Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4515

4515 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا معاذ عن ابن عون حدثني بكر بن عبد الله المزني قال كان أبو تميمة إذا قالوا كيف أنتم ؟ قال : بين نعمتين ذنب مستور و لا يعلم به أحد و ثناء من هؤلاء الناس لا و الله ما بلغته و لا أنا كذلك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نضر نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو ابن عون نے ان کو بکر بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ ابو تمیمہ جب لوگ کہتے کہ تم لوگ کیسے ہو؟ تو وہ کہتا کہ دو نعمتوں کے درمیان میں اور ایک پوشیدہ گناہ کے۔ جس کو کوئی نہیں جانتا۔ اور ان لوگوں کی طرف سے تعریف کے درمیان نہیں قسم بخدا میں نے نہیں پہچانا اس کے پاس اور نہ میں ایسا ہوں۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4515

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4516

4516 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن محمد نا عبد الصمد بن الفضل نا علي بن عبد الله عن عصمة بن عبد الرحمن السكوني قال : جاء بكر بن عبد الله المزني إلى أبي تميمة الهجيمي قال له : كيف أصبحت ؟ قال : أصبحت بين نعمتين أميل بينهما لا أدري أيتهما أفضل ما ستره الله علي فلا أخاف أن يرمني به أحد و مودة رزقني من الناس بعزة ربي ما بلغه عملي

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن محمد نے ان کو عبدالصمد بن فضل نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو عصمہ بن عبدالرحمٰن سکونی نے وہ کہتے ہیں کہ بکر بن عبداللہ مزنی ابو تمیمہ ھجیمی کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ کا گناہ پر پردہ ڈال دینا بھی نعمت ہے: ان سے کہا کہ آپ نے کیسے صبح کی؟ اس نے کہا کہ میں نے صبح کی ہے دو ایسی نعمتوں کے درمیان میں دونوں کے درمیان واقع ہوا ہوں میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کون سی نعمت افضل ہے ایک تو یہ کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھ پر پردہ ڈالے رکھے مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ مجھے اس کے ساتھ کوئی نقصان پہنچائے گا۔ اور دوسری نعمت محبت اور دوسری جو لوگوں میں سے مجھے اس نے رزق دیا ہے میرے رب کی عزت کی قسم میر اعمل اس کے قابل نہیں تھا۔

له كيف أصبحت ← جاء بكر بن عبد الله المزني إلى أبي تميمة الهجيمي ← عصمة بن عبد الرحمن السكوني ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4516

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4517

4517 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا معاذ عن ابن عون قال : مررت بالشعبي و هو جالس بفنائه فقلت كيف أنتم ؟ فقال : كان شريح إذا قيل له كيف أنتم ؟ قال : بنعمة قال باصبعيه كذا و مد بصره إلى السماء

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نضر نے ان کو معاذ نے ان کو ابن عون نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے پاس گیا۔ وہ اپنے صحن میں بیٹھے تھے میں نے پوچھا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے کہ حضرت شریح سے جب کوئی کہتا کہ آپ کیسے ہیں؟ تو وہ کہتے اللہ کی نعمت کے ساتھ ہوں۔ اور اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے اس طرح اوراپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا لیتے۔

باصبعيه كذا و مد بصره إلى السماء ← بِنِعْمَةٍ ← كان شريح إذا قيل له كيف أنتم ← مررت بالشعبي و هو جالس بفنائه فقلت كيف أنتم ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← سعيد بن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4517

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4518

4518 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسن بن علي بن فهر المصري المقيم بمكة في المسجد الحرام نا ابن رشيق نا أحمد بن إبراهيم بن الحكم قال : سمعت ذا النون يقول : و قال له بعض أصحابه كيف أصبحت ؟ قال : أصبحت و بنا من نعم الله ما لا يحصى مع كثير ما يعصى فلا ندري على ما نشكر على جميل ما نشر أو على قبيح ما ستر

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن حسن بن علی بن فہر مصری مقیم مکہ نے مسجد الحرام میں ان کو ابن رشیق نے ان کو احمد بن ابراہیم بن حکم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ذوالنون مصری سے وہ فرماتے تھے کہ جب ان سے ان کے احباب پوچھتے کہ حضرت آپ نے کیسی صبح کی یعنی کیا حال ہے؟ تو وہ فرماتے ہیں ہم نے اس حال میں صبح کی ہے کہ ہمارے ساتھ اللہ کی نعمتوں میں سے اس قدر نعمتیں ہیں جن کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور ان کے ساتھ کثیر نافرمانیاں بھی ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ ہم کس چیز پر پہلے شکر کریں۔ ان خوبیوں پر جو اس کی طرف سے تمام ہیں۔ ان عیبوں پر جن پر اس نے پردہ ڈال رکھا ہے۔

و، ← ذَا النُّونِ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَكَمِ، ← ابن رشيق

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4518

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4519

4519 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد المروزي نا محمد بن إبراهيم قال : : كان يحيى بن معاذ يقول في مناجاته إلهي ما أكرمك إن كانت الطاعات فأنت اليوم تبذلها و غدا تقبلها و إن كانت الذنوب فأنت اليوم تسترها و غدا تغفرها فنحن من الطاعات بين عطيتك و قبولك و من الذنوب بين سترك و مغفرتك

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن معاذ اپنی مناجات میں کہتے تھے اے الہٰی اے میرے معبود تو کتنا بڑا کریم ہے۔ کہ اگر طاعات ہوں تو تو آج ان کو ہمارے حق میں استعمال میں لاتا ہے کام میں لاتا ہے اور کل قیامت میں ان کو تو قبول فرمائے گا۔ اور اگر گناہ ہوں تو تو آج ان پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کل قیامت میں تو ان کو بخش دے گا ہم طاعات کے حوالے سے تیری دہری عنایت اور قبولیت کے مابین واقع ہوئے ہیں۔ اور گناہوں کے معاملے میں تیرے عیب پوشی اور مغفرت کے درمیان واقع ہوئے ہیں۔

كان يحيى بن معاذ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4519

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4520

4520 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان نا ابن أبي الدنيا حدثني سلمة بن شبيب نا سهل بن عاصم نا يوسف بن بهلول قال : سمعت ابن كليب يقول : كتب إلي ابن السماك : أما بعد فإني كنت و أنا مسرور مستور و أنا بهما مغرور ذنب ستره علي و قد طابت به النفس و نعم أبلاها فأنا بها مسرور كأني فيها على تأدية الحقوق فليث شعري ما عواقب هذه الأمور

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابودنیا نے ان کو حدیث بیان کی سلمہ بن شبیب نے ان کو سہل بن عالم نے ان کو یوسف بن بہلول نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن کلیب سے وہ کہتے ہیں کہ میری طرف ابن سماک نے لکھا۔ اما بعد میں نے آپ کو خط لکھا ہے اور میں خوش ہوں اور گناہ ڈھکے ہوئے ہیں اور میں انہیں دونوں باتوں سے دھوکہ کھائے بیٹھا ہوں۔ جس گناہ پر اس نے مجھ پر پردہ ڈالا ہوا ہے اور جس کے ساتھ دل خوش ہے جیسے کہ وہ معاف ہو چکا ہے۔ اور نعمتیں ہیں جن کے ذریعے اس نے آزمائش کی ہے میں اس پر ایسے خوش ہوں جیسے ان میں میں حقوق ادا کر چکا ہوں کاش کہ میں جانتا ہوتا کہ ان امور کا انجام کیا ہوگا۔

مسرور مستور و ← إلي ابن السماك أما بعد فإني كنت و ← ابن كليب ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← سَهْلُ بْنُ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4520

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4521

4521 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الوليد الفقيه يقول : سمعت أحمد بن خالد بن أحمد القاضي يقول : سمعت محمود بن آدم يقول : سمعت سفيان بن عيينة يقول : لولا ستر الله عز و جل ما جالسنا أحدا

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابوالولید فقیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن خالد بن احمد قاضی سے وہ کہتے کہ میں نے سنا محمد ابن آدم سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عینیہ سے وہ کہتے ہیں۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر پردہ نہ ڈالتا تو ہم کسی کے پاس بیٹھنے کے قابل نہ ہوتے (نہ ہی ہمارے پاس کوئی بیٹھتا۔)

لولا ستر الله عز و جل ما جالسنا أحدا ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ← أحمد بن خالد بن أحمد القاضي ← أبا الوليد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4521

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4522

4522 - أخبرنا محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا نا يعقوب بن عبيد نا يزيد بن هارون أنا مسعر عن سعد بن إبراهيم عن طلق بن حبيب قال : إن حق الله أثقل من أن يقوم به العباد و إن نعم الله أكثر من أن يحصيها العباد و لكن أصبحوا توابين و أمسوا توابين

ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوعبداللہ صفار نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو یقوب بن عبید نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سعد نے ان کو سعد بن ابراہیم نے ان کو طلق بن حبیب نے وہ فرماتے ہیں بے شک حقوق اللہ اس سے کہیں زیادہ بھاری ہیں کہ بندے ان کو قائم کر لیں اور بے شک اللہ کی نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ بندے ان کو شمار کر لیں لیکن تم لوگ صبح کو بھی اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور شام کو بھی توبہ کرو۔

طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يعقوب بن عبيد ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4522

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4523

4523 - أخبرنا أبو نصر أحمد بن إسماعيل الطابراني بها نا عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي نا أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي بمكة نا سفيان بن عيينه عن زياد بن علاقة عن المغيرة بن شعبة قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تورمت قدماه فقيل يا رسول الله أليس قد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك و ما تأخر قال : أفلا أكون عبدا شكورا أخرجاه في الصحيح من حديث ابن عيينة

ہمیں خبر دی ابونصر احمد بن اسماعیل طاہرانی نے۔ (طاہران میں) ان کو عبداللہ بن احمد بن منصور طوسی نے ان کو ابوبکر یوسف بن یعقوب نجامی نے مکہ مکرمہ میں ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کوزیاد بن علاقہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راتوں کو عبادت کرتے ہوئے اتنا قیام فرمایا کہ قدم سوج گئے وہ کہا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف نہیں فرما دیئے آپ نے فرمایا کہ کیا میں اپنے رب کا شکر گذار نہ بنوں بخاری و مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے ابن عینیہ کی حدیث سے۔

قام رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى تورمت قدماه فقيل ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو بكر يوسف بن يعقوب النجاحي بمكة ← عبد الله بن أحمد بن منصور الطوسي ← أبو نصر أحمد بن إسماعيل الطابراني بها

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4523

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4524

4524 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا علي بن الجعد أخبرني مزاحم بن زفر عن مسعر قال : لما قيل لهم اعملوا آل داود شكرا لم يأت على القوم ساعة إلا و منهم مصلي

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو ابوبکر احمد بن یونس نے ان کو عیسیٰ بن عون حنفی نے ان کو عبدالملک بن زرارہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر جو بھی نعمت عطا کرتے ہیں خواہ وہ اس کے اہل میں ہو یا اس کے مال میں سے یا اولاد میں سے پھر وہ یہ کہتا ہے مـا شـاء اللّٰه لا قوة الا باللّٰہ (اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اللہ کی عطا کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے) تو اس نعمتوں میں اس کے لئے کوئی مصیبت نہیں آتی۔سوائے موت کے (جو کہ اپنے وقت پر ضرور آتی ہے)۔

مِسْعَرٍ، ← مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4524

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4525

4525 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أبو بكر أحمد بن سليمان نا عبد الله بن محمد بن عبيد نا الحسن بن صباح نا صباح نا عمر بن يونس نا عيسى بن عون الحنفي عن عبد الملك بن زرارة عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله عز و جل على عبد نعمة في أهل و مال وولد يقول : فيقول ما شاء الله لا قوة إلا بالله فيرى فيه آفة دون الموت

Not Found

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زُرَارَةَ، ← عيسى بن عون الحنفي ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← صَبَاحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4525

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4526

4526 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني علي بن داود نا عبد الله بن صالح نا أبو زهير يحيى بن عطارد القرشي عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرزق الله عبدا الشكر فيحرمه الزيادة لأن الله عز و جل يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم }

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو علی بن داؤد نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو ابوزبیر نے ان کو یحییٰ بن عصار قرشی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جس کو شکر کی توفیق دیتا ہے پھر اس کو نعمت میں اضافے سے محروم نہیں کرتا کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: لئن شكرتم لازيدنكم۔ اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔

أَبِيهِ ← أبو زهير يحيى بن عطارد القرشي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4526

chevron_left Previous
1…8910…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood