Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1037

1036 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي قال : سمعت أبا بكر الشهرزوري قال : كنت في مجلس أبي القاسم و ابن عطاء حاضر و رجل في المجلس قد غلبته شدة الخوف و هو و يرجف فقال له أبو القاسم الجنيد : لا ترع فما هو إلا أن تبدو عين من عيون الرحمة فإذا بالمسيء قد لحق بالمحسن قال ابن عطاء : حتى تبدو قال : فغضب الجنيد و قال : أما و الله أنها لبادية أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله عز و جل سبقت رحمتي غضبي قال : فسكت ابن عطاء

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو الحسین علی بن حسین بن بندارازدی نے انہوں نے سنا ابو بکر شہر زوری سے وہ کہتے ہیں میں ابوالقاسم جنید کی مجلس میں موجود تھا۔ اور حضرت ابن عطاء بھی موجود تھے ۔ ایک آدمی پر مجلس میں شدت خوف غالب آگئی۔ اور اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ابو القاسم جنید نے اس سے کہا آپ نہ ڈریں وہ تو محض رحمت کی آنکھوں اور رحمت کی نگاہوں میں سے ایک نگاہ ہے ( جو ظاہر ہو چکی ہے) یا ظاہر ہو گی ۔ لٰہذا ایک گناہگار ہو جو ایک محسن سے مل جائے گا۔ ابن عطاء نے تو کہا: یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت جنید ناراض ہو گئے اور فرمایا: خبردار اللہ کی قسم بے شک وہ آنکھ وہ نگاہ ظاہر ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت کر گئی ہے ۔ چنانچہ ابن عطاء خاموش ہو گئے۔

أَبَا بَكْرٍ الشَّهْرَزُورِيَّ، ← أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1037

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1038

1037 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : سبقت رحمتي غضبي مخرج في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق نے ان کو بشیر بن موسیٰ نے ان کو حمید ی نے ان کو سفیان نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ "قال اللہ تعالیٰ سبقت رحمتی غضبی"۔ میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ گئی ہے ۔ یہ بخاری میں درج ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1038

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1039

1038 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الصباح الزعفراني ثنا معاذ بن معاذ عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن سلمان الفارسي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل خلق مائة رحمة منها رحمة يتراحم بها الخلق و تسع و تسعون ليوم القيامة رواه مسلم عن الحكم بن موسى عن معاذ بن معاذ

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد الصباح زعفرانی نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو سلمان فارسی نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ان اللہ خلق مائۃ رحمۃ منھا رحمۃ یتواحم بھا الخلق وتسع وتسعون لیوم القیٰمۃ"۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی تھیں ایک رحمت کے ساتھ تمام مخلوق پر رحم کرتا ہے ۔ اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے رکھ دی ہیں۔ اس کو مسلم نے حکم بن موسیٰ سے انہوں نے حضرت معاذ بن معاذ سے روایت کیا ہے ۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← الحسن بن محمد الصباح الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1039

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1040

1039 - أخبرنا عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أنا أبو الحسن علي بن الحسن الصالحي بالبصرة ثنا أبو الحسن مسبح بن حاتم العلكي ثنا الحسن بن علي الواسطي ثنا معاذ بن معاذ ثنا أبي عن عوف الأعرابي عن خلاس عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى مائة رحمة قسم منها رحمة في دار الدنيا فمن ثم يعطف الرجل على ولده و الطير على فراخه فإذا كان يوم القيامة صيرها مائة رحمة فعاد بها على الخلق 1039 - مكرر قال أيوب السختياني : إن رحمة قسمها في دار الدنيا و أصابني منها الإسلام و أني لأرجو من تسعة و تسعين رحمة ما هو أكثر من ذلك

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق مؤذن نے ان کو ابو الحسن علی بن حسن صالح نے بصرہ میں ان کو ابو الحسن مسبح بن حاتم علکی نے ان کو حسن بن علی واسطی نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عوف اعرابی نے ان کو خلاص نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ۔ ایک رحمت کو اس نے دنیا والوں پر تقسیم کر دیا ہے اسی کے اثر سے ایک باپ اپنی اولاد پر شفقت کرتا ہے ۔ اور پرندہ اپنے بچے پر کرتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا اس کو پوری ایک سو کر دے گا پھر اس کو اپنی مخلوق پر دوبارہ تقسیم کرے گا۔ یہ مکرر ہے ۔ ایوب سختیانی نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو دنیا میں تقسیم کر دیا ہے ۔ اور مجھے اس سے اسلام پہنچا اور بے شک میں امید کرتا ہوں کہ باقی ننانوے رحمتیں اس سے زیادہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ، ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ ← أبو الحسن مسبح بن حاتم العلكي ← أبو الحسن علي بن الحسن الصالحي بالبصرة ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1040

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1041

1040 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد جعفر بن محمد الخلدي ثنا أحمد بن علي الخراز حدثنا علي بن الحسين بن خالد السكري ثنا العلاء بن زيد قال : دخلت على مالك بن دينار في مرضه فرأيت عنده شهر بن حوشب فلما خرجنا من عنده قلت لشهر : يرحمك الله ! زودني زودك الله ! فقال نعم حدثتني أم الدرداء عن أبي الدرداء عن نبي الله صلى الله عليه و سلم عن جبريل عليه السلام عن ربه تبارك و تعالى قال : قال ربكم عبدي ما عبدتني و رجوتني و لم تشرك بي شيئا غفرت لك على ما كان منك و لو استقبلتني بملأ الأرض خطايا و ذنوبا استقبلتك بملئها مغفرة اغفر لك و لا أبالي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد جعفر بن محمد خلدی نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو علی بن حسین بن خالد سکری نے ان کو علاء بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مالک بن دینار کے پاس ان کی بیماری کے دروان گیا ۔ میں نے ان کے پاس حضرت شہر بن حوشب کو بیٹھے دیکھا۔ جب ہم اس کے ہاں سے نکلے تو میں نے شہر بن حوشب سے کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر رحم فرمائے مجھے سفر کا سامان عطا کیجئے اللہ آپ کو سفر کی تیاری کروائے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے ، مجھے حدیث بیان کی تھی ام درداء نے اپنے شوہر حضرت ابو درداء سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے حضرت جبرائیل سے وہ اللہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے آپ نے میری عبادت کی اور مجھ سے امید قائم کر لی اور اپ نے میرے ساتھ شرک نہیں کیا۔ میں نے تیرے گناہ کے باوجود تجھے بخش دیا ہے اگر آپ زمین بھر کے بھی گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملتے تو میں اسی قدر مغفرت کے ساتھ آپ سے ملتا میں تجھے بخش دیتا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوتی۔

الْعَلاَءِ بْنِ زَيْدٍ ← علي بن الحسين بن خالد السكري ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلْدِىُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1041

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1042

1041 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو محمد الربيع بن سليمان ثنا أسد بن موسى ـ ح و أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الشاهد بهمدان ثنا أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي ثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي قالا : ثنا الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم أن أبا ذر حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تعالى يقول : يا عبدي ما عبدتني و رجوتني فإني غافر لك ما فيك و يا عبدي إن لقيتني بقراب الأرض خطيئة لم تشرك بي لقيتك بقرابها مغفرة قال البيهقي رحمه الله : و آخر هذا الحديث يدل على أن المراد بالعبادة التي يتقرب بها الرجاء في أول الحديث أن لا تشرك بالله شيئا و قد ذكرنا في كتاب البعث من رواية أبي ذر و أبي الدرداء و غيرهما ما يدل على صحة ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو محمد ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے اور ہمیں خبر دی ہے ۔ ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبانہ زاہد نے ہمدان میں ۔ ان کو ابو العباس فضل بن فضل کندی نے ان کو خلیفہ نے ان کو ابو الولید طیالسی نے ان کو عبدالحمید بن بہرام نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے تو نے میری عبادت کی اور مجھ سے امید رکھی میں تجھے بخشنے والا ہوں جو کچھ گناہ کہ تجھ میں ہیں اے میرے بندے اگر تو گناہوں سے زمین بھر کر مجھے ملتا لیکن میرے ساتھ شرک نہیں کرتا ہے تو میں تجھے زمین بھر کر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔

عبد الرحمن بن غنم أن أبا ذر ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الحميد بن بهرام ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الشاهد بهمدان ← و، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أبو محمد الربيع بن سليمان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1042

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1043

1042 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا معاذ بن المثنى ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي بن ميمون ثنا غيلان بن جرير ثنا شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم يرويه عن ربه عز و جل قال : يا ابن آدم ما دعوتني و رجوتني غفرت لك على ما كان فيك يا ابن آدم ! إنك إن تذنب حتى تبلغ ذنوبك عنان السماء ثم تستغفرني غفرت لك و لا أبالي و هكذا رواه عامر الأحول و المعلى بن زياد عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر و قوله : دعوتني يريد ـ و الله أعلم ـ دعاءه إياه وحده لا يدعه معه إلها آخر و قد أخرج مسلم حديث أبي ذر من وجه آخر كما :

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معاذ بن مثنیٰ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن السماء نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو معد یکرب نے ان کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ اپنے رب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم کے بیٹے جو کچھ کہ تم نے مجھے پکارا ہے اور مجھ سے امید قائم کی ہے میں نے تجھے معاف کر دیا ہے ان گناہوں کے باوجود جو تجھ میں تھے۔ اے آدم کے بیٹے ! اگر تو مجھ سے گناہوں سے بھری ہوئی زمین کے ساتھ ملتا ، ان کے بعد کہ تو میرے ساتھ شرک نہ کرتا تو میں تجھ سے اسی قدر مغفرت سے بھری ہوئی زمین کے ساتھ تجھ سے ملتا۔ اے آدم کے بیٹے اگر تو اتنے گناہ کرتا کہ تیرے گناہ آسمان کے بلندی کو چھو لیتے پھر تو مجھ سے بخشش مانگتا تو میں تجھے بخش دیتا ۔ اور میں کوئی پرواہ نہ کرتا ۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو احول اور معلیٰ بن زیاد نے شہر بن حوشب سے اس نے معدیکرب سے اس نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قوم دعوتنی آپ نے مجھ کو پکارا۔ اس سے مراد خاص اسی کو اکیلے پکارنا ہے اس کے ساتھ کسی دوسرے اللہ کو نہ پکارا ہو۔ یعنی توحید والی پکار اور توحید والی دعاء مراد ہے ۔ اور مسلم نے ایک اور طریقہ سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے ۔

ربه عز و جل ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1043

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1044

1043 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعني بقول الله عز و جل : من عمل حسنة فجزاءه عشر أمثالها أو أزيد و من عمل سيئة فجزاؤه مثلها أو أغفر له و من تقرب إلي شبرا تقربت منه ذراعا و من تقرب إلى ذراعا تقربت منه باعا و من أتاني يمشي أتيته هرولة و من لقيني بقراب الأرض خطايا لم يشرك بي شيئا جعلت له مثلها مغفرة أخرجه مسلم من حديث وكيع و أبي معاوية عن الأعمش و قال : و في رواية وكيع : فله عشر أمثالها و أزيد و قال : في رواية أبي معاوية أو أزيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص نیکی کا کوئی عمل کرتا ہے اس کی جزا اس سے دس گناہ زیادہ ہے یا میں اس سے بھی زیادہ کردوں گا۔ اور جو کوئی شخص برائی کا کوئی عمل کرتا ہے اس کی جزا اسی بدی کے برابر ہوتی ہے یا میں اس کو بھی معاف کردوں گا۔ جو شخص ایک بالشت برابر میری طرف قریب ہوتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جو شخص میری طرف ایک ہاتھ کے برابر قریب ہوتا ہے میں ایک قدم اس کی طرف قریب ہو جاتا ہوں اور جو شخص میرے پاس چل کر آتا ہے میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں اور جو شخص مجھ سے زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ ملتا ہے مگر وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا میں اس کے لئے اس کی مثل اور اس کے برابر مغفرت سے بنا دیتا ہوں ۔ اس کو مسلم نے حدیث وکیع اور ابو معاویہ سے انہوں نے اعمش سے نقل کیا ہے اور مسلم نے کہا ہے کہ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ اس کے لئے اس کی نیکی کی دس مثل میں یعنی دس گناہیں۔ اور ابو معاویہ کی روایت میں ہے یا میں زیادہ کروں گا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1044

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1045

1044 - و قد أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : سئل ابن عمر عن لا إله إلا الله هل يضر معها عمل كما لا ينفع مع تركها عمل قال : ابن عمر : ـ و ذكر كلمة ـ عش لا تغتر قال البيهقي رحمه الله : و هذا لأنه قد يكون المراد بهذه المغفرة في المعاقبة و قد يغفر لمن يشاء العظيم و يعذب من يشاء على اليسير و قد يغفرهما لمن يشاء و قد يعذب عليهما من يشاء ثم يعفو و يغفر و لا ينبغي لمسلم أن يكون رجاؤه رحمة الله خاليا عن خوفة عذاب الله ليكون بخوفه منتهيا عن معصية الله و برجائه راغبا في طاعة الله و قد حكينا عن لقمان الحكيم في حد كل واحد منهما ما فيه كفاية كما :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو اھمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ کیا کوئی عمل نقصان دے سکتا ہے جیسے لا الٰہ الا اللہ چھوڑ دینے سے کوئی عمل فائدہ نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لا الٰہ الا اللہ کہہ کر زندہ رہ مگر دھوکہ میں نہ رہ یا غرہ نہ ہو۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و قد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1045

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1046

1045 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي أخبرني عبد المنعم عن أبيه : عن وهب بن منبه قال : قال لقمان لابنه : يا بني أرج الله رجاء لا يجرئك على معصيته و خف الله خوفا لا يؤيسك من رحمته

ہمیں خبر دی ہے حسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو عبدالمنعم نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے وہ فرماتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا اے بیٹے تو اللہ سے امید رکھ مگر ایسی امید نہ ہو جو تجھے اس کی نافرمانی کرنے پر جری کردے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ مگر ایسا خوف نہ ہو جو تجھے اللہ کی رحمت سے مایوس کردے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم ← عبد الله بن محمد القرشي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1046

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1047

1046 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل ثنا أبو عثمان البصري ـ ح و حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن يعقوب العدل قالا : ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون ثنا المسعودي عن عون بن عبد الله بن عبد الله قال : قال لقمان لابنه : يا بني أرج الله رجاء لا تأمن فيه مكره و خف الله مخافة لا تيأس فيها من رحمته قال : يا أبتاه و كيف أستطيع ذلك ؟ و إنما لي قلب واحد قال : المؤمن كذا له قلبان : قلب يرجو به و قلب يخاف به و روي عن الفرات بن السائب عن ميمون بن مهران عن ابن عباس مرفوعا في القلبين معنى هذا و هو ضعيف بمرة

ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابوعثمان بصری نے اور ہمیں بات بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن یعقوب عدل نے دونوں کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعودی نے ان کو عون بن عبداللہ نے کہتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے اللہ تعالیٰ سے امید رکھ مگر ایسی امید نہ ہو جس میں تو اللہ کی تدبیر سےبے باک ہو جائے اور اللہ سے ڈر مگر ایسا ڈر نہیں جو تجھے اس کی رحمت سے مایوس کر دے۔ لقمان حکیم کے بیٹے نے باپ سے کہا : اے ابا جان میں کیسے اس کی طاقت رکھوں گا۔ جب کہ میرا تو ایک ہی دل ہے لقمان حکیم نے کہا کہ مؤمن ایسے ہی ہوتا ہے اس کے دو دل ہوتے ہیں ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے امید کرتا ہے تو دوسرے دل کے ساتھ اس سے ڈرتا بھی ہے ۔ اور فرات بن سائب سے روایت ہے انہوں نے میمون بن مہران سے اس نے عباس سے مرفوعاً دو دل ہونے کے بارے میں روایت کی ہے یعنی اس کا مفہوم ہے اور وہ کئی اعتبار سے ضعیف ہے ۔

عون بن عبد الله بن عبد الله ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1047

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1048

1047 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر قال : قال لي الزهري : لأحدثنك بحديثين عجيبين أخبرني حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه فقال إذا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في الريح في البحر فو الله لئن يقدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا به فقال الله عز و جل للأرض أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال : ما حملك على ما فعلت ؟ قال : خشيتك يا رب ـ أو قال مخافتك ـ فغفر له قال : و حدثني حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : دخلت امرأة في هرة ربطتها فلا هي أطعمتها و لا هي أرسلتها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت قال الزهري : هي لئلا يتكل أحد و إلا ييأس أحد و رواه مسلم عن محمد بن رافع و عبد بن حميد عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے کہتے ہیں مجھے امام زہری نے کہا: میں تمہیں ضرور دو عجیب حدیثیں بتاؤں گا ۔ مجھے خبر دی ہے محمد بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے نفس پر اسراف اور زیادتی کی جب اس کو موت آئی تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو مجھے جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس دینا پھر میری راکھ کو سمندر میں جا کر ہوا میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم اگر میرا رب مجھ پر عذاب دینے پر قادر ہو گیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو بھی نہیں دیا ہوگا۔ چنانچہ اس کے مرنے کے بعد بیٹوں نے اس کی وصیت پوری کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ لٰہذا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ تو نے اس کی راکھ کے جتنے اجزا لئے ہیں وہ واپس لوٹا دے لٰہذا اللہ کی قدرت سے وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا ایسا کرنے کی جسارت تم نے کیوں کی تھی ؟ بولا اے میرے رب یہ سب کچھ میں نے تیرے ڈر سے کیا تھا یا کہا مخافتک۔ تیرے خوف سے کیا تھا۔ لٰہذا اللہ نے اس کو بخش دیا۔ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی حمید بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت جہنم میں داخل کر دی گئی ایک بلی کے معاملے میں جس کو اس نے باندھ دیا تھا نہ اس نے اسے خود کچھ کھانے کو دیا۔ اور نہ ہی اسے چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی۔ امام زہری کہتے ہیں کہ یہ اس لئے فرمایا تا کہ نہ تو کوئی ناامید ہو اور نہ ہی کوئی آسرا کرکے بیٹھے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اور عبداللہ بن حمید سے اور عبدالرزاق سے۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1048

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood