Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 934

933 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : بينا أنا ذات يوم جالس بالشام في قبلة ليس عليها باب إلا كساء مسبل إذ أنا بامراة تدق على الحائط فقلت : من هذا ؟ فقلت : امرأة ضالة دلني على الطريق ـ رحمك الله ـ فقلت : عن أي الطريقين تسألين ؟ فبكت ثم قالت : عن طريق النجاة فقلت هيهات هيهات لا يقطع ذاك الطريق إلا بالسير الحثيث في الجد و تصحيح المعاملة و حذف العلائق الشاغلة من أمر الدنيا و الآخرة فبكت قالت ثم قالت : أما علائق الدنيا ففهمتها فما علائق الآخرة فقلت : لو وافيت القيامة بعمل سبعين نبيا لم يكن لك إلا ما كتب لك في اللوح المحفوظ و إن لجهنم زفرة يوم القيامة لو كان معك عمل سبعين نبيا ما كان بد من أن ترديها قال : فصرخت ثم قالت : سبحان من صان عليك جوارحك فلم تقطع سبحان من أمسك عليك قلبك فلم يتصدع ثم سقطت مغشيا عليها قال ابن أخي أبي الحواري : و كانت عندنا جارية من المتعبدات فقلت لها أخرجي فانظري ما قصة هذا المرأة قال فخرجت فنظرت إليها فإذا هي قد فارقت الدنيا و إذا في جيبها رقعة مكتوب فيها : كفنوني في أثوابي فإني يك لي عند ربي خير فسبيدلني ما هو خير لي منها و إن يك غير ذلك فبعدا لنفسي و سحقا قال ابن أبي الحواري : و إذا خدم قد أحاطوا بالجارية فقلت لبعضهم ما قصة هذه الجارية فقالوا : يا أبا الحسن هذه جارية كانت يظهر بها شيء نظن أنها مصابة بعقلها و كان الذي بها يمنعها من المطعم والمشرب و كانت تشكو إلينا وجعا في جوفها فكنا نعرض فكان نعرض عليها الأطباء فكانت تقول : أريد متطببا أشكو إليه بعض ما أجد من دائي عسى أن يكون عنده شفائي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ، ان کو ابوعثمان حناط نے، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں شام کے ملک میں ایک ایسے خیمے میں بیٹھا ہو ا تھا جس کا کوئی دروازہ نہیں تھا ۔ مگر ایک چادر لٹکی ہوئی تھی ۔ ایک عورت نے دیوار بجائی ۔ میں نے کہا ، کون ہے ؟ بولی میں ایک بھٹکی ہوئی عورت ہوں ، مجھے راستہ بتایئے ۔ اللہ تیرے اور رحم کرے ۔ میں نے پوچھا کونسا راستہ تم پوچھتی ہو ؟ (یہ پوچھتے ہی) وہ رو پڑی ۔ پھر بولی ، نجات کا راستہ ۔ میں نے کہا بہت دور ہے ۔۔۔۔ بہت دور ہے یہ راستہ تو تیز ترین چلنے یا دوڑنے کے سوااور سخت کوشش اور معاملہ درست کئے بغیر طے نہیں ہو سکتا او ر تمام علائق اور رکاوٹیں جو دنیا و آخرت کے کاموں سے مصروف و مشغول کرنے والی ہیں ، ان کو گرائے بغیر طے نہیں ہو سکتا ۔ لہذا وہ پھر رو پڑی اور بولی دنیا کے علائق اور کاوٹیں تو سمجھ گئی ہوں ، یہ بتائے کہ آخرت کے علائق و رکاوٹیں کیا ہیں ؟ میں نے کہا اگر آپ ستر نبیوں جیسے اعمال لے کر قیامت میں آئیں گی تو بھی تیرے لئے وہ کچھ ہوگا جو تیرے لئے لو ح محفوظ میں لکھا گیا اور قیامت کے دن جہنم سے گذرے بغیرچارہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ سن کر اس عورت نے چیخ ماری ، پھر بولی : سبحان من صان علیک جوار حکم فلم تقطع ۔ سبحان من امسک علیک قلبک فلم یتصدع۔ پاک ہے وہ ذات جس نےتیرے اعضاء یا تیرے زخموں کی حفاظت کی کہ وہ پھٹ نہیں پڑے اور پاک وہ ذات جس نےتیرے دل کو تھام رکھا کہ وہ دو ٹکڑے نہیں ہو گیا ۔ اس کے بعد وہ عورت گر کر بے ہوش ہو گئی ۔ چنانچہ میرے بھتیجے ابو الحواری نے کہ کہ ہماے ہاں ایک عبادت گذار لرکی ہے۔ میں نے کہا، بلاؤ اس کو دیکھیں اس عورت کا کیا قصہ ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ لرکی آئی ، اس نے اس کو دیکھا تو معلوم ہو اکہ وہ تو دنیا چھوڑ چکی ہے۔ اس نےچیک کیا تو اس کی جیب سے ایک رقعہ لکھا ہوا ملا کہ مجھے میرے کپڑوں میں کفن دے دو ۔ اگر میرے لئے میرے رب کے پاس کوئی خیر ہو گی تو وہ بہت جلدی میرے لئے ان سے بہتر بدل دے گا۔ اگر میرے لئے وہاں کوئی چیز نہ ہوئی تو پھر دو ری ہے میرے نفس کے لئے اور لعنت ہے ۔ ابن الحوالی نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ آیا تو دیکھا لوگوں نے ایک لڑکی کو گھیرے میں لے رکھا ۔ میں نے پوچھا اس لڑکی کا کیا قصہ ہے ؟ لوگوں نےکہا اے ابو الحسن یہ ایسی لڑکی ہے ۔ اس پر کوئی چیز ظاہر ہوتی ، ہم سمجھتے تھے کہ اس کی عقل خراب ہے ، وہ کچھ کھاتی پیتی نہیں تھی اور اپنے پیٹ میں درد کی شکایت کرتی تھی ۔ ہم طبیبوں کو لا کر دکھاتے تھے اور وہ کہتی تھی میں چاہتی ہوں کسی بڑے ماہر طبیب کو لاؤتاکہ میں اپنی تکلیف جو میرے ساتھ ہے میں بتاؤں ، ممکن ہے اس کے پاس شاید میری شفاہو ۔

بَيْنَا ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 934

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 935

934 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي في التفسير قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول سمعت أبا الحسن بن زرعان يقول سمعت أحمد بن أبي الحواري يقول : بينا أنا في بعض طرقات البصرة إذ سمعت صعقة فأقبلت نحوها فرأيت رجلا قد خر مغشيا عليه فقلت : ما هذا ؟ قالوا : كان رجلا حاضر القلب فسمع آية من كتاب الله من رجل فخر مغشيا عليه فقلت و ما هي ؟ قال قوله : { ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله } فأفاق الرجل عند سماع كلامنا و أنشأ يقول : ( أما آن للهجران أن يتصرما و للغصن غصن البان أن يتبسما ) ( و للعاشق الصب الذي ذاب و انحنى ألم يأن أن يبكى عليه و يرحما ) ( كتبت بماء الشوق بين جوانحي كتابا حكى نفس الوشي المتيما ) ثم قال اشكال اشكال اشكال و خر مغشيا عليه فحركناه فإذا هو ميت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے تفسیر میں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن عبداللہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں انہوں نے ابو الحسن بن زرعان سےسنا ، انہوں نے احمد ابو الحواری سے، وہ کہتے تھے کہ : ہم لوگ بصرہ کے بعض راستوں پر چل رہے تھے ۔ اچانک میں نے ایک چیخ سنی ، اس کی طرف متوجہ ہو ا تو دیکھا کہ ایک آدمی گر کر بے ہو ش ہو گیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ماجراہے ؟ لوگوں نے کہا ، ایک آدمی حاضر القلب تھا( یعنی ذکر کرنے ولا صاحب دل تھا ) اس نے ایک آدمی سے قرآنکی ایک آیت سنی ہے ، لہذا یہ بے ہوش ہو کر گر گیا ہے ۔ میں پوچھا کہ وہ کونسی آیت ہے جسے سن کر یہ شخص بے ہو ش ہو گیا ہے ؟ بتایا کہ یہ آیت ہے : الم یان اللذین امنو اان تخشع قلوبھم لذکر اللہ ( الحدید 16)کیا ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لئے جھک جائیں ۔ ہماری گفتگو کی آواز سنی تو وہ ہوش میں آگیا اور اس نے یہ اشعا پڑھے : اما ان للھجران ان یتصرما ۔ وللغصن غصن البان ان یتبسما ۔ وللعاشق الصب الذین ذاب و انخنی۔ الم یان ان یبکی علیہ و یر حما ۔ (1) ۔۔ کیا ابھی تک ہجر کے لئے وقت نہیں آیا ؟ کہ وہ عشق و محبت کی آگ بھڑکاوے ؟ اور کیا ابھی تک درخت بان کی ٹہنی کے لئے وقت نہیں آیا کہ وہ مسکرائے ( یعنی اس کے شگوفے پھوٹیں )۔ (2) کیا وہ عاشق زار جو محبوب کی محبت میں گھل چکا ہے اور جس کی کمر جھک چکی ہے اس کے لئے وقت نہیں آیا کہ اس پر رویا جائے اور پر ترس کھایا جائے ؟ (3) میں شوق اور عشق کے پانی کے ساتھ اپنی پسلیوں کے درمیان ایک ایسی کتاب لکھی ہے ۔ جو چھوٹ کر سچ دکھانے والے نفس کی تابعداری کی حکایت بیان کرتی ہے۔ یہ اشعار کہنے کے بعد وہ ایک دم چلایا اشکال ۔۔۔۔ اشکال ۔۔۔۔۔ اشکال۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ مجھے شکلیں دکھائی دے رہی ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے شکلیں دکھائی دے رہی ہیں ۔۔۔ مجھے شکلیں نظرآرہی ہیں ۔۔۔۔ اور پھر گر کر بے ہوش ہو گیا ۔ ہم نے اسے بلایا تو وہ مر چکا تھا ۔

في بعض طرقات البصرة ← بَيْنَا ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبا الحسن بن زرعان ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أبو عبد الرحمن السلمي في التفسير

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 935

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 936

935 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني محرز أبو هارون الضبي قال : كان عندنا رجل بالكوفة يغدو إلى الفرات فلا يزال يبكي حتى يرتفع النهار ثم يرجع فيقيل فإذا صلى انتصب لله فلا يزال مصليا إلى العصر ثم يروح إلى الفرات فيقعد يبكي قال : فقيل له في ذلك فقال : هذا مطيع لله أجراه برحمته و صيره رزقا لعباده و أنا أعصيه غير خائف و لا متوقع للنقم قال : ثم خر ميتا قال أبو هارون فأنا حضرت جنازته و ما علمت أن أحدا علم بموته فتخلف عنه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے، ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو محرز ابوھارون ضبی نے، وہ فرماتے ہیں کہ : ہمارے پاس کو فے میں ایک آدمی تھا ، وہ صبح فرات کے کنارےجا کر دن چڑھے تک روزانہ روتا رہتا ، پھر واپس آتا کچھ آرام کرتا ۔ جب وہ نماز پڑھتا تو اللہ تعالیٰ کےلئے قیام میں کھڑا رہتا ۔ عصر تک نماز پڑھتا رہتا تھا ۔ اس کے بعد دریائے فرات کے کنارے بیٹھ کر روتا رہتا تھا ۔ اس سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ یہ دریا اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبر دار ہے ۔ اسی نے اس کو اپنی رحمت کے ساتھ جاری کیا ہے اور اس کو اپنے بندوں کے رزق کا ذریعہ بنایا ہے ۔ جبکہ میں اس کی نافرمانی کرتاہوں اور میں اس کے باوجود ڈرتا بھی نہٰں ہوں اور نہ ہی اس کی نارضگی کی امید رکھتا ہوں ۔ یہ بات کہنے کے بعد وہ گر ااور مر گیا ۔ ابو ہارون نے کہا کہ میں اس کے جنازے میں موجود تھا ۔ میں نہیں جانتا کہ کوئی آدمی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جس کو اس وقت موت کی خبر ہو مگر وہ اس کے جنازے میں نہ پہنچا ہو۔ یعنی سب لوگوں نے اس کا جنازہ پڑھا۔

محرز أبو هارون الضبي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 936

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 937

936 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن إسحاق بن حمزة البخاري حدثني أبي ثنا عبد الله بن المبارك ثنا محمد بن مطرف عن أبي حازم ـ أظنه ـ عن سهل بن سعد : أن فتى من الأنصار دخلته خشية من النار فكان يبكي عند ذكر النار حتى حبسه ذلك في البيت و ذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فجاءه في البيت فلما دخل عليه اعتنقه الفتى و خر ميتا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : جهزوا صاحبكم فإن الفرق فلذ كبده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ، ان کو ابو بکر بن ابی الدنیا نے ، ان کو محمد بن اسحٰق بن حمزہ بخاری نے، ان کو ان کے والد نے ، انکو حضرت عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو محمد بن مطرف نے ان کو ابو حازم نے، میرا خیال ہے کہ ان کو سہیل بن سعد نے کہ انصار کے ایک جوان کے دل میں جہنم کا خوف بیٹھ گیا تھا ۔ جب بھی آگ کا ذکر ہوتا تو وہ رونے لگ جاتا ، یہاں تک کہ یہ خوف اس کو گھر میں بند کر دیا ۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر میں اس کے پاس تشریف لے گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے تو اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معانقہ کیا ، یعنی گلے ملا اور گر کر مر گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : جھذ وا صاحبکم فان الفرقان فلذکبدہ ۔ اپنے ساتھی کی تجہیز و تکفین کرو ، بے شک خوف نے اس کے جگر کو پھاڑ دیا ہے۔

أبي حازم أظنه ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبِي ← محمد بن إسحاق بن حمزة البخاري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 937

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 938

937 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : و أخبرنا أبو عبد الله الصفار على أثره ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا محمد بن إسحاق الثقفي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى إملاء ثنا محمد بن إسحاق الثقفي أبو العباس حدثني أحمد بن منصور الأنصاري عن منصور بن عمار قال : حججت حجة فنزلت سكة من سكة الكوفة فخرجت في ليلة مظلمة فإذا بصارخ يصرخ في جوف الليل و هو يقول : إلهي و عزتك و جلالك ما أردت بمعصيتي إياك مخالفتك و لقد عصيتك إذا عصيتك و ما أنا بنكالك عاقل و لكن خطيئة عرضت أعانني عليها شقائي و غرني ستري المرخى علي و قد عصيتك بجهدي و خالفتك بجهلي فالآن من عذابك من يستنقذني ؟ و بحبل من اتصل إن أنت قطعت حبلك عني ؟ واشباباه ! فلما فرغ من قوله قرأت من كتاب الله عز و جل : { نارا وقودها الناس و الحجارة عليها ملائكة غلاظ شداد } الآية فسمعت حركة شديدة لم أسمع بعدها حسا فمضيت فلما كان الغد رجعت في مدرجتي فإذا أنا بجنازة قد وضعت و إذا عجوز كبيرة فسألتها عن أمر الميت و لم تكن عرفتني فقالت مر ها هنا رجل لا جزاه الله إلا جزاءه ! مر بابني البارحة و هو قائم يصلي فتلا آية من كتاب الله فلما سمعها ابني تقطعت مرارته فوقع ميتا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے، ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے، ان کو محمد بن اسحاق ثقفی نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے بطور املا کے ، ان کو محمد بن اسحاق ثقفی نے ، ان کو ابو العباس نے، ان کو احمد بن منصور انصاری نے ، ان کو منصور بن عمار نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حج کیا ۔ لہذا میں اس کے بعد کو فے گیا اور کوفے کی گلیوں میں سے ایک گلی میں اتر ا اور میں ایک اندھیری رات میں باہر نکلا ۔ اچانک مجھے ایک چیخنے والے کی چیخ رات کے وقت سنائی دی ۔ وہ کہ کہہ رہا تھا الٰہی تیری عزت کی قسم اور تیرے جلال کی قسم ہے۔ میں نے اپنے گناہ کے ساتھ محض تیری مخالفت کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا ، بالکل میں نے تیری نافرمانی کی ہے۔ جب میں نے تیری نافرمانی کی ہے ، میں تیرے عذاب سے بھی واقف نہیں تھی ۔ لیکن غلطی تھی جو پیش آگئی تھی ۔ میری شقاوت اور بد قسمتی نے میری معاونت کی تھی اور تیری طرف سے میرے گناہ پر ڈلے ہوئے پردے نے مجھے دھوکہ میں ڈالا اور میں نے اپنی پو ری کوشش کے ساتھ تیری نافرمانی کرڈالی اور اپنی جہالت سے تیری مخالفت کر ڈالی ۔ مگر اب مجھے تیرے عذاب سے کون بچائے گا ؟ اور اگر تو مجھ سے اپنی رسی کاٹ دے تو میں کس کی رسی سے جڑوں گا؟ اے میری جوانی۔ ۔۔ اے میری جوانی ۔۔۔ جب وہ اپنی یہ بات کہہ کر فارغ ہو ا تو میں نے قرآن کے یہ الفاظ زور زور سے پڑھے : ناراً و قودھاالناس و الحجارۃ علیھا ملائکہ غلاظ شداد ( التحریم 6)آگ ہے اس کا ایندھن لوگ ہیں اور پتھر ہیں اس پر فرشتے ہیں جو انتہائی سخت ہیں ۔ اتنے میں ، میں شدید حرکت یا ہلچل سنی ۔ جس کے بعد میں نے دوبارہ کوئی آ ہٹ یا آواز وغیرہ محسوس نہیں کی۔ میں چلا گیا ۔ جب صبح ہو تو میں واپس آپنے مقام پر آیا تو دیکھا کہ وہاں جنازہ رکھا ہو ا ہے اور بڑی عمر کی ایک بڑھیا ساتھ بیٹھی ہو ئی ہے ۔ میں نے اس سے میت کا معاملہ دریافت کیا وہ مجھے پہنچانتی بھی نہیں تھی ۔ وہ بولی کہ رات کو یہاں سے کوئی آدمی گذرا تھا ، اللہ اس کو جزانہ دے ۔ مگر وہ جس کا وہ مستحق ہے ۔ وہ میرے بیٹے کے پاس سے رات کو گذراہے جبکہ میرا بیٹا نماز پڑ ھ رہا تھا ۔ اس آدمی نے ایک آیت پڑھی ہے ۔ جب میرے بیٹےنے وہ سنی تو اس کے بعد سے اس کا پتہ پھٹ گیا اور یہ مر گیا ۔

مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن منصور الأنصاري ← محمد بن إسحاق الثقفي أبو العباس ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← محمد بن إسحاق الثقفي و ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أبو عبد الله الصفار على أثره ← و، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 938

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 939

938 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم أنا أبو العباس بن الوليد أخبرني أبو شعيب قال : قال لقمان لابنه : يا بني لقد وعظتك حتى لو كنت حجرا لا نفطرت ماء فبينا هو يعظه يوما إذ انصدع قلب الغلام و مات

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس اصم نے، ان کو عباس بن ولید نے ، ان کو خبر دی ہے ابو شعیب نے ، وہ کہتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا : اے میرے بیٹے ! میں نےتجھے نصیحت کی ہے اور اتنی کی ہے کہ اگر تو پتھر کا ہوتا تو پھٹ پڑتا اور تجھ سے پانی بہنے لگتا ۔ وہ ایک دن اسے نصیحت کر رہےتھے کہ یکا یک لڑکے کا دل پھٹ گیا اور وہ مر گیا ۔

أَبُو شُعَيْبٍ ← أبو العباس بن الوليد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 939

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 940

939 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا عتاب بن المثنى حدثني بهز بن حكيم قال : أمنا زرارة بن أبي أوفى في مسجد بني قشير فقرأ المدثر فلما انتهى إلى هذه الآية : { فإذا نقر في الناقور } خر ميتا قال بهز : فكنت فيمن حمله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ صفار نے، ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ، ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ، ان کو اعتاب بن مثنی نے، ان کو بھزبن حکیم نے، انہوں نے ، کہا حضرت زرارہ بن ابی اوفیٰ نے مسجد بنو قشیر میں ہم لوگوں کی امامت کی اور نماز میں سورۃ مدثر پڑھی ۔ جب اس آیت پر پہنچے ۔ فاذ ا نقرفی الناقور (مدثر8) قیات کی ہو لناک اسوقت شروع ہو گی ) جب ناقور اور ناقوس میں پھونک ماری جائے گی ۔ یہ پڑھتے ہی مرگئے اور گر گئے ۔ میں خود ان کو اٹھانےوالوں میں شامل تھا ۔

بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← عتاب بن المثنى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 940

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 941

940 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين حدثني عمار بن عثمان الحلبي قال : حدثني حصن بن القاسم الوراق قال : كنا عند عبد الواحد بن زيد و هو يعظ فناداه رجل من ناحية المسجد : كف يا أبا عبيدة ! لقد كشفت قناع قلبي فلم يلتفت عبد الواحد إلى ذلك فمر في الموعظة فلم يزل الرجل يقول : كف يا أبا عبيدة ! لقد كشفت قناع قلبي و عبد الواحد يعظ لا يقطع موعظته حتى و الله حشرج الرجل حشرجة الموت و خرجت نفسه و أنا و الله شهدت جنازته يومئذ ما رأيت بالبصرة يوما أكثر باكيا من يومئذ

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے ابو بکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ، ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ، ان کو محمد بن حسین نے، ان کو عمار بن عثمان حلبی نے ، ان کو حصن بن قاسم وراق نے ، فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبدالواحد بن زید کے پاس بیٹھے تھے اور وہ وعظ فرمارہے تھے ۔ ایک آدمی نے ان کو مسجد کےکونے سے آواز دی : ابو عبید ہ رک جایئے، آ پ نےمیرے دل کا پردہ کھو ل دیا ہے ۔ عبدالواحد نے ا س کی بات کی طرف توجہ نہ دی اور اپنا وعظ جاری رکھا۔ وہ آدمی با ر بار یہی کہتا رہا ۔ اے ابو عبید ہ رک جایئے ، آپ نے تو میرے دل کا پر دہ کھول دیا ہے ۔ جبکہ عبدالواحد تقریری کرتے رہے ، تقریر ختم نہ کی ۔ یہاں تک کہ اللہ کی قسم آدمی کو موت کی سکرات اور خرخراہٹ لاحق ہو گئی اور اس کی روح نکل گئی ۔ اللہ کی قسم میں اس دن کے جنازے میں حاضر تھا ۔ میں نے بصرے میں اس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں دیکھا۔

حصن بن القاسم الوراق ← عَمَّارُ بْنُ عُثْمَانَ الْحَلَبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 941

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 942

941 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن محمد الصوفي بمرو ثنا محمد بن يونس القرشي ثنا إسماعيل بن نصر العبدي قال : نادى مناد في مجلس صالح المري : ليقم الباكون المشتاقون إلى الجنة فقام أبو جهث فقال اقرأ يا صالح : { وقدمنا إلى ما عملوا من عمل فجعلناه هباء منثورا * أصحاب الجنة يومئذ خير مستقرا وأحسن مقيلا } فقال أبو جهث : أرددها يا صالح ! فما فرغ من الآية حتى مات أبو جهث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر بن محمد صوفی نے مقام مرو میں ، ان کومحمد بن یونس قرشی نے ، ان کو اسماعیل بن نصر عبدی نے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت صالح مری کی مجلس میں ایک اعلان کر نے والے نے اعلان کیا ۔ رونے والوں اور جنت کے مشتاقوں کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے ۔ لہذا جو جہث کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے اے صالح آ پ یہ آیت پڑھئے : وقد منا ال الیٰ ما عملو امن عمل فجعلناہ ھباء منثور اً ، اصحٰب الجنۃ یو مئذ خیر مستقرو ا حسن مقیلاً ( الفرقان 23-24) ہم نے ان کا اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو عمل انہوں نے کئے تھے ۔ ہم ان کو کر دیں اڑتا ہوا غبار جنت والے اس دن بہتر ہوں گے ٹھکانے اور آرام کے اعتبار سے۔ جو انہوں نے یہ آیت پڑھی تو ابو جہث نےکہا کہ مکر ر پڑھئے اے صالح ۔ جب وہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ابو جہث مر چکے تھے ۔

إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَصْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← محمد بن يونس القرشي ← أبو بكر بن محمد الصوفي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 942

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 943

942 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن عبد الله بن أمية القرشي بالساوة قال : ثنا أبو العباس بن مسروق ثنا محمد بن داود حدثني يحيى بن بسطام ثنا أبو طارق قال : شهدت ثلاثة رجال أو نحوهم ماتوا في مجلس الذكر يمشون بأرجلهم صحاحا إلى المجالس و أجوافهم و الله قرحة فإذا سمعوا الموعظة انصدعت قلوبهم فماتوا قال يحيى : فقلت لأبي طارق مجتمعين ؟ قال : لا بل متفرقين في المجلس الرجل و الرجلان و نحو ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو محمد بن عبداللہ بن امیہ قرشی نے مقام ساوہ میں ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بتائی ابو العباس بن مسروق نے ،ان کو محمد بن داؤد نے ان کو یحییٰ بن بسطام نے ، ان کو ابو طارق نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں تین آدمیوں کی موت میں حاضر رہاہوں جو مجلس ذکر میں فوت ہو گئے تھے ، حالانکہ وہ تندرست تھے ، خود اپنے پیروں پر چل کر مجلس میں آئے تھے ۔ جبکہ ان کے پیٹ میں عشق الٰہی کے زخم تھے ۔ جب انہو ں نے وعظ و تقریر سنی تو ان کے دل پھٹ گئے اور وہ انتقال کر گئے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابو طارق سے پوچھا کیا تینوں آدمی اکٹھے فوت ہو گئے تھے ؟ کہا کہ نہیں ، بلکہ الگ الگ فوت ہوئے تھے ۔ ایک آدمی کی مجلس میں یاد و آدمیوں کی مجلس میں ۔

أَبُو طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ← أبو العباس بن مسروق ← محمد بن عبد الله بن أمية القرشي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 943

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 944

943 - أخبرنا أبو سعيد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا الساجي ثنا أحمد بن يحيى الصولي قال : حدثني جعفر بن محمد بن عبيد الله بن موسى قال : سمعت جدي عبيد الله بن موسى قال : كنت أقرأ على علي بن صالح فلما بلغت إلى قوله : { فلا تعجل عليهم } سقط الحسن بن صالح يخور كما يخور الثور فقام إليه علي فرفعه و مسح على وجهه ورش عليه الماء و أسنده إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے، ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ، ان کو ساجی نے، ان کو احمد بن یحییٰ صولی نے ، ان کو جعفر بن محمد بن عبید اللہ بن موسیٰ نے، ان کو ان کے دادا عبید اللہ بن موسیٰ نے ، وہ فرماتے ہیں کہ میں علی بن صالح کے سامنے تلاوت کر رہا تھا ، جب میں اس آیت پر پہنچا : فلاتعجلم علیھم ( مریم 84) نہ جلدی کر ان پر ۔ تو حسن بن صالح گرگئے اور اس طرح آواز کرنے لگے جیسے بیل کو ذبح کرتے وقت نکلتی ہے۔ چنانچہ علی ان کی طرف اٹھے ، اسے اٹھا یا اور چہرہ صاف کیا اور ان پر پانی کے چھینٹے دیئے اور ان کو اپنے ساتھ سہا را دیا ۔

جدي عبيد الله بن موسى ← جعفر بن محمد بن عبيد الله بن موسى ← أحمد بن يحيى الصولي ← السَّاجِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 944

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 945

944 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي حدثني رجل من قريش و قال إنه من ولد طلحة بن عبيد الله قال : كان توبة بن الصمة بالرقة و كان محاسبا لنفسه فحسب فإذا هو ابن ستين سنة فحسب أيامها فإذا هي إحد و عشرون ألف يوم و خمسمائة يوم فصرخ و قال : يا ويلتي ألقى المليك بأحد و عشرين ألف ذنب ؟ فكيف و في كل يوم عشرة آلاف ذنب ! ثم خر مغشيا عليه فإذا هو ميت فسمعوا قائلا يقول : يا لك ربضه في الفردوس الأعلى

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے، ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے، ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے،ا نکو قریش کے ایک آدمی نے کہا کہ وہ طلحہ بن عبداللہ کی اولاد میں سے تھے ، وہ فرماتے ہیں : تو بہ بن صمہ بڑےنرم دل آدمی تھے ، وہ اپنے نفس کا خوب محاسبہ بھی کرتے تھے ۔ جب وہ ساٹھ برس کے ہو گئے تو انہوں نے ساٹھ برس کے دنوں کا حساب لگایا تو ان کی تعداد اکیس ہزا پانچ سو کی تعداد بنی ۔ لہذا انہوں نے چیخ ماری اور کہنے لگے : ہے مصیبت بادشاہ نے اکیس ہزار گناہ ڈال دیئے ہیں ؟ کیسے ہوگا جب ایک دن میں دس ہزار گناہ ہوں ، اس کے بعد وہ گرااور بے ہوش ہو گیا ۔ جب دیکھا تو مرچکا تھا ۔ لوگوں نے کسی کہنے والے کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : اے وہ شخص تیر اجنت الفردوس میں انتظار ہو رہا تھا ۔

رجل من قريش و ← عبد الله بن محمد القرشي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 945

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood