Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 742

741 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ثنا نعيم بن حماد ثنا عثمان بن كثير بن دينار عن محمد بن مهاجر أخي عمرو بن مهاجر عن عروة بن رويم اللخمي عن عبد الرحمن بن غنم عن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من أفضل الإيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں کہتے ہمیں خبر دی ہے ابو العباس بن یعقوب نے ان کو یزید بن محمد بن عبدالصمد د مشقی نے ا ن کو نعیم بن حماد نے ان کو عثمان بن کثیر بن دینار نے ان کو محمد بن مہاجر بھائی عمرو بن مہاجر نے ان کو عروہ بن رویم لخمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے : ان من افضل ایمان المرء ان یعلم ان اللہ معہ حیث کان ۔ بے شک آدمی کے افضل ایمان میں سے ہے یہ بات وہ یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جو جہاں بھی ہو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ← عثمان بن كثير بن دينارٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 742

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 743

742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير ثنا سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن عباس قال : حدثني أبو أياس عن عبد الله بن مسعود أنه كان يقول في خطبته : خير الزاد التقوى و رأس الحكمة مخافة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے انکو سفیان ثوری نے ان کو عبدالرحمٰن بن عابس نے ان کو ابولیاس نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ وہ اپنے خطبے فرماتے تھے : خیر الزاد التقوی ، وراس الحکمۃ مخافۃ اللہ عزوجل ۔ بہتر سامان سفر تقویٰ ہے ( اللہ کی نا فرمانی سے بچنا) اور اصل عقلمند ی اللہ عزوجل سے ڈرنا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ ← أَبُو إِيَاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 743

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 744

743 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس السياري ثنا عبد الله بن الغزال ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا بشر بن السري عن سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن عابس عن أبيه قال : قال عبد الله بن مسعود : رأس الحكمة مخافة الله عز و جل هذا موقوف و قد روي من وجه آخر ضعيف مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس سیاری نے ان کو عبداللہ بن عزال نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو بشر بن سری نے ان کو سفیان ثوری نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عابس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : راء س الحکمۃ مخافتہ اللہ ۔ دانائی کی جڑ اللہ کا خوف ہے ۔ یہ روایت موقوف ہے ۔ اور ایک اور ضعیف طریقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع بھی مروی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 744

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 745

744 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن الفضل و جعفر بن أحمد بن عاصم قالا : ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية بن الوليد ثنا عثمان بن زفر عن أبي عمار الأسدي عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس الحكمة مخافة الله عز و جل : و روي ذلك من حديث عقبة بن عامر في خطبة النبي صلى الله عليه و سلم بتبوك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فضل نےاور جعفر ابن احمد بن عاصم نے دونوں کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے محمد بن مصفی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو عثمان بن زمزنے ان کو ابو عمارا سدی نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : راء س الحکمۃ مخافتہ اللہ حکمت و ادانائی کی اصل اللہ سے ڈرنا ہے ۔ اور یہ عقبہ بن عامر کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ تبوک میں روایت کی گئی ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أبي عمار الأسدي ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إسماعيل بن الفضل و جعفر بن أحمد بن عاصم ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 745

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 746

745 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب بالطابران ثنا عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن ببغداد ثنا أحمد بن يونس ـ ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الأسفاطي يعني العباس بن الفضل ثنا أحمد بن يونس ثنا أيوب بن عتبة عن الفضل بن بكر عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث مهلكات ! شح مطاع و هوى متبع و إعجاب المرء بنفسه و ثلاث منجيات : خشية الله من السر و العلانية و القصد في الغنى و الفقر و كلمة الحق في الرضا و الغضب و روي ذلك من وجه آخر عن أبي هريرة مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن یعقوب نے طابران نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عباس نے بن عبدالرحمٰن نے بغداد میں ان کو ابراہیم بن اسحٰق حربی نے ان کو احمد بن یونس نے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے ، یعنی عباس بن فضل نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ایوب بن عتبہ نے ان کو فضل بن بکیر نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ثلاث مھلکات۔ شح مطاع۔ وھوی متبع۔ واعجاب المرء بنفسہ ۔ تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں تیری نفس کی اطاعت۔ خواہش کی اتباع ۔ عجب اورخود پسند ی ۔ وثلاث مجیات ، خشیۃ اللہ فی السرو العلانیہ۔ و القصد فی الغنی و الفقروو کلمۃ الحق فی الرضاء والغضب ۔ اور تین چیزیں نجات دہندہ ہیں چھپے اوظاہر ہر حال میں اللہ سے ڈرنا ۔ غنی ہو یا فقیر ہو ہر حال میں میانہ روی اختیار کرنا ۔ خوشی ہو یا غصہ ہو حق بات کہنا ۔ یہ روایت ایک اور طریق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← الْفَضْلِ بْنِ بَكْرٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن ببغداد ← أبو الحسن محمد بن يعقوب بالطابران

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 746

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 747

746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن يعقوب العدل ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء ثنا جعفر بن عون ثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال : قال عبد الله : كفى بخشية الله علما و كفى بالاغترار بالله جهلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن یعقوب عدل نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ، ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعودی نے ان کو قاسم بن عبدالرحمٰن نے کہتے ہیں کہ فرمایا عبداللہ نے : کفی یخشۃ اللہ علما۔ وکفی با الاغترار بااللہ جھلاً۔ خثیتہ خداوندی کے لئے عالم ہونا کافی ہے اور اللہ کے ساتھ دھوکہ کھانے میں جہالت کافی ہے ۔

عبد الله كفى بخشية الله علما و كفى بالاغترار بالله جهلا ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 747

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 748

747 - و بهذا الإسناد عن مسلم بن صبيح عن مسروق قال : إن المرء لحقيق أن يكون له مجالس يخلو فيها فيتذكر فيها ذنوبه فيستغفر منها

اسی اسناد کے ساتھ مسلم بن صبیح سے اور مسروق سے مروی ہے ۔ بے شک آدمی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لئے کچھ ایسی محافل ہوا کریں جہاں وہ ان مجالس میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے انسے بخشش مانگا کرے ۔

مَسْرُوقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 748

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 749

748 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو منصور الصبغي ثنا أحمد بن يحيى بن سيرين ثنا أحمد بن يونس حدثنا زائدة عن الأعمش عن مسلم عن مسروق قال : كفى بالمرء علما أن يخشى الله و كفى بالمرء جهلا أن يعجب بنفسه قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حقيق بالمرء أن يكون له مجالس يخلو فيها فيذكر ذنوبه فيستغفر الله منها و قد روينا هذا الكلام من قول مسروق غير مرفوع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو منصور صبغی نے ان کو احمد بن یحییٰ بن سیرین نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زائدہ نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم نے ان کو مسروق نے کہتے ہیں کہ : آدمی کے عالم ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو۔ اور آدمی کے جاہل ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ خود پسندی کرتا ہو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ آدمی چاہئے کہ اس کے لئے اسیسی مجالس ہوں جن میں وہ اکیلے ہو کر اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کر ے ۔ ہم یہ کلام مسروق کے قول سے غیرمرفوع روایت کر چکےہیں ۔

كفى بالمرء علما ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أحمد بن يحيى بن سيرين ← أَبُو مَنْصُورٍ الصبغي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 749

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 750

749 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي حامد بن محمد الرفاء أخبرني أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله أنا بدل بن المحبر أبو المنير أنبأنا شعبة عن سليمان عن عبد الله بن مرة عن مسروق قال : كفى بالمرء علما أن يخشى الله و كفى بالمرء جهلا أن يعجب بعمله

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو علی حامد بن محمد رفاء نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو بدل بن مجبر ابو المنیر نے ان کو شعبہ نے ان کو سلیمان نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے ان کو مسروق نے وہ کہتے ہیں ۔ آدمی کے عالم ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آدمی کے جاہل ہونے ک لئے کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر ناز کر ے۔

مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ أَبُو الْمُنِيرِ، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أبو علي حامد بن محمد الرفاء ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 750

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 751

750 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو طاهر المحمدآباذي ثنا الفضل بن محمد ثنا أبو بكر بن شيبة الحزامي أخبرني ابن أبي فديك ـ ح و اخبرنا أبو نصر بن قتادة ـ و اللفظ له ـ أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أحمد بن داود بن السمناني أبو بكر ثنا دحيم بن عبد الرحمن بن إبراهيم ثنا ابن أبي فديك عن موسى بن يعقوب عن أبي حازم أن عامر بن عبد الله بن الزبير : أخبره أن عبد الله بن مسعود أخبره أنه لم يكن بين إسلامه و بين أن نزلت هذه الآية يعاتبهم الله بها إلا أربع سنين : { ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون } و في رواية الروذباري ـ و قال : عن عبد الله بن مسعود أنه أخبره أنه لم يكن بين إسلامهم و بين أن نزلت هذه الآية

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ابو بکر بن شیبہ حزامی نے ان کو ابن ابو فدیک نے اور خبردی نضر بن قتادہ نے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں ، ان کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو احمد بن داؤسمنائی نے ان کو ابو بکر نے ا نکو دحیم عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے ان کو ابن ابی فدیک نے ان کو موسیٰ بن یعقوب نے ان کو ابو حازم نے ان کو عامر بن عبداللہ بن زبیر خبر دی ہے ان کو ان کے والد نے خبر دی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان کو خبردی ہے کہ ان کے اسلام لانے کے درمیان اور اس آیت کے نزول کے درمیان جس میں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے انتباہ فرمایا سر زنش فرمائی مگر صرف چار سال کی مدت ہے ۔ آیت یہ ہے : ولا تکونوا کالذین او الکتاب من قبل فطال علیھم الا مد فقست قلو بھم و کثیر منھم فاسقون (الحدید12)۔ تم ان لوگوں جیسے نہ بنو جنہیں کتاب دی گئی تھی پس ان پر مدت طویل گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور زیادہ تر ان میں سے فاسق اور اللہ کے نا فرمان ہیں۔ اور روذ باری کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا ۔ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ان کو خبردی تھی کہ ان لوگوں کے اسلام لانے اور مذکورہ آیت کے نزول کے درمیان چار سال کا فاصلہ ہے ۔

أَبِي حَازِمٍ ← مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← دحيم بن عبد الرحمن بن إبراهيم ← أحمد بن داود بن السمناني أبو بكر ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و اللفظ له ← و، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ الْحِزَامِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 751

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 752

751 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه و أبو علي الروذباري قالا ثنا أبو الحسن علي بن إبراهيم بن معاوية النيسابوري أنا أبو عمر أحمد بن عبد الجبار العطاردي أنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل القلب مثل ريشة بأرض فلاة تقلبها الرياح

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے اور ابو علی روذ باری نے ان دونوں کو ابو الحسن علی بن ابراہیم بن معاویہ ینشاپوری نے ان کو ابو عمر احمد بن عبدالجبار عطاردی نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دل کی مثال اس پر جیسی ہے جو میدانی زمین پر پڑا ھو ا ور اس کو ہوائیں الٹ پلٹ کرتی جائیں ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ← أبو طاهر الفقيه و أبو علي الروذباري

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 752

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 753

752 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الله بن سعد ثنا علي بن الحسن بن خشنام من أصل كتابه و هو بنيسابور ثنا حامد بن عمر البكراوي ثنا عبد الواحد بن زياد عن عاصم الأحول عن أبي كبشة قال : سمعت أبا موسى الأشعري يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما سمي القلب من تقلبه و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما مثل القلب كمثل ريشة بالفلاة تعلقت في أصل شجرة تقلبها الريح ظهرا لبطن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن سعد نے ان کو علی بن حسن خشام نے اپنی اصل کتاب میں سے اور وہ ینساپور میں تھے ۔ ان کو حامد بن عمر بکراوی نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو کبشہ نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ کہ دل کانام قلب رکھا گیا اس لئے یہ تقلیب سے مناسبت رکھتا ہے ( اور تقلب بار الٹ پلٹ کرنے کو کہتے ہیں دل کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے واردات اور خیالات کی کثرت سے ہر لمحے بدلنے کی کیفیت رہتی ہے ۔ ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قلب کی مثال میدان میں پڑے ہوئے پر جیسی ہے جو کسی درخت یا جھاڑی کے تنے سے اٹک جاتا ہے اور ہو ا اس کو الٹے اورسیدھے الٹ پلٹ کرتی رہتی ہے ۔

أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ← أَبِي کَبْشَةَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ ← علي بن الحسن بن خشنام من أصل كتابه و هو بنيسابور ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 753

chevron_left Previous
1…456…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood