Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4779

4779 - أخبرنا مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة نا مسلم بن محمد التميمي نا الحضرمي نا سعيد الأشعثي أنا سفيان عن هشام بن حسان قال : كنت مع ابن سيرين في السوق فجاءه رجل فقال : إني رأيت في المنام كأن عنقي ضربت فقال : أنت عبد تعتق قال : ثم أعدته قال : يموت مولاك قال : فبلغ ذلك مولاه فقال : يا عجبا لابن سيرين هذا يتكلف علم الغيب قال فلم يلبث أن عتق العبد و مات المولى قال : و جاءه رجل فقال إني رأيت في المنام كأن على رأسي تاجا من الذهب فقال : أبوك في أرض غربة قد ذهب بصره قال : فما افترقنا حتى أخرج كتابا من أبيه أنه قد ذهب بصره قال الشيخ : الأخبار و الحكايات في المنام كثيرة فاقتصرنا على ذكر ما يبين به المقصود بالباب

ہمیں خبر دی مجالد بن عبداللہ بن مجالد بجلی نے کوفہ میں ان کو خبر دی مسلم بن محمد تمیمی نے ان کو حضرمی نے ان کو سعید اشعثی نے ان کو سفیان ٍنے ان کو ہشام بن حسان نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن سیرین کے ساتھ بازار میں تھا ایک آدمی ان کے پاس آ کر بولا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میری گردن کاٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا شاید آپ غلام ہیں آپ آزاد ہو جائیں گے۔ اس نے کہا کہ میں نے یہی دوبارہ بھی دیکھا ہے آپ نے فرمایا کہ تیرا مالک بھی مر جائے گا یہ بات اس غلام کے مالک تک پہنچی تو اس نے کہا تعجب ہے ابن سیرین اسی طرح علم غیب کے بارے میں تکلف کرتے ہیں اور غیب کی خبر میں دیتے ہیں لوگوں نے دیکھا کہ بہت جلدی وہ غلام آزادبھی ہوگیا اور مالک بھی فوت ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ ابن سیرین کے پاس ایک آدمی آ کر بولا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میرے سر پر ستون کا تاج ہے آپ نے فرمایا کہ تیرے والد سفر میں ہیں اور ان کی بصارت ختم ہوگئی ہے کہتے کہ تھوڑی دیر کے اندر اس شخص نے اپنے والد کا خط نکال کر دیکھا جس میں لکھا تھا کہ میری بینائی ختم ہوگئی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اخبار اور حکایات نیند کے بارے میں بہت ہیں ہم نے اتنی ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے جس کے ساتھ اس باب میں مقصودواضح ہوجائے۔

ما يبين به المقصود بالباب ← الشيخ الأخبار و الحكايات في المنام كثيرة فاقتصرنا على ← فما افترقنا حتى أخرج كتابا من أبيه أنه قد ذهب بصره ← أبوك في أرض غربة قد ذهب بصره ← إني رأيت في المنام كأن على رأسي تاجا من الذهب ← و جاءه رجل ← فلم يلبث أن عتق العبد و مات المولى ← يا عجبا لابن سيرين هذا يتكلف علم الغيب ← فبلغ ذلك مولاه ← يموت مولاك ← ثم أعدته ← أنت عبد تعتق ← إني رأيت في المنام كأن عنقي ضربت ← كنت مع ابن سيرين في السوق فجاءه رجل ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانَ، ← سعيد الأشعثي ← الْحَضْرَمِيِّ ← مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ← مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4779

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4780

4780 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب أنا سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان قال : كان بين رؤيا يوسف و عبارتها أربعون عاما

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمود صفار نے ان کو یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو سلیمان تمیمی نے ان کو ابوعثمان نے ان کو سلیمان نے انہوں نے کہا کہ حضرت یوسف کے خواب کے اور اس کی تعبیر سامنے آنے میں چالیس سال کا عرصہ گذر گیا تھا۔

كان بين رؤيا يوسف و عبارتها أربعون عاما ← سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4780

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4365

4365 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا أبو يعلى الموصلي نا خلف بن هشام نا حماد بن زيد عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن الأسود بن سريع قال : قلت يا رسول الله مدحت الله بمدحه و مدحتك بأخرى هات و ابدأ بمدحة الله هكذا رواه علي بن زيد بن جدعان

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو ابویعلی موصلی نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو حماد بن زید نے ان کو علی بن زید نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ نے ان کو اسود بن سریع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں اللہ کی مدح کرتا ہوں ایک بار اور دوسری بار آپ کی تعریف کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آ تو ابتدا کر تو اللہ کی تعریف کے ساتھ (یعنی اللہ کی ہی حمد کر)۔ ان کو اسی طرح روایت کیا ہے علی بن زید بن جدعان نے۔

قُلْتُ ← الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4365

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4366

4366 - و قد أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن سلام نا محمد بن مقاتل المروزي نا عبد السلام بن حرب الملائي نا يونس بن عبيد عن الحسن : عن الأسود بن سريع أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني حمدت ربي بمحامد قال : أما إن ربك يحب الحمد و لم يستنشده

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو محمد بن مقاتل مروزی نے ان کو عبدالسلام بن حرب ملائی نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے اسود سریع سے کہ وہ نبی کریم کے پاس آیا اور بولا کہ میں اپنے رب کی تعریفیں کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تیرا رب تعریف کو پسند کرتا ہے اور اس کے شعر سننا پسند نہیں کرتا۔

أما إن ربك يحب الحمد و لم يستنشده ← إني حمدت ربي بمحامد ← الأسود بن سريع أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيٌّ ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و قد

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4366

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4367

4367 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا يحيى بن بكير نا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن سعد بن سنان عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : التأني من الله و العجلة من الشيطان و ما شيء أكثر يعاد رضي الله و ما شاء أحب إلى الله من الحمد

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو سعد بن سنان نے ان کو حضرت انس نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا۔ ڈھیل دینا یا انتظار اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور تعجیل اور جلدی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔اور کوئی چیز زیادہ اللہ کی رضا کو نہیں لوٹاتی حالانکہ وہ اس کو چاہے بھی اور وہ اللہ کے ہاں زیادہ محبوب بھی ہو اس کی حمد و تعریف سے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَنَسٍ، ← سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4367

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4368

4368 - حدثنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي أنا محمد بن أحمد بن سعيد الرازي نا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي نا القعنبي نا سليمان بن بلال عن ربيعة عن عبد الله بن عنبسة يعني عن ابن غنام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال حين يصبح و حين يمسي اللهم ما أصبح بي من نعمة أو بأحد من خلقك فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد و لك الشكر إلا أدى شكر ذلك اليوم

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوعبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ان کو محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو ابوحاتم محمد بن ادریس رازی نے ان کو قعنبی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو زبیعہ نے ان کو عبداللہ بن عنبسہ سے یعنی ابن غنام سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص یہ کلمات کہے جب صبح کرے اور جب شام کرے: اللهم ما اصبح بي من نعمة اوباحد من خلقك فمنك وحدک فلک الحمدولك الشكر اے اللہ جو بھی نعمت صبح صبح میرے ساتھ ہے یا کسی ایک کے ساتھ بھی تیری مخلوق میں سے کسی ایک کے ساتھ بس وہ تیری طرف سے ہے اور صرف تیری طرف سے۔ نہیں کوئی شریک تیرا پس تیرے لئے ہے حمد اور تیرے لئے ہے شکر (مگر اس دن کا شکر ادا ہوگیا اور اس نے شکر ادا کر لیا۔)

ابْنِ غَنَّامٍ، ← عبد الله بن عنبسة يعني ← رَبِیعَۃَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4368

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4369

4369 - أخبرنا أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز المهلبي أنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي نا أبو زرعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي نا سعيد بن محمد الجرمي نا عمر بن يونس عن عيسى بن عوف بن حفص بن فرافضة عن عبد الملك بن زرارة الأنصاري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنعم الله على عبد من نعمة من أهل أو مال أو ولد فيقول ما شاء الله لا قوة إلا بالله فيرى فيه آفة دون الموت

ہمیں خبر دی ابویعلی حمزہ بن عبدالعزیز مہلبی نے ان کو ابوجعفر محمد بن احمد بن سعید رازی نے ان کو ابوزرعہ نے ان کو عبیداللہ بن عبدالکریم نے رازی نے ان کو سعید بن محمد جرمی نے ان کو عمر بن یونس نے ان کو عیسیٰ بن عوف بن حفص بن فرافصہ نے ان کو عبدالملک بن زرارہ انصاری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جس بندے پر اللہ انعام کرتا ہے کوئی بھی نعمت وہ اس کے اہل میں سے ہو یا مال میں سے یا اولاد میں سے تو وہ یہ کہہ دے: ماشاء اللّٰه لاقوة الاباللّٰه اللہ جو چاہے وہی ہوتا ہے اللہ کی عطاء کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے۔ پس وہ اس میں کوئی آفت اور مصیبت نہیں دیکھے گا سوائے موت کے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زُرَارَةَ الأَنْصَارِيِّ ← عيسى بن عوف بن حفص بن فرافضة ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدِ الْلَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الرَّازِيُّ ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي ← أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز المهلبي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4369

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4370

4370 - و روي في هذا المعنى أبو بكر الهذلي عن ثمامة عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم من رأى شيئا يعجبه فقال : ما شاء الله لا قوة إلا بالله لم يضره

اسی معنی اور مفہوم میں روایت کی ہے ابوبکر ہذلی نے ان کو ثمامہ نے ان کو انس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کو اچھی لگے اور وہ یہ کہہ دے ماشاء اللّٰه لاقوة الا باللّٰه تو وہ اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

النبي صلى الله عليه و سلم من رأى شيئا يعجبه ← أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ ← و روي في هذا المعنى أبو بكر الهذلي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4370

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4371

4371 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني نا جدي نا إبراهيم بن المنذر الحزامي و أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد بن عبد الله الخرقي ببغداد نا أحمد بن سليمان الفقيه النجاد نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا نا إبراهيم بن المنذر الحزامي نا موسى بن إبراهيم الأنصاري نا طلحة بن خراش عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الدعاء لا إله إلا الله و أفضل الذكر الحمد لله و في رواية أبي عبد الله قال : سمعت طلحة بن خراش يقول : سمعت جابر بن عبد الله يقول : أفضل الذكر لا إله إلا الله و أفضل الدعاء الحمد لله وعلى هذا اللفظ رواه يحيى بن حبيب عن موسى بن إبراهيم هذا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن فضل شعرانی نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابراہیم بن منذر حزامی نے ”ح“اور ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ بن عبداللہ حرقی نے بغداد میں۔ ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو نجاد نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابوالدنیا نے ان کو ابراہیم بن منذر حزامی نے ان کو موسیٰ بن ابراہیم انصاری نے ان کو طلحہ بن خراش نے ان کو صابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ افضل دعا لا الٰه الا اللّٰہ ہے اور افضل ذکر الحمدللّٰہ ہے۔اور ایک روایت میں یوں ہے کہ افضل ذکر لا اله الا اللّٰہ ہے اور افضل دعا الحمدللّٰہ ہے انہیں الفاظ پر اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن حبیب نے موسیٰ بن ابراہیم سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أحمد بن سليمان الفقيه النجاد ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد بن عبد الله الخرقي ببغداد ← إبراهيم بن المنذر الحزامي و ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4371

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4372

4372 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ علي بن حمشاذ نا محمد بن المغيرة السكري نا عبيد الله بن موسى نا الأوزاعي عن قرة بن عبد الرحمن عن الزهري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه بالحمد لله أقطع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو محمد بن مغیرہ سکری نے کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو اوزاعی نے ان کو قرہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو زہری نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر معاملہ جو مہتم بالشان ہو(یعنی ہر اچھا کام) جس کی ابتداء اللہ کی حمد و ثنا سے نہ کی جائے وہ کٹا ہوا ہے اور ادھورا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← محمد بن المغيرة السكري ← أبو عبد الله الحافظ علي بن حمشاذ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4372

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4373

4373 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا حمزة بن العباس العقبي نا العباس بن محمد الدوري نا قراد أبو نوح نا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول من يدعا إلى الجنة الذين يحمدون الله في السراء و الضراء

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حمزہ بن عباس عقبی نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو قراد نے ان کو ابونوح نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا پہلے پہلے جو شخص جنت میں بلایا جائے گا وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کا حمد کرتے رہتے تھے اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے خوشی میں بھی اور دکھ تکلیف میں بھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4373

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4374

4374 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا عاصم بن علي نا قيس عن حبيب بن أبي ثابت : فذكره بإسناده غير أنه قال الحمادون الذين يحمدون الله على السراء و الضراء

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو قیس نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے۔ پھر اسی مذکورہ حدیث کو اس سے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے۔علاوہ ازیں اس نے کہا ہے۔ بہت تعریف کرنے والے جو اللہ کی حمد کرتے ہیں خوشی میں بھی اور دکھ میں بھی۔

الحمادون الذين يحمدون الله على السراء و الضراء ← حبيب بن أبي ثابت فذكره بإسناده غير أنه ← قَيْسٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4374

chevron_left Previous
1…303132…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood