Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4411

4411 - أخبرنا أبو زكريا بن إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا هشام بن عروة عن محمد بن المنكدر قال : كان مما يدعو به النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم أعني على شكرك و ذكرك و حسن عبادتك و هذا المرسل شاهد لما تقدم و فيه دلالة على أن العبد لا يصل إلى شكر الله على نعمته إلا بمعونته

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کو ابواحمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو محمد بن منکدر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائیں کرتے تھے ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ فرماتے۔ اللهم اعنی علی شکرک و ذکرک و حسن عبادتک. یہ مرسل روایت پہلی روایت کے لئے شاہد ہے اور اس میں دلیل ہے کہ بندہ اللہ کے شکر تک اللہ کی اعانت کے بغیر رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

كان مما يدعو به النبي صلى الله عليه و سلم ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ

Hadith 4411

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4412

4412 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان أنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا قال : أنشدني محمود الوراق : ( إذا ذان شكري بنعمة الله نعمة علي له في مثلها يجب الشكر ) ( و كيف وقوع الشكر إلا بفضله و إن طالت الأيام واتصل العمر ) ( إذا مس باليسر أعم سرورها و إن مس بالضراء أعقبها الأجر ) ( و ما منهما إلا له فيه منة تضيق بها الأوهام و البر و البحر )

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے تھے محمد دوراق نے جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔ تیرا شکر کرنا اللہ کی کسی نعمت کے بدلے میں جو ہے یہ بذات خود مجھ پر ایک مستقل نعمت ہے اس شکر والی نعمت پر بھی مجھ پر پہلی نعمت کی طرح شکر کرنا واجب ہے۔ شکر کرنے کا وجود اور وقوع تو اس کے فضل کے بغیر تو نہیں ہوسکتا اگرچہ زمانے لمبے ہو جائیں اور عمر بھی مسلسل جاری رہے۔ شکر اگر یسر اور آسانی کے وقت ہو تو اسکی خوشی زیادہ عام ہوتی ہے اور اگر پریشانی کے وقت میں ہو تو اس کے بعد اجر ہی ہوتا ہے۔ یہ دونوں نعمتیں (شکر نعمت اور پھر شکر پر شکر) ایسی ہیں کہ ان میں احسان کا ایسا لامتناہی سلسلہ ہے جس کے ساتھ خشکی و تری بھی بھر جاتے ہیں اور وہم خیال کے پیمانے بھی تنگ ہو جاتے ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Hadith 4412

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4413

4413 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكازي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن نا جابر بن زيد عن المغيرة بن عقبة قال : قال داود عليه السلام يا رب هل بات أحد من خلقك الليلة أطول ذكرا لك مني فأوحى الله إليه نعم الضفدع و أنزل الله عز و جل : { اعملوا آل داود شكرا وقليل من عبادي الشكور } قال رب كيف أطق شكرك و أنت الذي تنعم علي ثم ترزقني على النعمة الشكر ثم تزيدني نعمة بعد نعمة فالنعمة منك يا رب و الشكر منك و كيف أطيق شكرك ؟ قال : الآن عرفتني يا داود حق معرفتي

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین اسحاق بن احمد کازی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرحمٰن نے ان کو جابر بن زید نے ان کو مغیرہ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں سوال کیا تھا کہ اے رب کیا تیری مخلوقات میں سے کسی نے ایسی رات گذاری ہے کہ اس نے تیرا ذکر مجھ سے زیادہ طویل کیا ہو۔ پھر اللہ نے اس کی طرف وحی کی کہ ہاں ینڈک نے تجھ سے طویل ذکر کیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اعملوا ال داؤد شکر اُوقلیل من عبادی الشکور۔ عمل کرواے آل داؤد شکر کرنے کا اور میری بندوں میں سے شکر گذار کم ہیں۔ داؤد علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب میں شکر کی کیسے استطاعت رکھ سکتا ہوں تم تو مجھ پر انعام کرتے ہو پھر تم نعمت پر شکر کی روز توفیق دیتے ہو پھر تم میرے اوپر نعمت پر نعمت کا اضافہ کئے چلے جاتے ہو (ایک کا شکر ہوا تو نہیں کہ دوسری پھر تیسری پھر لامتناہی نعمتوں کا تسلسل جاری ہے) پھر نعمت بھی تیری طرف سے آتی ہے اور اس پر شکر کی طاقت بھی تیری طرف آتی ہے جو کہ خود بذاتہ نعمت ہے پھر میں کیسے تیرا شکر کرنے کی طاقت رکھ سکتا ہوں اللہ نے فرمایا اے داؤد ابھی تم نے مجھے پہچانا ہے جیسے میری معرفت کا حق ہے۔

المغيرة بن عقبة ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكازي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4413

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4414

4414 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إسماعيل بن إبراهيم بن بسام نا صالح المري عن أبي عمران الجوني عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة داود عليه السلام أنه قال : أي رب كيف لي أن أشكرك إلا بنعمتك قال : فأتاه الوحي أن يا داود أليس تعلم أن الذي بك من النعم مني ؟ قال : بلى يا رب قال : فإني أرضى بذلك منك شكرا

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ خرقی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن بسام نے ان کو صالح مری نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو ابوالخلد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھا ہے داؤد علیہ السلام کے سوال کے بارے میں کہ انہوں نے کہا اے میرے رب کیسے ممکن ہے میرے لئے کہ میں تیرا شکر کروں سوائے تیری (توفیق والی) نعمت کے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آئی تھی کہ اے داؤد کیاتم یہ نہیں جانتے کہ تیرے پاس جو نعمتیں ہیں وہ میری طرف سے دی ہوئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں جانتاہوں اے رب۔ اللہ نے فرمایا کہ بے شک اس بات پر بطور شکر کے تم سے میں راضی ہو گیا ہوں۔

في مسئلة داود ← أَبِي الخلد، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← صالح المري ← إسماعيل بن إبراهيم بن بسام ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي

Hadith 4414

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4415

4415 - و بهذا الإسناد عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة موسى عليه السلام أنه قال : كيف لي أن أشكرك و أصغر نعمة وضعتها عندي من نعمك لا يجازي بها عملي كله قال : فأتاه الوحي أن يا موسى الآن شكرتني

اسی مذکوره اسناد کے ساتھ ابوالخلد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کے سوال پڑھا تھا کہ انہوں نے کہا میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیرا شکر کروں حالانکہ تیری چھوٹی سے چھوٹی نعمت جو آپ نے مجھ پر رکھی ہے اپنی نعمتوں میں سے میرے سارے اعمال اس کا بدل نہیں بن سکتے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آ گئی کہ اے موسیٰ اب تم نے میرا شکر کر لیا ہے۔

Hadith 4415

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4416

4416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن بالويه نا محمد بن يونس القرشي نا روح بن عبادة حدثني عبد الله بن لاحق عن ابن شهاب قال : قال داود عليه السلام الحمد الله كما ينبغي لكرم وجهك و عز جلاله فأوحى الله إليه أنك أتعبت الحفظة يا داود

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن بالویہ نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو عبداللہ بن لاحق نے ان کو ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے کہا۔ الحمدللّٰه الذي كما ينبغي لكرم وجهک و عز جلاله. تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جیسے تیری ذات کی عزت اور تیرے جلال کے غلبے کے شایان شان ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے داؤد آپ نے محافظ فرشتوں کو مشقت میں ڈال دیا ہے (یعنی اس کلام کی شان اور اجر و ثواب لکھ لکھ کر مشکل میں پڑ گئے ہیں۔)

ابْنِ شِهَابٍ، ← عبد الله بن لاحق ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← محمد بن يونس القرشي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4416

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4417

4417 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران نا أبي نا هشام بن عمار بن و أبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحراني نا الوليد بن مسلم نا زهير بن محمد عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : لما قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم سورة الرحمن على اسمه حتى فرغ قال : مالي أراك سكوتا الجن كانوا أحسن منكم ردا ما قرأت عليهم من مرة فبأي آلاء ربكما تكذبان إلا قالوا و لا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن اسماعیل بن مہران نے ان کو ان کے والد نے ان کو ہشام بن عمار نے اور ابومسلم عبدالرحمٰن بن واقد حرانی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو زبیر بن محمد نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الرحمٰن جو کہ اللہ کے نام پر ہے تلاوت کی اور ختم کر کے فارغ ہو گئے۔ تو فرمانے لگے کہ کیا بات ہے حاضرین میں تم سب کو خاموش دیکھ رہا ہوں۔ تم سے تو جنات اچھے رہے جواب دینے میں میں جب بھی ان کے سامنے یہ آیت پڑھتا ہوں: فباى الآء ربكما تكذبان اے جنوں اور انسانوں تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ تو جنات یہ جواب دیتے تھے: ولا شيئي من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد اے ہماے رب تیری نعمتوں میں سے کوئی ایسی نعمت نہیں ہے جس کی ہم تکذیب کریں سب تعریف اور شکر تیرے لئے ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← اقِدِ الْحَرَّانِيُّ، ← هشام بن عمار بن و أبو مسلم عبد الرحمن بن ← أَبِي ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4417

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4418

4418 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا محمد بن عثمان بن أبي شيبة نا عبد الحميد بن صالح أبو صالح نا محمد بن أبان عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن أبي بن كعب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أوحى الله إلى موسى عليه السلام أن ذكرهم بأيام الله و أيامه نعمة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو عبدالحمید بن صالح ابوصالح نے ان کو محمد بن ابان نے ان کو ابواسحاق نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان کو ابن کعب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ڈرا تو ان کو ایام اللہ سے (اللہ کے دنوں سے) اور اس کے ایام نعمت ہیں۔

أوحى الله إلى موسى أن ذكرهم بأيام الله و أيامه نعمة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Hadith 4418

chevron_left Previous
1…32333435
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood