Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1049

1048 - أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر أنا أبو بشر يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن خالد بن أبي عمران عن ابن عباس عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن شئتم أنبأتكم بأول ما يقول الله للمؤمن يوم القيامة و بأول ما يقولون ؟ قالوا : نعم يا رسول الله قال : يقول للمؤمنين : هل أحببتم لقائي ؟ قال : فيقولون : نعم يا ربنا فيقول : لم ؟ فيقولون : رجونا عفوك و رحمتك فيقول : إني قد أوجبت لكم رحمتي

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو ابو بشر یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبید بن زحر نے ان کو خالد بن ابو عمران نے ان کو حضرت ابن عباس نے ان کو حضرت معاذ بن جبل نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت کے دن مؤمنوں سے پہلے سوال اور مؤمنوں کے پہلے جواب کے بارے میں بتلاؤں کہ وہ کیا کہیں گے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے فرمائیں گے کیا تم میری ملاقات کو محبوب رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کہیں گے جی ہاں! اے ہمارے رب۔ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے ہم تیری رحمت اور تیرے عفو و در گذر کرنے کی امید رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ۔ بے شک میں نے اپنی رحمت تمہارے لئے واجب کر دی ہے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو بشر يونس بن حبيب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1049

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1050

1049 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا عبد الملك بن عبد الحميد الميموني ثنا روح بن عبادة ثنا ابن عون عن عمير بن إسحاق : قال : كان من أدركت من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أكبر ممن سبقني فما رأيت قوما أهون سيرة و لا أقل تشديدا منهم و قد جاء عن عبد الله بن مسعود و غيره في التشديد في الأمن من مكر الله و اليأس من رحمة الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں فرماتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو عبدالملک بن عبدالحمید میمونی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ابن عون نے ان کو عمیر بن اسحاق نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے جس کو بھی پایا وہ میرے پیش روؤں میں بڑے تھے (عمر میں بھی مرتبے اور مقام میں بھی مگر) میں نے ایسی قوم اور ایسے لوگ نہیں دیکھے جو سیرت کے اعتبار سے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آسان تر اور نرم تر ہوں اور شدت و سختی کے اعتبار سے قلیل اور کمتر ہوں۔

عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1050

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1051

1050 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن وبرة عن أبي الطفيل عن ابن مسعود أنه قال : الكبائر : الإشراك بالله عز و جل و الأمن من مكر الله و القنوط من رحمة الله و اليأس من روح الله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصورنے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو وبرہ نے ان کو ابو الطفیل نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں: ۔(1) ۔۔۔ اللہ کے ساتھ شریک بنانا۔ (2) ۔۔۔ اللہ کی تدبیر سے بے خوفو بے باک ہونا۔ (3) ۔۔۔ اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ (4)۔۔۔ اللہ کی مہربانی سے مایوس ہونا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← وَبَرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1051

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1052

1051 - و بهذا الإسناد أخبرنا معمر عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن ابن أبي مليكة : أن عبيد بن عمير دخل على عائشة رضي الله عنها فقالت : من هذا ؟ فقالوا : عبيد بن عمير فقالت عمير بن قتادة ؟ قالوا : نعم قالت أحدث أنك تجلس و يجلس إليك قال : بلى يا أم المؤمنين فقالت فإياك و إملال الناس و تقنيطهم

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں معمر نے خبر دی ہے ان کو عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے کہ عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے پوچھا کہ یہ کون آئے ہیں ؟ (اس لئے کہ پردے کے پیچھے تھے) بتایا گیا کہ عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ عبید بن عمیر بن قتادہ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں وہی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ میں آپ کو حدیث بتاؤں گی کیا آپ مجلس اور حلقہ لگاتے ہیں لوگ آپ کے پاس بیٹھتے ہیں ؟ عبید بن عمیر نے عرض کیا جی ہاں اے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم بچانا اپنے آپ کو لوگوںکی اکتاہٹ میں ڈالنے سے ، اور ان کو ناامید اور مایوس کرنے سے۔

فإياك و إملال الناس و تقنيطهم ← بَلَى يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ← أحدث أنك تجلس و يجلس إليك ← نَعَمْ ← «عُمَيْرُ بْنُ قَتَادَةَ؟» ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← «مَنْ هَذَا؟» ← ابن أبي مليكة أن عبيد بن عمير دخل على عائشة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← مَعْمَرٌ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1052

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1053

1052 - و بهذا الإسناد أخبرنا معمر عن زيد بن أسلم : أن رجلا كان في الأمم مجتهدا في العبادة و يشدد على نفسه و يقنط الناس من رحمة الله تعالى ثم مات فقال أي رب ما لي عندك ؟ قال : أي رب فأين عبادتي و اجتهادي ؟ قال فيقول : إنك كنت تقنط الناس من رحمتي في الدنيا فأنا أقنطك اليوم من رحمتي قال البيهقي رحمه الله : و لعل هذا الرجل كان يرى النجاة في عبادته و يعتمد عليها و لا يذكر مغفرة الله عز و جل الذنوب لمن يشاء من عباده بل كان يستبعدها

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں معمر نے خبر دی ہے ، ان کو زید بن اسلم نے کہ امم سابقہ میں ایک آدمی جو کہ عبادت کرنے میں سخت جدوجہد کرتا تھا۔ اور اپنے نفس پر (عبادت کے معاملے میں) شدت اور سختی کرتا تھا۔ اور لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید اور مایوس کردیتا تھا۔ اس کے بعد وہ انتقال کر گیا۔ اس نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے رب آپ کے پاس میرے لئے کیا کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہ تمہارے لئے میرے ہاں جہنم ہے ۔ بولا اے میرے رب پھر میری عبادت کہاں گئی اور میری سخت جدوجہد کہا گئی؟ زید بن اسلم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو لوگوں کو میری رحمت سے ناامید اور مایوس کرتا تھا دنیا میں ۔ میں آج تجھے رحمت سے مایوس اور نا امید کرتا ہوں۔

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1053

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1054

1053 - أخبرنا أبو محمد المؤملي ثنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد الفراء أنا يعلى ثنا الأعمش عن أبي سعد عن أبي الكنود قال : مر عبد الله يعني ابن مسعود على قاص و هو يذكر فقال : يا مذكر لا تقنط الناس ثم قرأ : { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا إنه هو الغفور الرحيم }

ہمیں خبر دی ابو محمد موملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو الدرداء نے ان کو یعلی نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سعید نے ابوالکنود نےکہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک واعظ اور تقریر کرنے والے نصیحت کرنے والے کے پاس سے گذرے جو لوگوں کو وعظ اور نصیحت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: اے مذکر اے نصیحت گر آپ لوگوں کو مایوس نہ کیجئے ا س کے بعد نے یہ آیت پڑھی۔ "قل یاعبادی الذی اسر فوا علی انفسھم لا تقنطوامن رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمعاً"(الزمر53)۔ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں بے شک اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتا ہے ۔

مر عبد الله يعني ابن مسعود على قاص و هو يذكر ← أَبِي الْكَنُودِ ← أَبِي سَعْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1054

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1055

1054 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت قال : كان داود عليه السلام يذكر ذنوبه فيخاف الله مخافة تنفرج أعضاءه و مفاصله من مواضعها ثم يذكر رحمة الله على أهل الذنوب و رأفته بهم فيرجع كل عضو إلى موضعه

ہمیں خبردی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے انکو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت نے وہ فرماتے ہیں کہ : حضرت داؤد علیہ السلام اپنے گناہوں (لغزشوں ، خلاف اولیٰ باتوں) کو یاد کرتے اور اللہ تعالیٰ سے ایسے ڈرتے کہ خوف کے مارے ان کے اعضا اور جوڑ کھل جاتے اور اپنی جگہ سے ہٹ جاتے۔ اس کے بعد آپ اللہ کی رحمت کو یاد کرتے جو گنہگاروں پر ہو گی، اور بندوں کے ساتھ اس کی شفقت کو تو ہر عضو اور جوڑ اپنی جگہ واپس آجاتا۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1055

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1056

1055 - و بهذا الإسناد ثنا جعفر ثنا أبو سنان القسملي قال : وجدت في بعض الكتب : أن أحب عبادي إلي من حببني إلى عبادي و أخبرهم بسعة رحمتي و أن أبغض عبادي إلي من قنط عبادي و آيسهم من رحمتي

اور اسی سند کے ساتھ ہمیں بات بیان کی جعفر نے انکو ابو سنان قسملی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتابوں میں لکھا ہوا پایا ،کہ میرے بندوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین بندہ وہ ہے جو مجھے بندوں میں محبوب بنا دے۔ اور میں انہیں اپنی رحمت کی فراخی کی خبر دیتا ہوں ۔ اور میرے بندوں میں سے میرے نزدیک مبغوض ترین بندہ وہ ہے جو میرے بندوں کو ناامید کرے اور ان کومیری رحمت سے مایوس کرے۔

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1056

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1057

1056 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا عثمان المغربي يقول : من حمل نفسه على الرجاء تعطل و من حمل نفسه على الخوف قنط و لكن ساعة و مرة و مرة

میں نے ابو عبدالرحمٰن سلمی سے سنا کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان مغربی سے سنا کہتے تھے۔ جو شخص اپنے نفس کو امید پر اٹھاتا (اور سوار کر لیتا ہے ) وہ عمل کرنے میں تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اورجو شخص خوف پر اپنے نفس کو ابھارتا ہے وہ مایوس ہو جاتا ہے ۔ لیکن لمحہ بہ لمحہ امید اور خوف باربار ہونا چاہیے۔

أبا عثمان المغربي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1057

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1058

1057 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبيد الله بن محمد الصوفي قال : سمعت أبا تراب أحمد بن حمدون القصار يقول سمعت أبي : ـ و سئل عن الملامة فقال ـ خوف القدرية و رجاء المرجئة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن محمد صوفی نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو تراب احمد بن حمدون قصار سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اپنے والد سے ان سے ملامت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ تو جواب دیا کہ قدریہ کا خوف اور مرجینہ کی امید۔

الملامة فقال خوف القدرية و رجاء المرجئة ← أبي و سئل ← أبا تراب أحمد بن حمدون القصار ← عبيد الله بن محمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1058

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1059

1058 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد أنا أبو جعفر محمد بن غالب بن حرب تمتام ثنا مسلم بن إبراهيم أبو عمرو ثنا الربيع بن مسلم القرشي ثنا محمد بن زياد عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم خرج على رهط من أصحابه و هم يتحدثون فقال : و الذي نفسي بيده لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا و لبكيتم كثيرا فلما انصرفنا أوحى الله إليه يا محمد لم تقنط عبادي ؟ فرجع إليهم فقال : أبشروا و قاربوا و سددوا قال البيهقي رحمه الله : ففي هذا دلالة على أنه لا ينبغي أن يكون خوفه بحيث يؤيسه و يقنطه من رحمة الله كما لا ينبغي أن يكون رجاؤه بحيث يأمن مكر الله أو يجرئه على معصية الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کوابو سہل احمد بن محمد بن عبداللہ بن زیاد نے ان کو ابو جعفر محمد بن غالب بن حرب نے ان کومسلم بن ابراہیم ابو عمرو نے ان کو ربیع بن مسلم قرشی نے ، ان کو محمد بن زیاد نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس آئے وہ باتیں کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر تم لوگ وہ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔ ہم لوگ جب ہٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر وحی نازل فرمائی کہ آپ میرے بندوں کو کیوں نا امید کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم واپس ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کہ خوش ہو جاؤ میانہ روی اختیار کرو اور درست روش اختیار کرو۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔اس حدیث میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ یہ بات مناسب نہیں ہے کہ بندے کا خوف اس حد تک ہو جائے جو اس کو مایوس اور ناامید کردے اللہ کی رحمت سے اور ایسے ہی یہ بات بھی مناسب نہیں ہے کہ اس کی امید اس حد تک بڑھ جائے کہ اللہ کی تدبیر سے بے باک ہو جاؤ اللہ کی نافرمانی اور معصیت پر جری کردے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الربيع بن مسلم القرشي ← مسلم بن إبراهيم أبو عمرو ← أبو جعفر محمد بن غالب بن حرب تمتام ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1059

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1060

1059 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن علي بن ميمون بالرقة ثنا الفريابي و الفضل بن دكين قالا ثنا سفيان عن سعيد الجريري عن أبي عثمان النهدي عن حنظلة التميمي الأسيدي الكاتب قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا بالجنة و النار كأنهما رأى عين فقمت و أتيت إلى أهلي فضحكت و لهوت ـ و في حديث الفريابي و لعبت ـ فلقيت أبا بكر : فذكرت ذلك له فقلت يا أبا بكر نافق حنظلة ! فقال أبو بكر : و ما ذاك ؟ فأخبرته فقلت : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا بالجنة و النار كأنا رأي عين فقمت إلى أهلي فضحكت و لعبت فقال أبو بكر : إنا لنفعل ذلك فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا : يا رسول الله ! إنا إذا كنا عندك تذكرنا بالجنة و النار كأنا رأي عين فقمت إلى أهلي فضحكت و لعبت فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا حنظلة ساعة و ساعة لو كنتم تكونون كما تكونون عندي لصافحتكم الملائكة في بيوتكم و على فرشكم يا حنظلة ساعة و ساعة قال : الفريابي أتم سياقة للحديث رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن الفضل بن دكين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن علی بن میمون نے رقہ میں ان کو فریابی نے اور فضل بن دکین نے دونوں کو سفیان نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو حنظلہ تمیمی اسیدی کاتب نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے ہم لوگوں کے سامنے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جنت و جہنم کا تذکرہ کیا اور وعظ فرمایا اس طرح پر کہ گویا ہمان کوآنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔میں اٹھ کر اپنے گھر والوں کے پاس آیا میں ہنستا رہا اور غافل ہو گیا اور فریابی کی روایت میں ہے کہ میں کھیل میں لگ گیا۔ چنانچہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا میں نے یہ بات ان سے ذکر کی میں نے عرض کیا اے ابوبکر صدیق حنظلہ منافق ہو گیا ہے ، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسی کیا بات ہو گئی ؟میں نے ان کو خبر دی اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت میں بیٹھے تھے آپ نے ہمیں جنت اور جہنم کے ساتھ تذکرہ و نصیحت فرمائی تو ہماری حالت یہ ہوئی گویا کہ ہم جنت وجہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ مگرمیں جب اپنے گھر میں آگیا تو میں ہنسنے میں کھیلنے میں لگ گیا وہ کیفیت یکسر بھول گیا۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم لوگ بھی تو یہی کرتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم جب آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہمیں جنت و جہنم کے تذکرے کے ساتھ وعظ فرماتے ہیں تو ہمیں محسوس ہو رہا ہوتا ہے جیسے ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مگر میں جب اپنے اہل خانہ میں گیا تو میں ( رونے کی بجائے) ہنسنے میں لگ گیا اور کھیل میں اور غفلت میں لگ گیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے حنظلہ لمحہ بہ لمحہ یہ کیفیت ہونی چاہیے اگر تم لوگ ہر وقت ایسے ہی رہو جیسے میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے گھروں میں تمہارے ساتھ مصافحہ کیا کریں۔ اور تمہارے بستروں پر بھی لیکن اے حنظلہ لمحہ بہ لمحہ ہونا چاہیے یعنی کبھی یہ کیفیت اور کبھی وہ کیفیت فرماتے ہیں کہ فریابی نے اس حدیث کا سیاق پورا کیا ہے ۔ اور اس کو مسلم نے صحیح میں زہیر بن حرب سے انہوں نے فضل بن دکین سے اس کو روایت کیا ہے ۔

حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْکَاتِبِ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سُفْيَانَ، ← الفريابي و الفضل بن دكين ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1060

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood