شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 934
933 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : بينا أنا ذات يوم جالس بالشام في قبلة ليس عليها باب إلا كساء مسبل إذ أنا بامراة تدق على الحائط فقلت : من هذا ؟ فقلت : امرأة ضالة دلني على الطريق ـ رحمك الله ـ فقلت : عن أي الطريقين تسألين ؟ فبكت ثم قالت : عن طريق النجاة فقلت هيهات هيهات لا يقطع ذاك الطريق إلا بالسير الحثيث في الجد و تصحيح المعاملة و حذف العلائق الشاغلة من أمر الدنيا و الآخرة فبكت قالت ثم قالت : أما علائق الدنيا ففهمتها فما علائق الآخرة فقلت : لو وافيت القيامة بعمل سبعين نبيا لم يكن لك إلا ما كتب لك في اللوح المحفوظ و إن لجهنم زفرة يوم القيامة لو كان معك عمل سبعين نبيا ما كان بد من أن ترديها قال : فصرخت ثم قالت : سبحان من صان عليك جوارحك فلم تقطع سبحان من أمسك عليك قلبك فلم يتصدع ثم سقطت مغشيا عليها قال ابن أخي أبي الحواري : و كانت عندنا جارية من المتعبدات فقلت لها أخرجي فانظري ما قصة هذا المرأة قال فخرجت فنظرت إليها فإذا هي قد فارقت الدنيا و إذا في جيبها رقعة مكتوب فيها : كفنوني في أثوابي فإني يك لي عند ربي خير فسبيدلني ما هو خير لي منها و إن يك غير ذلك فبعدا لنفسي و سحقا قال ابن أبي الحواري : و إذا خدم قد أحاطوا بالجارية فقلت لبعضهم ما قصة هذه الجارية فقالوا : يا أبا الحسن هذه جارية كانت يظهر بها شيء نظن أنها مصابة بعقلها و كان الذي بها يمنعها من المطعم والمشرب و كانت تشكو إلينا وجعا في جوفها فكنا نعرض فكان نعرض عليها الأطباء فكانت تقول : أريد متطببا أشكو إليه بعض ما أجد من دائي عسى أن يكون عنده شفائي
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ، ان کو ابوعثمان حناط نے، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام کے ملک میں ایک ایسے خیمے میں بیٹھا ہو ا تھا جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا ۔ مگر ایک چادر لٹکی ہوئی تھی ۔ ایک عورت نے دیوار بجائی ۔ میں نے کہا ، کون ہے ؟ بولی میں ایک بھٹکی ہوئی عورت ہوں ، مجھے راستہ بتایئے ۔ اللہ تیرے اور رحم کرے ۔ میں نے پوچھا کونسا راستہ تم پوچھتی ہو ؟ (یہ پوچھتے ہی) وہ رو پڑی ۔ پھر بولی ، نجات کا راستہ ۔ میں نے کہا بہت دور ہے ۔۔۔۔ بہت دور ہے یہ راستہ تو تیز ترین چلنے یا دوڑنے کے سوااور سخت کوشش اور معاملہ درست کئے بغیر طے نہیں ہو سکتا او ر تمام علائق اور رکاوٹیں جو دنیا و آخرت کے کاموں سے مصروف و مشغول کرنے والی ہیں ، ان کو گرائے بغیر طے نہیں ہو سکتا ۔ لہذا وہ پھر رو پڑی اور بولی دنیا کے علائق اور کاوٹیں تو سمجھ گئی ہوں ، یہ بتائے کہ آخرت کے علائق و رکاوٹیں کیا ہیں ؟ میں نے کہا اگر آپ ستر نبیوں جیسے اعمال لے کر قیامت میں آئیں گی تو بھی تیرے لئے وہ کچھ ہوگا جو تیرے لئے لو ح محفوظ میں لکھا گیا اور قیامت کے دن جہنم سے گذرے بغیرچارہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ سن کر اس عورت نے چیخ ماری ، پھر بولی : سبحان من صان علیک جوار حکم فلم تقطع ۔ سبحان من امسک علیک قلبک فلم یتصدع۔ پاک ہے وہ ذات جس نےتیرے اعضاء یا تیرے زخموں کی حفاظت کی کہ وہ پھٹ نہیں پڑے اور پاک وہ ذات جس نےتیرے دل کو تھام رکھا کہ وہ دو ٹکڑے نہیں ہو گیا ۔ اس کے بعد وہ عورت گر کر بے ہوش ہو گئی ۔ چنانچہ میرے بھتیجے ابو الحواری نے کہ کہ ہماے ہاں ایک عبادت گذار لرکی ہے۔ میں نے کہا، بلاؤ اس کو دیکھیں اس عورت کا کیا قصہ ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ لرکی آئی ، اس نے اس کو دیکھا تو معلوم ہو اکہ وہ تو دنیا چھوڑ چکی ہے۔ اس نےچیک کیا تو اس کی جیب سے ایک رقعہ لکھا ہوا ملا کہ مجھے میرے کپڑوں میں کفن دے دو ۔ اگر میرے لئے میرے رب کے پاس کوئی خیر ہو گی تو وہ بہت جلدی میرے لئے ان سے بہتر بدل دے گا۔ اگر میرے لئے وہاں کوئی چیز نہ ہوئی تو پھر دو ری ہے میرے نفس کے لئے اور لعنت ہے ۔ ابن الحوالی نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ آیا تو دیکھا لوگوں نے ایک لڑکی کو گھیرے میں لے رکھا ۔ میں نے پوچھا اس لڑکی کا کیا قصہ ہے ؟ لوگوں نےکہا اے ابو الحسن یہ ایسی لڑکی ہے ۔ اس پر کوئی چیز ظاہر ہوتی ، ہم سمجھتے تھے کہ اس کی عقل خراب ہے ، وہ کچھ کھاتی پیتی نہیں تھی اور اپنے پیٹ میں درد کی شکایت کرتی تھی ۔ ہم طبیبوں کو لا کر دکھاتے تھے اور وہ کہتی تھی میں چاہتی ہوں کسی بڑے ماہر طبیب کو لاؤتاکہ میں اپنی تکلیف جو میرے ساتھ ہے میں بتاؤں ، ممکن ہے اس کے پاس شاید میری شفاہو ۔
بَيْنَا ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 934
