شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4515
4515 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا معاذ عن ابن عون حدثني بكر بن عبد الله المزني قال كان أبو تميمة إذا قالوا كيف أنتم ؟ قال : بين نعمتين ذنب مستور و لا يعلم به أحد و ثناء من هؤلاء الناس لا و الله ما بلغته و لا أنا كذلك
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نضر نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو ابن عون نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ ابو تمیمہ جب لوگ کہتے کہ تم لوگ کیسے ہو؟ تو وہ کہتا کہ دو نعمتوں کے درمیان میں اور ایک پوشیدہ گناہ کے۔ جس کو کوئی نہیں جانتا۔ اور ان لوگوں کی طرف سے تعریف کے درمیان نہیں قسم بخدا میں نے نہیں پہچانا اس کے پاس اور نہ میں ایسا ہوں۔
بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4515
