Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4467

4467 - حدثني حمزة بن العباس نا عبدان بن عثمان أنا عبد الله نا يزيد بن إبراهيم عن الحسن قال : قال أبو الدرداء من لم يعرف نعمة الله عليك إلا في مطعمه و مشربه فقد قل علمه و حضر عذابه زاد فيه غيره عن الحسن اللباس

(ابن ابوالدنیا نے کہا) مجھے حدیث بیان کی ہے حمزہ بن عباس نے ان کو عبدان بن عثمان نے ان کو عبداللہ نے ان کو یزید بن ابراہیم نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ابودرداء نے کہا ہے جو شخص اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو نہ پہچانے سوائے اپنے کھانے میں اور پینے میں۔ تحقیق قلیل ہوگیا ہے اس کا علم اور حاضر ہوگیا ہے اس کا عذاب۔ دیگر نے اس میں لفظ لباس کا اضافہ بھی کیا ہے۔ یعنی نعمت لباس میں۔

الْحَسَنِ، ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ،

Hadith 4467

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4468

4468 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله نا إسماعيل بن إبراهيم ح و أنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن الفضل بن جابر نا إبراهيم نا حيان بن علي العنبري عن سعيد بن طريف عن الأصبغ بن نباتة قال : كان علي رضي الله عنه إذا دخل الخلاء قال : بسم الله المودي و إذا خرج مسح بيديه بطنه ثم قال : يا لها من نعمة لو يعلم العباد شكرها و في رواية ابن عبدان باسم الحافظ المودي

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کومحمد بن فضل بن جابر نے ان کو ابراہیم نے ان کو حبان بن علی عنبری نے ان کو سعید بن طریف نے ان کو اصبغ بن بناقہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو (پہلے یہ پڑھ لیتے) بسم اللّٰه المؤدی۔ اور جب بیت الخلا سے باہر آتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی پیٹ پر پھیرتے پھر یوں کہتے اے اس کی نعمتیں کاش یہ بندے جان لیتے ان کا شکر۔ اور ابن عبدان کی روایت میں ہے۔ باسم الحافظ المؤدى۔

بسم الله المودي و إذا خرج مسح بيديه بطنه ثم ← كان علي إذا دخل الخلاء ← الأصبغ بن نباتة ← سعيد بن طريف ← حيان بن علي العنبري ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 4468

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4469

4469 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله حدثني العباس بن جعفر نا ساد بن فياض عن الحارث بن شبل قال : حدثتنا أم النعمان عن عائشة رضي الله عنها حدثتها : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن نوحا عليه السلام لم يقم عن خلاء قط إلا قال : الحمد لله الذي أذاقني لذته و أبقى منفعته في جسدي و أخرج عني أذاه

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو خبر دی احمد بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی عباس بن جعفر نے ان کو خبر دی ساد بن فیاض نے ان کو حارث بن شبل نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ام نعمان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کبھی بھی بیت الخلاء سے ایسے نہیں چلے جاتے تھے بلکہ یہ کہتے تھے: الحمدللّٰه الذي اذا في لذته و ابقى منفعته في جسدى و اخرج عنى اذاہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنی نعمت کی لذت چکھائی اور اس کا نفع میرے جسم میں باقی چھوڑا اور مجھ سے تکلیف دینے والی چیز نکال دی۔

خَلَاءٍ قَطُّ إِلَّا، ← إِنَّ نُوحًا لَمْ يَقُمْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عائشة حدثتها ← حَدَّثَتْنَا أُمُّ النُّعْمَانِ، ← الْحَارِثُ بْنُ شِبْلٍ، ← ساد بن فياض ← الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 4469

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4470

4470 - و أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله حدثني يحيى بن جعفر أنا يزيد بن هارون أنا أصبع بن زيد : أن نوحا عليه السلام كان إذا خرج من الكنيف قال ذلك فسمي عبدا شكورا

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو اصبغ بن زید نے یہ کہ حضرت نوح علیہ السلام جب بیت الخلاء سے نکلتے تھے تو مذکورہ دعا کرتے تھے لہذا و شکر گزار بندے نام رکھے گئے۔

ذلك فسمي عبدا شكورا ← أصبع بن زيد أن نوحا كان إذا خرج من الكنيف ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← و،

Hadith 4470

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4471

4471 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد نا أحمد بن مهران نا أبو نعيم نا سفيان عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن سلمان قال : كان نوح إذا أطعم طعاما أو لبس ثوبا حمد الله فسمي عبدا شكورا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ زاہد نے ان کو احمد بن مہران نے ان کو ابونعیم نے ان کو سفیان نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابوعثمان نہدی نے ان کو سلمان نے کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام جب کھانا کھا کر فارغ ہو جاتے یا کپڑے پہن لیتے تو اللہ کا شکر کرتے لہذا وہ بہت شکر گذار بندے کہلائے۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4471

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4472

4472 - و أخبرنا أبو عبد الرحمن بن عبيد الله أنا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا نا حمزة بن العباس أنا عبدان أنا عبد الله بن شبل عن ابن أبي نجيح : عن مجاهد أنه كان عبدا شكورا قال : لم يأكل شيئا قط إلا حمد الله عز و جل و لم يشرب شرابا قط إلا حمد الله عليه و لم يمش مشيا قط إلا حمد الله عليه و لم يبطش بشيء قد إلا حمد الله عليه فأثنى الله عز و جل عليه إنه كان عبدا شكورا

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن بن عبیداللہ نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابودنیا نے ان کو حمزہ بن عباس نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن شبل نے ان کو ابن ابونجیح نے ان کو مجاہد نے کہ بے شک وہ شکر گزار بندے تھے فرماتے ہیں کہ جو بھی چیز کھاتے تو اللہ کا شکر ادا کرتے کوئی چیز پیتے تو اللہ کا شکر ادا کرتے کوئی قدم چلتے تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔ ہاتھ کے ساتھ کچھ پکڑتے تو اللہ کا شکر کرتے لہذا اللہ نے ان کی تعریف فرمائی کہ بے شک وہ شکر گذار بندے تھے۔

مجاهد أنه كان عبدا شكورا ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شِبْلٍ ← عَبْدَانُ ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو عبد الرحمن بن عبيد الله ← و،

Hadith 4472

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4473

4473 - و بهذا الإسناد أنا عبد الله نا هشام بن سعد قال : سمعت محمد بن كعب القرظي قال : نوح عليه السلام إذا أكل قال الحمد لله و إذا شرب قال : الحمد لله و إذا لبس قال : الحمد لله فسماه الله عبدا شكورا

اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو ہشام بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن کعب قرظی سے وہ کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام جب کھا لیتے تو کہتے الحمدللّٰہ جب پتیے تو کہتے الحمدللّٰہ اور جب پہنتے تو کہتے الحمدللّٰہ لہذا اللہ نے ان کا نام شکر گذار بندہ رکھا۔

الحمد لله فسماه الله عبدا شكورا ← الحمد لله و إذا لبس ← الحمد لله و إذا شرب ← نوح إذا أكل ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و بهذا الإسناد

Hadith 4473

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4474

4474 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله حدثني سلمة بن شبيب نا سهل بن عاصم نا أبو ربيعة نا هشام بن سلمان قال : كنت قاعدا عند الحسن و بكر بن عبد الله المزني فقال له الحسن : يا أبا عبد الله دعوات لأخوانك فحمد الله و أثنى عليه و صلى على النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : و الله ما أدري أي النعمتين أفضل علي و عليكم أنعمه المسلك أم نعمة المخرج إذ أخرجه منا ؟ قال الحسن : لقد قلت عجبا يا أبا بكر إنها لمن نعمة العظام

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی سلمہ بن شبیب نے ان کو سہل بن عاصم نے ان کو ابوربیعہ نے ان کو ہشام بن سلمان نے وہ کہتے ہیں میں حضرت حسن کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور بکر بن عبداللہ مزنی کے۔ حسن نے ان سے کہا اے ابو عبداللہ۔ تیرے مسلمان بھائیوں کے لئے کچھ سوچنے کی باتیں ہیں۔ اس کے بعد اس نے اللہ کی حمد و ثنا کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا پھر کہنے لگے اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ تمہارے اوپر اور مجھ پر اور سارے لوگوں پر دو میں سے کون سی نعمت افضل ہے نعمتوں کو اندر لے جانے کے راستے کی یا (گندگیوں کو) نکالنے کی جگہ بنانے والی نعمت کہ (جب ہمیں تکلیف ہونے لگتی ہے) تو اس کو نکال دیتا ہے؟ حضرت حسن بصری نے کہا کہ آپ نے عجیب بات کہی ہے اے بکر واقعی یہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں۔

كنت قاعدا عند الحسن و بكر بن عبد الله المزني ← هشام بن سلمان، ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← سَهْلُ بْنُ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 4474

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4475

4475 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله نا أحمد بن إبراهيم نا سعيد بن عامر حدثني اسما بن عبيد عن الحسن قال : يا لها من نعمة فأكل لذة و بخروج سرحا لقد كان ملك من ملوك هذه القرية يرى غلاما من غلمانه يأتي إلي فيكتال ثم يجرجر قائما فيقول يا ليتني مثلك ما يشرب حتى يقطع عنقه العطش و إذا شرب كان في تلك الشربة موتات يا لها من نعمة نأكل لجة و يخرج سرحا يعني سهلا

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو اسماعیل بن عبید نے ان کو حسن نے انہوں نے کہا ہے۔ افسوس انسان پر کہ کھاتا ہے لذت کے ساتھ اور نکالتا ہے آسانی کے ساتھ۔اس ملک کے بادشاھوں میں سے ایک بادشاہ۔ وہ دیکھتے تھے کہ ان کے خادموں میں سے ایک خادم میرے پاس آتا تھا سامان کی ناپ تول کرتا پھر ہٹ کر کھڑے ہو کر پیشاب کر لیتا پھر کہتا اے افسوس تیری جیسے پر اتنی پیتا ہے کہ اس سے اس کی پیاس ختم ہو جاتی ہے۔ جب پی لیتا ہے تو اس کے ان گھونٹوں میں کئی کئی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔اے افسوس اس کے نعمت کا سمندر ہم کھاتے ہیں۔اور وہ آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← اسما بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 4475

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4476

4476 - قال الشيخ أحمد رضي الله عنه و قد روينا في كتاب الدعوات حديث أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أكل قال الحمد لله الذي أطعم و سقى و سوغه و جعل له مخرجا

شیخ احمد نے کہا کہ ہم نے کتاب الدعوات میں روایت کی ہے حدیث ابوایوب نبی کریم سے کہ بے شک وہ جب کھانا کھاتے تو یوں فرماتے: الحمدللّٰه الذي اطعم وسقٰى وسوغه وجعل له مخرجاً اللہ کا شکر ہے جس نے کھلایا پلایا اور آسانی سے اسے پیٹ میں اتارا اور پھر اس کے فضلے کے خرچ کی جگہ بنائی۔

الحمد لله الذي أطعم و سقى و سوغه و جعل له مخرجا ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أكل ← الشيخ أحمد و قد روينا في كتاب الدعوات حديث أبي أيوب

Hadith 4476

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4477

4477 - و أخبرناه أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني الفضل بن سهل نا عبد الله بن محمد بن عمارة نا مخرمة بن بكير عن أبيه عن زهرة بن معبد عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه و سلم فذكره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابی دنیا نے ان کو فضل بن سہل نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عمارہ نے ان کو مخرمہ بن بکیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو زہرہ بن معبد نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حبلی نے ان کو ابوایوب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ پھر راوی نے مذکورہ دعا ذکر کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم فذكره ← أَبِي أَيُّوبَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ← و،

Hadith 4477

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4478

4478 - أخبرنا أبو حازم الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ أنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث نا أحمد بن صالح أنا ابن وهب حدثني عبد الله بن سعيد عن عبد الجليل بن حميد أنه سمع ابن شهاب يقول : في قول الله عز و جل : { اعملوا آل داود شكرا } قال : قولوا الحمد لله

ہمیں خبر دی ابوحازم حافظ نے ان کو ابواحمد حافظ نے ان کو عبداللہ بن سلیمان بن اشعث نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو عبداللہ بن سعید نے ان کو عبدالجلیل بن حمید نے کہ اس نے سنا ابن شہاب سے وہ کہتے ہیں اللہ کے اس ارشاد کے بارے میں اعملوا ال داؤد شکراً (عمل کروانے آل داؤد شکر کا) کہتے ہیں کہ یوں کہو الحمدللہ (اللہ کا شکر ہے۔)

قولوا الحمد لله ← في قول الله عز و جل اعملوا آل داود شكرا ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عبد الجليل بن حميد أنه ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ،

Hadith 4478

chevron_left Previous
1…456…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood