شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1037
1036 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي قال : سمعت أبا بكر الشهرزوري قال : كنت في مجلس أبي القاسم و ابن عطاء حاضر و رجل في المجلس قد غلبته شدة الخوف و هو و يرجف فقال له أبو القاسم الجنيد : لا ترع فما هو إلا أن تبدو عين من عيون الرحمة فإذا بالمسيء قد لحق بالمحسن قال ابن عطاء : حتى تبدو قال : فغضب الجنيد و قال : أما و الله أنها لبادية أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله عز و جل سبقت رحمتي غضبي قال : فسكت ابن عطاء
ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو الحسین علی بن حسین بن بندارازدی نے انہوں نے سنا ابو بکر شہر زوری سے وہ کہتے ہیں میں ابوالقاسم جنید کی مجلس میں موجود تھا۔ اور حضرت ابن عطاء بھی موجود تھے ۔ ایک آدمی پر مجلس میں شدت خوف غالب آگئی۔ اور اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ابو القاسم جنید نے اس سے کہا آپ نہ ڈریں وہ تو محض رحمت کی آنکھوں اور رحمت کی نگاہوں میں سے ایک نگاہ ہے ( جو ظاہر ہو چکی ہے) یا ظاہر ہو گی ۔ لٰہذا ایک گناہگار ہو جو ایک محسن سے مل جائے گا۔ ابن عطاء نے تو کہا: یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت جنید ناراض ہو گئے اور فرمایا: خبردار اللہ کی قسم بے شک وہ آنکھ وہ نگاہ ظاہر ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت کر گئی ہے ۔ چنانچہ ابن عطاء خاموش ہو گئے۔
أَبَا بَكْرٍ الشَّهْرَزُورِيَّ، ← أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1037
