Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 766

765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ثنا يحيى بن جعفر بن الزبرقان ثنا إبراهيم بن محمد الشافعي ثنا الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة عن حماد بن أبي حميد عن مكحول عن عياض بن سليمان ـ و كانت له صحبة ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيار أمتي فيما أنبأني الملأ الأعلى قوم يضحكون جهرا في سعة رحمة ربهم و يبكون سرا من خوف شدة عذاب ربهم و يذكرون ربهم بالغداة و العشي في البيوت الطيبة المساجد و يدعونه بألسنتهم رغبا و رهبا و يسألونه بأيديهم خفضا و رفعا و يقبلون على الله بقلوبهم عودا و بدءا فمؤنتهم على الناس خفيفة و على أنفسهم ثقيلة يدبون على الأرض حفاة على أقدامهم كدبيب النمل بلا مراح و لا بذخ يمشون بالسكينة و يتقربون بالوسيلة و يقرؤون القرآن و يقربون القربان و يلبسون الخلقان عليهم من الله شهود حاضرة و عين حافظة يتوسمون العباد و يتفكرون في البلاد و أرواحهم في الدنيا و قلوبهم في الآخرة ليس لهم هم إلا إمامهم أعدوا الجهاز لقبورهم و الجواز لسبيلهم و الاستعداد لمقامهم ثم تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : { ذلك لمن خاف مقامي و خاف وعيد } تفرد به حماد بن أبي حميد و ليس بالقوي في الحديث عند أهل العلم به و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد بن عبداللہ سماک نے بغداد میں ۔ ان کو یحییٰ بن جعفر بن زبر قان نے ان کو ابراہیم بن محمد شافعی نے ان کو ولید بن مسلم نے اور ضمر ہ بن ربیعہ نے ان کو حمید بن ابو حمید نے ان کو مکحول نے عیاض بن سلیمان سے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ملا الا علیٰ کے فرشتوں نے جو خبر دی ہے اس کے مطابق میری امت کے بہتر ین افراد وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی رحمت کی کشادگی پر سامنے اور ظاہراً ہنستے اور خوش ہوتے ہیں اور اپنے رب کے عذاب کی شدت کے خوف سے چھپ کر روتے ہیں اور صبح و شام پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور امید اور خوف کی کیفیت میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہ یں ۔اور اپنے ہاتھ کو بلند کر کے اور نیچے کر کے اس سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتےہیں اولاً بھی اور دوبارہ بھی ۔ لوگوں پر ان کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور ان کے اپنے نفسوں میں بھاری ہوتا ہے ۔ وہ لوگ دھرتی پر آہستہ آہستہ ننگے پاؤں چلتے ہیں جیسے چیونٹی چلتی ہے بغیر کسی تکبر اور اترانے کے ۔ چلتے ہیں وقار کے ساتھ اور قرب الٰہی حاصل کرتے ہیں ( اعمال صالحہ کے ) وسیلے کے ساتھ ۔ اور وہ قرآن پڑھتے ہیں ۔ قربانی دیتے ہیں ۔ پرانے کپڑے پہنتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی طرف سے گواہ موجود ہوتےہیں ۔ حفاظ کرنے والی نگاہیں ہوتی ہیں ۔ بندوں کو ان کے چہروں کی علامات پڑھ کر پہچان لیتے ہیں ۔ اور شہروں میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ ان کو روحیں دنیا میں ہوتی ہیں اور ان کے دل آخرت میں ہوتےہیں ۔ ان کے لئے کوئی فکر نہیں ہوتی مگر انکے آگے کی اور وہ اپنی قبروں کے لئے (اعمال کا ) سامان تیار کرتے ہیں ۔ ( او ر اپنی آخرت کے ) راستے کی راہ داری اور پاسپورٹ بناتےہیں ۔ اور اللہ کے آگے اپنے پیش ہونے کے لئے تیاری کرتےہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ذالک لمن خاف مقامی و خاف وعید (ابراہیم 14) یہ سب اس کے لئے ہے جو شخص میرے سامنے پیش ہونے سے ڈرا اور میرے عذاب سے ڈر گیا ۔اس روایت میں حماد بن ابو حمید کا تفرد ہے اور وہ حدیث میں قوی نہیں ہے اہل علم کے نزدیک۔

عياض بن سليمان و كانت له صحبة ← مَكْحُولٌ ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 766

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 767

766 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا يحيى بن خليف بن عقبة أبو بكر البصري ثنا ابن عون عن محمد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما منكم من أحد ينجيه عمله قالوا : و لا أنت يا رسول الله ؟ قال : و لا أنا إلا أن يتغمدني الله منه برحمة وفضل و و ضع يده على رأسه هكذا يصف فعله أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن ابن عون

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یحییٰ بن خلیف نے بن عقبہ ابو بکر بصری نے ان کو ابن عون نے ان کو محمد نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو اس کے اعمال نجات دیدیں ، لوگوں نے کہا کیا آپ کو بھی آپ کے اعمال نجات نہیں دے سکیں گے ۔فرمایا ، کہ میں بھی نہیں ( نجات پاسکتا ) مگر یہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں غوطہ دے دے ۔ اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پ ر اس طرح رکھ لیا اس کی کیفیت بیان کی ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں دوسرے طریقے سے ابن عون سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يحيى بن خليف بن عقبة أبو بكر البصري ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 767

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 768

767 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة بن الفرج ثنا بقية عن بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن عتبة بن عبد يعني السلمي : عن النبي صلى الله عليه و سلم : لو أن رجلا يجر على وجهه من يود ولد إلى يوم يموت هرما في مرضاة الله عز و جل لحقره يوم القيامة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن حسننے دونوں کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عتبہ بن فرج نے ان کو بقیہ نے ان کو بجیربن سعید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو عتبہ بن عبد یعنی سلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اگر کوئی آدمی پیدا ہونے کے دنسے لے کر موت تک اپنے منہ کے بل بڑھاپے کی حالت میں اللہ کی رضا میں کھینچا جائے البتہ حقیر کر دے گا اس کو قیامت کے دن ۔

عتبة بن عبد يعني السلمي ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 768

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 769

768 - و رواه عبد الله بن المبارك عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن محمد بن أبي عميرة ـ و كان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ـ قال : لو أن عبدا جر على وجهه من يوم ولد إلى يوم يموت هرما في طاعة الله عز و جل لحقر ذلك اليوم و لود أنه زاد كيما يزداد من الأجر و الثواب و رواه عيسى بن يونس عن ثور ـ و قال : خر على وجهه في تاريخ البخاري

اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن مبارک نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے انکو جبیر بن نفیر سے ان کو محمد بن ابی عمیرہ نے اور وہ اصحاب رسول میں سے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے لے کر بڑھاپے تک اللہ کی اطاعت میں گھسیٹا جائے تو بھی اس دن حقیر ہو جائے گا اور البتہ وہ یہ چاہے گا کہ کسی طرح اجرو ثواب زیادہ ہو جائے ۔ اس کو روایت کیا ہے عیسیٰ بن یونس نے ثور سے وہ کہتے ہیں کہ اگر اپنے چہرے کے بل گرا یہ تاریخ بخاری میں ہے ۔ (یعنی جر علی وجہہ کی بجائے خر علی وجہہ ہے ثور کی روایت میں ) بلا بن سعد فرماتے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 769

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 770

769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي و محمد ابن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد البيروتي أخبرني أبي حدثني الضحاك بن عبد الرحمن قال : سمعت بلال بن سعد يقول : عباد الرحمن ! هل جاركم مخبر يخبركم أن شيئا من أعمالكم تقبلت منكم أو شيء من خطاياكم غفرت لكم ؟ { أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا و أنكم إلينا لا ترجعون } و الله لو عجل لكم الثواب في الدنيا لاستقللتم كلكم ما أفترض عليكم أفترغبون في طاعو الله لتعجيل دارهم و لا ترغبون و تنافسون في جنة { أكلها دائم و ظلها تلك عقبى الذين اتقوا و عقبى الكافرين النار }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن ابو موسیٰ نے کہتے کہ انکو بیان کیا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بیروتی نے ان کو خبر دی ان کے باپ نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ فرماتے ہیں ۔ اے رحمٰن کے بندو ۔ کیا تمہارے پاس کوئی خبر دینے والا ایا ہے ؟ جو تمہیں تمہارے اعمل کے بارے میں کچھ خبر دے کہ وہ تم سے قبول کر لئے گئے ہیں یاتمہارے گناہوں میں سےکوئی شے معاف کردی گئی ہے ؟ افحسبتم انما خلقنکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون ( المؤمنون 115) کیا سمجھتے ہو توم کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بے کار وبے مقصد پیدا کیا ہے اور کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤگے ؟ اللہ کی قسم اگر ثواب تمہیں جلدی جلدی دنیا میں دے دیا جائے البتہ خود غرض ہو جائے گا ہر ایک تم سے ان فرائض سے جو تمہارے اوپر فرائض ہیں ۔ کیا اللہ کیااطاعت میںتم رغبت کرتے ہو اس کے گھر کی جلدی کرنےکے لئے نہ رغبت کرو ثواب کی اور رغبت کر وجنت میں ۔اکلھا دائم و ظلھا تلک عقبی الذین اتقوا و عقبی الکافرین النار (الدعد 35) میوہ اس کا دائمی ہے اور سایہ بھی دائمی ہے یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام آگ ہے ۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 770

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 771

770 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا حدثنا أبو العباس أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي حدثني الضحاك قال : سمعت بلال بن سعد يقول : استحيوا من الله و احذروا الله و لا تأمنوا مكر الله و لا تقنطوا من رحمة الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو ان کے باپ نے ان کو ضحاق نے کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا بلال بن سعد سے کہتے ہیں ۔ اللہ سے شرم و حیا کرو ۔ اور اللہ سے ڈرو ۔ اور اللہ کی تدبیر سے بے خوف نہ ہو ۔ اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 771

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 772

771 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن غالب تمتام حدثني بشر يعني ابن عبد الملك ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن إبراهيم الأنصاري من ولد أنس عن أبيه عن جده أنس قال : يا بني ! إياكم و السفلة قالوا : و ما السفلة ؟ قال : الذي لا يخاف الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن غالب تمتا م نے ان کو بشر نے یعنی ابن عبدالملک نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابراہیم انصاری نے ان کو حضرت انس کے بیٹے نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتے ہیں ۔ اے بیٹے بچاؤ تم اپنے اپ کو سفلہ سے لوگوں نے کہا کہ سفلہ کیا ہے (یعنی کمینہ پن ) فرمایا کہ وہ شخص جو اللہ سے نہ ڈر ے ۔ ( گویا کہ اللہ سے نہ ڈرنا سفلہ پن اور کمینہ پن ہے )

الذي لا يخاف الله عز و جل ← و ما السفلة ← يا بني إياكم و السفلة ← جَدِّهِ أَنَسٍ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن إبراهيم الأنصاري من ولد أنس ← بشر يعني ابن عبد الملك ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ تَمْتَامٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 772

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 773

772 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا ابن أبي مريم ثنا الفريابي ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرأ فقلت : أقرأ عليك و عليك أنزل ؟ قال : نعم فقرأت سورة النساء حتى بلغت { فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا } قال : حسبك الآن قال : فالتفت إليه فإذا عيناه تذرفان

ہمیں خبردی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو ابن ابی مریم نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے ان کو عبیدہ نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اقراء ۔ پڑھئے میں نے کہا کیا میں آپ کے او پڑھوں ، حالانکہ آپ کے اوپر قرآن مجید اتر اہے آپ نےفرمایا جی ہاں پڑھئے میں نے سورۃ نسآ ء پڑھی یہاں تک کہ میں اس آیت تک پہنچا : فیکف اذا جئنا من کل امۃ بشھید و جنا بک علی ھولا ی شھید ا ( النسآء 41) ۔ قال ، حسبک الان ۔ قال فالتفت الیہ فاذ ا عیناہ تذرفان ۔ کیا حال ہوگا جس وقت ہم امت سے گواہ لائیں گے اور ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے آپ نےفرمایا بس تجھے اب کافی ہے ۔ میں پلٹ کر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسوبہہ رہے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو الحسن علي بن محمد المصري

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 773

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 774

773 - و حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر عبيد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة ثنا عبد الله بن غنام أنا أبو بكر بن أبي شيبة أنا حفص بن غياث عن الأعمش : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : أقرأ علي القرآن قلت : يا رسول الله اقرأ عليك و عليك أنزل ؟ قال : إني أشتهي أن أسمعه من غيري ـ ثم ذكره و لم يقل : حسبك ـ و قال : فرفعت رأسي أو غمرني رجل إلى جنبي فرفعت رأسي فإذا دموعه تسيل رواه البخاري في الصحيح عن الفريابي و عن عمر بن حفص عن أبيه و رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر عبید اللہ بن یحییٰ طلحی نے کوفہ میں ان کو عبداللہ بن تمام نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو اعمش نے ( اس نے حدیث کو ) اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل ذکر کیا ہے علاوہ ازیں یہ کہا ہے کہ رسول االہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے قرآن پڑھئے میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں آپ کے سامنے پڑھوں حالانکہ آپ کے اوپر تو اترا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتاہوں کہ میں اس کو کسی اور سے سنوں ۔ اس کے بعد اس نے آگے حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ اور انہوں نے اس روایت میں یہ نہیں فرمایا کہ تجھے کافی ہے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں سر اوپر اٹھایا ۔ یایوں فرمایا۔ کہ میرے پہلو میں ایک آدمی نے کہنی ماری۔ اور میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو یکا یک آپ کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں فریابی سے اس نے عمر بن حفص سے اس نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ابو بکر بن ابی شہید سے روایت کیا ہے ۔

أقرأ علي القرآن قلت ← الأعمش فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عبد الله بن غنام، ← أبو بكر عبيد الله بن يحيى الطلحي بالكوفة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 774

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 775

774 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا الحسن بن مكرم البزار ثنا يزيد بن هارون أنا حماد بن سلمة عن ثابت عن مطرف عن أبيه قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي و في صدره أزيز كأزيز المرجل من البكاء قال أحمد البيهقي رحمه الله تعالى : و روينا عن حذيفة بن اليمان أنه صلى مع النبي صلى الله عليه و سلم فما مر بآية رحمة إلا وقف عندها فسأل و لا بآية عذاب إلا وقف عندها و تعوذ و روينا عنه صلى الله عليه و سلم أنه قال : شيبتني هود و الواقعة و المرسلات و عم يتساءلون و إذا الشمس كورت و كل هذا من شدة معرفته بالله عز و جل و خوفه منه على أمته

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابکر بن احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے بزار نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حماد بن ابی سلمہ نے ان کو ثابت نے ان کو مطرف نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا اور آپ کے سینہ مبارک میں سے اس طرح کی آواز آرہی تھی جیسے ہنڈیا کے کھولنے کے وقت آتی ہے یہ آپ کے رونے کی آواز تھی ۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 775

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 776

775 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور ثنا يحيى بن سعيد القطان عن قدامة بن عبد الله حدثتني جسرة قالت : سمعت أبا ذر يقول : قام النبي صلى الله عليه و سلم بآية حتى أصبح يرددها و الآية : { إن تعذبهم فإنهم عبادك و إن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد سماک نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو قدامہ بن عبداللہ نے ان کو جسرہ نے فرماتی ہیں کہ میں نے سنا ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ رات کو تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے ایک آیت کے ساتھ قیام کیا یعنی صبح تک اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے ۔ آیت یہ ہے ۔ ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیم ( المائدہ 118) اگر آپ ان لوگوں کو عذاب دیں تو بیشک وہ تیرے بندے ہی ہیں ، اور اگر آپ ان کو معاف کردیں تو آپ غالب اور حکمت والے ہیں ۔

أَبَا ذَرٍّ ← قدامة بن عبد الله حدثتني جسرة ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 776

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 777

776 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي ثنا مسدد بن مسرهد ثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق الهمداني عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال أبو بكر الصديق سألت النبي صلى الله عليه و سلم ما شيبك ؟ قال : سورة هود و الواقعة و عم يتساءلون و المرسلات و إذا الشمس كورت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر کی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم عبدی نے ان کو مسدد بن مسرھد نے ان کو ابو الا حوص نے ان کو اسحٰق ہمدانی نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے فرماتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی علیہ السلام سے پو چھا کس چیز نے آپ کو بوڑھا کیا ؟ آپ نے فرمایاکہ ۔ سورۃ ھود ۔ سورۃ واقعہ ۔ سورۃ عم یتساء لون ، سورۃ المر ست ۔ سورۃ اذاالشمس کو رت ۔(یعنی ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ۔ )

أبو بكر الصديق سألت النبي صلى الله عليه و سلم ما شيبك ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 777

chevron_left Previous
1…678…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood