Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4503

4503 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا محمد بن إدريس حدثني روح بن عبد الواحد الحراني أنا ابن السماك عن مقاتل بن حيان : و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة قال : أما الظاهرة فالإسلام و أما الباطنة فستره عليكم المعاصي و قد روى فيها حديث مسند باسنادين فيهما ضعف كما

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو محمد بن ادریس نے ان کو روح بن عبدالواحد حرانی نے ان کو ابن سماک نے ان کو مقاتل بن حیان نے کہ: اسبغ عليكم نعمه ظاهرة و باطنة۔ اللہ نے تمہارے اوپر اپنی ظاہری و باطنی نعمتیں پوری کر دیں۔ مقاتل فرماتے ہیں کہ نعمت ظاہرہ اسلام ہے اور نعمت باطنہ۔اللہ تعالیٰ کا تم لوگوں کے گناہوں پر پردہ ڈالنا ہے اور اس بارے میں ایک حدیث مروی ہے جو کہ دو اسنادوں کے ساتھ مسند ہے دونوں میں ضعف ہے مثلاً یہ ہیں۔

مقاتل بن حيان و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة ← ابن السماك ← روح بن عبد الواحد الحراني ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4503

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4504

4504 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان نا محمد بن إبراهيم بن النضر أو قال البصير نا محمد بن عبد الرحمن العرزمي عن أبيه عن جده و هو عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء قال : سألت ابن عباس عن قوله عز و جل و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة قال : هذه من كنوز علمي سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أما الظاهرة فما سوى من خلقك و أما الباطنة فما ستر من عورتك و لو أبداها لقلاك أهلك فمن سواهم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن حمدان نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو محمد بن ابراہیم بن نضر نے یہ کہا تھا کہ بصیر نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن عرزمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے یعنی عبدالملک بن سلیمان نے ان کو عطاء نے انہوں نے پوچھا ابن عباس سے اللہ کے اس قول کے بارے میں: و اسبغ عليكم نعمه ظاهرة و باطنة۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو میرے علم کے خزانوں میں سے ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ بہر حال نعمت ظاہرہ یہ ہے کہ اس کے سوا بتاؤ کہ کون ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اور باطنی یہ ہے کہ اگر وہ تیری کمزوریوں کو ظاہر کرنے پر آتا تو کون پردہ ڈالتا۔

هذه من كنوز علمي سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قوله عز و جل و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← جده و هو عبد الملك بن أبي سليمان ← أَبِيهِ ← محمد بن عبد الرحمن العرزمي ← البصير ← محمد بن إبراهيم بن النضر أو ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4504

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4505

4505 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الحسن بن حمشاذ العدل نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا عمار بن عمرو بن مالك الجنبي و كان قاضيا بمكة حدثني أبي عن جويبر بن سعيد عن الضحاك : عن ابن عباس أنه سئل عن قوله و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة : قال ابن عباس : هذا من مخزوني الذي سألت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله ما النعمة الظاهرة ؟ قال : ما حسن من خلقه و الباطنة ما هداه للإسلام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد حسن بن حمشاذ نے ان کو ابویحییٰ بن ابومسرہ نے ان کو عمار بن عمرو بن مالک جنبی نے اور وہ مکہ میں قاضی تھے ان کو ان کے والد نے ان کو جویبر بن سعید نے ان کو ضحاک نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ ان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا تھا: و اسبغ عليكم نعمه ظاهرة و باطنة۔ ابن عباس نے فرمایا کہ یہ تو میرے علمی خزانے میں سے ہے جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا میں نے کہا یا رسول اللہ نعمت ظاہرہ کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کس قدر خوبصورت کی ہے۔ اور باطنہ وہ ہے جو اسے ہدایت دی ہے۔

قوله و أسبغ عليكم نعمة ظاهرة و باطنة ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عمار بن عمرو بن مالك الجنبي و كان قاضيا بمكة ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4505

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4506

4506 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير القاضي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم نا أحمد بن حازم نا حسن بن الربيع البوراني نا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن مرة عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للشيطان لمة و للملك لمة يا ابن آدم فأما لمة الشيطان فايعاذ بالشر و تكذيب بالحق و أما لمة الملك فإيعاذ بالخير و تصديق بالخير فمن رأى منكم من ذلك شيئا فليحمد الله و تلا هذه الآية { الشيطان يعدكم الفقر ويأمركم بالفحشاء } الآية

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر قاضی نے کوفے میں ان کو ابوجعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو حسن بن ربیع بورانی نے ان کو ابوالاحوص نے عطا بن سائب سے ان کو مرہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ انسان کے ساتھ شیطان کی بھی ایک رفاقت ہوتی ہے اور فرشتے کی بھی ایک رفاقت ہوتی ہے بہر حال شیطان کا وسوسہ تو شر اور برائی کا وعدہ دینا اور حق کی تکذیب کرانا ہے اور فرشتے کا القا کرنا خیر کا وعدہ دینا اور قبر کی تصدیق کرانا ہے تم میں جو شخص یہ اچھی کیفیت دیکھے اسے چاہئے کہ وہ اللہ کا شکر کرے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: الشيطن يعدكم الفقرو يامركم الفحشآء۔ شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے۔ اور تمہیں بے حیائی کرنے کو کہتا ہے۔الخ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← حسن بن الربيع البوراني ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرٍ الْقَاضِي -بِالْكُوفَةِ-،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4506

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4507

4507 - حدثنا أبو الحسن العلوي املاء أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ نا محمد بن يحيى الذهلي نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان أن عبيد الله بن عبد الله أخبره أن عبد الله بن مسعود كان يقول : و لا تراه يأثره إلا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه زاد في لمة الملك و رجاء صالح ثواب و زاد في لمة الشيطان و قنوط من الخير و قال : فإذا وجدتم لمة الملك فاحمدوا الله و اسألوه من فضله و إذا وجدتم لمة الشيطان فاستعيذوا بالله و استغفروا و لم يذكر الآية

ہمیں حدیث بیان کی ابوالحسن علوی نے بطور املاء کے ان کو ابوحامد احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو محمد بن یحییٰ ذھل نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ابوصالح بن کیسان نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ نے اس کو خبر دی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ نہ دیکھیں گے آپ کہ وہ اس کو نقل کریں گے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ پھر ابن عباس نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ علاوہ ازیں اس نے فرشتے کے لمہ کے بارے میں اضافہ کیا ہے۔ اور امید دلانا صالح ثواب کی۔ اور لمہ شیطان میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے اور خیر سے مایوسی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم فرشتے کا القاء محسوس کرو تو اللہ کا شکر کرو اور اس سے اس کے فضل کا سوال کرو۔ اور جب تم شیطانی القاء اور اثر محسوس کرو تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس سے استغفار کرو۔ مگر اس روایت میں انہوں نے آیت مذکورہ کا ذکر نہیں کیا۔

و لا تراه يأثره إلا ← أن عبد الله بن مسعود كان ← صالح بن كيسان أن عبيد الله بن عبد الله ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4507

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4508

4508 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا إسحاق بن إسماعيل نا جرير عن سفيان قال : قال مجاهد ما أدري أي النعمتين أعظم علي أن هداني للإسلام أو عافاني من الأهواء رواه ليث و الأعمش عن مجاهد 4508 - مكرر و أخبرنا قال الحسين ثنا أبو عمر ثنا حنبل ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا قطن بن كعب القطعي قال : كان أبو العالية يقول : ما أدري أي النعمتين علي أفضل نعمة أن هداني للإسلام و نعمة إذ لم يجعلني حروريا

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمر بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو اسحٰق بن اسماعیل نے ان کو جریر نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ مجاہد نے کہا میں نہیں سمجھ سکتا ہوں کہ میرے اوپر دو نعمتوں میں سے کون سی نعمت افضل ہے یہ کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ہے یا یہ کہ اس نے مجھے خواہشات سے عافیت بخشی ہے۔ اس کو روایت کیا ہے لیث نے اور اعمش نے مجاہد سے۔

سُفْيَانَ، ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَمْرُو بْنُ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4508

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4509

4509 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية نا أبو الوليد نا الحسن بن سفيان نا يزيد بن صالح نا الهياج بن بسطام عن يونس عن الحسن قال : كان يقال ليس دون الإيمان غنى و لا بعد الإيمان فقر

ہمیں خبر دی ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی بن معاویہ نے ان کو ابوالولید نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو ھیاج بن بسطام نے ان کو یونس نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ ایمان سے بڑھ کر کوئی غنا نہیں ہے اور عدم ایمان سے بڑی کوئی محتاجی اور فقیری نہیں ہے۔

كان يقال ليس دون الإيمان غنى و لا بعد الإيمان فقر ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4509

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4510

4510 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر أحمد بن سعيد الزاهد البخاري بالكوفة نا أبو بكر محمد بن إبراهيم المفسر قال : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : و قرأ هذه الآية { واذكروا نعمة الله عليكم } فمن نعمته أن يجعل قلبك وعاء لمعرفته و اطلق لسانك بحلاوة ذكره و أدبرت عنه خمسين سنة فصالحك باستغفاره واحده

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوبکر احمد بن سعید زاہدی بخاری نے کوفہ میں ان کو ابوبکر محمد بن ابراہیم مفسر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں اور انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ واذكرو انعمة اللّٰه علیکم۔ تمہارے اوپر جو اللہ کی نعمت ہے اس کو یاد کرو۔ فرمایا کہ اللہ کی نعمت میں سے ہے یہ بات کہ اس نے تیرے دل کو اپنی معرفت کے لئے برتن بنایا ہے۔ اور تیسری زبان کو اپنے ذکر کی چاشنی کے ساتھ نطق دیا ہے اور پچاس برس سے تم نے اس کو پیٹھ کر رکھی ہے۔ مگر اس نے تیرے ایک بار اس سے استغفار کرنے اور معافی مانگنے کی وجہ سے تجھ سے صلح کر رکھی ہے۔

يحيى بن معاذ الرازي ← أبو بكر محمد بن إبراهيم المفسر ← أبو بكر أحمد بن سعيد الزاهد البخاري بالكوفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4510

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4511

4511 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد المروزي نا محمد بن إبراهيم الرازي قال : سمعت يحيى بن معاذ يقول في قصصه و تلا هذه الآية { اذهبا إلى فرعون إنه طغى } { فقولا له قولا لينا لعله يتذكر أو يخشى } قال يحيى : إلهي و سيدي هذا رفقك بمن يزعم أنه إله فكيف رفقك بمن يقول أنت الإله

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن ابراہیم رازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ اپنے واقعات میں کہتے ہیں۔ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: اذهبا الى فرعون انه طغى فقولا له قولاً لينا لعله يتذكر اویخشی (اے موسیٰ اور ہارون) جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس وہ سرکش ہو چکا ہے بات کرو اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ تا کہ نصیحت مانے یا اللہ سے ڈرے۔ تو یحییٰ نے کہا: اے میرے معبود اور اے میرے سردار یہ تیری شفقت ہے اس کے ساتھ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خود الہ اور معبود ہے۔اور تیری کتنی شفقت ہوگی اس شخص کے ساتھ جو یہ اقرار کرے کہ تو ہی معبود ہے۔

يحيى إلهي و سيدي هذا رفقك بمن يزعم ← في قصصه و تلا هذه الآية ← يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4511

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4512

4512 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عمرو الزاهد صاحب ثعلب ببغداد أنا ثعلب عن عمر بن شبه قال : لم يقل لبيد في الإسلام إلا هذا الحمد لله إذ لم يأتني أجلي و قد قيل أنه لغيره ذكرناه في باب الشيب حتى لبست من الإسلام سربالا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمرو زاھد صاحب ثعلب نے بغداد میں ان کو ثعلب نے ان کو عمر بن شبہ نے وہ کہتے ہیں کہ لبید نے اسلام کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں کہا تھا اللہ کا شکر ہے کہ مجھے تا حال یعنی اس وقت تک موت نہیں آئی۔ اور تحقیق کیا گیا ہے کہ اس نے اس کو بدل دیا تھا اور ہم نے اس کو ذکر کیا ہے باب الشیب میں یہاں تک کہ میں نے اسلام کا لباس پہن لیا ہے۔

عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← ثعلب. ← أبو عمرو الزاهد صاحب ثعلب ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4512

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4513

4513 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا محمد بن يحيى بن الحسن العمي نا عبد الله القيسي نا حماد بن سلمة عن ثابت قال : قال ربيع أبو العالية : إني لأرجو أن لا يهلك عبد بين نعمة يحمد الله عليها و ذنب يستغفر الله منه

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسن عمی نے ان کو عبداللہ قیسی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ربیع ابوالعالیہ نے کہا میں بے شک یقینی طور پر امید کرتا ہوں کہ کوئی بندہ کسی ایسی نعمت کے درمیان ہلاک نہیں ہوگا جس پر وہ اللہ کا شکر کرتا ہو اور کسی ایسے گناہ پر بھی جس پر وہ استغفار کرتا ہو اللہ سے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عبد الله القيسي ← محمد بن يحيى بن الحسن العمي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4513

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4514

4514 - و أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عصمة بن الفضل نا يحيى بن يحيى عن محمد بن نشيط : عن بكير بن عبد الله أنه لحق حمالا عليه حمله و هو يقول الحمد لله استغفر الله قال : فانتظرته حتى وضع ما على ظهره و قلت له أما تحسن غير هذا ؟ فقال : بلى أحسن خيرا و أقرأ كتاب الله عز و جل غير أن العبد بين نعمة و ذنب فأحمد الله على نعمائه السابقة و استغفر لذنوبي فقلت الحمال فيها أفقه من بكر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو عصمہ بن فضل نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو محمد بن نشیط نے ان کو بکیر بن عبداللہ نے کہ وہ ایک قلی سے ملے جس نے سامان اٹھا رکھا تھا۔اور وہ یہ کہ رہاتھا الحمدللہ۔ استغفراللہ ۔ اللہ کا شکر ہے۔ میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے وہ سامان اتار کر رکھا جس کو اٹھائے ہوئے تھا۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ آپ اس سے اچھا کوئی اور کام نہیں جانتے یا نہیں کر سکتے؟ اس نے کہا ہاں کر سکتا ہوں اس سے بہت اچھا اور زیادہ خیر والا میں قرآن مجید پڑھا سکتا ہوں مگر بات یہ ہے کہ بندہ اللہ کی نعمت اور گناہ کے مابین واقع ہے لہذا میں اللہ کا شکر کرتا ہوں اس کی سابقہ نعمتوں پر اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہاں کا تو قلی بھی بکر سے زیادہ فقیہ ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ، أَسْتَغْفَرُ اللهَ ← بكير بن عبد الله أنه لحق حمالا عليه حمله و هو ← مُحَمَّدِ بْنِ نَشِيطٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4514

chevron_left Previous
1…789…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood