Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4767

4767 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي نا محمد بن يحيى الذهلي نا عبد الرحمن بن مهدي عن شعبة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه أبي رزين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رؤيا المؤمن جزء من أربعين جزءا من النبوة هي على رجل طير ما لم يحدث بها فإذا حدث بها سقطت قال : و يحسبه قال : لا يحدث بها إلا حبيبا أو لبيبا

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے انہوں نے عبداللہ بن محمد بن حسن بن شرقی سے ان کو محمد بن یحییٰ وھلی نے ان کو عبدالرحمٰن مہدی نے ان کو شعبہ نے ان کو یعلیٰ بن عطاء نے ان کو وکیع بن عدس ان کو ان کے چچا زرین نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ مؤمن کا خواب نبوت کے چالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے یہ انسان پر بدشگونی ہوتا ہے جب تک کہ اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے جب بیان کر دی جائے تو گر جاتا ہے۔ (یا وہ خواب انسان کے اوپر اڑتا رہتا ہے۔) یوں خیال کرتے ہیں انہوں نے فرمایا تھا انسان وہ خواب نہ بیان کرے مگر یا تو کسی دوست کو یا کسی عقل مند کو۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4767

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4768

4768 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن دراجا أبا السمح حدثه عن أبي الهيثم عن أبي سعيد الخدري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : اصدق الرؤيا بالأسحار

ہمیں خبر دی ہے ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن مصب نے ان کو خبر دی ہے عمرو بن حارث نے کہ بے شک دراج ابوالسمع نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابوالھثیم سے اس نے ابوسعید خدری سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔خوابوں میں سے زیادہ تر سچے خواب سحری کے وقت کے ہوتے ہیں۔

«أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4768

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4769

4769 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن يونس بن عبيد عن إبراهيم أنه قال : إذا رأى الرجل رؤيا يكرهها فليقل أعوذ بما عاذت به ملائكة الله و رسله من شر رؤياي الليلة أن تضرني في ديني أو دنياي يا رحمن

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو ابراہیم نے انہوں نے کہا جب کوئی آدمی کوئی خواب دیکھے تو اس کو چاہئے کہ پڑھے: اعوذ بما عاذت به ملائكة اللّٰه و رسوله من شررؤياي الليلة ان تضرني في دینی او دنیای یا رحمٰن. میں پناہ لیتا ہوں اس چیز کے ساتھ جس کے ساتھ اللہ کے فرشتوں اس کے رسولوں نے پناہ لی ہے آج رات کے خواب کے شر سے کہ نہ وہ مجھے نقصان دے میرے دین میری دنیا میں اے رحمٰن۔

إبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4769

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4770

4770 - و روينا عن قتادة قال : كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى : إذا رأى رؤيا فقصها على أخيه فليقل خير لنا و شر لأعدائنا

اور ہم نے روایت کی ہے قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے ابوموسیٰ کو لکھا کہ جب کوئی خواب دیکھے اور اس کو اپنے کسی بھائی پر بیان کرے تو یوں دعا کرے خیر ہو تو ہمارے لئے اور شر ہو تو ہمارے دشمنوں کے لئے۔

قَتَادَةَ ← و روينا

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4770

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4771

4771 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الصمد نا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار مولى ابن عمر عن أبيه عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من أفرى الفرى أن يرى عينيه في المنام ما لم يرى رواه البخاري في الصحيح عن علي بن مسلم عن عبد الصمد بن عبد الوارث

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن خیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالصمد نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار مولیٰ ابن عمر نے ان کو ان کے والد نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک جھوٹوں میں سے سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو (یعنی جھوٹ بولے) اس کو بخاری نے روایت کیا ہے علی بن مسلم سے اس نے عبدالصمد بن عبدالوارث سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4771

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4772

4772 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان الهوازي أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل القاضي نا سليمان بن حرب و مسدد نا حماد بن زيد عن أيوب عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صور صورة عذب حتى ينفخ فيها و ليس ينافخ و من تحلم كلف أن يعقد بين شعيرتين و ليس بعاقد و من استمع إلى حديث قوم يفرون منه صب في أذنه الأنك يوم القيامة لفظ حديث مسدد و قال في حديث سليمان بن حرب : و من تحلم كاذبا كلف أن يعقد شعيرة و ليس بفاعل زاد و قال و الأنك الرصاص يذاب أخرجه البخاري في الصحيح من حديث ابن عيينة عن أيوب كما قال مسدد في التحلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان ھوازی نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور مسدد نے اور ان کو خبر دی حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ جو شخص تصویر سازی کرے اسے یہ عذاب دیا جائے گا کہ وہ اس میں روح ڈال دے اور وہ نہیں ڈال سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اس کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ گیہوں یا جو کے دو دانوں کو آپس میں گرہ دے دے حالانکہ وہ نہیں کر سکے گا۔ اور جو شخص کسی ایسی قوم کی بات کی طرف کان لگائے جو جھوٹ بولتے ہیں اس کے کان میں قیامت کے دن پگھلایا ہوا سیسہ انڈیلا جائے گا۔ الفاظ حدیث مسدد کے ہیں۔اور سلیمان بن حرب کی حدیث میں کہا ہے کہ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ دو جو کے درمیان گرہ لگائے حالانکہ وہ یہ کام نہیں کر سکے گا انہوں نے یہ زیادہ کیا ہے کہ انک پگھلے ہوئے سیسہ کو کہتے ہیں۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے حدیث ابن عینیہ سے اس نے ایوب سے اس نے مسدد سے جھوٹے خواب کے حوالہ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و مسدد ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← علي بن أحمد بن عبدان الهوازي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4772

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4773

4773 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن الحسن أنا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن زفر بن صعصعة بن مالك عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا انصرف من صلاة الغداة يقول : هل رأى أحد منكم الليلة رؤيا إنه ليس يبقى بعدي من النبوة إلا الرؤيا الصالحة فروينا اللفظ الأول في الاستخبار في حديث سمرة بن جندب و فيه قصة طويلة ذكرناها في كتاب عذاب القبر

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے اور ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وھب نے ان کو خبر دی ہے مالک بن انس نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو نصر بن صعصعہ بن مالک نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو یہ پوچھتے تھے۔ کیا تم میں کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے بے شک حال یہ ہے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا مگر سچے خواب۔ تو ہم نے لفظ اول روایت کیا ہے خبر پوچھنے کے بارے میں حدیث سمرہ بن جندب میں اور اس میں طویل قصہ ہے ہم نے اس کو ذکر کیا ہے کتاب عذاب قبر میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بَكْر بن الحَسَن

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4773

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4774

4774 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن بكر بن سواده أخبره أن زياد بن نعيم حدثه أن أبا بكر الصديق كان يقول : إذا أصبح من رأى رؤيا صالحة فليحدثنا بها و كان يقول لأن يرى لي رجل مسلم مسبغ الوضوء رؤيا صالحة أحب إلي من كذا و كذا فروينا عن عبد الله بن عمرو من قوله هذا اللفظ الأخير

ہمیں خبر دی ابوبکر بن حسن اور ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو وھب نے ان کو خبر دی عمر بن حارث نے ان کو بکر بن سوادہ نے ان کو خبر دی ہے کہ زیاد بن نعیم نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ ابوبکر صدیق کہتے تھے جب صبح کرتے جو شخص اچھا خواب دیکھے اس کو چاہئے کہ وہ اس کے بارے میں ہم لوگوں کو بتا دے البتہ اگر میرے لئے ایک مسلمان کامل وضو کرنے والا نیک خواب دیکھے تو مجھے زیادہ محبوب ہے اتنی اتنی سے۔ پس ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن عمرو سے۔ اس قول سے۔ھذاللفظ الاخیر یہ لفظ اخیر ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4774

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4775

4775 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم نا جرير عن الأعمش عن سليمان بن مسهر عن خرشة بن البحر قال : كنت جالسة في حلقة في مسجد المدينة و فيها شيخ فجعل يحدثهم حديثا حسنا فلما قال القوم من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا ثم قام قلت : و الله لأتبعنه فلأعلمن مكان بيته فتبعته فانطلق حتى كاد أن يخرج من المدينة ثم دخل منزله فاستأذنت عليه فأذن لي فقال : ما حاجتك يا بن أخي ؟ قلت له : أني سمعت القوم يقولون لك لما قمت من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا فأعجبني أن أكون معك قال : الله أعلم بأهل الجنة و سأحدثك مم قالوا ذلك إذ أني بينا أنا نائم إذ أتاني رجل فقال لي : قم فأخذ بيدي فانطلقت معه فإذا أنا بجواد عن شمالي فأخذت لآخذ فيها فقال لي : لا تأخذ فيها فإنها طريق أصحاب الشمال و إذا جواد منهم على يميني فقال : لي خذ هذا قال : فأتى بي حتى أتى بي جبلا فقال لي : إصعد قال : فجعلت إذا أردت أن أصعد جررت على إسقي حتى فعلت ذلك مرارا ثم انطلق بي حتى أتى عمودا رأسه إلى السماء و أسفله في الأرض في أعلاه حلقة فقال لي : إصعد هذا قلت : كيف أصعد و هذا رأسه في السماء قال : فأخذ بيدي فرحل بي فإذا أنا متعلق بالحلقة قال : ثم ضرب العمود فخر و بقيت متعلقا بالحلقة حتى أصبحت فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقصصتها عليه فقال : أما الطريق الذي رأيت عن يسارك فهي طريق أصحاب الشمال و أما الطريق الذي رأيت عن يمينك فهي عروة الإسلام طريق أهل اليمين و أما الجبل فهو منزل الشهداء و لن تناله و أما العمود فهو عمود الإسلام و أما العروة فهي عروة الوثقى الإسلام فلن تزال مستمسكا بالإسلام حتى تموت ثم قال : أتدري كيف خلق الله الخلق ؟ قلت : لا قال : خلق الله آدم فقال تلد فلانا و تلد فلانة و يلد فلان فلانا و تلد فلانة فلانة أجله كذا و عمله كذا و كذا و رزقه كذا و كذا ثم ينفخ فيه الروح رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم دون ما في آخره من ذكر كيفية الخلق و الأشبه أن يكون من قول عبد الله بن سلام و قد رأى النبي صلى الله عليه و سلم ثم أصحابه ثم الصالحون من المسلمين كل واحد منهم في منامه ما وجد تصديق تعبيره و قد ذكرت صدرا من ذلك في آخر كتاب دلائل النبوة و في ذلك تذكير النعمة التي وضعها الله تعالى في المنام

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن مسلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے اعمش سے ان کو سلیمان بن میسر نے ان کو خرشہ بن بحر نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور اس میں ایک شیخ تھے وہ ان لوگوں کو اچھی اچھی حدیث بیان کر رہے تھے جب لوگوں نے کہا کہ جس کو یہ خوش لگے کہ وہ اہل جنت کے ایک آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ اس شیخ کو دیکھے پھر وہ شیخ کھڑے ہو گئے میں نے سوچا کہ میں ضرور ان کے پیچھے پیچھے جاؤں گا اور میں ان کا گھر ضرور دیکھوں گا میں ان کے پیچھے پیچھے گیا وہ چلتے رہے حتیٰ کہ قریب تھا کہ مدینے سے باہر نکل جائیں گے۔ پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ میں نے ان سے اجازت مانگی انہوں نے مجھے اجازت دی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے بھتیجے کیا کام ہے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سنا تھا لوگوں سے وہ کہہ رہے تھے آپ کے بارے میں جب آپ اٹھ گئے تھے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ وہ اہل جنت کے لوگوں میں سے کسی کو دیکھے وہ اسی شیخ کو دیکھے لہذا مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ کہتے ہیں کہ اس شیخ نے کہا کہ اہل جنت کو تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اور میں عنقریب اسی بارے میں حدیث بیان کروں گا کہ انہوں نے کیوں یہ کہا ہے اس لئے کہ میں سو رہا تھا اچانک میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور اس نے مجھ سے کہا اٹھ جائیے اور اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں اس کے ساتھ چلدیا میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو مجھے ایک راستہ دکھائی دیا میں نے اس پر چلنا چاہا تو کہنے والے نے مجھ سے کہا اس راستے کو اختیار نہ کرو یہ بائیں ہاتھ والوں کا راستہ ہے اور دیکھتا ہوں تو ایک راستہ میرے دائیں طرف ہے مجھ سے کہنے والے نے کہا کہ تو اس راستے کو اختیار کر کہتے ہیں مجھے ایک پہاڑ پر لے جایا گیا اور کہنے والے نے کہا کہ تم اوپر کو چڑھو کہتے ہیں کہ جب جب چڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو اپنی سرین پر کھینچ کر گرا دیا جاتا ہوں حتیٰ کہ میں نے یہ کام بار بار کیا پھر وہ لے جانے والا مجھے ستون کی طرف لے گیا جس کا سر آسمان تک تھا اور نیچے کا حصہ اس کا زمین میں تھا اس کے اوپر ایک حلقہ تھا اس نے مجھے کہا کہ آپ اس کے اوپر کو چڑھے۔ میں نے کہا کہ میں کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا ایک سرا تو آسمانوں پر ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر چلا کر لے گیا میں اچانک اس حلقے اور کڑے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا پھر اس نے اس ستون کو مارا سو وہ گر پڑا اور میں بدستور اس کے ساتھ لٹکا رہ گیاحتیٰ کہ میں نے صبح کرلی۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا میں نے یہ قصہ آپ کو سنایا آپ نے فرمایا بہر حال وہ راستہ جو تم اپنی بائیں جانب دیکھا یہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ اور وہ راستہ جوتم نے اپنی دائیں جانب دیکھا وہ اسلام کا کڑا ہے ان لوگوں کا راستہ ہے جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا۔ بہر حال جو پہاڑ دیکھا وہ وہ شہداء کا ٹھکانہ ہے تم اس کو ہرگز نہیں پاؤ گے۔ اور ستون وہ اسلام کے ستون ہیں اور کڑا وہ عروۃ الوثقٰی ہے یعنی مضبوط کڑا تم ہمیشہ اسلام کے ساتھ چمٹے رہو گے حتیٰ کہ مرجاؤ گے۔ اس کے بعد فرمایا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے مخلوق کو کیسے پیدا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ فرمایا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اس کو فر مایا کہ تم فلاں فلاں فلاں کو جنم دو گے اور وہ فلاں فلاں کو جنم دے گا اور فلانی فلانی کو جنم دے گی ان کا اجل ایسے ہوگا اور مل ویسے ہوگا اور ان کا رزق ایسے ہوگا پھر اس میں روح پھونکا جائے گا اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحٰق بن ابراہیم سے ماسوا ان کے جو اس کے آخر میں ہے کیفیت تخلیق کا ذکر زیادہ مناسب ہے کہ یہ عبداللہ بن سلام کا قول ہوا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس کے بعد آپ کے اصحاب کو پھر صالحین مسلمانوں کو ان میں سے ہر ایک کو اپنی نیند میں اس قدر جس سے انہوں نے اپنے خواب کی تعبیر کی تصدیق پالی۔ اور اس کا اول حصہ میں نے کتاب دلائل النبوۃ کے آخر میں ذکر کیا ہے اور اس میں اس نعمت کی یاددہانی ہے جسے اللہ نے نیند میں رکھا ہے۔

خرشة بن البحر ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4775

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4776

4776 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : جاء إلى ابن المسيب رجل قال : و كان من أعبر الناس يعني ابن المسيب قال : رأيت كأن في يدي قطرة من دم فكلما غسلتها ازدادت إشراقا فقال له ابن المسيب : أنت رجل تنتقي من ولدك فاتق الله و استلحقه

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسیّب کے پاس ایک آدمی آیا کہتے ہیں کہ سب لوگوں سے زیادہ تعبیر بتانے والا تھا یعنی ابن مسیّب وہ آدمی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا گویا کہ میرے ہاتھ میں خون کا ایک قطرہ ہے میں جب بھی اس کو دھوتا ہوں اس کی چمک میں اور اضافہ ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسیّب نے اس کو فر مایا تم ایسے آدمی ہو جواپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اظہار کر تے ہو تم اللہ سے ڈرو اور اس کو اپنے ساتھ لاحق کرو۔

رأيت كأن في يدي قطرة من دم فكلما غسلتها ازدادت إشراقا ← و كان من أعبر الناس يعني ابن المسيب ← جاء إلى ابن المسيب رجل ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4776

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4777

4777 - قال : و سمعت معمرا يقول : جاء رجل إلى ابن سيرين فقال : رأيت في النوم كأن حمامة التقمت لؤلؤة فخرجت منها أعظم مما دخلت و رأيت حمامة أخرى التقمت لؤلؤة فخرجت أصغر مما دخلت و رأيت حمامة أخرى التقمت لؤلؤة فخرجت كما دخلت سواء فقال له ابن سيرين : أما التي خرجت أعظم مما دخلت فذاك الحسن يسمع الحديث فيجوده بمنطقة ثم يصل فيه من مواعظة و أما التي خرجت أصغر مما دخلت فذاك محمد بن سيرين يسمع الحديث فينقص منه و أما التي خرجت كما دخلت فهو قتادة فهو أحفظ الناس

کہتے ہیں کہ میں نے سنا معمر سے وہ کہتے تھے کہ ایک آدمی حضرت ابن سیرین کے پاس آیا اور بولا کہ میں نے نیند میں دیکھا ہے گویا کہ ایک کبوتری نے ایک موتی کو نگل لیا ہے پھر وہ اس سے بڑا ہوکر نکلا ہے جتنا تھا اور میں نے دوسری کبوتری کو دیکھا ہے اس نے بھی ایک موتی کو کھالیا ہے وہ اس سے کم ہوکر نکل آیا اور ایک تیسری کبوتری کو دیکھا ہیاس نے بھی ایک موتی کو کھالیا ہے وہ ویسے ہی اس میں سے نکل آیا جیسے کہ اس کے اندر داخل ہوا تھا برابر۔ حضرت ابن سیرین نے اس کو فرمایا کہ بہر حال وہ جو اس سے بڑا ہو کر نکلا ہے جتنا کہ داخل ہوا تھا۔ یہ حسن ہے حدیث کو سنا ہے اور اس کو اپنی زبان میں اچھا کرتا ہے پھر اس میں اپنے مواعظ میں سے ملاتا ہے۔ اور وہ جو اس سے چھوٹا نکلا ہے جتنا بڑا داخل ہوا تھا۔ یہ محمد بن سیرین ہے حدیث کو سنتا ہے اور اس میں سے کم کر دیتا ہے۔ بہر حال وہ جو ایسے نکلا ہے جیسے داخل ہوا وہ قتادہ ہے وہ سب سے زیادہ حافظے والا ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ سِيرِينَ ← مَعْمَرًا، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4777

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4778

4778 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى السكري أنا إسماعيل الصفار نا عباس نا مسلم الخواص أنا ابن عيينة عن أيوب السختياني قال : كنت مع محمد بن سيرين في السوق فجاءه رجل فقال : إني رأيت في المنام كأني آكل الخبيص و أنا في الصلاة فقال ابن سيرين : الخبيص حلولين و أكله في الصلاة لا ينبغي و لكن لعلك تقبل و أنت صائم ؟ قال : نعم قال : فلا تفعل

ہمیں خبر دی ہے ابومحمدعبداللہ بن یحییٰ سکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عباس نے ان کو مسلم حواص نے ان کو ابن عینیہ نے ان کو ایوب سختیانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بازار میں حضرت محمد بن سیرین کے ساتھ تھا ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں گھی اور کھجور کا حلوا کھارہا ہوں۔ اور میں نماز میں بھی ہوں۔ ابن سیرین نے فرمایا حلوا تو میٹھا ہے اور نرم ہے مگر نماز میں کھانا اچھانہیں مناسب نہیں شاید آپ نے بوسہ دیا ہے اس وقت آپ روزے کے ساتھ تھے؟ بولا جی ہاں آپ نے فرمایا تم ایسے نہ کرو۔

فَلاَ تَفْعَلْ. ← نَعَمْ ← ابن سيرين الخبيص حلولين و أكله في الصلاة لا ينبغي و لكن لعلك تقبل و أنت صائم ← فِي الصَّلاَةِ. ← إني رأيت في المنام كأني آكل الخبيص و ← كنت مع محمد بن سيرين في السوق فجاءه رجل ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مسلم الخواص ← عَبَّاسٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4778

chevron_left Previous
1…293031…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood