے واپس پلٹی اور اس کے کان میں چلی گئی چنانچہ اس کے نکالنے کے لیے ہر علاج ہر حیلہ اور ہر تدبیر کر لی گئی مگر اسے نہ نکلا سکے ایک دن پریشان بیٹھا تھا کہ اچانک اس نے کسی پڑھنے والے کی آواز سنی جو یہ آیت پڑھ رہا تھا:۔ امن یجیب المضطر اذادعاہ ویکشف السوء (النمل64) کون ہے جو پریشان کی دعا قبول کرتا ہے جس وقت وہ اس کو پکارتا ہے اور پھر وہ تکلفی دور بھی کرتا ہے ۔ (آواز کا سننا تھا کہ) وہ آدمی اچھل پڑا ۔ اور کہنے لگا : اے میرے رب تو قبول کرنے والا ہے ، اور میں پریشان مجبور ہوں میری تکلیف بھی کھول دے جس میں مبتلا ہوں۔ یا رب انت المجیب ، وانا المضطر اکشف ضرماانا فیہ۔ چنانچہ وہ کنکری کان سے خود بخود گرگئی۔

سعيد بن عنبسة بن سعيد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أَبُو حَاتِمٍ ← علي بن أبي صالح ← أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي العدل ← أبو سعيد بن شبانة

Hadith 1091

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1092

1091 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا إسحاق المزكي يقول : سمعت أبا عبد الله محمد بن أحمد بن أسد الزوزني يقول ثنا أبو يعلى أحمد بن موسى البصري ثنا غير واحد من أصحابنا عن إسحاق بن عباد البصري قال : رأيت في منامي ذات ليلة قائلا يقول : أغث الملهوف قال : فانتهبت فقلت : انظروا هل في جيراننا محتاج ؟ فقالوا : ما ندري قال : فنمت ثانيا فعاد إلي فقال : تنام و لم تغث الملهوف فقمت فقلت للغلام أسرج البغل و أخذت معي ثلاثمائة درهم ثم ركبت البغل فاطلقت عنانه و ذكر الحديث في سيره حتى بلغ مسجدا يصلي فيه على الجنازة قال : فوقف البغل هناك قال : فنظرت فإذا رجل يصلي فلما حس بي انصرف قال : فدنوت منه فقلت : يا عبد الله في هذا الوقت في هذا الموضع ما أخرجك ؟ قال : فأخذه قلت : تعرفني ؟ قال : لا قلت أنا إسحاق بن عباد فإن نابتك نائبة فأتني فإن منزلي في موضع كذا و كذا فقال : رحمك الله ـ أن نابتنا نائبة فزعنا إلى من لأخرجك في هذا الوقت حتى جاء بك إلينا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو اسحٰق مزکی سے کہتے ہیں میں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن احمد بن اسد زوزنی سے وہ کہتے ہیں کہ ان کو بیان کیا ابو یعلی احمد بن موسیٰ بصری نے ان کو ان کے متعدد اصحاب نے ان کو اسحٰق بن عباد بصری نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نےایک رات خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے تم سو رہے ہو اور تم نے پریشان کی ضرورت پوری نہیں کی چنانچہ میں اٹھ گیا اور میں نے نوکر سے کہا کہ خچر پر زین کس دے میں نے اپنے پاس تین سو درہم رکھے اور پھر خچر پر سوار ہو گیا اور اس کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی حتیٰ کہ چلتے چلتے ایک مسجد تک پہنچ گیا جہاں نماز جنازہ ہو رہی تھی خچر وہاں جا کر خودبخود رک گیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ۔ اس نے جب میرا وہاں جانا محسوس کیا تو واپس لوٹ آیا ۔ میں اس کے قریب گیا اور میں نے اس سے پوچھا اللہ کے بندے اس وقت اور اس جگہ پر آپ کو کون سی مجبوری نکال کر لے آئی ہے ؟ بولے میں ایک ضرورت مند آدمی ہوں ۔ میرے پاس ایک سو درہم تھے ، جو کہ میرے ہاتھ سے چلے گئے ۔ اور دوسو درہم مجھ پر قرض ہو گیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے درہم نکالے اور اس کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے تین سو درہم ہیں انہیں آپ لیجئے۔ کہتے ہیں کہ اس نے وہ لے لئے۔ میں نے اس سے کہا کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے کہا میرا نام اسحٰق بن عباد ہے ۔ اگر آپ کو کوئی مصیبت یا پریشانی آئے تو آپ میرے پاس آئیے گا میرا گھر فلاں فلاں جگہ ہے ، اس نے کہا اللہ آپ کے اوپر رحم فرمائے، اگر ہمارے اوپر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہم (دولت مندوں کے پاس نہیں جاتے بلکہ) ہم گھبرا کر اس ذات کے پاس جاتے ہیں جو ذات آپ کو اس وقت اپنے گھر سے نکال کر ہمارے پاس لائی ہے ۔(یعنی اپنی حاجت اللہ کے آگے پیش کرتے ہیں پھر وہ خزانہ غیب سے خود مسبب الاسباب جب راضی ہو جاتا ہے تو غیب سے اسباب پیدا کر دیتا ، جہاں بندے کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اے سب کی حاجت اور ضرورتیں پوری کرنے والی ذات ہمارے حوائج اپنے خزانہ غیر سے پورے فرما، آمین یا رب العٰلمین۔ (از مترجم)

إسحاق بن عباد البصري ← غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا ← أبو يعلى أحمد بن موسى البصري ← أبا عبد الله محمد بن أحمد بن أسد الزوزني ← أَبَا إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1092

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1093

1092 - سمعت الأستاذ أبا القاسم القشيري رحمه الله يقول : سمعت الأستاذ أبا علي الدقاق يقول : كان بي رمد في ابتداء أمري و ما نفست مدة من الوجع فنعست لحظة فسمعت قائلا يقول : { أليس الله بكاف عبده } فانتهبت و زال الوجع في الوقت و ما رمدت عيني بعده قط

میں نے سنا استاذ ابو القاسم قشیری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا ابو علی دقاق سے وہ فرماتے تھے کہ شروع شروع میں مجھے آنکھوں کی تکلیف تھی ( آشوب چشم) چنانچہ درد کی وجد سے میں طویل زمانہ تک نہیں سویا تھا ایک دن خلاف معمول مجھے اونگھ آ گئی میں نے خواب میں سنا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے ۔ "الیس اللہ یکاف عبدہ (الذمر36) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟اچانک میں بیدار ہوا تو فی الفور درد جاتا رہا اور اس کے بعد کبھی بھی میری آنکھیں نہیں آئی۔

الأستاذ أبا علي الدقاق ← الأستاذ أبا القاسم القشيري

Hadith 1093

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1094

1093 - و سمعته يقول : سمعت الإمام أبا بكر بن فورك يقول : حملت مقيدا إلى شيراز لفتنة في الدين فوافينا باب البلد مصبحا و كنت مهموم القلب فلما أسفر النهار وقع نظري على محارب في مسجد على باب البلد مكتوب عليه : { أليس الله بكاف عبده } و حصل لي تعريف من باطني إني أكفي عن قريب و كان كذلك فصرفوني بالعز

اور میں نے استاذ ابوالقاسم سے سنا کہتے تھے کہ میں امام ابوبکر بن فورک سے سنا کہتے تھے ایک دینی مسئلے میں جھگڑے میں مجھے بیڑیاں ڈال کر شیراز میں لایا گیا۔ علی الصبح ہم لوگ شہر کے دروازے پر پہنچے تو میرا دل بہت غمگین تھا جب دن کا اجالا ہوا تو میری نظر مسجد کے محراب پر پڑی جو کہ شہر کے دروازے پر تھی ۔ اس پر لکھا ہوا تھا ۔ الیس اللہ بکاف عبدہ لہذا اسے دیکھتے ہی میرے باطن سے یہ آواز اٹھی کہ عنقریب میری پریشانی میں بھی مجھ کو کفایت کی جائے گی یعنی پریشانی دور ہو جائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان لوگوں نے مجھے باعزت طور پر رہا کر کے واپس بھیج دیا۔

الإمام أبا بكر بن فورك ← و،

Hadith 1094

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1095

1094 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران و أبو محمد السكري قالوا أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية ثنا هشام بن عروة عن أبيه قال : كانت امرأة تغشى عائشة رضي الله عنها و كانت تكثر أن تتمثل بهذا البيت : ( و يوم الوشاح من تعاجيب ربنا ألا إنه من بلدة الكفر أنجاني ) قال : فقالت عائشة رضي الله عنها : ما هذا البيت الذي أراك تتمثلين ؟ قال فقالت : شهدت عروسا لنا في الجاهلية وضعوا وشاحها و أدخلوها مغتسلها فأبصرت الحدأة حمرة الوشاح فانحطت عليه فأخذته فاتهموني ففتشوني حتى فتشوا قبلي قالت : فدعوت الله أن يبرئني قالت : فجاءت الحدأة بالوشاح حتى طرحته وسطهم و هم ينظرون

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے اور ابوالحسین بن بشران نے اور ابو محمد سکری نے کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے ۔ ان کو سعد ان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے فرماتے ہیں کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس آتی تھی اور اکثر بیشتر اس شعر سے مثال دیا کرتی تھی۔ " یوم الوشاح من تعاجیب ربنا الا انہ من بلدۃ الکفر انجانی" ہار والا دن ہمارے رب کے عجائبات میں سے ہے۔ ہاں بے شک اسی نے کفر کی بستی سے مجھے نجات عطا کی ، فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ کیسا شعر ہے جس کی اکثر آپ مثال دیتی رہتی ہیں اس کا پس منظر کیا ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا کہ اسلام سے قبل ایک شادی میں میں دلہن کے پاس بیٹھی تھی ۔ غسل کے وقت دلہن کا ہار اتار کر ان کے لوگوں نے رکھ دیا اور اسے غسل خانے میں بھیج دیا۔ کہیں سے چیل آئی اس نے ہار کو سرخ دیکھا تو اس پر جھپٹی اور اس کو لے گئی ان لوگوں نے مجھ پر ہار چوری کرنے کی تہمت لگادی ۔ اور لگے میرے تلاشی لینے یہاں تک کہ انہوں نے شرم گاہ تک کی تلاشی لی۔(ہار نہ ملا تو انہوں نے مجھے پریشان کیا) میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ مجھے اس تہمت سے بری کر دے ۔ کہتی ہے کہ اتنے میں چیل ہار لے کر آئی ااور ان لوگوں کے بیچ میں اسے پھینک دیا اور وہ سب اس کو دیکھ رہے تھے۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو علي الروذباري و أبو الحسين بن بشران و أبو محمد السكري

Hadith 1095

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1096

1095 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن عبد الملك بن مروان ثنا سعيد بن عامر عن هشام بن حسان قال : قال خالد الربعي : دخلت المسجد و معي كيس فيه ألف درهم فوضعته على تربيع سارية و صليت فنسيته حتى خرجت من المسجد فما ذكرته إلى آخر سنة فقضي إني صليت إلى تلك السارية فذكرته فدعوت الله أن يرده علي فإذا عجوز إلى جنبي فقالت يا عبد الله ما أسمعك تقول ؟ قلت كيس نسيته عند هذه السارية عام الأول منذ سنة فجاءتني به بالخاتم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر زاز نے ان کو محمد بن عبدالملک بن مروان نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو ہشام بن حسان نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ خالد ربعی نے کہا ۔ میں مسجد میں داخل ہوا میرے پاس ایک تھیلی تھی اس میں ایک ہزار درہم تھے میں نے اسے ستون کے چوڑے حصے پر رکھ دیا اور نماز پڑھنے میں لگ گیا پھر اسے بھول کر مسجد سے میں چلا گیا یا پھر وہ تھیلی سال کے آخر تک یا د نہ آئی، تقدیر نے فیصلہ کیا کہ میں نے (ایک سال کے بعد دوبارہ) اسی ستون کے پاس نماز پڑھی لہذا مجھے اب وہ تھیلی یاد آگئی لہذا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کو واپس مجھے دے دے چنانچہ میں نے دیکھا ایک بوڑھی عورت میرے پہلو میں بیٹھی ہے اور پوچھتی ہے اللہ کے بندے یہ میں کیا سن رہی ہوں جو آپ کہہ رہے تھے ؟ میں نے کہا کہ میں اس ستون کے پاس اس سال کے شروع میں ایک تھیلی بھول گیا تھا اب تو سال بھی گذر گیا ہے چنانچہ اس عورت نے مجھے وہ تھیلی اسی طرح بند حالت میں لا کر دے دی۔

هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أبو حسين بن بشران

Hadith 1096

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1097

1096 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا أبو عوف البزوري ثنا روح بن عبادة ثنا حماد بن سلمة عن طلحة بن عبيد الله بن كريز الخزاعي : أن رجلا كان في غزاة مع أصحابه فأبق غلامه بفرسه فلما أراد أصحابه أن يرحلوا صلى ركعتين ثم قال : اللهم ترى مكاني و ارتحال أصحابي اللهم إني أقسم عليك لما رددت غلامي و فرسي فالتفت فإذا هو بالغلام مكتوف بشطن الفرس قال البيهقي رحمه الله : و لأبي بكر بن أبي الدنيا كتاب مجاني الدعوة و هو لي مسموع من أراد أن يضيف ما أخرجه فيه إلى ما نقلنا نظر فيه بإذن الله

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو عوف بزوری نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو طلحہ بن عبید اللہ بن کریز خزاعی نے کہ ایک آدمی تھا۔ مجاہدین میں اپنے دوستوں کے ساتھ اور اس کا غلام گھوڑے کو لے کر فرار ہو گیا، جب اس کے ساتھیوں نے کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو اس مجاہد نے دو رکعت نماز ادا کی پھر دعا کی: ۔" اللھم تریٰ مکانی وارتحال اصحابی، اللھم انی اقسم علیک لما رددت غلامی و فرسی" اے اللہ تو میری مجبوری اور بے کسی کا حال دیکھ رہا ہے اور میرے احباب کے کوچ کرنے کو بھی تو دیکھ رہا ہے اے اللہ میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ میرا غلام بھی اور میرا گھوڑا بھی واپس کر دے۔ تو دیکھتا ہے کہ غلام گھوڑے کی لگام پکڑے حاضرکھڑا ہے ۔ یا رسی پکڑے کھڑا ہے ۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ ابو بکر بن ابوالدنیا کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ۔ "مجانی الدعوۃ"۔ میں نے وہ سنی ہے جو شخص اس موضوع پر مزید معلومات کا اضافہ کرنا چاہے تو اس میں انہوں نے اس بارے میں جو کچھ نقل کیا ہے وہ اس کو ملاحظہ کرے۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أبو عوف البزوري ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Hadith 1097

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ فصل · حديث 1098

1097 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمدآباذي ثنا عباس الدوري ثنا أبو عبد الله محمد بن يزيد بن خنيس المكي عن ابن جريج قال : قال لي عطاء جاءني طاوس اليماني بكلام متخير من هذا الكلام فقال لي : يا عطاء ! إياك أن تطلب حوائجك إلى من أغلق دونك بابه و جعل عليها حجابه و عليك بمن بابه لك مفتوح إلى يوم القيامة أمرك أن تسأله و وعدك أن يجيبك

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو عباس دوری نے ان کو ابو عبداللہ بن یزید بن خنیس مکہ نے ان کو ابن جریح نے فرماتے ہیں کہ مجھ سے عطاء نے کہا کہ میرے پاس طاؤس یمانی آئے، اور میرے پاس کچھ منتخب (نصائح پر مشتمل ) کلام کے کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے:۔ اے عطاء ! اپنے آپ کو اس بات سے بچانا کہ تو اپنی حاجت اس ہستی سے مانگے جو تیرے آگرے اپنا دروازہ بند کردے اور دروازے پر روکنے والے چوکیدار کھڑے کر دے ، تو اس کے دروازہ کو لازم پکڑ جس کا دروازہ تیرے لیے قیامت تک کھلا ہوا ہے ۔ وہ جس نے تجھے مانگنے کا حکم کر رکھا ہے ۔ وہ جس نے تیرے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ تیری درخواست قبول کرے گا۔

لي عطاء جاءني طاوس اليماني بكلام متخير من هذا الكلام ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد بن خنيس المكي ← عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Hadith 1098

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood