Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4399

4399 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحافظ نا محمد بن الحسين بن مكرم بالبصرة نا سليم بن عبد الله العلائي نا سلم بن قتيبة نا شعبة عن أبي ملح عن مصعب بن سعد عن أبيه : أن أعرابيا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : علمني دعاء لعل الله أن ينفعني به قال : قل اللهم لك الحمد كله و إليك يرجع الأمر كله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حافظ نے ان کو محمد بن حسین بن مکرم نے بصرہ میں ان کو سلیم بن عبداللہ علائی نے ان کو سلم بن قتیبہ نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوملح نے ان کو مصعب بن سعد نے ان کو ان کے والد نے کہ ایک عرابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے کوئی دعا سکھلا دیجئے شاید کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے ساتھ نفع دے کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ پڑھا کرو: اللهم لك الحمد كله و اليك يرجع الا مركله . اے اللہ سب تعریف تیرے لئے ہے اور ہر امر تیری طرف لوٹتا ہے۔

أَبِيهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أبي ملح ← شُعْبَةُ، ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← سليم بن عبد الله العلائي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4399

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4400

4400 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن محمد بن أحمد بن محمد بن الخطاب الأنصاري ببغداد نا عبيد الله بن الحسن الملا نا خالد بن زيد نا ابن أبي ذئب عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : أي الدعاء خيرا أدعو به في صلاتي ؟ قال : نزل جبريل عليه السلام فقال : إن خير الدعاء أن تقول في الصلاة اللهم لك الحمد كله و لك الملك كله و لك الخلق كله و إليك يرجع الأمر كله و أعوذ بك من الشر كله قال عبد الله : تفرد به خالد بن يزيد العمري عن ابن أبي ذئب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن ملا نے ان کو خالد بن زید نے ان کو ابن ابوذئب نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عطاء بن یسار نے ان کو ابوسعید خدری نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا دعا کون سی اچھی ہے جس کے ساتھ میں نماز میں دعا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام اترے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ بہترین دعا یہ ہے کہ آپ نماز میں یوں دعا کریں۔ اللهم لك الحمد كله ولك الملك كله ولك الخلق كله و اليك يرجع الامر كله و اعوذبك من الشركله اے اللہ تیرے لئے ہے ہر حمد۔ اور تیرے لئے ہے ہر حکومت۔ اور تیرے لئے ہر مخلوق۔اور تیری طرف لوٹتا ہے ہر معاملہ۔ اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر شر سے۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ خالد بن یزید عمری ابن ابی ذئب سے نقل کرتے ہیں۔ اور وہ متفرد ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ← عبيد الله بن الحسن الملا ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن محمد بن الخطاب الأنصاري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4400

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4401

4401 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا خلف بن خليفة نا أبو هاشم أن عدي بن أرطأة كتب إلى عمر بن عبد العزيز و كان رأيه رأي شامي فقال : لقد أصاب الناس من الخير كادوا ينظرون فكتب إليه عمر أن الله عز و جل أدخل أهل الجنة الجنة و أهل النار النار فرضى من أهل الجنة أن قالوا : الحمد لله و من قبلك يحمد الله

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو ابوہاشم نے کہ عدی بن ارطاۃ نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا ہے اور ان کی رائے شامیوں والی رائے تھی۔البتہ تحقیق لوگ خیر کو پہنچے ہیں (یعنی ان کو حاصل ہوئی ہے) قریب تھے کہ وہ دیکھتے۔لہذا عمر بن عبدالعزیز نے ان کی طرف لکھا کہ اللہ عز وجل نے اہل جنت کو جنت میں اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دیا اور اہل جنت سے راضی ہو گیا بایں صورت کہ انہوں نے کہا الحمدللہ اور تیری طرف سے ہے اللہ کی حمد۔

إلى عمر بن عبد العزيز و كان رأيه رأي شامي ← أبو هاشم أن عدي بن أرطأة ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 4401

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4402

4402 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا صالح بن محمد الرازي نا أبي نا أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس نا محمد بن أبي حميد عن محمد بن المنكدر عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد من نعمة فقال الحمد لله إلا و قد أدى شكرها فإن قالها الثانية حدد الله له ثوابها فإن قالها الثالثة غفر الله له ذنوبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو صالح بن محمد رازی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابومعاویہ عبدالرحمٰن بن قیس نے ان کو محمد بن ابوحمید نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے پر کوئی انعام کرتے ہیں اور وہ یہ کہتا ہے الحمدللہ تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کر لیتا ہے اگر دوسری باری کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ثواب متعین فرما دیتے ہیں۔اور اگر وہ اس کو تیسری بار کہتا ہے اللہ اس کے سارے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← أبو معاوية عبد الرحمن بن قيس، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4402

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4403

4403 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الكديمي نا الضحاك بن مخلد أبو عاصم نا شبيب بن بشر البجلي عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال الحمد لله كان ما أعطى أكثر مما أخذ

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو کریمی نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ان کو ابوعاصم نے ان کو بشیر بن بشر بجلی نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کہتا ہے الحمدللہ تو وہ جو کچھ دیا جاتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے اس سے جو کچھ لیا جاتا ہے۔

أَنَسٍ، ← شبيب بن بشر البجلي ← الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Hadith 4403

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4404

4404 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو عبد الرحمن السلمي بنيسابور و أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن أحمد بن جانجان بهمذان نا أبو علي حامد بن محمد الرفا الهروي نا علي بن مشكان نا عبد الله بن عبد العزيز عن إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من عبد ينعم عليه نعمة إلا كان الحمد أفضل منها قال الشيخ أحمد رحمه الله : كذا روي بهذا الإسناد و بالذي قبله موصولا مسندا و المحفوظ عن الحسن من قوله مرة و عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا أخرى

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے اور ابوعبدالرحمٰن سلمی نے نیساپور میں اور ابوالعباس احمد بن ابراہیم بن احمد جانجان نے ہمدان میں ان کو ابوعلی حامد بن محمد رفاهروی نے ان کو علی بن مشکان نے ان کو عبداللہ بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم بن طھمان نے ان کو ابوزبیر نے حامد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جس بندے پر کوئی انعام کیا جائے کسی بھی نعمت کا مگر الحمد اس سے افضل ہوتی ہے۔ شیخ احمد رحمہ اللہ نے فرمایا اسی طرح روایت کیا گیا ہے اسی اسناد کے ساتھ اور اس کے ساتھ جو اس سے قبل ہے بطور موصول روایت اور مسند روایت۔ اور حسن سے محفوظ اس قول سے ہے مرۃ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً دوسری روایت ہے۔

Hadith 4404

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4405

4405 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن رجل عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد نعمة فحمد الله عليها إلا كان حمد الله تعالى أعظم منها كائنة ما كانت

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ایک آدمی سے اس نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس بندے پر اللہ تعالیٰ انعام کر تے ہیں پھر وہ اس پر اللہ کی حمد کرتا ہے مگر وہ اللہ کی حمد ہر نعمت سے بہت بڑی ہوئی ہے خواہ وہ کوئی سی بھی نعمت ہو۔

الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4405

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4406

4406 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي نا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا أبو السائب نا وكيع عن يوسف الصباغ عن الحسن قال : ما أنعم الله على عبد نعمة فقال : الحمد لله إلا كان ما أعطى أكثر مما أخذ

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ابوالسائب نے ان کو وکیع نے ان کو یوسف صباغ نے ان کو حسن نے وہ کہتے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر جو نعمت انعام کرتا ہے پھر وہ یوں کہتا ہے الحمدللہ ۔ مگر جو کچھ انعام لے چکا اس سے زیادہ اور اس کو عطا ہو جاتا ہے۔

ما أنعم الله على عبد نعمة ← الْحَسَنِ، ← يوسف الصباغ ← وَكِيعٌ، ← أبو السائب، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Hadith 4406

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4407

4407 - قال ابن أبي الدنيا و بلغني عن سفيان بن عيينة : أنه سئل عن هذا فقال لا يكون فعل العبد أفضل من فعل الله قال الشيخ أحمد : هذه غفلة من عالم و ذلك لأن العبد لا يصل إلى حمد الله و شكره إلا بتوفيقه و إنما فضله لما فيه من حسن الثناء على الله عز و جل و منحه إياه و ليس ذلك في النعمة الأولى

ابن ابوالدنیا نے کہا کہ مجھے خبر پہنچی ہے سفیان بن عینیہ سے کہ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ بندے کا فعل اللہ کے فعل سے افضل نہیں ہوسکتا۔ شیخ احمد نے فرمایا یہ عالم کی طرف سے غفلت ہے۔ اس لئے کہ بندہ اللہ کی حمد اور اس کے شکر تک نہیں پہنچ سکتا مگر اسی کی توفیق کے ساتھ۔ باقی اس کی فضیلت اس لئے ہے کہ اس میں اللہ کی اچھی ثنا ہے اور خاص اس کی عنایت کا اقرار ہے جو کہ پہلی والی نعمت میں یہ چیز نہیں ہے۔

لا يكون فعل العبد أفضل من فعل الله ← ھَذَا ← سفيان بن عيينة أنه سئل ← ابن أبي الدنيا و بلغني

Hadith 4407

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4408

4408 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عبد العزيز بن بحر أنا أبو عقيل عن بكر بن عبد الله سمعته يقول : ما قال عبد قط الحمد لله إلا رحبت عليه نعمته بقول الحمد لله فما جزاء تلك النعمة جزاؤها أن تقول الحمد لله فجاءت نعمة أخرى فلا تنفد نعم الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو عبدالعزیز بن بحر نے ان کو ابوعقیل نے ان کو بکر بن عبداللہ نے۔ میں نے سنا وہ کہتے تھے کہ بندہ جب بھی کبھی الحمدللہ کہتا ہے تو اس بندے پر اس کی نعمت کا اضافہ ہو جاتا ہے الحمدللہ کہنے سے اس نعمت کی جزا اس کی جزا نہیں ہوتی کہ تم الحمدللہ کہدو تو دوسری نعمت آ جائے گی پس وہ نعمتیں ختم نہیں ہوئیں۔

مَا ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَقِيلٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Hadith 4408

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4409

4409 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت الحسين بن يوسف القزويني يقول سمعت أبا بكر بن إسحاق يقول : سمعت الجنيد يقول سمعت السري يقول : الشكر نعمة و الشكر على النعمة نعمة أي إلى أن لا يتناهى الشكر إلى قرار

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسین بن یونس قزوینی سے انہوں نے ابوبکر بن اسحاق سے انہوں نے سنا جنید سے انہوں نے سنا سری سے وہ کہتے تھے۔ کہ شکر کرنا نعمت ہے اور پھر نعمت پر شکر کرنا بھی نعمت ہے یعنی وہاں تک جہاں شکر کی انتہاء نہ ہو کسی جگہ پر۔

السَّرِيُّ، ← الجنيد ← أبا بكر بن إسحاق ← الحسين بن يوسف القزويني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4409

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4410

4410 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله السمسار أنا أحمد بن سلمان النجاد الفقيه نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني الحسن بن عبد العزيز الجروي حدثني عمرو بن أبي سلمة نا أبو عبده الحكم بن عبده حدثني حيوة بن شريح عن عقبة بن مسلم عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن الصنابحي عن معاذ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أحبك فقل اللهم أعني على شكرك و ذكرك و حسن عبادتك و قال الصنابحي : قال لي معاذ إني أحبك فقل هذا الدعاء قال قال عبد الرحمن : قال لي الصنابحي و أنا أحبك فقل قال عقبة : قال لي قال عبد الرحمن و أنا أحبك فقل قال حيوة : قال لي عقبة : و أنا أحبك فقل قال أبو عبيدة : قال لي حيوة و أنا أحبك فقل قال عمر : قال لي أبو عبيدة و أنا أحبك فقل قال عبد الله : قال لي الحسن و أنا أحبك فقل قال أبو بكر بن أبي الدنيا و أنا أحبكم فقولوا قال الشيخ أحمد : و رويناه في كتاب الدعوات عن عبد الله بن يزيد المقري عن حيوة غير أنه لم يسلسل

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ سمسار نے ان کو احمد بن سلمان نجاد فقیہ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے ان کو حسن بن عبدالعزیز جروی نے ان کو عمرو بن ابوسلمہ نے ان کو ابوعبدہ حکم بن عبدہ نے ان کو حیوۃ بن شریح نے ان کو عقبہ بن سلم نے ان کو ابوعبدالرحمٰن حبلی نے ان کو صنابحی نے ان کو معاذ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ بے شک میں آپ کو محبوب رکھتا ہوں تم کہہ دو۔ ایک دعا کی اہمیت کا ذکر: اللهم اعنى على ذكرك و شكرك و حسن عبادتک. اے اللہ میری اعانت فرما تیرے شکر کرنے پر اور تیرے ذکر کر نے پر اور تیری اچھی عبادت کرنے پر۔ا: تو صنابحی کہتے ہیں مجھے حضرت معاذ نے کہا کہ میں بھی تجھ سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔ ۲: ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھ سے صنابحی نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم یہی دعا کرو۔ ۳:عقبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم یہی دعا کرو۔ ۴:حیوۃ نے کہا کہ مجھ سے عقبہ نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔ ۵:ابوعبیدہ نے کہا کہ مجھے حیوۃ نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔۶:عمر نے کہا کہ مجھ سے ابوعبیدہ نے کہا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔۷: عبداللہ نے کہا کہ مجھ سے حسن نے کہا میں تم سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔ ۸:کہا ابوبکر بن ابودنیا نے اور میں بھی تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں تم بھی یہی دعا کرو۔ ۹:شیخ احمد نے کہا کہ ہم نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں نقل کیا ہے عبداللہ بن یزید مقری سے اس نے حیوۃ سے سوا اس کے کہ انہوں نے اس کو مسلسل بیان نہیں کیا۔

مُعَاذٌ، ← الصُّنَابِحِیّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← أبو عبده الحكم بن عبده ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أحمد بن سلمان النجاد الفقيه ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله السمسار

Hadith 4410

chevron_left Previous
1…32333435
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood