شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 766
765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ثنا يحيى بن جعفر بن الزبرقان ثنا إبراهيم بن محمد الشافعي ثنا الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة عن حماد بن أبي حميد عن مكحول عن عياض بن سليمان ـ و كانت له صحبة ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيار أمتي فيما أنبأني الملأ الأعلى قوم يضحكون جهرا في سعة رحمة ربهم و يبكون سرا من خوف شدة عذاب ربهم و يذكرون ربهم بالغداة و العشي في البيوت الطيبة المساجد و يدعونه بألسنتهم رغبا و رهبا و يسألونه بأيديهم خفضا و رفعا و يقبلون على الله بقلوبهم عودا و بدءا فمؤنتهم على الناس خفيفة و على أنفسهم ثقيلة يدبون على الأرض حفاة على أقدامهم كدبيب النمل بلا مراح و لا بذخ يمشون بالسكينة و يتقربون بالوسيلة و يقرؤون القرآن و يقربون القربان و يلبسون الخلقان عليهم من الله شهود حاضرة و عين حافظة يتوسمون العباد و يتفكرون في البلاد و أرواحهم في الدنيا و قلوبهم في الآخرة ليس لهم هم إلا إمامهم أعدوا الجهاز لقبورهم و الجواز لسبيلهم و الاستعداد لمقامهم ثم تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : { ذلك لمن خاف مقامي و خاف وعيد } تفرد به حماد بن أبي حميد و ليس بالقوي في الحديث عند أهل العلم به و الله تعالى أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد بن عبداللہ سماک نے بغداد میں ۔ ان کو یحییٰ بن جعفر بن زبر قان نے ان کو ابراہیم بن محمد شافعی نے ان کو ولید بن مسلم نے اور ضمر ہ بن ربیعہ نے ان کو حمید بن ابو حمید نے ان کو مکحول نے عیاض بن سلیمان سے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ملا الا علیٰ کے فرشتوں نے جو خبر دی ہے اس کے مطابق میری امت کے بہتر ین افراد وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی رحمت کی کشادگی پر سامنے اور ظاہراً ہنستے اور خوش ہوتے ہیں اور اپنے رب کے عذاب کی شدت کے خوف سے چھپ کر روتے ہیں اور صبح و شام پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور امید اور خوف کی کیفیت میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہ یں ۔اور اپنے ہاتھ کو بلند کر کے اور نیچے کر کے اس سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتےہیں اولاً بھی اور دوبارہ بھی ۔ لوگوں پر ان کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور ان کے اپنے نفسوں میں بھاری ہوتا ہے ۔ وہ لوگ دھرتی پر آہستہ آہستہ ننگے پاؤں چلتے ہیں جیسے چیونٹی چلتی ہے بغیر کسی تکبر اور اترانے کے ۔ چلتے ہیں وقار کے ساتھ اور قرب الٰہی حاصل کرتے ہیں ( اعمال صالحہ کے ) وسیلے کے ساتھ ۔ اور وہ قرآن پڑھتے ہیں ۔ قربانی دیتے ہیں ۔ پرانے کپڑے پہنتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی طرف سے گواہ موجود ہوتےہیں ۔ حفاظ کرنے والی نگاہیں ہوتی ہیں ۔ بندوں کو ان کے چہروں کی علامات پڑھ کر پہچان لیتے ہیں ۔ اور شہروں میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ ان کو روحیں دنیا میں ہوتی ہیں اور ان کے دل آخرت میں ہوتےہیں ۔ ان کے لئے کوئی فکر نہیں ہوتی مگر انکے آگے کی اور وہ اپنی قبروں کے لئے (اعمال کا ) سامان تیار کرتے ہیں ۔ ( او ر اپنی آخرت کے ) راستے کی راہ داری اور پاسپورٹ بناتےہیں ۔ اور اللہ کے آگے اپنے پیش ہونے کے لئے تیاری کرتےہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ذالک لمن خاف مقامی و خاف وعید (ابراہیم 14) یہ سب اس کے لئے ہے جو شخص میرے سامنے پیش ہونے سے ڈرا اور میرے عذاب سے ڈر گیا ۔اس روایت میں حماد بن ابو حمید کا تفرد ہے اور وہ حدیث میں قوی نہیں ہے اہل علم کے نزدیک۔
عياض بن سليمان و كانت له صحبة ← مَكْحُولٌ ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 766
