شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 874
873 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي فيما حكى عن يوسف بن الحسين : ـ ( كيف السبيل إلى مرضات من غضبا من غير جرم و لم أعرف له سببا ) قال : و بلغني أن يوسف بن الحسين كتب بهذا البيت إلى الجنيد فأجابه الجنيد : ( يكفي الحكيم من التنبيه أيسره فيعرف الكيف و التكوين و السببا ) ( إن السبيل إلى مرضاته نظرك فيما عليك له يرضى كما غضبا ) قال البيهقي رحمه الله : كيفية السبيل إلى نظره كيفية السبيل إلى مرضاته و السؤال مع هذا الجواب باق و السبيل ما بينه لعباده من دينه وهو يهدي إليه من يشاء لا يسئل عما يفعل و هم يسألون
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان حکایات میں سے جو یوسف بن حسین سے بیان کی گئی تھیں : کیف السبیل الی مرضات من عضبا ،من غیر جرم ولم اعرف لہ لاسببا ۔ اس ذات کی رضا کی کیا سبیل ہے جو بغیر کسی جرم کے ناراض ہو جائے اور نہ ہی مجھے اس کا کوئی سبب معلوم ہے ۔ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یوسف بن حسین نے یہ شعر لکھ کر جنید بغدادی کی خدمت میں بھیج دیا اورا س نے اس کو جو لکھا : یکفی الحکیم من التنبیہ ایسرہ ، فیعرف الکیف و التکوین والببا۔ عقلمند کے لئے ہلکی سے تنبیہ کافی ہے ، سوہ کیفیت کو اور تکوین کو اور سب کو پہنچان لے گا ۔ ان السبیل الی مر ضاتہ نظر ک فیما علیک لہ یر ضی کما غضبا ۔ بے شک ا س کی رضا حاصل کرنے کی سبیل یہ ہے کہ آپ یہ نظر کریں ، سوچ و فکر کریں کہ آپ کے اوپر اس کے کیا کیا فرائض ہیں ۔ لہذا وہ ان امور میں لگ جائے ، وہ ایسے تم سے راضی ہو گا جیسے وہ ناراج ہوا۔ ( یعنی اطاعت شعار سے وہ خود بخود راضی ہوگا جیسے نافرمانی سے وہ ناراض ہوا ) ۔
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا حَكَى
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 874
