Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 802

801 - أخبرناه أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب ثنا جعفر بن عون عن مسعر عن محمد بن عبد الرحمن مولى أبي طلحة عن عيسى بن طلحة عن أبي هريرة قال : لا يبكي أحد فتطعمه النار حتى يرد اللبن في الضرع و لا يجتمع غبار في سبيل الله و دخان جهنم في منخري مسلم أبدا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو جعفر بن عون نے ، ان کو مسعر نے ، ان کو محمد بن عبدارلرحمٰن مولیٰ ابو طلحہ نے عیسیٰ بن ابی طلحہ سے ، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے خوف سے جو شخص بھی روتا ہے اس ک آگ نہیں کھائے گی ۔ یہاں تک کہ دودھ واپس کھیری میں چلا جائے ۔ غبار فی سبیل اللہ اور جہنم کی آگ کا دھواں کبھی بھی کسی مسلمان کے نتھنوں میں نہیں جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّد بن عبد الرَّحْمَن مولى أبي طَلْحَة ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 802

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 803

802 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أحمد بن محمد بن إسحاق القلانسي ثنا علي بن الحسن بن أبي عيسى ثنا إسحاق بن عيسى بن ابنة داود بن أبي هند ثنا محمد بن أبي حميد عن عون بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن أبيه عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مؤمن يخرج من عينيه دمعة من خشية الله و إن كان مثل رأس الذباب فتصيب شيئا من حر وجهه إلا حرمه الله على النار و رواه سليمان بن بلال عن محمد بن أبي حميد و رواه مصعب بن المقدام عن محمد بن إبراهيم عن عون بن عبد الله

ہمیں حدیث بیان کی ہے اور ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ، ان کو احمد بن محمد اسحاق قلانی نے ، ان کو علی بن حسن بن ابو عیسیٰ نے ، ان کو اسحاق بن عیسیٰ بن ابنتہ داؤد بن ابی ھند نے ، ان کو محمد بن ابو حمید نے ، ان کو عون بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جس کی آنکھ سے اللہ کے خوف سے آنسو کا قطرہ نکل کر اس کے چہرے پر لگتا ہے اگر چہ مکھی کے سر کے برابر ہو ۔ اللہ تعالیٰ اس چہرے کو آگ پر حرام فرما دیتے ہیں ۔ اس کو سلیمان بن بلال نے محمد بن ابی حمید سے روایت کیا ہے اورا س کو معصب بن مقدام نے محمد بن ابراہیم سے ، اس نے عون بن عبداللہ سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللِّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ← محمد بن أبي حميد ← إسحاق بن عيسى بن ابنة داود بن أبي هند ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ← أحمد بن محمد بن إسحاق القلانسى ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 803

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 804

803 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد الصفار ـ ح و أخبرنا أبو القاسم أنا حمزة بن يوسف إبراهيم السهمي الجرجاني قدم علينا أنا أبو الحسن علي بن محمد بن سعيد الرزاز قالا : ثنا أبو شعيب الحراني ثنا يحيى بن عبد الحميد ثنا عبد العزيز بن محمد ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن و أبو سعيد بن أبي عمرو قالوا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن إسحاق الصغاني أنا أبو نعيم ضرار بن صرد عن عبد العزيز بن محمد ـ ح و أخبرنا أبو منصور محمد بن عبد الله من أولاد إبراهيم النخعي بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم قال : أنا ضرار بن صرد عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن يزيد بن عبد الله بن الهاد عن محمد بن إبراهيم التيمي عن أم كلثوم بنت العباس عن العباس بن عبد المطلب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا اقشعر جلد العبد من خشية الله تحاتت عنه ذنوبه كما يتحات عن الشجرة اليابسة ورقها

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم نے ، ان کو حمزہ بن یوسف بن ابراہیم سھمی جرجانی نے جو ہمارے پاس تشریف لائے تھے ۔ ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سعد رزاز نے ، کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو شعیب حرافی نے ، ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ، ان کو عبدالعزیز بن محمد نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے اور ابو سعید بن ابو عمر و نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ، ان کو ابو نعیم ضرار بن صرد نے ، ان کو عبدلعزیز ابن محمد نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو منصور محمد بن محمد بن عبداللہ نے اولاد ابراہیم نخعی میں سے کوفہ میں اور ہمیں خبر دی ابو جعفر محمد بن علی دحیم نے، ان کو احمد بن حازم نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ضرار بن صرد نے ، ان کو عبدلعزیز بن محمد داروردی نے ، ان کو یزید بن عبداللہ بن ھاد نے محمد بن ابراہیم تیمی سے ، اس نے ام کلثوم بنت عباس سے ، انہوں نے عباس بن عبد المطلب سے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس وقت کسی بندے کے اللہ کے خوف سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اس کے گناہ ایسے جھڑ تے ہیں جیسے سوکھے درخت سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 804

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 805

804 - أخبرنا محمد بن أبي بكر الفقيه أنا أبو عمرو بن أبي جعفر أنا أبو يعلى ثنا موسى بن محمد بن حيان ثنا محمد بن عمر بن عبد الله الرومي حدثني جابر بن يزيد بن رفاعة عن هارون بن أبي الجوزاء عن العباس قال : كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم تحت شجرة فهاجت ريح فوقع ما كان عليها من ورق نخر و يقي ما كان من ورق أخضر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما مثل هذه الشجرة ؟ فقال القوم : الله و رسوله أعلم قال : مثلها مثل المؤمن إذا اقشعر من خشية الله عز و جل وقعت عنه ذنوبه و بقيت له حسناته

ہمیں خبر دی ہے محمد بن ابو بکر فقیہ نے ، ان کو ابو عمر و بن جعفر نے ا ن کو ابو یعلی نے ، ان کو موسیٰ بن محمد بن حبان نے ، ان کو محمد بن عمر بن عبداللہ رومیں نے ، ان کو حدیث بیان کی ہے جابر بن یزید بن رفاعہ نے ، ان کو ھارون بن ابو الجوازء نے عباس سے ، فرماتے ہیں کہ ہم لو گ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ایک درخت کے نیچے ، اتنے میں ہوا تیز چل گئی ، لہذااس درخت کے اوپر جتنے سوکھے پتے تھے وہ گر گئے اور باقی صرف ہرے پتے رہ گئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا: اس درخت کی تمثیل کس چیز کے ساتھ ہو سکتی ہے ؟ لوگوں نے کہا یار سول اللہ ، اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی مثال اس مومن جیسی ہے اللہ کے خوف سے جس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اس کے گناہ سارے گر جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں باقی رہ جاتی ہیں ۔

الْعَبَّاسُ: ← هارون بن أبي الجوزاء ← جابرِ بنِ يزيدَ بنِ رفاعةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← محمد بن أبي بكر الفقيه

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 805

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 806

805 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا ابن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب ـ ح و أخبرنا عبد الخالق بن علي أنا علي بن محتاج الكشاني ثنا علي يعقوب عبد العزيز ثنا أبو النعمان ثنا ابن المبارك أخبرنا يحيى بن أيوب عن عبد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة عن عقبة بن عامر الجهني قال : قلت : يا نبي الله ما النجاة ؟ قال : أمسك عليك لسانك و ليسعك بيتك و ابك على خطيئتك و في رواية أبي عبد الله قال : لقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فقلت : ما النجاة ؟ فقال : يا عقبة فذكره و قال : في إسناده : حدثني ابن زحر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، ان کو ابن ابی مریم نے ، ان کو یحییٰ بن ابو ایوب نے اور ہمیں خبر دی ہے عبدالخالق بن علی نے ، ان کو علی بن محتاج کشانی نے ، ا ن کو علی بن عبدالعزیز نے ، ان کو ابو نعمان نے ، ان کو ابن مبارک نے اور ہمیں خبر دی ہے یحییٰ بن ابو ایوب نے ، ان کو عید اللہ بن زمر نے ، ان کو علی بن یزید نے ، ان کو قاسم نے ، ان کو ابو امامہ نے ، ا ن کو عقبہ بن عامر جھنی نے ،کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ، نجات کس طرح سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی زبان کو اپنے اوپر روک کر رکھو ۔ چاہے کہ فراخ ہو تیرے لئے تیر ا گھر اور روتا رہ تو ا پنی خطا پر ۔ اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، میں نے سوال کیا کہ نجات کیسے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ اپنی زبان کو اپنے اوپر روک کر رکھو ۔ چاہے کہ فراخ ہو تیرے لئے تیرا گھر اور روتا رہ تو اپنی خطا پر راوی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد میں ابن زُحر ہے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← علي يعقوب عبد العزيز ← عَلِيُّ بْنُ مُحْتَاجٍ الْكُشَانِيُّ، ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ، ← و، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 806

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 807

806 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله الشيباني ثنا محمد بن عبد الوهاب ثنا جعفر بن عون أنا مسعر عن أبي عون عن عرفجة قال أبو بكر رضي الله عنه : من استطاع أن يبكي فليبك و من لم يستطع فليتباك يعني التضرع و روينا في كتاب فضائل الصديق عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت : و كان أبو بكر إذا بكى لا يملك دمعه حين يقرأ القرآن و روينا في كتاب فضائل عمر الفاروق إنه كان وجهه خطان أسودان من البكاء

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ، ان کو ابو عبداللہ شیبانی نے ، ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ، ان کو جعفر بن عون نے ، ان کو ابو عون نے ، ان کو عرفجہ نے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جو شخص رونے کی استطاعت رکھتا ہے اسے رونا چاہئے اور جونہیں رو سکتا اسے رونے کی صورت بنانی چاہئے ۔ یعنی عاجزی اور زاری کرنی چاہے ۔ ہم نے کتاب فضائل صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے ، وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب روتے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے ۔ جس وقت قرآن مجید پڑھتے تھے اور ہم نے کتاب فضائل عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں روایت کیا ہے کہ ان کے چہرے پر رونے کی وجہ سے دو سیاہ لکیریں پڑ گئی تھیں۔

أبو بكر من استطاع ← عَرْفَجَةَ ← أَبِي عَوْنٍ، ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 807

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 808

807 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن فضل بن نظيف المصري بمكة ثنا أبو الفضل العباس بن محمد بن نصر الرافقي إملاء ثنا الحسن بن علي بن زرعة ثنا عامر بن سيار ثنا عبد الكريم عن أبي إسحاق الهمداني عن الحارث و عاصم عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : إذا دمعت عيناك و سالت دموعك على خدك فلا تلقها بثوبك و امسح بها وجهك حتى تلقى الله بها

ہمیں خبر د ی ہے ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ، ان کو ابو الفضل عباس بن محمد بن نصررافقی نے بطور املا کرنےکے ، ان کو حسن بن علی بن زرعہ نے ، ان کو عامر بن سیار نے، ان کو عبدالکریم نے ، ان کو ابو اسحٰق ھمدانی نے ، ان کو حارث نے اور عاصم نے ، ان کو علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ جب تیری آنکھوں سے آنسو آجائیں اور تیرے آنسو تیرے رخسار پر بہہ جائیں ، انہیں کپڑا نہ لگا اور اپنے چہرے کو نہ پوچھ ، یہاں تک کہ ان آنسوؤں سمیت تو اللہ کو جا مل ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الحارث و عاصم ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عَامِرُ بْنُ سَيَّارٍ ← الحسن بن علي بن زرعة ← أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّافِقيُّ -إِمْلَاءً-، ← أبو عبد الله محمد بن فضل بن نظيف المصري بمكة

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 808

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 809

808 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا عبد الله بن يحيى أبو بكر الطلحي بالكوفة ثنا الحسن بن علي التيمي ثنا أبو الحسن جعفر بن محمد الوراق عن عبد الرحمن بن أبي حماد عن عبد الكريم عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال : إذا بكى أحدكم من خشية الله فلا يمسح دموعه بثوبه و ليدعها تسيل على خديه يلقي الله عز و جل بها

ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو عبداللہ بن یحییٰ ابو بکر طلحٰی نے کو فہ میں ، ان کو حسن علی تیمی نے ان کو ابو الحسن جعفر بن محمد وراق نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن ابو حماد نے ، ان کو عبدالکریم نے ، ان کا ابو اسحٰق نے ، ان کو حارث نے ، ان کو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،فرماتے ہیں : جس وقت تم میں سے کوئی اللہ کے خوف سے رو پڑے تو اپنے آنسوؤں کو کپڑے سے نہ پوچھ نچھے اور اسے چاہئے کہ ان کو اپنے چہرے پر بہتا چھوڑ دے ، یہاں تک کہ انہیں آنسوؤں سمیت اللہ کو مل جائے ۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عبد الرحمن بن أبي حماد ← أبو الحسن جعفر بن محمد الوراق ← الحسن بن علي التيمي ← عبد الله بن يحيى أبو بكر الطلحي بالكوفة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 809

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 810

809 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا بكر بن محمد الصوفي بمرو ثنا محمد بن يونس ثنا عبد الله بن سنان الهروي ثنا عبد الله بن المبارك عن وهيب بن الورد قال : فقد زكريا ابنه يحيى ثلاثة أيام فخرج يلتمسه بالبريه فإذا هو قد احتفر قبرا فأقام فيه يبكي على نفسه فقال : يا بني أنا أطلبك منذ ثلاثة أيام و أنت في قبر قد احتفرته قائم فيه تبكي ؟ قال : يا أبه ألست أخبرتني أن بين الجنة و النار مفازة لا يقطعها إلا دموع البكائين ! فقال : ابك يا بني ! فبكيا جميعا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو بکر بن محمد صوفی نے مقام مرو میں ۔ ان کو محمد بن یونس نے ، ان کو عبداللہ بن سنان نے ، ان کو عبداللہ بن مبارک نے ، ان کو وھیب بن وردنے ، فرماتے ہیں کہ ذکریا کا بیٹا یحییٰ تین دم گم ہو گیا تھا ۔ چنانچہ و ہ اس کی تلاش میں جنگل میں نکل گیا ۔ (چنانچہ جب وہ تلاش کرتے کرتے ا ن کے پاش پہنچ گئے تو دیکھا کہ اس نے ) قبر کھود کر اس میں کھڑا ہو کر رو رہا ہے ۔ وہ بو لے ، اسے بیٹے میں تجھے تین دن سے مسلسل تلاش کر رہا تھا اور آ پ خود قبر کھود کر کھڑے ہو کر اس میں رو رہے ہیں ؟ بیٹے نے جواب دیا ، اے ابا جان ، آپ نے ہی تو فرمایا کہ جنت اور جنم کے درمیان ایک جنگل ہے ، ایک میدان ہے ، جس کو رونے والوں کی آنسوؤں کے سوا کوئی شے پارنہیں کر سکتی ۔ باپ نے جواب دیا اچھا بیٹے رویئے ۔ لہذا دونوں باپ بیٹے مل کر رونے لگے۔

وُهَيْبَ بْنَ الْوَرْدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ سِنَانٍ الْهَرَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 810

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 811

810 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن جعفر البغدادي ثنا نفطويه ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا عبد الوهاب ثنا ثور بن يزيد عن الهيثم بن مالك قال : خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس فبكى رجل بين يديه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو شهدكم اليوم كل مؤمن عليه من الذنوب كأمثال الجبال الرواسي لغفر لهم ببكاء هذا الرجل و ذلك أن الملائكة تبكي و تدعو له و تقول : اللهم شفع البكائين فيمن لم يبك هكذا جاء هذا الحديث مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان کو محمد بن جعفر بغدادی نے ، ان کو نفطویہ نے ، ان کو احمد بن ولید فحام نے ، ان کو عبدالوھاب نے ، ان کو ثر بن یزید نے ، ان کو ھثیم بن مالک نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا تو ایک آدمی آپ کے آگے روپڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر آج تمہارے پاس ہر وہ مومن مو جود ہو تا جس پر بڑے بڑے پہاڑ وں کی مثل گناہ ہیں تو اس آدمی کے رونے کی وجہ سے ان سب کے گناہ معاف کر دیئے جاتے اور یہ اس لئے کہ فرشتے رو رہے تھے اور اس کے لئے دعا کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے : اے اللہ ، رونے والوں کی سفارش ان لوگوں کے حق میں قبول فرما جو نہیں روئے ۔ اسی طرح یہ حدیث مرسل آئی ہے ۔

الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← نَفْطَوَيْهِ، ← محمد بن جعفر البغدادي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 811

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 812

811 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن شيخ لهم عن عمرو بن سعيد عن مسلم بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أغرورقت عين بمائها إلا حرم الله سائر ذلك الجسد على النار و لا سالت قطرة على خدها فيرهق ذلك الوجه قترة و لا ذلة و لو أن باكيا بكى في أمة من الأمم رحموا و ما من شيء إلا له مقدار إلا الدمعة فإنه يطفأ بها بحار من النار هذا مرسل و قد روي من قول الحسن البصري كما :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ، ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ، ان کو عبدالرزاق نے معمر سے ، ان کو ان کے شیخ نے ، ان کو عمر بن سعید نے ، ان کو مسلم بن یسار نے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ڈوبتی کوئی آنکھ آنسو کے پانی میں مگر حرام کر دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کے سارے جسم کو آگ پر اور نہیں بہتا کوئی قطرہ اس کے رخسار پر کہ اس چہرے کو کوئی ذلت ۔ یار سیاھی ڈھانپ لے ( ایسا نہیں ہو سکتا ) ۔ اگر کوئی رونے والا امتوں میں سے کسی امت میں رو پڑے تو سارے لو گ رحم کئے جائیں گے ۔ کوئی شے ایسے نہیں ہوتی ، مگر ہر شے کی کوئی نہ کوئی مقدار ہوتی ہے اور وزن ہوتا ہے ، سوائے آنسو کے ، بے شک اس کے ساتھ تو آگ کے سمند ر بھی بجھائے جاسکتے ہیں ۔ یہ حدیث مرسل ہے اور حسن بصری کے قول سے مروی ہے ۔

مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← شَيْخٍ لَهُمْ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 812

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 813

812 - أخبرنا أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الفقيه ثنا أبو حامد بن بلال البزار ثنا أبو الأزهر ثنا عمرو بن محمد عن سلمة بن جعفر الآجري عن أبي الحسين عن الحسن قال : ما أغرورقت عين بمائها إلا حرم الله جسدها على النار فإن سالت على خد صاحبها لم يرهق وجهه قتر و لا ذلة أبدا و ليس من عمل إلا وزن و ثواب إلا الدمعة فإنها تطفئ بحورا من النار و لو أن رجلا بكى من خشية الله تعالى في أمة من الأمم لرجوت أن ترحم تلك الأمة ببكاء ذلك الرجل

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر محمد بن محمد فقیہ نے ، ان کو ابو حامد بن بلال بزار نے ، ان کو ابو الازہر نے ، ان کو عمر و بن محمد نے ، ان کو سلمہ بن جعفر اجری نے ، ان کو ابو الحسین نے ، ان کو حسن نے ، فرماتے ہیں کہ : کوئی آنکھ اپنے پانی میں نہیں ڈوبتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے سارے جسم کو آگ پر حرام کر دیتے ہیں ۔ اگر آنسو والے کے چہرے پر وہ پانی بہہ جائے تو اس کے چہرے کو کوئی ذلت اور سیاہی نہیں ڈھانپے گی کبھی بھی ۔ کوئی عمل اس کے سوا نہیں ہے ۔ مگر سب کا کچھ وزن ہوتا ہے اور اس کا ثواب بھی متعین ہوتا ہے ۔ مگر آنسو۔ بے شک وہ تو آگ کے سمندروں کو بجھا دیتی ہے ۔ اگر کوئی آدمی اللہ کے خوف سے روپڑے ، کسی بھی امت میں امتوں میں سے تو البتہ میں امید کرتاہوں کہ وہ پوری امت اس کے رونے سے رحم کردی جائے گی ۔

الْحَسَنِ، ← أَبِي الْحُسَيْنِ، ← سلمة بن جعفر الآجري ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّار، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 813

chevron_left Previous
1…91011…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood