Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 922

921 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكارزي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني جعفر بن محمد بن فضيل من أهل رأس العين ـ ثنا محمد بن كثير الصنعاني عن إبراهيم بن أدهم قال : كان عطاء السليمي ـ إذا انتبه في جوف الليل ـ يضرب فزعا إلى أعضائه يحسها مخافة أن تكون قد غير خلقته

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو الحسین اسحاق بن احمد کا رزی نے، ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو جعفر بن محمد بن فضیل نے جو اہل راس العین میں سے تھے ۔ ان کو محمد بن کثیر صنعانی نے ، ان کو ابراہیم بن ادھم نے ، وہ کہتے ہیں کہ عطاء سلیمی کی یہ حالت تھی کہ وہ جب رات کو جاگتے تو گھبراہٹ کے مارے اپنے اعظاء پر ہاتھ ماتے ، یہ دیکھنے کے لئے اور یہ خوف کرتے ہوئے کہ کہیں میری شکل نہ بگڑ گئی ہو۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← جعفر بن محمد بن فضيل من أهل رأس العين ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكارزي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 922

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 923

922 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو العباس السياري ثنا عبد الله بن علي الغزال ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا عبد الله بن المبارك أنا يزيد بن يزيد البكري قال : قال أويس القرني : العرق كن في أمر الله كأنك قتلت الناس كلهم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو عمرو بن سماک نے ، ان کو حسن بن عمر نے ، ان کو بشر بن حارث نے، کہتے ہیں کہ اویس قرنی نے کہا تھا ۔ یہ امرتجھ سے نہیں چھوٹنا چاہئے کہ آپ ایسے ہو جایئے گو یا کہ اپنے تمام لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے ۔ ( یعنی ہروقت یہ خوف رہنا چاہئے کہ نامعلوم میر ی مغرفت ہو گی بھی یا نہیں ؟)

أويس القرني العرق كن في أمر الله كأنك قتلت الناس كلهم ← يزيد بن يزيد البكري ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 923

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 924

923 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس السياري ثنا عبد الله بن علي الغزال ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا عبد الله بن المبارك أنا يزيد بن يزيد البكري قال : قال أويس القرني : العرق كن في أمر الله كأنك قتلت الناس كلهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس سیاری نے ، ان کو عبداللہ بن علی غزال نے ، ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو یزید بن یزید بکری نے ، وہ کہتے ہیں کہ اویس قرنی نے فرمایا کہ : اللہ کی امر میں پسینہ پسینہ ہو جائے گویا کہ تم نے تمام لوگوں کو قتل کرد یا ہے۔

أويس القرني العرق كن في أمر الله كأنك قتلت الناس كلهم ← يزيد بن يزيد البكري ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 924

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 925

924 - و بهذا الإسناد أخبرنا عبد الله بن المبارك أنا سفيان الثوري قال : كان لأويس القرني رداء إذا جلس مس الأرض و كان يقول : اللهم إني أعتذر إليك من كبد جائعة وجسد عار و ليس لي إلا ما على ظهري و في بطني

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو سفیان ثوری نے کہ اویس قرنی کی ایک چادر تھی جب بیٹھتے تو زمین پر بچا لیتے اور دعا کرتے تھے : اے اللہ بے شک میں تیری بار گاہ میں مغفرت پیش کرتا ہوں بھوکے جگر سے اور ننگے جسم سے ۔ حالت یہ ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، مگر صرف وہ کچھ ہے جو کچھ میری پیٹھ پر ہے اور جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ۔

كان لأويس القرني رداء إذا جلس مس الأرض و كان ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 925

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 926

925 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان ثنا أبي ثنا عبد الملك بن أحمد الدقاق البغدادي ثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا عباد بن الوليد القرشي قال : قال مالك بن دينار : لولا أن يقول الناس جن مالك للبست المسوح و وضعت الرماد على رأسي أنادي في الناس : من رأني فلا يعص ربه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن محمد بن عبداللہ بن محمود بن محبوردھان نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو عبدالملک بن احمد دقاق نے ، ان کو یعقوب بن ابراہیم دورقی نے ، ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے ، ان کو عبادبن ولید قرشی نے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت مالک بن دینار نے فرمایا : اگر اس بات کا ڈرنہ ہو تا کہ لوگ مجھے مجنون کہیں گے کہ مالک کو جنون ہو گیا ہے تو میں ٹاٹ پہن لیتا اور اپنے سر میں راکھ ڈال کر لوگوں کو پکار پکار کر کہتا کہ جو شخص میرا حشر دیکھے وہ اپنے رب کی نافرمانی نہ کرے ۔

مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ: «لَوْلَا أَنْ ← عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عبد الملك بن أحمد الدقاق البغدادي ← أَبِي ← أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن محبور الدهان

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 926

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 927

926 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت إسماعيل بن محمد بن الفضل بن الشعراني يقول : سمعت جدي يقول سمعت الصلت بن مسعود يقول : خرج الحسن بن صالح بن حي يوما من بيتي فنظر إلى جراد يطير فقال : { يخرجون من الأجداث كأنهم جراد منتشر } ثم خر مغشيا عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسماعیل بن محمد بن فضل بن شعرانی سے ، کہتے تھے کہ انہوں نے اپنے دادا سے سنا ، انہوں نے صلت بن مسعود سے ، وہ کہتے تھے کہ حسن بن صالح بن حی ایک دن میرے گھر سے نکلے ، ان کی ایک ٹڈی پر نظر پڑی جواڑ رہی تھی ۔ بولے : یخرجون من الاجداث کانھم جراد منشتر (القمر7)لو گ قیامت میں اپنی قبروں سے ایسے نکلیں گے جیسے کہ وہ بکھری ہو ئی ٹڈیاں ہیں ۔ یہ پڑھا اور گر کر بے ہوش ہوگئے ۔ (اس لئے کہ حشر کا منظر سامنے آگیا ۔ )

الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 927

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 928

927 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني خلف بن محمد البخاري ثنا نصر بن زكريا المروزي ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت رابعة تقول : ما رأيت ثلجا قط إلا ذكرت تطاير الصحف ولا رأيت جرادا قط إلا ذكرت الحشر و لا سمعت أذانا قط إلا ذكرت منادي القيامة قالت : و قلت لنفس كوني في الدنيا بمنزلة الطير الوقع حتى يأتيك قضاءه

ہمیں خبردی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خلف بن محمد بخاری نے ، ان کو نصر بن زکریا امروزی نے ، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، کہتے ہیں کہ انہوں نے رابعہ بصریہ سے سنا کہہ رہی تھیں کہ میں جب بھی برف دیکھتی ہوں تو مجھے قیامت کے دن اعمال ناموں کا اڑ تے پھرنا یاد آجاتا ہے او رجب میں ٹڈی کو دیکھتی ہوں تو مجھے میدان حشر یاد اجاتا ہے اور میں جب بھی اذان سنتی ہوں تو مجھے قیات کی منادی کرنے والا یاد آجاتا ہے ۔ فرماتی ہیں کہ میں اپنے نفس سے کہتی ہوں کہ دنیا میں گرنے والے پرندے کی طرح ہو جائے ، یہاں تک کہ تیرے پاس اس کی قضا آجائے۔

اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← نصر بن زكريا المروزي ← خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 928

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 929

928 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو عبد الله بن أمية القرشي بالساوة ثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن مسروق ثنا محمد بن داود بن عبد الله ثنا يحيى بن بسطام ثنا أبو طارق اللبان قال : كان عبد العزيز بن سلمان إذا ذكر القيامة صرخ كما تصرخ الثكلي و يصرخ الخائفون من جوانب المسجد و رفع الميتان من جوانب مجلسه

ہمیں خبر دہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ بن امیہ قرشی نے ساوہ میں ، ان کو ابو العباس احمد بن محمد بن مسروق نے ، ان کو محمد بن داؤد بن عبداللہ نے ، ان کو یحییٰ بن بسطام نے ، ان کو ابو طارق لبان نے ، وہ کہتے ہیں کہ عبدالعزیز بن سلمان جب قیات کو یاد کرتا تو ایسے چیختا جیسی بچے کو گم پانے والی ماں چیختی ہے اور ڈرنے والے مسجد کے کونوں سے لوگ بھی چیختے (اور مرجاتے ) چنانچہ ان کی مجلس سے دو میتیں اٹھائی جائیں گی۔

كَانَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سَلْمَانَ إِذَا ← أبو طارق اللبان ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أبو العباس أحمد بن محمد بن مسروق ← أبو عبد الله بن أمية القرشي بالساوة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 929

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 930

929 - قال و ثنا أبو العباس بن مسروق حدثني عصمة بن سليمان حدثني عصمة بن عرفة العنبري قال : سمعت عنبسة الخواص قال : كان عتبة الغلام يزورني فربما بات عندي قال : فبات عندي ذات ليلة فبكى في السحر بكاءا شديدا فلما أصبح قلت : لقد فزعت قلبي منذ الليلة ببكائك فبم ذاك يا أخي ؟ قال : يا عنبسة ! و الله إني إذا تذكرت يوم العرض على الله ثم مال ليسقط فاحتضنته فجلعت أنظر إلى عينيه يتقلبان قد اشتدت حمرتهما قال ثم أزبد و جعل يخور فناديته : عتبة ! عتبة ! حبيبي ! قال فلبث ثلاثا لا يجيبني ثم هدا فناديته : عتبة ! عتبة فأجابني بصوت خفي : قطع ذكر العرض على الله أوصال المحبين قال : ثم جعل يحشرج و يردد حشرجة الموت و يقول : أتراك تعذب محبيك و أنت الحي الكريم ! قال : فلم يزل يرددها حتى و الله أبكاني

ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ بات بتائی ابو العباس بن مسروق نے ، ان کو عصمہ بن سلیمان نے ، ان کو عصمہ بن عرفہ عنبری نے، انہوں نے سنا عنبسہ خواص سے ، وہ کہتے ہیں کہ : عتبہ نامی غلام مجھے ملنے آتا تھا ۔ بسا اوقات و ہ میرے پاس رات کا قیام بھی کر لیتا ۔ ایک مرتبہ رات کو اس نےمیرے پاس قیام کیا ۔ سحر کے وقت رونا شروع کر دیا اور بہت شدید رویا ۔ صبح ہوئی تو میں نے کہا آج رات تو تم نے مجھے بہت ڈرادیا اپنے رونے کے ساتھ ۔ بھائی آپ کیوں روئے تھے؟ کہنے لگا اے عنبسہ اللہ کی قسم جب میں اللہ تعالیٰ کو آگے پیشی کے دن کو یاد کرتا ہوں تو (یعنی مجھے رونا آجاتا ہے ) اس کے بعد وہ گرنے لگا تو میں نے اسے گود میں لے لیا اور میں اس کی آنکھ کو دیکھنے لگا جو کہ پلٹ رہی تھیں اور ان کی سرخی شدید ہوتی جارہی تھی ۔ ( کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ جھاگ نکالنے لگا) گر گراہٹ کی حلق سے آواز نکالنے لگا۔ میں نے اسے آواز دیں ۔ عتبہ ۔۔۔۔ عتبہ ۔۔۔۔ اس نے مجھے انتہائی پس آواز کے ساتھ جواب دیا اور یہ کہا: اللہ پر پیش ہونے کے ذکر نے محبت کرنے والوں کے عضو کاٹ دیئے ہیں ۔ عنبسہ کہتےہیں کہ اس کے بعد وہ غرغرانے لگا، موت کی غرغراہٹ کی طرح ۔ اور وہ ( اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ) کہنے لگا: آپ کیا کہتے ہیں کہ آپ اپنے عاشقوں کو عذاب دیں گے جبکہ آپ تو زندہ جاوید ہیں اور آپ کریم ہیں؟(عنبسہ ) کہتے ہیں کہ وہ مسلسل یہ الفاظ مکر رکہتا رہا، یہاں تک کہ اللہ کی قسم اس نے مجھے بھی رلا دیا ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 930

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 931

930 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله ابن أمية القرشي ثنا أبو العباس بن مسروق حدثني محمد بن داود بن عبد الله ثنا عبد الله بن الجوزي الأسدي حدثني محمد بن السماك قال : دخلت البصرة فقلت لرجل كنت أعرفه دلني على عبادكم فأدخلني على رجل عليه لباس الشعر طويل الصمت لا يرفع رأسه إلى أحد قال : فجعلت استنطقه الكلام فلا يكلمني قال : فخرجت من عنده فقال لي صاحبي : ها هنا ابن عجوز هل لك فيه ؟ قال : فدخلنا عليه فقالت العجوز لا تذكروا لابني شيئا مكن من أمر جنة و لا نار فتقتلوه علي فليس لي غيره قال : فلما دخلنا عليه فإذا عليه من اللباس مثل ما على صاحبه منكس الرأس طويل الصمت فرفع رأسه فنظر إلينا ثم قال أما أن للناس موقفا لا بد أن يقفوه قال قلت : بين يدي من رحمك الله ؟ قال : فشهق شهقة فمات قال ابن السماك : فجاءت العجوز فقالت : قتلتم ابني ! قال : فكنت فيمن صلى عليه ـ رحمه الله تعالى

ہمیں خبر دی ہےابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن امیہ قرشی نے ، ان کو ابو العباس بن مسروق نے ، ان کو محمد بن داؤد بن عبداللہ جوزی اسدی نے ،ا ن کو محمد بن سماک نے ، وہ کہتے ہیں کہ : میں بصرہ میں داخل ہوا ، میں ایک آدمی سے کہا جسے میں پہچانتا تھا۔ مجھےاپنے شہر کے بڑے بڑے عبادت گذاروں کے بارے میں رہنمائی کیجئے ( تاکہ میں عابد ترین لوگوں کو مل سکوں ) چنانچہ وہ مجھے ایک آدمی کے پاس لے گئے جس نے بالوں کا لباس پہن رکھا تھا ۔ بڑی لمبی خاموشی اختیار کئے ہو تھا ۔ سر اٹھا کر کسی کی طرف نہیں دیکھتا تھا ۔ محمد بن سماک کہتے ہیں کہ میں نے اس عابد کو بلوانے کی کوشش کی مگر اس نے مجھ سے کلا م نہ کی ۔ کہتے ہیں کہ میں اس کے ہاں سے نکل گیا ۔ میرے ساتھی نے مجھے سے کہا کہ یہاں پر ایک ابن عجوز عابد بھی مشہور ہے ۔ (بڑھیاکا بیٹا)

محمد بن السماك ← عبد الله بن الجوزي الأسدي ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أبو العباس بن مسروق ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله ابن أمية القرشي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 931

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 932

931 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط قال حدثني عبد الله بن محمد بن أحمد الهاشمي حدثني الحسن بن محمد الهاشمي عن محمد بن السماك قال : كنت أطوف أطلب العباد و الزهاد فذكر لي رجل بعبادان قد رفض الدنيا و أقبل على الآخرة جدا و اجتهادا فأتيت عبادان فسألت عنه فوصف لي داره فأتيت إلى باب دار كبيرة ليس عليها إلا باب بمصراع صغير فقرعت الباب فخرجت إلى جارية خماسية فقالت : من الطارق بالباب ؟ قلت : أنا يا جارية هذا منزل فلان العابد ؟ قالت : نعم قلت لها استأذتي عليه فإن أنا دخلت عليه وهبت لك درهما فقالت : يا عبد الله ما رأيت أحدا هو أجهل منك أدخل فما على أبي من حاجب و إنما الحجاب على أبواب الملوك و أبناء الملوك فبهت متعجبا من قولها ثم دخلت و دخلت معها و إذا دار قوراء ليس فيها إلا بيت صغير فدخلت البيت فإذا أنا برجل قد نحل من غير سقم وقد احتفر قبرا عند رجليه و قد دلى رجليه فيه و في يده خوص يشقه و هو يتلو هذه الآية : { أم حسب الذين اجترحوا السيئات أن نجعلهم كالذين آمنوا وعملوا الصالحات سواء محياهم ومماتهم ساء ما يحكمون } بصوت حزين فسلمت عليه فرد علي السلام و قال : أمن أخواني أنت قلت نعم و لست من أهل البصرة و لا من أهل عبادان قال : فمن أين أنت ؟ قلت من أهل الكوفة قال : فما اسمك ؟ قلت : محمد بن السماك قال : لعلك الواعظ ؟ قلت : نعم قال : فأخذ يدي بيديه جميعا ثم قال : لي : مرحبا و حياك الله يا أخي بالسلام و متعنا في الدنيا بالإخوان ! يا أخي ! ما زالت نفسي متطلعة إلى لقائك تحب أن تعرض داءها على دواءك أعلمك يا أخي أن بي جرجا قديما قد أعيي المعالجين قبلك فتأتاه برفقك و ألصق عليه ما تعلم أنه يلائمه من مراهمك قال : فعملت أن الرجل يريد أن أعظه فقلت : يا أخي و هل يداوي مثلي مثلك ؟ و جرجي انغل من جرحك و ذنبي أعظم من ذنبك فقال : سألتك بالله إلا ما وعظتني ! فقلت : يا أخي ! قد علمت أن ذنبك الذي أذنبت لم يمح و أن لذاذتك لم تبق و أن الموت يطلبك صباحا و مساء و إنك تصير غدا إلى ضيق اللحود و ظلمة القبور و مسألة منكر و نكير فلما قلت له ذلك شهق شهقة خر في قبره يخور كما الثور إذا وجي في منحره و أقبلت امرأته و ابنته تبكيان من وراء الحجاب و تقولان : سألناك بالله لا تزده شيئا فتقتله علينا فأفاق فقال : يا أخي قد وافق دواءك دائي و لصق مرهمك بجرحي أخي ابن السماك ! زدني فقلت له : يا أخي ! إن أهلك و ولدك قد حلفوني إني لا أزيدك شيئا فأقبل عليهم و قال : اعلم يا أخي أنه ليس أحد أشد علي وبالا و لا أعظم جرما مني إذا وقفت بين يدي ربي ـ من أهلي و ولدي فقلت : يا أخي ! ما بعد ظلمة القبور و ضيق اللحود و مسألة منكر و نكير إلا الطامة قال : و ما هي يا ابن السماك ؟ فقلت له : إذا أخذ إسرافيل يعني في نفخ الصور و بعثر ما في القبور و جئنا نحن بأثقالنا نحمل عل الظهور فكم يا أخي في ذلك اليوم من مناد ينادي بالويل و البثور ؟ و أعظم من ذلك أيضا توبيخ الرب إيانا عند قراءة السيئات التي قد أحصى علي و عليك فيه النقير و الفتيل و القطمير و ملائكة متزرون بأزر من نار غضاب لغضب الرحمن ينتظرون ما يقال لعن بالغضب : { خذوه فغلوه } قال فشهق شهقة فخر في قبره كأنه ثور قد وجي في منحره و بال فعرفت بالبول ذهاب عقله فأقبلت ابنته فاجتذبته و أسندته إلى صدرها و مسحت وجهه بكمها و هي تقول بأبي و أمي عينين طال ما سهرتا في طاعة الله ! بأبي و أمي عينين طال ما غضتا عن محارم الله و أفاق فقال لي : عليك السلام يا ابن السماك أنا أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله وشهق الثالثة فظننت أنها مثل الأوليين فحركته فإذا الرجل قد فارق الدنيا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ، ان کو ابو عثمان سعید بن عثمان حناط نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمدبن احمد ہاشمی نے، ان کو حسین بن محمد ھاشمی نے، ان کو محمد بن سماک نے، وہ فرماتے ہیں کہ موگھومتا پھر تا اور بڑے بڑے عابدوں اور زاہدوں کو تلاش کرتا تھا ۔ مجھ سے عبادان نام کی بستی میں ایک عابد کا ذکر کیا گیا ، جس نے دنیا کو چھوڑ رکھا تھا اور انتہائی شدید کو شش کے ساتھ آخرت کی تیاریوں میں لگ چکا تھا ۔ میں قصبہ عبادان میں پہنچا (جو کہ بصرہ کے قریب واقع تھا) اور میں نے وہاں پہنچ کر اس عابد کے بارے میں پوچھا ، مجھے اس کا گھر بتایا گیا ، لہذا میں ایک بڑی حویلی کے دروازے پر پہنچا جس پر ایک چھوٹے کو اڑ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میرے پاس کوئی پانچ سال کی لڑکی باہر نکل کر آئی ۔ بولی دروازے پر پہنچنے والا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میں ابن سماک ہوں ۔ کیا فلاں عابد کا گھر یہی ہے ؟ بولی جی ہاں یہی ہے ۔ میں نے اس بچی سے کہا کہ آپ جاکر میر لئے ملنے کی اجازت لے کر آیئے ۔ اگر اجازت مل گئی اور میں اندر چلا گیا تو میں آپ کو ایک درہم بطور عطیہ دوں گا ۔ وہ بچی بولی ۔ اے اللہ کے بندے میں نے آپ سے زیادہ نادان نہیں دیکھا۔ اندر آجایئے ، میرے والد کے آگے کوئی چوکیدار یا روکنے ولا کوئی نہیں ہے ۔ رکاوٹ کرنے والے تو بادشاہوں اور دنیا کے بندوں کے دروازوں پر ہوتے ہیں ۔ لہذا میں اس بچی کی بات سن کر تعجب کرتے ہوئے حیران ہو گیا ۔ اس کے بعد میں بچی کے ساتھ اندر داخل ہو ا ۔ کیا دیکھا کہ وہ ایک کشادہ دار جگہ ہے جس میں چھوٹے سے گھر کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ میں اس گھر میں داخل ہو گیا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بیٹھا ہے جو بغیر کسی بیماری کے گھل چکا ہے اور اس کے ہا تھ میں کھجور کا پتہ ہے ، جسے ہو چیرتا ہے اور وہ یہ آیت تلاوت کرتا ہے۔ ام حسب الذین اجتر حوال ا لسیئات ان نجعلھم کالذین آمنو ا عملوا لصالحات سواء محیا ھم و مماتھم سا ء ما یحکمون ( الجاثیہ21)کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ جو گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں کہ ان کو ہم ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ کئے ہیں ، کیا وہ موت اور زندگی میں برابر برابر ہیں وہ جو فیصلہ کرتے ہیں ۔ اس نے غمگین اور گلو گیر آواز میں یہ آیت پڑھی ۔ اتنے میں ، میں نے اس کو السلام علیکم کہا۔ اس نے وعلیکم السلام کہا۔ اور بو لا کیا آپ میرے برادر میں سے ہیں ؟ میں کہا ، جی ہاں، مگر میں نہ تو اہل بصراہ میں سے ہوں اور نہ ہی اہل عبادان سے ، بولے کہ پھر اپ کہاں سے آئے ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں کوفے سے آیا ہوں ۔ بولے آپ کا نام کیا ہے ؟ میں کہا محمد ابن سماک ۔ بو لے کہ شاید آپابن سماک واعظ ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ چنانچہ اس نےمیرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پور ا پورا لے لیا اور مجھے خوش آمدید کیا اور بولے : اےمیرے بھائی ، اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ زندہ رکھے اور ہمیں اور آپ کو بھائیوں کے ساتھ بہر و ر فرمائے ۔ اے بھائی جان میرا دل ہمیشہ آپ کی ملاقات کا مشتاق رہا ، تا ہم اپنی بیماری کو آپ کی دواکے آگے پیش کر سکوں ۔ میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں اے بھائی جان ، مجھے ایک پرانا زخم لگا ہو اہے ، آپ سےپہلے سارے معالج جس کے علاج سے تھک گئے ہیں ۔ آپ اپنی مہربانی کے ساتھ اس کا علاج مہیا کیجئے اور اپنی مرہموں میں سے جو آپ اس زخم کےلئے مناسب سمجھتے ہیں ، وہ آپ اسے لایئے ۔ ابن سماک فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں و عظ کروں ۔ میں نے ( ذرااظہار عجز کےلئے) ان سے کہا کہ کیا میں آ پ جیسے ( عظیم انسان ) کا علاج کر سکتاہوں ؟ حالانکہ میرا زخم آپکےزخم سے زیادہ گہرا ہے ۔ اور میرا جرم اور گناہ آپ کےگناہ سے بڑاہے۔ لہذا وہ بولے کہ میں آپ سے اللہ کے واسطے سوال کرتاہوں کہ آپ مجھے وعظ کریں ۔ چنانچہ میں نے ان سے کہا: بھائی جان ، آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کا وہ گناہ جو آپنے کیا ہے ، مٹا نہیں ہے اور ( عبادت میں) آپکی لذت بھی باقی نہیں رہی اور موت صبح و شام آپ کی تلاش میں ہے اور بے شک آپ کل آنے والے وقت میں لحد کی تنگیوں میں پرے ہوں گے اور قبروں کے اندھیروں میں اور منکر نکیر کے سوال کے آگے ہوں گے۔ جب میں نے ان سے یہ باتیں کہیں تو اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اپنی قبر میں گر گئے اور ایسے آواز نکالنے لگے جیسے بیل ذبح کرتے وقت نکالتا ہے۔ اتنے میں اس کی بیوی اور بیٹی بھاگ کرآگئیں اور پردے کے پیچھے سے رونے لگیں اور کہنے لگیں کہ انہیں آپ مزید کچھ نہ کہئے ورنہ آپ انہین ہمارے سامنے مار دیں گے۔ اتنے میں وہ ہوش میں آگئے اور بولے : اے میرے بھائی آپ کی دوائی میری بیماری کے بالکل موافق آگئی ہے اور آپ کی مرہم میرے زخم پر لگ چکی ہے۔ اے بھائی ابن سماک مجھے مزید کو وعظ کیجئے ۔ میں نے ان سے کہا کہا کہ آپ کے بیوی بچےمجھے قسمیں دے رہے ہیں کہ میں مزید کچھ بھی نہ کہوں ۔ لہذا آپ ان کی طرف متوجہ ہو کرا ن اسے کچھ کہئے ۔ لہذا فرمایا کہ بھائی جان ، یقین کیجئے کہ جب میں اپنے رب کے آگے کھڑا ہوں گا تو میرے جرم سےبڑا کسی کا جرم نہیں ہو گا اور میری مصیبت سے بڑی مصیبت کسی کی نہیں ہو گی ۔ میری بیوی بچے انتی مصیبت میں نہیں ہوں گے ۔ چنانچہ میں نے (وعظ جاری رکھتے ہوئے کہا) کہ قبر کے اندھیرے کے بعد اور لحد کی تنگی کے بعد اور منکر نکیر کے سوال کے بعد ایک بہت بڑی ہلاکت اور مصیبت ہوگی ۔ بولے ابن سماک پھر وہ کیا ہو گی ؟ میں نے اس سے کہا کہ وہ ، وہ ہوگی جو اسرافیل سو ر پھونکے گا اور قبروں کے مردے باہر نکل پڑیں گے اور ہم سب اپنے اپنے گناہوں کے بوجھ اپنی اپنی پیٹھوں پر لادےہوئے آئیں گے تو میرے بھائی اس دن کتنے پکارنے والے ہوں گے جو ویل اور ھلاکت کو پکاریں گے ؟ اور اس سے بڑھ کر ہم سب کے لئے رب کی ڈانٹ ہوگی ، ان گناہوں کو پڑھنے کے وقت جنہیں اللہ تعالیٰ نے گن گن کر رکھا ہو اہے۔ ہمارے ہوں یا تمہارے ہوں ، ان میں وہ گناہ بھی ہوں گے جو دھاگے کے برابر ہیں اوروہ بھی جو گٹھلی کے پردے کے برابر ہیں اور وہ بھی جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر ہیں ۔ (یعنی نقیب بھی ، قتیل بھی اور قطمیر بھی ) ۔ اور فرشتے ہوں گے جو آگ کی چادر لپٹنے والے ہوں گے اور سخت عضبناک ہوں گے رحمٰن کے غضب کی وجہ سے ، وہ اس قول کے انتظار میں ہوں گے کہ کب ان کو غضب کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ خذوہ فغلوۃ (الحاقۃ 3) پکڑ و اس کو اور جکڑ و اس کو ۔ ثم الجحیم صلوہ پھر پھینکو اس کو جہنم میں ۔ ابن سماک کہتے ہیں کہ ( میں نے یہاں تک بات کی تھی کہ پھر اس نے ) ایک زور دار چیخ ماری اور اپنی قبر میں گر گیا اور ایسی گرگراہٹ ہونے لگی جیسی جانور کو ذبح کرتے وقت ہوتی ہے اور اتنے میں اس کا پیشاب بھی خطا ہو گیا ۔ جس سے میں نے سمجھ لیا کہ اس کی عقل بھی ختم ہو گئی ہے۔ چنانچہ اس کی بیٹی بھاگ کر آئی ، اس نے اس کو کھینچا اور اسے اپنے سینے کے سہار ا دیا اور اپنی آستین کے ساتھ اس کے چہرے کو سہلانے لگی ۔ اور وہ کہہ رہی تھی میرے ماں باپ قربان ان آنکھوں پرجو طویل عرصہ تک اللہ کی اطاعت میں جاگتی رہیں ۔ میرے ماں باپ قربان آنکھوں پر جو طویل زمانے تک اللہ کے محارم کو دیکھنے سےجھکی رہیں ۔ پھر وہ ہوش میں آگئے اور مجھ سے کہنے لگے ، تمہارے اوپر سلامتی ہو اے ابن سماک ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اب اس نے تیسری بار چیخ ماری میں نے خیا ل کیا کہ اب بھی پہلی دو باریوں کی طرح کیا ہوگا ۔ لہذا میں نے اسے ہلایا تو وہ دنیا چھو ڑچکے تھے۔

محمد بن السماك ← الحسن بن محمد الهاشمي ← عبد الله بن محمد بن أحمد الهاشمي ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 932

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 933

932 - حدثنا أبو محمد بن يوسف إملاء حدثنا أبو بكر الطلحي بالكوفة ثنا حبيب بن نصر المهلبي ثنا عبد الله بن محمد حدثني أحمد بن عاصم ثنا الفضل بن عياض الكندي قال : مر عيسى ابن مريم عليه السلام بجبل بين نهرين عن يمينه نهر و عن يساره نهر و لا يدري من أين يجيء و لا من أين يذهب فقال عيسى أيها الجبل من أين يجيء هذا الماء و إلى أين يذهب ؟ فقال عيسى أيها الجبل من أين يجيء هذا الماء و إلى أين يذهب ؟ قال : أما الذي يجيء عن يميني فهو دموع عيني اليمنى و الذي عن يساري فهو دموع عيني اليسرى قال : ممن ذاك ؟ قال : من خوف ربي أن يجعلني من وقود النار قال عيسى فأنا أدعو أن يهبك مني فدعا فوهبه له فقال عيسى : قد وهبت لي فجاء منه من الماء ما أحتمل عيسى فذهب به فقال عيسى : اسكن بقوة الله فسكن فقال قد استوهبتك من ربي فوهبك لي فماذا قال : أما البكاء الأول فبكاء الخوف و أما البكاء الثاني فبكاء الشكر

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے بطور املاء کے ، ان کو ابو بکر طلحیٰ نےکوفے میں ، ان کو حبیب بن نصر مہلبی نے ، ان کو عبداللہ بن محمد نے ، ان کو احمد بن عاصم نے، ان کو فضیل بن عیاض کندی نے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک ایسے پہاڑ کے پاس سے گذرے جس کےدائیں اور بائین دو نہریں تھیں وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آرہی ہیں اور کہاں جارہی ہیں ؟ عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اے پہاڑ ، یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جا رہا ہے؟ پہاڑ نے کہا کہ یہ نہر جو دائیں جانب بہہ رہی ہے یہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہین اور جو بائیں طرف ہے یہ میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے پو چھا کہ یہ آنسو کیوں ہیں؟ اس نےجواب دیا کہ یہ میرے رب کے خوف سے ہیں کہ وہ مجھے کہیں جہنم کاایندھن نہ بنادے ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تیرے لئے رب سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں عطا کردیں ۔ یعنی تیرا مجھے مالک بنادے۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی ۔ اللہ نے پہاڑ ان کو عطا فرمایا ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب تم مجھے عطا کر دیئے گئے ہو ۔ لہذا اب اس نے اتنا پانی دیا جتنا عیسیٰ علیہ السلام کی ضرورت تھی اور اسے لے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی طاقت کے ساتھ رک جا۔ وہ سکون اختیار کر گیا ۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نےتمہیں اللہ کی بار گاہ میں مانگا تھا اس نے مجھے عطا کر دیا ۔ اب یہ کیا ہے ؟ پہاڑ نےکہا، پہلا رونا تو خوف کی وجہ سے تھا اور دوسرا رونا یہ شکر کا رونا ہے۔

الفضل بن عياض الكندي ← أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← حَبِيبُ بْنُ نَصْرٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الطَّلْحِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 933

chevron_left Previous
1…1920212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood