Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4387

4387 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا إبراهيم بن المنذر حدثني صدقة بن بشير مولى العمرين قال : سمعت قدامة بن إبراهيم الجمحي يحدث عن عبد الله بن عمر بن الخطاب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثهم أن عبدا من عباد الله قال : يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك و لعظيم سلطانك ففضلت على المالكين فلم يدريا كيف يكتبانها فقال الله لهما : أكتباها كما قال عبدي حين يلقاني فأجزيه بها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو صدقہ بن بشیر نے مولیٰ عمرین نے انہوں نے سنا قدامہ بن ابراہیم جمحی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عمر بن خطاب سے یہ کہ رسول اللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے۔ کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے کہا : يارب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك اے میرے رب بزرگی تیرے لئے ہے جیسے تیری ذات کے جلال کے لائق ہو اور تیرے عظیم اقتدار کے شایان شان ہو۔ چنانچہ یہ الفاظ نیکی لکھنے والے فرشتوں پر اتنے بھاری گذرے کہ ان کے اجر کو کیسے لکھیں لہذا ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے ہی لکھ دو جیسے کہ میرے بندے نے کہا ہے جب وہ مجھے ملے گا تو میں اس کی جزا اس کو خود دے دوں گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← قدامة بن إبراهيم الجمحي ← صدقة بن بشير مولى العمرين ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4387

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4388

4388 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور القاضي نا محمد بن عمرو كشمرد أنا القعنبي نا الحسين بن عبد الله بن ضميرة عن أبيه عن جده عن أبيه عن جده عن علي رضي الله عنه أنه كان يقول : من قال حين يصبح الحمد لله على حسن المساء و الحمد لله على حسن المبيت و الحمد لله على حسن الصباح فقد أدى شكر ليلته و يومه أظنه قال و يومه

ہمیں خبر دی ہے ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کومحمد بن عمرو کشمود نے ان کو قعنبی نے ان کو حسین بن عبداللہ بن خمیرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے (اس نے اپنے باپ سے اس نے ان کے دادا سے) اس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ بے شک وہ کہتے تھے جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے: الحمدللّٰه على حسن المسآء و الحمدللّٰه على حسن المبيت. و الحمدللّٰه على حسن الصباح فقدادی شکر لیلتتہ ويومہ اللہ کا شکر ہے اچھی شام گذرنے اچھی رات گذرنے اور اچھی اور خیریت کے ساتھ صبح کرنے پر۔ تو گویا اس شخص نے اس رات اور اس دن کا شکر ادا کرلیا۔ میرا خیال ہے کہ یوم کا لفظ بھی کہا تھا۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الحسين بن عبد الله بن ضميرة، ← الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن عمرو كشمرد ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4388

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4389

4389 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن الفضل نا منجاب بن الحارث نا علي بن الصلت العامري عن عبد الله بن شريك عن بشر بن غالب أو بشير بن غالب شك منجاب عن علي : أن النبي صلى الله عليه و سلم نزل عليه جبريل عليه السلام فقال : يا محمد إذ سرك أن تعبد الله عز و جل ليلة حق عبادته أو يوما فقل اللهم لك الحمد حمدا كثيرا خالدا مع خلودك و لك الحمد حمدا لا تنتهي له دوم مشيئتك و لك الحمد حمدا لا أجر لقائه إلا رضاك قال الشيخ أحمد : لم أكتبه إلا هكذا و فيه انقطاع بين علي و من دونه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل نے ان کو منجاب بن حارث نے ان کو علی بن صلت عامری نے ان کو عبداللہ بن شریک نے ان کو بشر بن غالب نے یا بشیر بن غالب نے منجاب کو شک ہے۔ ان کو علی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل نازل ہوئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ جب آپ کو یہ بات پسند آئے کہ آپ رات کو عبادت کرتے ہوئے اس کی عبادت کا حق ادا کریں یا دن کو بھی تو آپ یہ پڑھا کیجئے۔ اللهم لك الحمد حمدا كثيرا خالدامع خلودك ولك الحمد حمد الاتنتهى له دون مشیتک ولك الحمد حمدا لا اجر لقائله الا رضاک. اے اللہ تیری حمد ہے ایسی حمد جو کثیر ہے دائمی ہے تیرے دوام کے ساتھ۔اور تیری تعریف ہے جو تیرے لئے ختم نہیں ہوتی۔ تیری مشیت کے سوا۔ اور تیری تعریف ہے ایسی تعریف کہ جس کے کہنے اور کرنے والے کے لئے تیری رضا کے سوا کوئی اجر نہیں ہے۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ۔ میں نے اس کو اسی طرح ہی لکھا ہے اور اس روایت میں علی کے اور دیگر کے درمیان انقطاع ہے۔

عَلِيٍّ، ← بشر بن غالب أو بشير بن غالب شك منجاب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ← علي بن الصلت العامري ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4389

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4390

4390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي نا الحسين بن الحكم الحيري نا حسن بن حسين العربي نا عيسى بن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده عن علي قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية من أهله فقال : اللهم إن لك علي أن رددتم سالمين أن أشكرك حق شكرك قال : فما لبثوا أن جاءوا سالمين قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد لله على سابغ نعم الله فقلت : يا رسول الله ألم تقل إن ردهم الله عز و جل أن أشكره حق شكره ؟ قال : أو لم أفعل ؟ قال الحاكم : تفرد به عيسى بن عبد الله العلوي قال الشيخ أحمد : و قد روي في ذلك بإسناد آخر

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے۔ان کو ابوالحسین علی بن عبدالرحمٰن بن ماتی سبیعی نے ان کو حسین بن حکم حیری نے ان کو حسن بن حسین عربی نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابوطالب نے انہوں نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک جہادی دستہ بھیجا اپنے اہل میں سے اور فرمایا۔اے اللہ تیرے ذمے ہے تو ان کو اگر سلامت واپس لے آئے گا تو میں تیرا شکر ادا کر دوں گا جیسے تیرے شکر کرنے کا حق ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ ٹھہرنے کے بعد وہ لوگ صحیح سالم واپس آگئے۔ کہتے ہیں کہ۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ الحمدللّٰه على سابغ نعم اللّٰہ اللہ کا شکر ہے ۔ اللہ کی کامل نعمتوں پر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ اگر ان کو اللہ تعالیٰ واپس لائے گا تو میں تیرا شکر ادا کروں گا جیسے تیرے شکر ادا کرنے کا حق ہے ؟حضور نے فرمایا کہ کیا پھر میں نے شکر کیا نہیں؟ حاکم نے کہا کہ اس روایت میں عیسیٰ بن عبداللہ علوی متفرد ہے۔ شیخ احمد نے کہا کہ تحقیق اس بارے میں دوسری اسناد کے ساتھ بھی حدیث مروی ہے۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حسن بن حسين العربي ← الحسين بن الحكم الحيري ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي السَّبِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4390

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4391

4391 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عبد الله بن شبيب المدني نا يعقوب بن محمد الزهري حدثني سليمان بن سالم مولى آل جحش عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن أبيه عن جده قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثا من الأنصار و قال : إن سلمهم الله و غنمهم فإن لله علي في ذلك شكرا قال : فلم يلبثوا أن غنموا و سلموا فقال بعض أصحابه : سمعناك تقول : إن سلمهم الله و غنمهم فإن لله علي في ذلك شكرا قال : قد فعلت قلت اللهم لك الحمد شكرا و لك المن فضلا و روى من وجه آخر عن حفصة بنت سيرين عن عمر بن الخطاب و هو في مسند أحمد بن عبيد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو عبداللہ بن شبیب مدنی نے۔ ان کو یعقوب بن محمد زہری نے ان کو سلیمان بن سالم مولیٰ آل جحش نے ان کو سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا ایک لشکر بھیجا اور فرمایا کہ اگر اللہ ان کو صحیح سلامت لے آیا اور ان کو غنیمت بھی عطا کی تو۔ بیشک اللہ کے لئے میرے ذمے اس بارے میں شکر لازم ہوگا۔ کہتے ہیں کہ کچھ زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ وہ لوگ سلامتی کے ساتھ اور مال غنیمت کے ساتھ واپس آ گئے۔ لہذا آپ کے بعض اصحاب نے کہا کہ ہم نے سنا تھا آپ فرما رہے تھے کہ اگر ان کو اللہ سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لے آیا تو آپ کے اوپر اللہ کا شکر لازم ہے کہتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے وہ شکر ادا کر لیا ہے۔ میں نے یوں کہا ہے۔ اللهم لك الحمد شكراً ولك المن فضلاً. اے اللہ تیری تعریف ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔اور تیرا احسان ہے بطور تیرے فضل کے۔ ایک دوسرے طریق سے مروی حفصہ بنت سرین سے اس نے عمر بن خطاب سے اور وہ روایت مسند احمد بن عبید میں ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← سليمان بن سالم مولى آل جحش ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ الْمَدَنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4391

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4392

4392 - و أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد أنا عبد الله نا سوار بن عبد الله نا محمد بن مسعر قال : قال جعفر بن محمد : فقد أبي بغلته فقال : إن ردها الله علي لأحمدنه بمحامد يرضاها فما لبث أن أتى بسرجها و لجامها فركبها فلما استوى عليها و ضم إليه ثيابه رفع رأسه إلى السماء فقال : الحمد لله لم يزد عليها فقيل له في ذلك فقال : و هل تركت شيئا أو بقيت شيئا جعلت الحمد كله لله عز و جل

اور ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو سوار بن عبداللہ نے ان کو محمد بن مسعر نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جعفر بن محمد نے حالانکہ اس کے خچر نہیں مل رہا تھا لہذا انہوں نے کہا اگر اس کو اللہ تعالیٰ میرے پاس واپس لوٹا دے تو میں اس کی ایسی تعریفیں کروں گا جیسے وہ پسند کرے گا۔ کچھ دیر نہیں گذری تھی کہ خچر اپنے زین اور لگام سمیت آ گیا وہ اس پر سوار ہو گئے۔ جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور بولے۔الحمدللّٰہ۔اللہ کا شکر ہے۔ بس اتنا ہی کہا اور آگے کچھ بھی نہیں کہا۔لوگوں نے اس بارے میں ان سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ کیا میں نے کچھ چھوڑا ہے یا یہ کہا کہ کیا باقی کچھ رہ گیا ہے میں نے سارا شگر ہی اللہ کے لئے کر دیا ہے۔

جعفر بن محمد فقد أبي بغلته ← محمد بن مسعر ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4392

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4393

4393 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله حدثني عبد الرحمن بن صالح حدثني يحيى بن آدم عن مفضل عن منصور عن إبراهيم قال : يقال : إن الحمد لله أكثر الكلام تضعيفا

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن صالح نے ان کو یحییٰ بن آدم نے ان کو فضل نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ الحمداللہ کی شکر اللہ ہی کے لئے ہے یا ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یہ کلام کثیر الاضافہ ہے۔

يقال إن الحمد لله أكثر الكلام تضعيفا ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عبد الرحمن بن صالح ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4393

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4394

4394 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله الأوسي نا عبد الرحمن بن أبي الرجال نا سهيل بن صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كبر واحدة كتب له عشرون و محيت عنه عشرون و من سبح واحدة كتب له عشرون و محيت عنه عشرون و من حمد واحدة كتبت له ثلاثون و محيت عنه ثلاثون

ہمیں خبر دی عبداللہ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوالرجال نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک مرتبہ تکبیر کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے بیس خطائیں مٹائی جاتی ہیں اور جو شخص ایک مرتبہ سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور بیس گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ایک مرتبہ الحمدللہ کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور تیس گناہ مٹائے جاتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهيل بن صالح ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عبد العزيز بن عبد الله الأوسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4394

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4395

4395 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة أن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد رأس الشكر ما شكر الله عبد لا يحمده

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ الحمد شکر کا سر ہے۔اور اس کی اصل ہے اللہ تعالیٰ اس بندے کا شکر قبول نہیں کرتے جو اس کی حمد نہیں کرتا۔

قتادة أن عبد الله بن عمرو ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4395

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4396

4396 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أحمد بن محمد بن عنبسة ثنا سليمان بن سلمة و أحمد بن محمد بن المغيرة و محمد بن عوف نا سليم بن عثمان نا محمد بن زياد قال : سمعت أبا أمامة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال الحمد لله مائة مرة كانت له مثل فرس ملجومة في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو احمد بن محمد بن عنبسہ نے ان کو سلیمان بن سلمہ نے اور احمد بن محمد بن مغیرہ اور محمد بن عوف نے ان کو سلیم بن عثمان نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص ایک سو مرتبہ الحمدللہ کہتا ہے اس کے لئے نیکی ہوگی مثل سو گھوڑے کے جو اللہ کی راہ میں لگام چڑھا ہوئے ہوں۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ، ← سليمان بن سلمة و أحمد بن محمد بن المغيرة و محمد بن عوف ← أحمد بن محمد بن عنبسة ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4396

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4397

4397 - و بإسناده قال : من قال سبحان الله و بحمده مائة مرة كانت له مثل مائة بدنة تنحر في مكة

اور اسی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ جو شخص سبحان اللّٰہ و بحمدہ ایک سو مرتبہ کہے اس کے ثواب ہو مثل ایک سو اونٹ کے جو مکے میں ذبح کئے جائیں۔

مَنْ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4397

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4398

4398 - و بإسناده قال : من قال الله أكبر مائة مرة كانت له مثل عتق مائة رقبة تفرد به سليم بن عثمان الفوزي عن محمد بن زياد

اوراسی اسناد کے ساتھ کہا ہے جو شخص ایک سو مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ ان کے لئے ثواب ہوگا مثل سو گردن آزاد کرنے کے۔ اس روایت کے ساتھ سلیم بن عثمان فوزی محمد بن زیاد سے متفرد ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4398

chevron_left Previous
1…32333435
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood